میرٹ اورروٹیشن پالیسی!
04 مارچ 2021 2021-03-04

تبدیی کا مطلب اب کہیں جاکر ہمیں سمجھ میں آیا ہے۔ اصل میں قصور حکمرانوں کا نہیں، قصور ہمارا ہے جو ہم یہ سمجھ بیٹھے تھے تبدیلی کا نعرہ لگاکر، یا تبدیلی کا جھانسہ دے کر اقتدار میں آنے کی خواہش رکھنے والوں کی تبدیلی سے مراد ”سسٹم میں تبدیلی“ ہے، ....تبدیلی سے مراد اصل میں سرکاری افسروں کے تھوک کے حساب سے تبادلے تھے، یہ تبادلے اب تک اتنی بڑی تعداد میں ہوچکے ہیں اِن کا شمار ناممکن ہے، اگلے روز میں ایک افسر سے ملنے گیا اُس نے اپنے دفتر سے قائد اعظم ؒکی تصویرہٹادی تھی، اِس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ حضرت قائداعظمؒ سے اُس کی محبت یا عقیدت میں کوئی کمی واقع ہوگئی تھی، اس کی وجہ محض یہ تھی کہ جس سیٹ پر وہ بیٹھا تھا پچھلے پونے تین برسوں میں اُس پر اتنے افسروں کے تبادلے ہوچکے تھے کہ پہلے اُس کے دفتر میں افسروں کے نام اور اُن کے عرصہ تعیناتی کا صرف ایک بورڈ لگاہواتھا، اب اتنے بورڈ لگ چکے تھے کہ قائداعظم کی تصویر کے لیے جگہ ہی نہیں بچی تھی، .... سرکاری افسران خصوصاً پولیس افسران کے گزشتہ دس پندرہ برسوں میں اتنے تبادلے نہیں ہوئے جتنے تبادلے گزشتہ اڑھائی پونے تین برسوں میں تھوک کے حساب سے ہوئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، اللہ جانے کب تک کنویں کا صرف پانی تبدیل کیا جاتا رہے گا، کتا وہیں پڑا رہے گا؟، مجھے اِس موقع پر اپنے ایک صوفی دانشور اشفاق احمد یاد آرہے ہیں، وہ اِن دِنوں ہرمعاملے میں، ہربات پر رہ رہ کر ہمیں شاید اِس لیے یاد آجاتے ہیں وہ حقیقی معنوں میں صوفی دانشور تھے، جبکہ اب معاشرے میں صرف مجھ جیسے ”صوفی سوپ“ ہی بچے ہیں، ایک بار لاہور کی کسی شاہراہ کا ٹریفک اشارہ سرخ ہونے پر اُنہوں نے اپنی گاڑی روکی اور کسی سوچ میں گم ہوگئے ، اِس دوران اشارے کی بتی کئی بار سرخ، پیلی اور سبز ہوئی، وہ مگر اُدھر ہی کھڑے رہے، کچھ دیر بعد ٹریفک پولیس کے ایک کانسٹیبل نے اُن کے پاس آکر اُن کی گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا اور ٹریفک سگنل کی طرف اشارہ کرکے اُن سے کہنے لگا ” چاچا جی تہانوں کوئی وی رنگ پسند نئیں آریا؟“....یوں محسوس ہوتا ہے ہمارے حکمرانوں کو بھی کوئی افسر پسند نہیں آرہا جسے کچھ عرصے کے لیے کسی محکمے میں وہ ٹکنے دیں، .... ہماری خواہشات کے بالکل برعکس مختلف معاملات میں اپنی بے عزتی یا سُبکی کا اہتمام کرنے میں ہمارے موجودہ حکمران اتنے ”خودکفیل “ہیں کسی اور کو اُن کے لیے بے عزتی کا سامان کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے، سو ہماری اپوزیشن ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھروں میں بیٹھ جائے، موجودہ حکمرانوں کو اپنا کام کرنے دے، میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں اپنی بے شمار بے وقوفیوں اور نااہلیوں سے موجودہ حکمران جتنی تیزی سے اپنا کام خود خراب یا تمام کرسکتے ہیں اُتنی تیزی سے اپوزیشن اُن کا کام تمام یا خراب کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی، ہماری اپوزیشن یا پی ڈی ایم کی یہ غلط فہمی ہے کہ موجودہ حکمران اُن کے کسی عمل یا جدوجہد کے نتیجے میں کمزور ہورہے ہیں، حکمران صرف اپنی مسلسل بے وقوفیوں اور نااہلیوں کی وجہ سے کمزورہورہے ہیں، اور اپوزیشن اگر طاقتور ہورہی ہے وہ بھی اِسی وجہ سے ہورہی ہے، ....اگلے روز ایک وزیر صاحب فرمارہے تھے ” ہماری حکومت کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا“، ....میں نے فون پر اُن کی خدمت میں عرض کیا ”پچھلے ہفتے میرے ساتھ اسلام آباد میں بیٹھ کر تو آپ کچھ اور ہی فرما رہے تھے، دوسری بات یہ کہ آپ کی اپنی آنکھیں خیر سے اتنی میلی ہیں کسی اور کو آپ کی طرف میلی آنکھوں سے دیکھ کر اپنی آنکھیں خراب کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟،حال ہی میں کچھ پولیس افسران کو ”روٹیشن پالیسی“ کی نذرکرتے ہوئے میرٹ کی دھجیاں اُڑانے میں سابقہ حکومتوں کے ریکارڈ بھی توڑ دیئے گئے ہیں، حکمرانوں اور اُن کے غلام اعلیٰ افسروں نے انتقام پسندی یا ذاتی پسندوناپسند کا مظاہرہ فرماتے ہوئے کچھ پولیس افسران کو دوسرے صوبوں میں تبدیل کرکے جو زیادتی کی، اُس کا خمیازہ حکمرانوں یا اُن کے غلام اعلیٰ افسروں کو خود تو پتہ نہیں بھگتنا پڑتاہے یا نہیں مگر اِس سے پہلے سے تباہ شدہ محکمہ پولیس مزید تباہ ہی ہوگا، .... اِس کا پہلا نقصان یہ سامنے آیا سندھ حکومت نے اِس روٹیشن پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے سندھ سے پنجاب یا دیگر مقامات پر تبدیل ہونے والے پولیس افسران کو چارج نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے، ظاہر ہے اِس سے مرکز اور سندھ میں ایک نیا تنازعہ شروع ہوجائے گا، سندھ حکومت کا مو¿قف ہے اِن پولیس افسران کے تبادلے سندھ حکومت کو بتائے بغیر یا اُسے اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے ہیں، پنجاب نے اِس حوالے سے شاید اِس لیے کوئی احتجاج نہیں کیا وہ مرکز کے باقاعدہ تھلے لگاہوا ہے، سندھ حکومت نے یہ اسٹینڈ شاید کچھ پولیس افسران کی ایسی مجبوریوں کے پیش نظر لیا ہوگا جن کے تحت وہ دوسرے صوبوں میں جانا افورڈ نہیں کرسکتے، میں ایک ایسے پولیس افسر کو جانتا ہوں جو اپنی بے شمار جینوئن گھریلو مجبوریوں کے باعث دوسرے صوبے میں جانے کے بجائے پولیس افسری کو شاید خیرباد ہی کہہ دے۔....روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد اچھی بات ہے، پر اِس پالیسی کو باقاعدہ ایک ایسے میرٹ پر لاگو ہونا چاہیے کہ کسی کو اِس پر اعتراض نہ ہو، پنجاب میں تعینات بے شمار پولیس افسران پوری سروس میں پنجاب سے باہر نہیں گئے، ڈی ایم جی افسران بھی اُن میں شامل ہیں، بجائے اِس کے سب سے پہلے اُنہیں فارغ کیا جاتا اُن کے بجائے پہلے ایسے افسران کو فارغ کردیا گیا جن کے صرف چہرے حکمرانوں یا اُن کے غلام اعلیٰ افسروں کو پسند نہیں تھے، اب حالت یہ ہے جنہیں پنجاب سے دوسرے صوبوں میں تبدیل کیا گیا وہ پنجاب سے نہیں جانا چاہتے اور جنہیں دوسرے صوبوں سے پنجاب میں تبدیل کیا گیا وہ پنجاب میں اِس لیے نہیں آنا چاہتے کہ ہرصوبے کا اپنا ایک کلچر، اپنی ریت روایات ہیں جن کے مطابق کام کرنے یا اپنی کسی اہلیت کا آسانی سے مظاہرہ کرنے میں اُنہیں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، ....مجھے نہیں معلوم جوپولیس افسران میرٹ سے ہٹ کر ”روٹیشن پالیسی“ کا شکار ہوئے اُن میں سے کوئی کسی عدالت سے رجوع کرتا ہے یا نہیں، پر یہ جرا¿ت کسی افسر نے کرلی، اور اِس کے نتیجے میں کسی جج صاحب نے سرکار سے یہ تفصیل طلب کرلی کہ کس افسر کو روٹیشن پالیسی کے تحت پہلے فارغ کیا جانا چاہیے اور کس کو بعد میں کیا جانا چاہیے تو محض انتقام پسندی کی آڑ میں بنائی جانے والی یہ ساری پالیسی ہی شاید ختم کردی جائے، .... ایک اور بات پر حیرانی ہے، اِس روٹیشن پالیسی کا شکار سب سے پہلے پولیس کے کچھ اعلیٰ افسران ہی کیوں ہوئے ہیں؟۔ شاید اِس لیے کہ پولیس حکمرانوں کا ہمیشہ سے ہی ”سافٹ ٹارگٹ “رہی ہے۔ حکمرانوں کو پتہ ہوتا ہے اِس محکمے کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا جو اپنے ماتحتوں کی مجبوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمرانوں کے سامنے کوئی سٹینڈ لے سکے۔ اس کے برعکس بے شمار سیکرٹریز، کمشنرز ایسے ہیں جو اپنی مرضی کے خلاف کہیں جانا اپنی توہین سمجھتے ہیں، اُن کے تبادلے اول تو ہوتے نہیں، ہو بھی جائیں کسی نہ کسی خفیہ طاقت کے بل بوتے پر رکوانے میں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اُن کے لیے سب سے زیادہ شکر کا مقام یقیناً یہی ہے وہ کسی آئی جی کے ماتحت نہیں ہوتے !! 


ای پیپر