منو بھائی کی یاد میں ۔۔۔
04 مئی 2018

کہتے ہیں ” یاد “ بھی ملاقات کی ایک صورت ہوا کرتی ہے اور بچھڑنے والے وہی یاد آتے ہیں جو اس دنیا میں ہمارے لیے کچھ کر گزرے ہوں۔ ورنہ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ ان کے مرنے پر ایک عالم سکھ کا سانس لیتا ہے۔
اگلے روز دوست ہمارے عہد کے ایک بڑے تخلیق کار ” منو بھائی “ کو یاد کر رہے تھے۔ منو بھائی جن کے اصل نام منیر احمد قریشی سے شاید ہی کوئی واقف ہو۔ کالم نگاری میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔ یہی نہیں اردو اور پنجابی شاعری میں اپنا ایک منفرد انداز بھی رکھتے تھے۔ منو بھائی کی نظمیں عام لوگوں کی زندگی کا نوحہ کشی ہیں جن میں سسکیاں آہیں اور آنسو بھی ہیں اور کرب ناک کیفیات بھی۔ انہوں نے اپنے ڈراموں میں بھی زندگی کے پسماندے اور دبے کچلے طبقے کے کرداروں کو امر بنا دیا۔ میں نے ان کے دو طویل انٹرویو کیے تھے۔ پہلا انٹرویو روزنامہ خبریں کے ادبی صفحے پر شائع ہوا تو مدیر اعلیٰ ضیا شاہد صاحب کی طرف سے مجھے لکھ کر شاباش دی گئی۔ انٹرویو میں منو بھائی نے بعض دلچسپ اور تاریخی واقعات بیان کیے تھے پھر ہم نے اپنے ادبی پرچے ” بجنگ آمد“ کے لیے بھی ان سے مکالمہ کیا۔
میں نے ان کے ساتھ آخری مشاعرہ ” سماء“ ٹی وی پر پڑھا تھا جس کی وہ صدارت کر رہے تھے۔ اس مشاعرے میں انہوں نے اپنی مشہور نظم ” صاحب بہادر“ پیش کی تھی۔ خیر یہ تو ان سے ہمارے ادبی تعلقات کی نوعیت تھی لیکن ان کا ایک اور بڑا حوالہ انسانیت کی خدمت تھا۔ ایک عرصے سے وہ خون میں کمی کا شکار بچوں کے ادارے ” تھیلیسیمیا “ کے ساتھ وابستہ تھے جہاں وہ اپنی صحافتی ادبی شہرت کو ان بچوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے اور مرتے دم تک وہ ان بچوں کو فراموش نہ کر سکے بلکہ انہوں نے اپنے ہر ہم عصر کالم نگاروں سہیل وڑائچ اور جاوید چودھری کو بھی ان بچوں کی خدمت پر نہ صرف مائل کیا بلکہ امجد اسلام امجد کی بات یاد آرہی ہے کہ ادب کے شعبے سے اپنی شہرت کو انسانی خدمت کے لیے وقف کرنے والے صرف اور صرف منو بھائی تھے۔ فنکاروں میں تو ایسے بہت سے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو مختلف سماجی خدمات کے لیے وقف کیا مگر ادب میں ایسی شخصیات زیادہ نہیں ملتیں ، بڑا اور دمکتا ہوا نام منو بھائی کا ہے۔
مجھے علم نہ تھا کہ سید بخت حسین کی انسانی خدمت و حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی سطح کی تنظیم یا ادارہ ”مسلم ہینڈز“ کی بنیادوں میں بھی ہمارے منو بھائی کے ہاتھ کی لگی ہوئی اینٹیں ہیں۔ سید بخت حسین شاہ ایک من موہن شخصیت ہیں۔ میری ان سے ملاقات حافظ منیر ، امجد عزیزی اور سید ابوالحسن شاہ الازہری کی وساطت سے ہوئی۔ پانچ برسوں میں حافظ منیر گروپ سے بہت تعلق بنا۔ حافظ منیر کے ہونٹوں پر اٹھتے بیٹھتے جس شخصیت کا نام آتا وہ جسٹس پیر کرم شاہ الازہری مرحوم کا نامی گرامی تھا۔
پیر کرم شاہ سے میری ملاقات تو نہ ہوئی البتہ ان کے ایک صاحبزادے مصر میں ہمارے ساتھ رہے ہیں۔ حافظ منیر کے حلقہ میں سب سے الگ اورمرنجاں مرنج شخصیت سید ابوالحسن شاہ تھے۔ انہی دنوں مصر میں پیر کرم شاہ الازہری کے گدی نشین پیر محمد امین الحسنات تشریف لائے تو چند روز ان کی محفلوں میں گزارنے کا موقع ملا۔ وہیں سید بخت حسین شاہ اور ان کے ادارے مسلم ہینڈز کے بارے میں تفصیلات جاننے کا موقع ملا۔ ” منو بھائی ایک عہد“ کے نام اگلے روز جو سیمینار منعقد ہوا۔ وہ اگرچہ روزنامہ جنگ کے واصف ناگی اور میر خلیل الرحمن میموریل کمیٹی کے اشتراک سے منعقد ہوا مگر اس کا محرک بہر حال سید بخت حسین شاہ تھے۔
پیر امین الحسنات کی صدارت میں منو بھائی کو یاد کیا گیا۔ ہمارے ہاں یاد کرنے کا رواج عموماً مرنے کے بعد کا ہے۔ منو بھائی ایسی شخصیت شہر کے ہسپتال میں رہی کتنے لوگ ان کی مزاج پرسی کو گئے ہوں گے۔ ہاں تخلیق کار اور فن کار دنیا سے گزر جائے تو مختلف تقریبات میں اس کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ ویسے تو اِس طرح کی یاد نگاری بھی قسمت والوں کو ملتی ہے۔
منو بھائی ایک خوش نصیب تخلیق کار تھے۔ ان کی زندگی میں بھی بہت عزت افزائی ہوئی۔ ان کا احترام اس لیے بھی کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے عہد کے ایک بڑے کالم نگار اور شاعر ہونے کے باوجود بھی سرکاری مراعات سے دور رہے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ” مجھے اپنے استاد نے کہا تھا اگر ’پاخانہ‘ کھانے پر دل آجائے تو ہاتھی کو ترجیح دینا مطلب اگر ذلت اور بدنامی ہی کا کوئی کام کرنا ہو تو بہت بڑا ہاتھ مارنا۔
منو بھائی نے سرکاری اثرو رسوخ کے باوجود بھی دولت کو کبھی ترجیح نہ دی وہ عمر بھر ریوارز گارڈن کے چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر رہے۔ آج کل تو اینکر اور چند کالم نگار کروڑ پتی کہلاتے ہیں۔
اس سیمینار میں سید بخت حسین نے بتایا کہ مسلم ہینڈز کا آئیڈیا منو بھائی کے نام سے منسوب ہوا۔ ان دنوں وہ نوٹنگھم کی ایک چھوٹی سی مسجد کے امام تھے۔ اس وقت اخبار بھی صرف ایک وہاں آتا تھا، موبائل ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ان دنوں منو بھائی نے ایک معذور کی فریاد اپنے کالم میں شائع کی تھی اور اس قدر درد ناک کالم لکھا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ معذور کی الیکٹرانک کرسی کیوں نہ یہاں سے بہاولپور بھجوائی جائے۔ اب منو بھائی سے رابطے کا سامنا تھا۔ بڑی تگ و دو کے بعد منو بھائی سے رابطہ ہوا انہوں نے متعلقہ معذور طالب علم کو تلاش کیا اور سید بخت حسین اور ان کے ساتھیوں نے مل کر پہلی انسانی خدمت کی ۔ پھر تو وہ اسی کام میں لگ گئے مسلم ہینڈز اب دنیا کے کئی ممالک میں جہاں جہاں جنگ اور قدرتی آفات کے سبب انسانوں کو مدد کی ضرورت پڑتی ہے مسلم ہینڈز کا ادارہ وہاں پہنچ جاتا ہے کئی ممالک میں مسلم ہینڈز کے سکول اور شفا خانے بھی چل رہے ہیں۔ امدادی کیمپ اس کے علاوہ لگتے ہیں۔ سیمینار میں منو بھائی کے لیے باقاعدہ ایک فورم کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا۔ جو ہر ماہ ادبی اور علمی حوالے سے تقریبات منعقد کرے گا۔
سیمینار میں منو بھائی کی علمی ادبی اور سماجی خدمات کو سراہا گیا۔ سلمان رفیق ، منصور آفاق، حکیم راحت سوہدری ، ڈاکٹر صغریٰ صدف، رابعہ رحمان، ڈاکٹر امجد ثاقب، ڈاکٹر مجاہد کامران، ڈاکٹر آئی اے رحمن، سہیل وڑائچ ، مقبول اوریاجان ، ضیاءالحق نقشبندی اور واصف ناگی کے ساتھ ساتھ پیر محمد امین الحسنات وزیر مملکت برائے مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی حکومت پاکستان اور منو بھائی کے صاحبزادے محمد کاشف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
بس بڑا اچھا لگا منو بھائی کو بڑے پیمانے پر یاد کیا جا رہا ہے۔ اس محفل کی خاص بات یہ تھی کہ اس معذور طالب علم کی ہمشیرہ جمیلہ ناز نے بھی منو بھائی کو خراج عقیدت پیش کیا کہ منو بھائی اگر کالم لکھ کر اس کی امداد کو نہ پہنچتے تو آج شاید وہ بھی اپنے علاقے کی وکیل نہ بن سکتی۔ جمیلہ ناز نے بھی اپنی تعلیم جاری رکھی آج وہ اپنے علاقے میں وکالت کے ذریعے خدمت میں مصروف ہیں۔


ای پیپر