بھارت امن کا خواہاں نہیں
04 مارچ 2020 2020-03-04

قائد اعظم کی دانش اس بات کا ادراک کر چکی تھی کہ ہندو مسلمانوں کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کرنے والے اسی لئے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان بر صغیر نے لازوال قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا 1857ء کی جنگ آزادی کے دس سال بعد سرسید احمد خان نے اردو ہندی اختلافات کی وجہ سے 1867ء میں جو نظریہ پیش کیا، یہی دو قومی نظریہ تھاجسکے مطابق ہندو مسلم دو الگ قومیں قرار پائیں ۔

علامہ محمد اقبال نے 1930ء میں الہ آباد کے مقام پر آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں دو قومی نظریے کی وضاحت کردی تھی اور اسی نظرئیے کو بنیاد بنا کرمسلمانوں کے لئے ایک الگ مملکت کے قیام پیشن گوئی کی قائد اعظم محمدعلی جناح دو قومی نظریے کے سب سے بڑے داعی تھے اور پاکستان کا مقدمہ دو قومی نظریے ہی کی بنیاد پر اس طرح لڑا کہ دو قومی نظریے کو نظریہ پاکستان میں تبدیل کر دکھایا ہندو ہمیشہ سے مسلمانوں کی مخالفت کے بیج بوتے رہے ہیں آر ایس ایس ’راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ ‘ بھی تو خالص مسلم دشمن انتہاء پسند تنظیم ہے جو 1925میں قائم ہوئی جس نے اس وقت سے لے کر آج تک مسلمانوں پر مشق ستم روا رکھی ہے برطانوی حکومت نے تقسیم سے قبل دہشت پھیلانے والی اس تنظیم پر پابندی لگائی قیام پاکستان کے بعد بھی متعدد بار اس تنظیم کو اسکی انتہاء پسندی کی سبب ممنوع قراردیا گیا عالمی سطح پر اسے دہشتگرد تنظیم تسلیم کیا جا چکا ہے اندرا گاندھی نے بھی اپنے دور میں اس پر پابندی لگائی تھی ہندوستان میں فسادات کی ماسٹر مائنڈ تنظیم یہی ہے جو بابری مسجد کی شہادت سے لے کرسانحہ سمجھوتہ ایکسپریس تک ملوث ہے بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام اس تنظیم کی منفی سوچ کا شاخسانہ ہے بھارتی حکمران جماعت آر ایس ایس کی ہم خیال جماعت ہے جس کے پیرو کار انڈین وزیراعظم نریندر مودی جب آٹھ سال کے تھے تو وہ اس تنظیم میں شامل ہوئے اور فعال ترین رکن رہے 2002میں بطور وزیر اعلی گجرات آر ایس ایس کے غنڈوں نے مودی کی جنبش ابرو پر دس ہزار مسلمانوں کو تہہ تیغ کیا مسلمانوں کے اس قتل عام پر بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا چہرہ فاش ہوگیا مقبوضہ کشمیر میں آر ایس ایس کے غنڈے معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں کم سن بچوں کو اغواء اور خواتین کی عصمتوں کو پامال کررہے ہیں دلی میں انڈین پولیس ۔ فوج اور ’راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ‘ کے غنڈے مل کر مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں انکے گھروں کو جلایا جا رہا ہے مساجد اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کی جارہی ہے ایک ایک فرد کو روک کر اسے برہنہ کرکے دیکھا جاتا ہے کہ وہ ہندو ہے کہ مسلم باپ کے سامنے بیٹوں اور بچوں کے سامنے انکے والدین کو ذبح کیا جاتا ہے سڑکوں پر سرعام مسلم نوجوانوں کو گھیر کر مارا جا رہا ہے جسے دنیا ٹی وی پر دیکھ رہی ہے لیکن کرکچھ نہیں رہی در اصل ہندو مسلمانو ں سے اس لئے خائف ہے کہ وہ سمجھتے ہیں مسلمانوں نے ہندوستان پر طویل عرصہ حکومت کی ہے اور کہیں یہ پھر سے اقتدار میں نہ آجائیں 1192- میں قطب الدین ایبک نے ہندوستان میں پہلی مسلم حکومت کی بنیاد رکھی مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ دور حکومت ہنددوں کو کسی کروٹ چین لینے نہیں دے رہا وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان پھر سے بھارت پر حکمرانی کریں گے لیکن وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ مسلمانوں نے کبھی ہندووں سمیت کسی دوسرے مذہب کے شخص پر ظلم نہیں کیا مسلمانوں کی تاریخ تو یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں کے دور میں عدا لتیں انصاف کے تقاضے پورے کرتے مسلمانوں کے مقابلے میں دوسرے مذاہب کے لوگوں کے حق میں فیصلے دیتی آج دلی میں مسلمانوں سے ان سے جینے کا حق چھنا جارہا ہے اقلیتیں زیر عتاب ہیں جہاں مسلمان نظر آگیا وہیں ڈھیر کر دیا گیا آر ایس ایس بھارت کو خالص انتہاء پسند و ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے ۔ اب 19 سال کی خونی جنگ کے بعددوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین تاریخی امن معاہدہ طے پا گیا ہے جسکے مطابق طالبان معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کریں گے امریکہ اور ان کے نیٹو اتحادی اگلے 14 ماہ میں افغانستان سے اپنی تمام افواج واپس بلا لیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’آج امن کی فتح ہوئی ہے مائیک پومپیو نے پاکستان کے امن معاہدے میں کردار کو سراہا لیکن اس امن معاہدے سے بھی بھارتی حکمرانوں کے سینوں پر سانپ لوٹنا شروع ہوگئے ہیں کیونکہ بھارتی انتہاء پسند حکمران امن کے دشمن ہیں جنہوں نے افغانستا ن میں امن کو تہہ و بالا کرنے کے لئے ملین ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی بھارت افغانستان میں امن کی صورتحال کو خراب کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا ہیرات میںانڈیا اور افغانستان کے 1500انجنئیرز نے سلمہ ڈیم بنایا جسے فرینڈ شپ ڈیم کا نام بھی دیا جاتا ہے اس میں بھی بھارتی مالی تعاون رہا جسکی تعمیر میں تیس کروڑ ڈالر کی لاگت آئی 2015میں نریندر مودی نے افغانستان کی پارلیمان کے افتتاح کے موقع پر خطاب میں کہا تھا کہ’آپکے خوابوں کی تعبیر ہمارے ذمہ ہے آپکا دکھ ہمارے لیے تکلیف کا باعث ہے آپ کااستحکام ہمارا عتماد ہے۔ آپ کی دوستی باعث عزت اور آپکی ہمت ہی ہماری تحریک ہے ، قابل ذکر امر تو یہ ہے جس پارلیمان کے افتتاح پر نریندرا مودی خطاب کررہے تھے وہ عمارت بھی بھارتی مالی امداد سے تعمیر کی گئی اور اسکے ایک بلاک کا نام سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی کے نام پررکھا گیا تو بھارت نے افغانستان میں اتنی سرمایہ کاری کیوں کی ؟ 2006 تک افغانستان کے صدر حامد کرزئی 4بار سرکاری دورے پر بھارت گئے کابل کے بعد انڈیا نے 2002کے بعد ہرات ۔ قندھار۔ مزار شریف۔جلال آباد میں انڈیا نے اقتصادی سفارتخانے کھولے ایک انڈین رپورٹ کے مطابق بھارت افغانستان میں تقریبا 140 ارب انڈین روپوں سے زائد خرچ کر چکا ہے اب یہاں یہ سوال قابل غور ہے کہ مسلمانوں کی صف اوّل کی دشمن بھارتی جنتا پارٹی کے حکمران ایک مسلم ملک میں اتنی سرمایہ کاری کیوں کر رہا ہے جس کا ایک ہی جواب ہے کہ پاکستان کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں کا عمل تیز کرنا پاکستان میں سی پیک کو روکنے کے لئے انڈیا نے دن رات ایک کردئیے تھے لیکن جیسے ہی پاکستان میں سی پیک کا افتتاح ہوا بھارت چاہ بہار جا پہنچا تھا گوادر کی بندرگاہ ایران سے تقریبا 75کلومیٹر جبکہ چاہ بہار سے 90کلومیٹر کے فاصلے پر ہے بھارت کا چاہ بہار پہنچنے کا مقصد ہی گوادر کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اورپاکستان کو بائی پاس کرکے افغانستان پہنچنا تھا بھارت نے پاکستان دشمنی کا کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اس وقت بھارت میں نرندرا مودی کی حکومت نہ صرف پاگل ہاتھی کی طرح انڈین مسلمانوں کو کچل رہی ہے بلکہ پاکستان دشمنی میں اندھی ہوچکی ہے عالمی طاقتوں پر لازم ہے کہ وہ بھارت کے دہشتگردی کی طرف اٹھتے قدموں کو روکے وہ قدم چاہے بھارتی مسلمانوں کے خلاف اٹھ رہے ہوں یا کشمیری معصوم نہتے کشمیریوں کے خلاف تب ہی دنیا امن کا گیت گا سکے گی وگرنہ بھارت امن کا دشمن تھا امن کا دشمن ہے اور امن کا دشمن رہے گا ۔


ای پیپر