Iran is nearing the stage of developing nuclear weapons
04 مارچ 2021 (12:16) 2021-03-04

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے اسرائیل کے کارگو بحری جہاز میں ہونے والے دھماکے میں واضح طور پر ایران ملوث ہے، بلاشبہ یہ ایران کی جانب سے کیا جانے والا آپریشن ہے۔ تاہم جوابی کارروائی کے متعلق انہوں نے پرانا بیان ہی دہرایا کہ اسرائیل ایران کو جوہری صلاحیت میں اضافے سے روکنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دوسری طرف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان الزامات کو بالکل مسترد کرتے ہیں، اس الزام کا ماخذ خود بتاتا ہے کہ یہ (دعویٰ) کتنا غلط ہے۔ قبل ازیں ایران کے سخت گیر میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ خلیج عمان میں دھماکے کا شکار ہونے والا اسرائیلی مال بردار بحری جہاز ایران اور اس کے اتحادیوں کا ’جائز ہدف‘ تھا۔ ایران کے قدامت پسند اخبار کیہان نے دعویٰ کیا تھا کہ ایم وی ہیلوس رے اسرائیل کا فوجی جہاز تھا جس کا تعلق اسرائیلی فوج سے تھا اور جب یہ نشانہ بنا اس وقت وہ خلیج عرب اور عمان کے سمندر سے ’’معلومات‘‘ اکٹھی کر رہا تھا۔

اخبار کے مطابق نامعلوم ’’فوجی ماہرین‘‘ کا کہنا ہے کہ یہ جاسوس جہاز خفیہ طور پر اپنے سفر پر گامزن تھا لیکن شاید کسی ریزسٹنس ایکسس کی ایک شاخ میں پھنس گیا ہو گا۔ ریزسٹنس ایکسس وہ فقرہ ہے جو تہران کی حکومت ایران اور اس کے حامیوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ایم وی ہیلیوس نامی کارگو بحری جہاز خلیج عمان سے جمعرات کو سنگاپور جا رہا تھا، اسے 25 فروری کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی دفاعی وزیر نے بھی خلیج عمان میں بحری جہاز میں دھماکے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہونے کا کہا ہے۔ بینی گانٹز کا کہنا تھا کہ ایران کے قریب جہاز کی سمت اس خیال کو تقویت دیتی ہے کہ ایران اس کا ذمہ دار تھا لیکن پھر بھی اس کی تصدیق ہونی چاہیے۔ ایم وی ہیلیوس رے نامی بحری جہاز مشرق وسطیٰ سے واپس آ رہا تھا جب اس پر دھماکہ ہوا تھا۔ یہ غیر واضح ہے کہ دھماکہ کس طرح ہوا۔ جہاز کے مالک کا کہنا تھا کہ پانی کے قریب جہاز میں دو بڑے سوراخ ہو گئے تھے جبکہ اسرائیلی کابینہ کے ایک وزیر کے مطابق باہر دھماکہ خیز مواد کے ذریعے جہاز کو نقصان پہنچایا گیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ حملہ سطح سمندر سے اوپر پیش آیا تھا اور اس سے جہاز میں سوراخ ہو گئے تھے۔ اسی نشریاتی ادارے نے ایک سینئر دفاعی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بحری جہاز پر حملے کے بعد اسرائیل جوابی کارروائی کرے گا۔ اس میں کہا گیا کہ ایران کا یہ اقدام نومبر میں ایران کے جوہری سائنسدان کی ہلاکت کے بدلے میں کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال ایران کے جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر کو تہران سے باہر ایک مقام پر نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے ایرانی جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو اس قتل کے پیچھے ہیں ان کو کڑی سزا دی جائے گی۔

فوجی مشقیں، آئل ٹینکروں کی ہائی جیکنگ، جہاز رانی کیلئے خطرات اور ڈرون حملے، اس طرح کے کشیدہ ماحول میں پُرسکون رہنا آسان نہیں، تاہم یہ سب کھیل کے اصولوں کا حصہ ہے۔ خلیج میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اعصاب کی ایک جنگ ہے۔ ایران کے ساتھ کشمکش ایک ایسا  پیچیدہ کھیل ہے جس میں ایک درست قدم کی نسبت غلط اقدامات کا خطرہ کہیں زیادہ ہے۔ بظاہر ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی آسان لگتی ہے؛ ممکن ہے کہ اس میں ایران کی فوجی طاقت تباہ ہو جائے، مگر ضروری نہیں کہ ختم ہو جائے اور اس صورت حال سے خطے کیلئے کہیں بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اتحادی فورسز شاید جنگ جیت جائیں، مگر اس سے خلیجی ریاستوں کی معاشی استعداد بُری طرح تباہ ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، بحران جو کہ ہائی جیک آئل ٹینکر کو ریسکیو کرنے کے چھوٹے سے قدم سے بھی شروع ہو سکتا ہے ، ممکن ہے کہ وہ قابو سے باہر ہو جائے اور ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن جائے۔

جنگ کا خطرہ ٹالنے کیلئے کچھ دیگر آپشنز زیر غور لانے کی بھی ضرورت ہے، جیسے کہ اس بحران سے متعلق دیگر بڑی طاقتوں کا موقف کیونکہ روس اور چین دونوں اس بحران پر مختلف سوچ رکھتے ہیں۔روس کے مغرب کے ساتھ عالمی اثر و رسوخ پر کئی اختلافات ہیں، جو کہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد ماسکو نے گنوا دیا تھا، روس کیف سے پراگ تک وہ اثر و رسوخ بحال کرنا چاہتا ہے۔ چین کے امریکا کے ساتھ کئی اختلافات چل رہے ہیں، جن میں مشرقی اور جنوبی سمندری حدود کے علاوہ تجارتی تنازعات شامل ہیں۔ چونکہ اس بحران کا سیاسی یا عسکری ذرائع سے فوری حل کا امکان نہیں، اسلئے صورتحال میں مزید پیچیدگی اور اس کے طویل پکڑنے پر دونوں ملک اپنے مقاصد کی خاطر مداخلت کر سکتے ہیں، جیسے روس نے شام میں کر رکھی ہے۔

اس بحران کا ایک اہم فریق ایرانی ملیشیائیں ہیں، جنہیں گلیوں اور سڑکوں پر جنگ لڑنے کی تربیت دی گئی ہے۔ وہ کوئی جنگ جیت نہیں سکتیں مگر خطے میں انتشار پھیلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے مدمقابل الائنس مختلف ممالک پر مشتمل ہے، جس میں ہر ملک کے اپنے اپنے مفادات اور مقاصد ہیں۔ اسرائیل کا اولین ہدف ایران کو نیوکلیئر طاقت بننے سے روکنا ہے؛ سعودی عرب اولین ترجیح کو ایران کا خطرہ بننے سے روکنا ہے، جس میں ہمسایہ ملکوں یمن اور عراق سے ایرانی اثر و رسوخ کا خاتمہ شامل ہے۔ مقاصد کا مختلف نوعیت مسلح محاذ آرائی کے وقت کھل کر سامنے آ جائے گی۔

بعض مبصرین کی نظر میں جب تک منظرنامے میں اختلافات اور خطرہ مول لینے کا عنصر نمایاں ہے، تب تک ایک سال قبل کی صورت حال کی  جانب لوٹ جانے میں ہی بہتری ہے؛ یعنی واشنگٹن کے نیوکلیئر ڈیل سے نکلنے، بعدازاں پابندیاں لگانے سے قبل کی صورتحال اور یوں ایک نئی جنگ کا خطرہ ٹال دینا چاہیے۔ یہ ایک آئیڈیل سوچ ہے، مگر اس سے مسئلہ ختم نہیں ہو گا۔ دراصل اس نوعیت کے قیام امن سے جنگ محض اس وقت تک ملتوی کی جا سکتی ہے، جب تک صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ کشیدہ اور ناقابل برداشت نہ ہو جائے۔ ایران کی عراق، شام اور یمن پر مکمل غلبے کی مہم جاری ہے، جسے تہران کے سینئر رہنما بڑے فخر سے سرکاری پالیسی قرار دے چکے ہیں۔ ایسا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک موخر جنگ بھرپور تصادم میں تبدیل نہیں ہو جاتی۔

بعض رپورٹس کے مطابق ایران نیوکلیئر ہتھیار تیار کرنے کے مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ برطانیہ کو یقین ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایک سال میں ایران نیوکلیئر ہتھیاروں کا ہدف حاصل کر لے گا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ دعوؤں اور ڈیل کے باوجود ایران نے نیوکلیئر پروگرام پر کام کبھی ختم نہیں کیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایران کے نیوکلیئر طاقت بننے کی صورت میں کوئی اس کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کرے گا، کیونکہ اس صورت میں پوری دنیا کو خطرات لاحق ہو جائینگے۔ یوں، بڑی طاقتوں کو وہ ’’سٹیٹس کو‘‘ تسلیم کرنا پڑے گا، جو کہ تہران مسلط کرے گا۔

ان حالات میں بنیادی سوال فیصلہ کن کارروائی کیلئے وقت کا تعین ہے، اسے مزید ملتوی کرنا ایران کے حریفوں کے مفاد میں نہیں۔ تاہم اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران کے حریف اس کیساتھ جنگ چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کا پلان ایران کی ناکہ بندی کر کے اسے جارحانہ پالیسی بند کرنے کیلئے مجبور کرنا تھا۔ ٹرمپ کے اہداف حاصل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس وقت تک اصل امتحان ایک بڑی جنگ سے بچنے کیلئے اعصاب قابو میں رکھنا اور ایران کو قائل کرنا ہے کہ جنگ سے تباہی کے علاوہ اسے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اس میں ایران کو قائل کرنے کا ہدف بغیر کوئی لڑائی لڑے حاصل کرنا ہے۔


ای پیپر