PM Imran Khan vows to never let the corrupt off the hook, whether in power or not
کیپشن:   فائل فوٹو
04 مارچ 2021 (18:59) 2021-03-04

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کر دیا ،وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لوں گا ،پی ڈی ایم سن لے، مجھے اقتدار میں رہنے کا شوق نہیں،ناکام رہا تو اپوزیشن میں چلا جاؤں گا،میں ناکام رہا تو رائےکا احترام کروں گا، حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، چوروں کو نہیں چھوڑوں گا،جب تک زندہ ہوں، قانون کی بالادستی کی جنگ لڑتا رہوں گا،میرے ارکان ضمیر کے مطابق ووٹ دیں خفیہ سازش نہ  کریں،اقتدار چلا گیا تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم سے سینٹ الیکشن سے متعلق بات چیت کرنا چاہتا ہوں ،تیس چالیس سال سے سینٹ الیکشن میں پیسہ چل رہا ہے ،پیسہ لے کر سینٹ میں آنا کونسی جمہوریت ہے ،سینٹ میں ملک کی اعلیٰ ترین لیڈر شپ آتی ہے لیکن اگر ان کی جگہ پیسے لے کر لوگ آئینگے تو ملک کیسے چلے گا ،وزیر اعظم نے کہا پرسوں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے رہاہوں ،اگر اکثریت نہ ملی تو اپوزیشن میں بیٹھ جائونگا ،ممبران اسمبلی ضمیر کے مطابق ووٹ دیں ،وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھ جائونگا لیکن بلیک میل نہیں ہونگا ۔

وزیر اعظم نے کہا 2018 میں سینٹ الیکشن میں ہمارے 20 ارکان بکے ہم نے ان کو نکالا ،پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے میثاق جمہوریت میں لکھا کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے ،لیکن اچانک اب ایسا کیا ہوا جو سیکریٹ بیلٹ کی باتیں شروع کر دی گئیں ،ایک سینیٹر رشوت دیکر سینٹر بن رہا ہے ،یہ کون سی جمہوریت ہے ،دونوں جماعتوں نے چارٹر آف ڈیمو کریسی میں دستخط کیے کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے ،ہم نے پارلیمنٹ میں بل پیش کیا کہ اوپن بیلٹ ہونا چاہیے ،دونوں جماعتوں نے دھاندلی کرنے کیلئے اس بل کی مخالفت کرنی شروع کر دی ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا میں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ یہ سب اکھٹے ہوجائینگے ،ان لوگوں نے این آر او لینے کیلئے میرے پر مختلف قسم کا پریشر ڈالنا شروع کیا اب یہ لوگ مجھے بلیک میل کرنا چاہتے ہیں ،جب ان جماعتوں اوپن بیلٹ کیلئے ہماری بات نہیں مانی تو ہم نے سپریم کورٹ سے رجو ع کیا ،سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ سینٹ میں پیسا چلتا ہے ،الیکشن کمیشن نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی ۔

وزیرا عظم نے مزید کہا کہ ان لوگوں کی پوری کوشش ہے کہ ہمارے ممبر توڑیں ،ہماری اکثریت کو ختم کریں ،اکثر یت ختم کرنا عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ہے ،ان کا مقصد تھا کہ عدم اعتماد کی تلوار مجھ پر لٹکائی جائے اور پھر میں ان لوگوں کو این آر او دوں ،اپوزیشن نے این آر او لینے کیلئے ایف اے ٹی ایف کے قوانین کیلئے بھی مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی ،عمران خان نے کہا 1985 کے بعد ملک میں تباہی مچی ،کرپشن اوپر گئی ،جب وزیر اعظم اور وزیر چوری کرتا ہے تو ملک کو مقروض کر دیتا ہے ،ان لوگوں کا مقصد تھا عدم اعتماد کے ووٹ کی تلوار مجھ پر لٹکائیں اور میں این آر او دوں ۔

وزیر اعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے ہاتھوں نہ بلیک میل ہونگا اور نہ این آر او دونگا ،پرویز مشرف نے دبائو میں آکر ان دونوں پارٹیوں کو این آر او دے دیا ،عمرا ن خان نے کہا تحریک انصاف کو اتنی ہی سیٹیں ملیں جتنی اس کو ملنی تھیں ،حفیظ شیخ کی سیٹ پر انہوں نے ساراڈرامہ کیا ،ہماری خواتین نے ہمیں بتایا کہ انہیں بڑی بڑی آفرز ہوئیں ،ان لوگوں نے اسلام آباد سے سینٹ کی سیٹ پر پیسا لگا یا ۔

وزیر اعظم نے کہا صاف اور شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ،کی آئین چوری کرنے کی اجازت دیتا ہے ،ہمارے جو 15،16 لوگ بکے ہیں ہمیں پتا تو چلے ،پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے ،جو کروڑوں روپے خرچ کر کے سینٹر بنے گا وہ ریکور کیسے کریگا ،کیا آپ کو نہیں پتا یہ انویسٹی گیٹ کرنے کی ذمے داری آپ کی تھی ،میں نے الیکشن سے قبل کہا تھا کہ ریٹ لگ گئےہیں ،ان لوگوں نے اخلاقیات کو نقصان پہنچا یا ہے ،عوام کو نہیں معلوم اس الیکشن میں کتنا پیسا  چلا ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا میں پرسوں اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے رہا ہوں ،انہوں نے کہا میں باہر بھی ہوجائوں تب بھی آپ کو نہیں چھوڑوں گا قوم کا پیسہ واپس کرنا ہوگا،ارکان اسمبلی ضمیر کے مطابق ووٹ دیں ۔


ای پیپر