تحریک انصاف کی حکومت اور محنت کشوں کی حالت زار
04 مارچ 2020 2020-03-04

وزیراعظم عمران خان اورتحریک انصاف کے دیگر رہنما یہ دعویٰ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی حکومت مظلوموں اور کمزوروں کے ساتھ ہے اور ان کی حکومت ظالموں کا ہاتھ روکنے اور مظلوموں کی مدد کیلئے کوشاں ہے۔ وزیراعظم عمران خان بار بار اپنی تقاریر میں ہمیں یہ یقین دلاتے نظر آتے ہیں کہ بس مافیا کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔ ظلم و ناانصافی ختم ہونے والی ہے مگر بدقسمتی سے تمام تر دعووں اور نعروں کے برعکس زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔ محنت کشوں کی حالت زار اور ان کے حالات کار میں گزشتہ 18 ماہ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ محنت کشوں کے ساتھ وہی کچھ ’’نیا پاکستان‘‘ میں ہورہا ہے جو کچھ پرانے پاکستان میں ہوتا تھا۔ لیبر قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ محنت کشوں کی غالب اکثریت کو کم از کم اجرت کے مطابق تنخواہ نہیں ملتی۔ فیکٹریوں، کارخانوں اور کام کی جگہوں پر محنت کشوں کی صحت اورتحفظ کے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ ٹریڈ یونین بنانے کی اگرچہ قانون میں تو اجازت موجود ہے مگر عملی طور پر یونین بنانا ایک جرم ہے جس کی سزا نوکری سے برطرفی ، جھوٹے مقدمات اور تشدد کی صورت میں ملتی ہے۔ محنت کشوں کے ساتھ جو سلوک مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ہوتا تھا وہی سلوک تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ہو رہا ہے۔

گزشتہ ایک ماہ میں مختلف چار واقعات نے اس تاثر کو مزید گہرا کیا ہے کہ نہ تو حکومت کواور نہ ہی سیاسی قیادت کومحنت کشوں کے مسائل سے زیادہ دلچسپی ہے۔

لاہور کے نزدیکی علاقے بیگم گوٹ کی ایک فیکٹری راوی آٹوز میں گولی لگنے سے شہید ہونے والے محنت کش محمد رضوان کے نامزد قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ اس واقعہ کو کئی ہفتے ہو چکے ہیں۔ 24 سالہ محمد رضوان فیکٹری مالکان اور ان کے غنڈوں کی فائرنگ کی زد میں آ کر ہلاک ہوگیا تھا۔ اس کے قتل کا مقدمہ فیکٹری مالکان اور دیگر مسلح افراد کے خلاف درج ہوا تھا مگر ابھی تک نامزد ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔ متحدہ لیبر فیڈریشن، پاکستان مزدور محاذ اورراوی آٹوز کی یونین دیگر مزدور تنظیموں کے ساتھ مل کر محمد رضوان کو انصاف دلوانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں مگر حکومت خاموش ہے۔ اس فیکٹری میں 1200

محنت کش کام کرتے ہیں جنہیں 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔ محمد رضوان تو تنخواہ کے انتظار میں اس دنیا سے ہی رخصت ہو گیا۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت پچھلی حکومتوں سے مختلف ہے تو پھر اس کا عملی مظاہرہ بھی کرے۔

اسی طرح پہلے سرگودھا روڈ فیصل آباد کی فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے متعدد محنت کش جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ملتان روڈ پر بھائی پھیرو کے قریب گتے کی فیکٹری میں بوائلر پھٹنے سے 4 محنت کش ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس سے پہلے بھی بوائلر پھٹنے کے واقعات میں درجنوں محنت کش ہلاک ہوچکے ہیں اور کئی زخمی ہوئے مگر صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آگ لگنے کے متعدد واقعات میں ہونے والے جانی نقصان کے بعد جس لیبر انسپکشن کو بحال کیا تھا اس پر تحریک انصاف کی حکومت نے ایک بار پھر پابندی عائد کر دی۔ فیکٹریوں میں صحت اور تحفظ کے قوانین پر عمل درآمد کرنے کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔ لیبر انسپکشن پر پہلے مسلم لیگ (ق) کی حکومت نے پابندی عائد کی ہے۔ فیکٹری مالکان کی اکثریت صحت و تحفظ کے قوانین کا خیال نہیں رکھتی اور محنت کش خطرناک حالات میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ گزشتہ واقعات کے نتیجے میں فیکٹریوں اور کام کی جگہوں پر محنت کشوں کے تحفظ کے لئے اقدامات کئے جاتے۔ جدید قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جاتا۔ محنت کشوں، فیکٹری مالکان اور حکومتی نمائندوںپر مشتمل ایک آزادانہ اور مؤثر ادارہ اور میکنزم قائم کیا جاتا تاکہ حالات کار کو بہتر بنایا جاتا مگر تحریک انصاف کی حکومت نے تو لیبر انسپکشن پر ہی پابندی عائد کردی۔ لیبر انسپکشن پر 2002ء میں پابندی عائد کی گئی تھی جس کے بعد حالات مزید ابتر ہوئے ہیں۔ بوائلر پھٹنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے مگر ان واقعات سے کچھ نہیں سیکھا گیا۔

اسی طرح بونیر (کے پی کے) میں ماربل کی کان بیٹھنے سے کم از کم 7 محنت کش ملبے میں دب کر ہلاک ہو گئے جبکہ کئی ایک زخمی ہوئے ہیں۔ بلوچستان اور کے پی کے میں کوئلے کی کانوں میں متعدد واقعات میں بے شمار انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود اس حوالے سے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

ان تمام واقعات میں تحریک انصاف کی حکومت محنت کشوں کے ساتھ کھڑی ہونے کی بجائے مالکان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت مظلوموں اور کمزوروں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے طاقتوروں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔

آج بھی ملک میں دو قوانین اور دو پاکستان پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ آج بھی محنت کشوں کو انصاف کے حصول کے لئے سڑکوں پر دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ آج بھی ان کو قانون کے مطابق حقوق اور سہولیات حاصل نہیں ہیں۔

آج کے پاکستان میں بھی محنت کشوں پر تو دہشت گردی تک کے جھوٹے مقدمات فوراً درج ہو جاتے ہیں مگر مالکان کے خلاف پہلے تو مقدمات درج نہیں ہوتے اور اگر ہوجائیں تو پولیس ان کو گرفتار نہیں کرتی۔

زمینی حقائق اور صورت حال محض دعووں، نعروں اور تقریروں کے ذریعے تبدیل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں۔ پالیسیاں بنانی اور نافذ کرنا پڑتی ہیں، قانون کا یکساں اطلاق کرنا پڑتا ہے۔


ای پیپر