طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہماراہے
04 مارچ 2020 2020-03-04

تاریخ کے عجائب خانوں میں اقوام کے اعمال کے نتائج آنے میں خاصاوقت لگ جاتا ہے۔عوامی حافظے چونکہ کمزور ہوتے ہیں اس لئے نتیجہ آنے تک وہ ایک بار پھر بھول چکے ہوتے ہیں کہ اس کا محرک کیا تھا۔ قطر میں ہونے والے تاریخی امن معاہدے پر بہت کچھ لکھا جا رہاہے اس پر جتنا بھی لکھا جائے کم ہے۔ 2001ء میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے طالبان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی وہ سمجھتے تھے یہ مسئلہ اب ہمیشہ کیلئے حل ہو گیا ہے مگر 2 ٹریلین ڈالر یعنی 2000ارب ڈالر اور 2500امریکیوں کی ہلاکت بعد 19سال بعد امریکہ نے محسوس کیا کہ وہ یہ جنگ جیت نہیں سکتے یہ گویااعتراف شکست کی نئی شکل تھی کہ انخلاء کا معاہدہ کیاجائے۔

آج 18سال پہلے بی بی سی کا ایک تبصرہ یاد آرہاہے جس میں انہوں نے شاعر مشرق علامہ اقبال کے مشہور شعر ’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘ کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے طالبان سے منسوب کر کے کہا تھا کہ دیکھنا یہ ہے کہ اقبال کے یہ بے تیغ سپاہی کب تک امریکہ کا مقابلہ کر سکیں گے۔ پھر اس آسمان نے دیکھا کہ بالآخر جیت انہی بے تیغ سپاہیوں کی ہوئی جوکسی منطق سے بھی اس کے اہل نہیں سمجھے جاتے تھے۔ منطق پیچھے رہ گیا جذبے جیت گئے۔ طالبان نے امریکہ کو باور کرادیا کہ دنیا کی قیمتی ترین گھڑیاں امریکہ کے پاس ہیں مگر وقت طالبان کا ہے۔

نیویارک ٹائمز میں قطر میںہونے والی تقریب کی ایک تصویر شائع ہوئی ہے جس میں انس حقانی اور ٹمو تھی ویک بڑے دوستانہ انداز میںبیٹھے کافی نوش کر رہے ہیں اور ان دونوں کے چہروں کی مسکراہٹ بتارہی ہے کہ وہ دونوں بڑے گہرے دوست ہیں۔ جیون ساتھی کا لفظ مخصوص معنوں میں میاں بیوی کیلئے محضوص ہے مگر اگر اس کا لفظی مطلب زندگی کے ساتھی لیا جائے تو یہ دونوں جیون ساتھی ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کیلئے زندگی کی نوید لے آئے ہیں۔ انس حقانی دراصل حقانی نیٹ ورک کے بانی جلال الدین حقانی کا سب سے چھوٹا بیٹا ہے یہ وہی حقانی نیٹ ورک ہے جس کے لئے ہمیشہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔ انس حقانی کئی سال سے امریکہ کی قیدمیں تھا جبکہ دوسری طرف ٹمو تھی ویک ایک آسٹریلوی انجینئر تھا جسے طالبان نے 2016ء میں افغانستان سے اغوا کرلیا ۔ امریکہ طالبان مذاکرات کے ایک مرحلے پر گزشتہ سال نومبر میں طالبان نے انس حقانی کی رہائی کے عوض ٹموتھی کو آزادی دی تھی۔ ٹموتھی طالبان کا اتنادوست بن چکاہے کہ انہوں نے صلح نامہ پر دستخط کی تقریب میں اسے بطور مہمان حضوصی دعوت پر بلایا تھا جو انس حقانی کے ساتھ کافی پیتے ہوئے خوش گپیاں لگا رہاتھا۔ ٹموٹھی اور انس حقانی دونوں ایک دوسرے کی زندگی کا باعث ہیں ۔

اس معاہدے کے سارے شرکاء اور مہمانوں کی انفرادی تاریخ ہے۔ طالبان گروپوں کے نمائندے یہ سارے وہ لوگ ہیں جو آگ اور خون سے گزر کر یہاں

تک پہنچے ہیں ان کی بات چھوڑیں آپ طالبا ن کے سب بڑے عہدیدار ملاعبدالغنی برادر کو ہی لے لیں یہ 2010ء میں کراچی سے گرفتار ہوئے اور 2016ء تک پاکستان کی قید میں تھے اور 2016ء میں امریکہ کی سفارش پر پاکستان نئے انہیں رہا کردیا تاکہ وہ طالبان امریکہ مذاکرات میں حصہ لے سکیں ۔ یہ کسی فلم یا ڈرامے کی کہانی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت امریکہ کا طرز سفارتکاری ہے۔ مذاکراتی فہرست میں بہت سے ایسے نمائندے بھی تھے جنہوں نے گوانتا ناموبے جیسی بدنام زمانہ امریکی جیل کی سختیاں برداشت کی تھیں۔

مذاکرات کی اس کہانی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مذاکرات کی میز کے ایک طرف امریکی بیٹھتے تھے جن کے پاس دنیا کی سب سے بڑی تعلیمی اور ملٹری یونیورسٹیوں کی اعلی ڈگریاں اور تجربہ تھا جبکہ دوسری طرف سیاہ پگڑیوں اور چادر بردار پہاڑوں میں رہنے والے جنگجو تھے جو قدم قدم پر اپنی مہارت سے امریکی نمائندوںکو دلائل سے بے بس کر دیتے تھے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

حیرت کی انتہایہ ہے کہ مذاکرات امریکہ اور امارات اسلامی آف افغانستان کے درمیان ہوئے ہیں اس میں طالبان کا ذکر نہیں ہے۔ یادرہے کہ امارات اسلامی آف افغانستان طالبان کی وہ حکومت تھی جو 2001ء میں امریکی حملوں کے نتیجے میں ختم ہوئی تھی گویا یہ اس بات کا امریکہ کی طرف سے بالواسطہ اعتراف تھا کہ وہ طالبان کو افغانستان کا قانونی وآئینی حکمران تسلیم کرتے ہیں۔ یہ نہایت پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ افغانستان میں اس وقت اشرف غنی کی پارٹی برسر اقتدار ہے مگر عملاً اس کا وجود امریکہ کا محتاج ہے۔ یہ دنیا کا پہلا معاہدہ تھا جو کسی ملک کی سرزمین پر امن کیلئے وہاں کی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ باغیوں کے ساتھ کیا گیاہے۔

اس معاہدے کی کامیابی کے امکانات روشن نہیں ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ معاہدہ جنگ بندی کا نہیں بلکہ Reduction in violence کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں یعنی جارحیت یا لڑائی میں تخفیف کا معاہدہ سے سیاق و سباق اور زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ اس معاہدے کے بعد جارحیت کم ہونے کی بجائے پہلے سے زیادہ ہو جائے اس بات کا غالب امکان ہے۔ کیونکہ اشرف غنی نے معاہدے کے مطابق 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کر دیا ہے جس کے جواب میں طالبان نے کہا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں پر حملے نہیں کریں گے مگر افغان فورسز پر حملے جاری رکھیں گے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ انٹرا فغان مذاکرات میں اشرف غنی اور طالبان براہ راست مذاکرات کر کے امن عمل کو آگے بڑھائیں مگر یہ بہت مشکل کام ہے۔

معاہدے کی شق کے مطابق امریکی فوجی انخلاء 14 ماہ میں مکمل کیا جائے گا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 ماہ بعد دوبارہ امریکی صدر کا انتخاب لڑنا ہے جس میں ان کی دوسری مدت کا فیصلہ ہو گا۔ اب اگر وہ دوبارہ منتخب ہونے کے بعد اپنے معاہدے سے منحرف ہونا چاہیں جیسا کہ وہ ایران ایٹمی معاہدے سے منحرف ہوئے ہیں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔ مگر طالبان بھی اس کے لیے پہلے ہی تیار ہوں گے ۔ ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کے بعد دھمکی دی ہے کہ اگر اس معاہدے پر عمل نہ ہوا تو امریکہ پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ واپس آ جائے گا۔ یہ دھمکی بڑی معنی خیز ہے۔ صلح کے موقع پر اس طرح کا غیر سفارتی بیان کہاں تک جائز ہے۔

پاکستان کے لیے اس معاہدے میں خوشی کی خبر یہ ہے کہ پاکستان کا 1800 کلو میٹر کا مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے گا۔ انڈیا کی 300 ارب روپے کی سرمایہ کاری ڈوبتی نظر آ رہی ہے۔ افغان پارلیمنٹ بلڈنگ کا سارا خرچہ انڈیا نے دیا تھا۔ اس کے علاوہ افغانستان کو اربوں روپے لگا کر ڈیم بنا کے دیا اور پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ درجنوں قونصلر آفس قائم کیے تا کہ پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ جاری رکھی جائے ۔ انڈیا کے یہ سارے خواب مٹی میں مل گئے ہیں یہاں تک کہ قطر میں ہونے والی صلح کی تقریب میں انڈیا کو مدعو ہی نہیں کیا گیا اور نہ ہی انڈیا کا نام ان ممالک میں شامل تھا جن کا شکریہ ادا کیا گیا۔ انڈیا کو اتنی بڑی سفارتی ناکامی پہلی بار ہوئی ہے یہ معاہدے بہت سے ممالک کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ منظر بھوپالی نے سچ فرمایا تھا کہ

طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے


ای پیپر