مذاکرات اور جنگ کی سیاست ایک ساتھ نہیں
04 مارچ 2020 2020-03-04

پاکستان کے حکمران اور مذہبی رہنما دوحہ میں ہونے والے امریکہ اورا فغان امن مذاکرات کی کامیابی کا جشن منا ہی رہے تھے کہ افغان صدر اشرف غنی نے معاہدے سے انکار کرتے ہوئے بیان جاری کردیا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کابل انتظامیہ یعنی کابل کی حکومت کرے گی۔طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی رو سے یہ طے پایا تھا کہ مارچ کے آغاز میں ہی کابل انتظامیہ طالبان قیدیوں کو اور انکے بدلے میں طالبان افغان فوجیوں کو رہا کریں گے۔ اشرف غنی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ طالبان قیدیوں اور افغان فوجیوں کی رہائی کا فیصلہ امریکہ نے نہیں کرنا بلکہ یہ فیصلہ انٹرا افغان مذاکرات (جو افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مارچ کے دوسرے ہفتے میں ہوں گے) میں کیا جائے گا۔ افغان صدر کے بیان کے بعد طالبان نے اعلان کیا کہ قیدیوں کی رہائی کے بغیر کابل حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہونگے۔اس اعلان کے ساتھ ہی اور طالبان کی جانب سے امن معاہدے سے قبل کی گئی 7 روز کی جنگ بندی کی مدت ختم ہوتے ہی طالبان نے افغان حکومت کی پولیس اور فوج پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ہے۔طالبان نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انکے اہلکار غیر ملکی فوج پر حملے نہیں کریں گے لیکن امریکہ نے بھی جواباََ واضح کر دیا ہے کہ اگر افغانستان میں انکے حامیوں پرطالبان کی جانب سے حملے ہوئے تو امریکہ اپنے حامیوں یعنی افغان حکومت کاساتھ دے گا۔معاہدے کے حوالے سے امریکہ کے وزیر خارجہ پومپیو کے بیان کے مطابق اب قیدیوں کی رہائی کو پیشگی شرط نہیں مانا جا رہا ہے بلکہ شرط یہ ہے کہ اگر امن معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا تو امریکی فوج افغانستان سے نہیں جائے گی۔ان تمام بیانات کے بعد

مذاکرات کی کامیابی کا ناکامی کی طرف سفر اس وقت ہوا کے گھوڑے پرسوار نظر آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن مذاکرات کے تابوت پر آخری کیل ٹھونکنے کی کوشش میں بیان داغا کہ اگر امن معاہدے پر عمل نہ ہوا تو امریکہ افغانستان میں اتنی بڑی فوج بھیجے گا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔امریکہ اور طالبان کے مذاکراتی عمل میں پاکستان کا کردار تھا ، نہیں تھا یا کتنا تھا ایک الگ بحث ہے مگردوحہ میں ہونے والے امن معاہدے پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں تھا جس میں انھوں نے معاہدے کی کامیابی کے لئے ان عناصر پر کڑی نظر رکھنے کا مشورہ دیا تھا جو معاہدے کا سبوتاژکرنا چاہتے ہیں یا کر سکتے ہیں۔ پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان کے تناظر میں اگر معاہدے سے قبل بھارتی سیکرٹری خارجہ کی افغان صدر سے خصوصی ملاقات کو دیکھا جائے تو صورتحال واضح ہوتی نظرآتی ہے اور اب معاہدے کے بعد افغان صدر کے تحفظات اور بیانات کو دیکھ کر اندازا کرنا مشکل نہیں کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ کی جانب سے خاص ملاقات میں بھارتی وزیر اعظم کا افغان صدر کو کیا خاص پیغام دیا گیا؟یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارت امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتا تھا کیونکہ نہ تو اس امن معاہدے میں بھارت کو کوئی کردار مل سکا اور افغانستان میں امن کے بعد عالمی طاقتوں کی نظریں کشمیر پر ہونگی جہاں ظلم اور انسانیت سوز واقعات کا دائرہ کار اب بھارت بھر کے مسلمانوں تک پہنچ چکا ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز سے شروع ہونے والی امریکہ کی افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کا کسے کتنا نقصان ہوا اور کون مزید نقصان برداشت نہیں کر سکتا ہے؟سپر پاور کے لیے یہ حقیقت تلخ ضرور ہے مگر حقائق یہی ہیں کہ اربوں امریکی ڈالر اور ساڑھے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی جانوں کا نقصان اٹھانے کے بعد مزید جنگ جس کا نتیجہ بھی ہار یا مذاکرات ہی ہے جاری رکھناسراسر بے وقوفی ہے۔ دوسری طرف لاکھوں افغان اہلکاروں اور ہزاروں شہریوں کا نقصان اٹھاتے طالبان بھی اگر تھکے نہیں تواس لاحاصل جنگ سے تنگ ضرور آ گئے ہیں۔ طالبان اور امریکہ کی جنگ میں صرف افغانستان یا امریکہ نے ہی نہیں بلکہ پاکستان نے بھی بڑا نقصان اٹھایا ہے۔2004سے18 کے درمیان دہشت گردی کے واقعات میں 26ہزار سے زائد بے گنا پاکستانی شہریوں اور 32ہزار سے زائد مشتبہ افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔اس جنگ کو بنیاد بنا کر پاکستان کی دشمن قوتوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی بھی کرائی اور الزام بھی طالبان پر ڈالا

۔یہی وجہ ہے کہ آج جب اس جنگ کے ختم ہونے کے امکانات نظر آ رہے ہیں امن دشمن قوتیں اپنا پورا زور لگا کر جنگ کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ تمام تر صورتحال کا پس منظر جاننے کے باوجود امریکہ، طالبان اور افغان حکومت کا رویہ منزل کے قریب پہنچ کر راستہ بدل لینے کے مترادف ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی کوششوں اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باعث امریکہ اور طالبان ایک طرف مذاکرات کی بات تو کر رہے ہیں مگر دوسری طرف دھمکیوں اور جنگ کی سیاست بھی کی جا رہی ہے۔ امریکہ مذاکرات کی میز پر تو ہے مگر تاثر یہی قائم رکھنا چاہتا ہے کہ وہ سپر پاور ہے اور طالبان کو زیر کر کے مذاکرات کر رہا ہے جبکہ مذاکرات کی میز پر کوئی سپر پاو یا طاقتور نہیں ہوتا بلکہ دونوں فریقین برابر ہوتے ہیں ۔ اسی طرح طالبا ن کو یہ خمار ہے کہ انھوں نے سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے جبکہ حقیقت یہ بھی نہیں ہے ۔حقیت تو یہ ہے کہ طالبان اور امریکہ دونوں ہی جنگ جیتے نہیں بلکہ ایک سے بڑھ کر ایک نے نقصان اٹھایا ہے کیونکہ امریکہ کی گراؤنڈ پر طالبان نہیں کھیل سکتے اور طالبان کے گراؤنڈ کو سمجھنا امریکہ کے لئے ممکن نہیں۔ اسی لیے وقت کی ضرورت یہ ہے کہ اگر یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو اب تمام فریقین کو عقل و فہم سے کام لیتے ہوئے مذاکرات کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنا ہو گا۔


ای پیپر