04 مارچ 2021 (12:10) 2021-03-04

گزشتہ ہفتے کے کالم بعنوان ـ’’کتاب چہرے‘‘ کے حوالے سے قارئین کی طرف سے فرمائش پہنچی کہ سوال و جواب کے اس سلسلے سے مشتے اَز خروارے کچھ ان کی نذر کیا جائے ۔ چنانچہ طے پایا کہ پاکستان کے حوالے سے دو منتخب سوالات ’’ـنئی بات ‘‘ کے قارئین کے ذوقِ سلیم کی نذر کیے جائیں۔

سوال: حضرت واصف علی واصفؒ کا قول ہے کہ "پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں" … سوال یہ ہے کہ ایک جغرافیائی خطے کو نور کیسے کہا جا سکتا ہے ؟

جواب:نور…حق اور ہدایت کے معانی میں آتا ہے۔ اگر نور کو روشنی کہیں تو وہ روشنی بھی حق اور ہدایت کی ہے۔ کلام پاک میں ارشادِ خداوندی ہے’’ تحقیق تمہارے پاس اللہ کی طرف سے آگیا ہے نور اور کتابِ مبین‘‘۔ایک اور جگہ پر قرآن پاک میں اللہ نے خود کو زمین و آسمان کا نور کہا۔ یعنی حق اور ہدایت کی روشنی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے ساتھ منسوب کیا۔ کلامِ پاک میں ہے ’’ کہہ دیجیے کہ اللہ کی ہدایت ہی اصل میں ہدایت ہے‘‘

"کرن کرن سورج" میں حضرت واصف علی واصفؒ کا ایک قول درج ہے ’’عروج اس نقطے کوکہتے ہیں‘ جس کے بعد زوال شروع ہو جائے" نور کا اشارہ چونکہ ذاتِ حق کی طرف ہے اور حق میں ارتقاء نہیں ہے‘ اس لیے راہِ حق کے راہی کو ایسا کوئی مقام درپیش نہ ہوگا جسے وہ حتمی عروج جانے اور جس کے بعد اُس کی تنزّلی کا سفر شروع ہو جائے۔ نور ، حق اور ہدایت صرف ایک نقطے کا نام نہیں بلکہ اِن سے متعلق تمام اشغال ، افعال اور صفات attributes ہیں ‘ جنہیں شعائر اللہ کہا جاتا ہے… وہ سب نورِ ہدایت میں شامل ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح نور کو زوال نہیں اس طرح نور کے شعائر بھی زوال کے کلیہ سے مستثنیٰ ہیں۔

پاکستان کہنے کو ایک جغرافیائی خطہ ہے ، لیکن یہ اپنی ہیئت کے اعتبار سے شعائراللہ میں شامل ہے۔جس طرح مسجد کے لیے مخصوص قطعہ زمین شعائر میں شامل ہو جاتا ہے اسی طرح یہ قطعہ ارضی ہم نے کلمے کے نام پر حاصل کیا ہے، یہاں کلمے کے تقاضوں کے برعکس کوئی نظام نہیں چل سکے گا۔ اسلام کے نام پرحاصل کیا گیا خطّۂ ارضی بھی اِسلام کے شعائر میں داخل ہو گیا ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ نے فرمایا" اِس ملک کی خدمت دراصل اسلام کی خدمت ہے" آپؒ کا مکمل جملہ یوں ہے ـ ’’پاکستان نور ہے ، اور نور کو زوال نہیں۔ حضوراکرمؐہی کی بخشی ہوئی نورِ ایمان کی روشنی میں پاکستان بنا اور آپﷺ ہی کے فیض ِ نظر سے اِس کا قیام و دوام ممکن ہے‘‘

سوال: "پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں" تو سقوطِ بنگلہ دیش کیوں ہوا، پاکستان کیوں ٹوٹا؟

جواب:یہاں سیاسی وجوہات زیرِ بحث نہیں بلکہ یہاں ہم فطری اصولوں پر بات کریں گے۔ کسی واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے لیے سیاسی وجوہات سے بہت پہلے کچھ کائناتی اصول کارفرما ہوتے ہیں۔ سیاست اُن کے اظہار کا ایک ظاہری ذریعہ بنتی ہے۔ ہم فطری اصولوں پر بات کرتے ہوئے آپ کو بتا رہے ہیں کہ پاکستان کاقیام کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ہے۔ کلمہ طیبہ‘ کلمہ توحید ہے۔ توحید کا ایک مفہوم یہ ہے کہ مسلمان اپنی لسانی نسلی اور نسبی عصبیتوں کو ترک کرتے ہوئے خود کو قومِ رسولِ ہاشمیؐ قرار دیں ‘ یعنی کثرت کا انکار اور وحدت کا اقرار…وطن پرستی ، نسل پرستی بلکہ خود پرستی کا انکار اور خدائے واحد کا اقرار۔

بدقسمتی سے ہمارے بنگالی بھائیوں نے اپنے جغرافیائی خطے کی شناخت کلمہ توحید سے جوڑنے کی بجائے دوبارہ اپنی لسا نی اور نسلی عصبیتوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی … اور قائد اعظم ؒ کی زندگی ہی میں بنگالی زبان کے حوالے سے تعصّب کا بھر پورمظاہرہ کیا۔ بوجوہ ‘ وہ کلمہ وحدت کے لیے قائم وطن کی خاطراپنی زبان کی قربانی نہیں دے سکے۔ اگرچہ اپنی لسانی عصبیت برقرار رکھنے میں وہ بتدریج ’’کامیاب‘‘ بھی ہو گئے، لیکن بحیثیت ِمسلمان وہ ناکام ہوگئے۔ مسلمانان ِہند نے اپنی اپنی علاقائی عصبیتوں کی نفی کرنے کے بعد پاکستان حاصل کیا تھا۔ اس طرح پاکستان اپنی اصل میں ایک نظریہ ہے۔ پاکستانی قوم اْسے کہیں گے جو اپنی زمین کا رشتہ کلمہ توحید سے جوڑتی ہے…اور اِس میں وہ اپنے تمام نسبی اور لسانی تفاخر فراخ دلی سے چھوڑ دیتی ہے۔ پاکستان ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی ہجرت کا نتیجہ ہے۔ پاکستان برصغیر میں اْمّت ِمسلمہ کا ایک متفقہ اجتہاد تھا… اور اصولِ اجتہاد میں یہ شامل ہے کہ جس بات پر ایک مرتبہ اجتہاد ہوچکا ہو‘ اِس پر دوبارہ نہیں ہوسکتا۔

ملک کے ایک صوبے کا علیحدہ ہو جانا اگرچہ پاکستان اوراہلِ پاکستان کے لیے ایک غم و اندوہ کی داستان تھی لیکن یہ پاکستان کا زوال نہیں تھا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ یہ علیحدگی پاکستانیوں کے لیے کم اور بنگلہ دیشی بھائیوں کے لیے زیادہ مصیبت ثابت ہوئی۔ 2002ء میں مجھے بنگلہ دیش جانے کا اتفاق ہوا، اور مجھے ذاتی مشاہدہ ہوا کہ اس علیحدگی کا فیصلہ انہیں کس قدر مہنگا پڑا۔اْن کے بزرگ اور ذی فہم دانشور ہندوستان کے ہاتھوں اپنی بے توقیری کی داستانِ غم سناتے رہے۔ ہندوستان نے 1971ء کے بعد بنگلہ دیشی مسلمانوں کا جس درجہ استحصال کیا ‘ وہ آپس میں ایک دوسرے کو بتاتے تھے کہ مغربی پاکستان والوں کی طرف سے استحصال تو اِس کا عشرِ عشیر بھی نہ تھا۔

جس طرح انسانی وجود کا ایک حصہ اپنے اصل کے ساتھ رہ نہ سکے تو اُسے علیحدہ کر دیا جاتا ہے کہ اُس کا جسد کے ساتھ چپکے رہنا پورے وجود کی سلامتی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے‘ اسی طرح توحید کے نظریے سے منسلک ہونے کے بعد ( یعنی پاکستان کا حصہ بننے کے بعد ) اگر کوئی اس کی اساس کا منکر ہو جائے گا تو اس کا علیحدہ کر دیا جانا ‘ قدرت کا فیصلہ ہے۔اگر میرا ایک بازو کٹ جاتا ہے تو میرا نام ، کام اور کلام تب بھی ’’اظہر وحید‘‘ ہی رہے گا… مجھے زوال تو اس وقت لاحق ہوگا جب میں اپنے نام سے منسلک کام اور کلام کو disown کردوں، اس سے منکر ہو جاؤں۔ اس طرح پاکستان ایک نام ہے اور اس نام سے منسلک ایک نظریہ ہے… اور یہ نظریۂ توحید ہے … اور اس نظریے سے منسلک عوام ہیں۔ جب تک یہ عوام و خواص اس نظریے سے قولاً فعلاً منسوب رہیں گے ‘ زوال سے محفوظ رہیں گے۔ جس طرح مسلمانوں کی شکست ‘اسلام کی شکست نہیں ہوتی ‘ اسی طرح کسی مخصوص وقت میں پاکستانیوں کا ’’زوال‘‘ پاکستان کا زوال نہیں… کیونکہ پاکستان صرف ایک نسل تک محدود نہیں۔ کسی ایک نسل کی ناکامی آنے والی نسلوں کے ناکام ہو جانے کا نام نہیں۔

سقوط ِ ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے جب بڑے فخر سے کہا کہ دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیاہے ، عین اسی وقت دو قومی نظریہ دوبارہ زندہ ہو رہا تھا۔ کس طرح…؟آیئے غور کریں… کائناتی اصولوں کا پیمانہ ہاتھ میں لیں اور دیکھیں۔ بنگالی زبان کے تعصّب کے سبب اپنے کلمہ گو بھائیوں سے علیحدگی کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ مشرقی بنگال (بنگلہ دیش ) دوبارہ مغربی بنگال ( ہندوستان )میں ضم ہو جائے، لیکن ایسا نہ ہوا۔ ایسا کرنا‘ نہ تو ہندوؤں کو گوارا ہوا ( کہ درمیان میں کلمہ موجود ہے) اور نہ ہمارے روشن خیال بنگالی بھائیوں ہی کو خیال آیا کہ وہ کلمے کو چھوڑ کر اپنی لسانی اصل (متحدہ بنگال ) میں جا ملیں۔ اس طرح ایک رنگ ، نسل اور زبان کی سانجھ کے باوجود’’ مسلمان بنگال‘‘ اور ہندو بنگال ایک ملک نہیں بن پائے۔ آخر کیوں؟ آخر ایک کلمہ ہی تو ہے؟ صرف مذہب ہی کا فرق ہے، باقی سب کچھ ایک ہے … لیکن نہیں۔ عین خلیج بنگال کے کناروں سے دو قومی نظریہ ایک بار پھرنئے انداز اور نام سے اُبھرنا شروع ہو گیا۔ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد بعض دُور اندیش ہندوستانی دانشوروں کا کہنا تھا کہ پاکستان توڑنے کے چکر میں ہم نے دراصل دو پاکستان بنا دیے ہیں۔


ای پیپر