Not only Socrates but the olive is the light of Athens
04 مارچ 2021 (12:05) 2021-03-04

رات کے کھانے اور اس کے بعد مہمانوں کے ساتھ گپ شپ اور اس کے بعد ٹی وی کے لیے انٹرویوکی ریکارڈنگ میں بہت دیرہوگئی تھی ۔جب سب مہمان رخصت ہوگئے تو میں سفیرصاحب سے اجازت لے کراپنی خواب گاہ کے لیے اوپر چلاگیا۔ کھانے کے بعد جب انٹرویو وغیرہ کی ریکارڈنگ شروع ہوئی تو میں نے حذیفہ کو یہ کہہ کرپہلے ہی اوپربھیج دیاتھا کہ وہ آرام کرلے ، وہ بھی میرے ساتھ ساتھ بہت گھوما پھراتھااور تھکاتھکا لگ رہاتھا۔

میں نے اوپرآکر دیکھاتو وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہاتھا ۔میراجسم اگرچہ دن بھر کی مصروفیات کے باعث احتجاج کررہاتھا لیکن آنے والے دن کے پیش نظر ابھی کچھ کام باقی تھے چنانچہ آرام کی بجائے میں کام کرنے بیٹھ گیا۔ رات کے دوبجے مجھے اپنی منزل پر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ،کام چھوڑ کر اٹھا، دیکھاتو سفیرصاحب اس منزل پر رکھے فریج میں کچھ رکھنے کے لیے اوپر آئے ہوئے تھے۔معلوم ہواکہ وہ اس وقت مہمانوں کی دعوت کے لیے چنے گئے برتن سمیٹ رہے ہیں،ایک ذمہ دار شوہرکی طرح ۔میں نے چاہاکہ میں ان کی مددکروں لیکن انھوںنے اسے مناسب نہیں سمجھا اور مجھے آرام کرنے کا مشورہ دیا ۔رات اتنی تاخیرہوجانے کے باوصف صبح بہت سویرے آنکھ کھلی، ابھی اجالانہیں ہواتھا ۔مجھے وہ جھٹپٹا یاد آگیا جب کرائٹو آخری بارسقراط کے پاس آیاتھا۔وہ خوابیدہ سقراط کے پاس بیٹھ کر اسے سوتے ہوئے دیکھ رہاتھا۔ایتھنزوالے دانش کے اس چراغ کو بجھانے کا فیصلہ کرچکے تھے۔ کرائٹو، جیلر کورشوت دے کر اس ارادے سے آیاتھا کہ وہ سقراط کو یہاں سے نکال کر اپنے دوستوں کی مددسے، تھیسلی لے جائے گا۔ اس نے فرارکے انتظامات کرلیے تھے …اچانک خوابیدہ دانش بیدارہوگئی اورا س نے جاگتے ہی پوچھا …تم! اس وقت یہاںکیسے ؟جیلرنے تمھیں اندر کیسے آنے دیا ؟تم نے آتے ہی مجھے جگایاکیوں نہیں ؟کیا بجاہے ؟…کرائٹونے جلدی جلدی اسے اپنے اوردوستوں کے منصوبے سے آگاہ کیااور اسے اپنے ساتھ چلنے کے لیے کہا…کرائٹوکے دلائل تھے کہ …یہ مقدمہ غلط تھا ، خاموشی سے اس فیصلے کو ماننااپنی قسمت کو غلط کارلوگوں کے ہاتھ دیناہے ،تمھارے بچے یتیم ہوجائیں گے،دنیاکیاکہے گی کہ سقراط کے دوست کمزوراور بزدل تھے …زیادہ سوچنے کا وقت نہیں ہے بس اٹھواور میرے ساتھ چلو …سقراط نے سب کچھ سنا اورکہنے لگا’’ابھی تمھارے آنے سے پہلے میں خواب دیکھ رہاتھا…ایک سفیدپو ش عورت مجھ سے وہی الفاظ کہہ رہی تھی جو ایکلیزنے اس وقت کہے تھے جب وہ ٹرائے سے بھاگنے کے متعلق سوچ رہاتھا …عورت نے کہاتھا …’’تم تیسرے دن اپنے گھر پہنچوگے‘‘…اس خواب کی سقراطی تعبیریہ تھی کہ اب سزاپر عمل درآمدکل نہیں پرسوں ہوگا…’’لیکن ہم اس فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے، ہمیں یہاں سے نکل جاناہے ،جلدی کرو،اٹھو اور میرے ساتھ چلو‘‘… کرائٹو بڑے جوش وخروش میں تھا…’’تمھاراجوش و خروش بہت قیمتی ہے، بشرطیکہ اس کا رخ صحیح سمت میں ہو، ہمیں کسی معاملے کے اچھے اور برے تمام پہلووں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہیے‘‘ …سقراط نے کہا۔

’’دیکھو جس ملک کے قوانین نے پیداہونے سے اب تک میری حفاظت کی، میں نے جوان ہونے پر جنھیں قبول کیا اور کسی ایسے ملک میں جانے کی کوشش نہیں کی جہاں کے قوانین اس ملک سے بہترہوتے تواب اگر ان قوانین نے مجھے سزادی ہے توکیامیں ان قوانین کو توڑدوں؟اگرمیں ایساکروں تو آئندہ نیکی کے متعلق گفتگوکیسے کروں گا …زندہ رہنا اتنااہم نہیں جتنا صحیح اندازسے زندہ رہنا‘‘… کرائٹو کا منصوبہ دھرے کا دھرارہ گیا اور اس کے پاس خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں تھا… ایتھنزکی آخری رات کے اس جھٹپٹے میں ہر طرف خاموشی چھائی تھی جب میں بستر سے اٹھا، حذیفہ کو سوتا ہواچھوڑ کر خواب گاہ سے ملحق جھروکے سے ہوتاہوا چھت کی جانب جاتے آہنی زینے کی طرف بڑھا اور اوپر جاکر آسمان کو دیکھنے لگا اردگردکی خاموش عمارات میں صرف زیتون کے درخت باتیں کررہے تھے۔ سقراط ہی نہیں زیتون بھی ایتھنز کی روشنی ہے …زیتون، خدابھی جس کی قسم کھاتاہے … میں جب دنیاکے جال میں الجھ کر پھڑپھڑانے لگتاہوں تو درختوں سے باتیں کرتاہوں … درختو! تم بہت چپ چاپ ہو/دیکھومری جانب /مسافر ہوں کسی گم نام ویرانے سے آیاہوں/مرے چارو طرف بے روپ آوازوں کا جنگل ہے /درختو!تم بہت چپ چاپ ہو /شایدتمھیں بھی ہم سخن کی آرزوہے/تمھارے لہلہاتے پنکھ، آوازیں/تمھارادھوپ میں جلنا/ تمھارا حسن، سبزہ، پھول، پھل ،پتے/مجھے اپنے سے لگتے ہیں/کوئی شے یادآتی ہے /کوئی شے میرے باطن میں مسلسل لہلہاتی ہے /ہمکتی ہے /مگررستہ نہ پاکر ٹوٹ جاتی ہے/درختو!تم بہت چپ چاپ ہو/ شایدمرے من میں تمھاراعکس ہے /شایدمرے من کے شجرکا عکس ہو تم…


ای پیپر