’’آئو صلح کریں‘‘ : ایک عظیم الشان منصوبہ
04 مارچ 2020 2020-03-04

سیانے کہتے ہیں کہ انسان خوشی میں شریک ہونے والے لوگوں کو تو بھول سکتا ہے لیکن اپنے مشکل وقت میںساتھ دینے والے اور شاباش تم کر سکتے ہو کی تھپکی دینے والے لوگوں کو کبھی بھلا نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے احسان مند لوگوں کے بارے نبی رحمتؐ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ جو اپنے محسن کا شکر گذار نہیں ، وہ اپنے رب کا بھی شکر گذار بندہ نہیں بن سکتا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کسی بھی موڑ پر آسانیاں پیدا کر نے وانے محسنوں کی کیا قدر ہے ۔ میں جب بھی اپنے ماضی کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تومڈل پاس، ایک ہزار ماہانہ تنخواہ پر چائے کی دوکان پر بطور ’’چھوٹا‘‘کام کر نے والا انسان کیسے کامیابی کی شاہراہوں کا مسافر بن کر بالآخر کسی شکل میں ایک کامیاب انسان ٹہرتا ہے اور پی۔ایچ۔ڈی کے طالبعلم کی حیثیت سے اپنے اوپر فخر محسوس کرتا ہے ۔اس کے پیچھے بھی قاسم علی شاہ جیسے محسنوں کی تربیت ہے جنہوں نے زندگی کے مشکل ترین ایام میں لوگوں کا شکریہ اداء کر نے کی عادت ڈالی اور یوں اس عادت کو استعمال کرتے ہوئے جہاں کامیابیوں کے دروازے واہ ہوئے وہاں لوگوں سے اس قدر عزت میسر آئی کہ اس پر اپنے اللہ جی کا جتنا بھی شکر اداء کروں کم ہے ۔

بھوک، افلاس اور بے بسی کا زمانہ ، ایسازمانہ ہوتا ہے جب انسان کی تمام صلاحتیں ماند پڑنا شروع ہو جاتی ہیں اور یوں انسان نہ چاہتے ہوئے بھی لاشعوری طور پر فرسٹریشن اور ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے ۔ آج سے پندرہ سال قبل ایسے ہی حالات کامجھے بھی سامنا تھا اور نوکری کی تلاش میں اخبارات میں شائع ہونے والے خالی آسامیوں کے تراشے کاٹ کر اور اسے محفوظ کر کے

در در کاسوالی بنتا تھا۔ اسی دوران میرے رب نے میرے اوپر خاص فضل کیا اور قاسم علی شاہ کی رفاقت میسر آگئی۔ ان پندرہ سالوں میں جو کچھ سیکھنے کا موقع میسر آیا اسے لفظوں میں بیان کر نا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ بلا شبہ قاسم علی شاہ دور حاضر کا صوفی ہے جو لوگوں کے دلوں کو تبدیل کر کے انہیں محبت خدا کے رستے کا مسافر بنا دیتا ہے اور پھر نا ختم ہونے والی کامیابیاں انسان کا مقدر ٹھہرتی ہیں۔

قارئین !قاسم علی شاہ فائونڈیشن ، ہر گذرتے دن کے ساتھ لوگوں میں نا امیدی اور مایوسی کی وجہ سے انسانوں میں پیدا ہونے والی فرسٹریشن اور ڈپریشن جیسی بیماریوں سے لڑنے کی ہمت پیدا کر رہی ہے اور آئے روز ماہرین نفسیات ، ڈاکٹرز، صنعت کاروں ، صحافیوں اور دانشوروں کے سیشنز منعقد کر واکے واصف علی واصف، اشفاق احمد ؒ اور ممتاز مفتی جیسے لوگوں کی یاد زندہ کئے ہوئے ہے ۔ اب تک لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا سہرا بھی قاسم علی شاہ کو سجتا ہے جو دوسرے کے دل میں اتر جانے والی گفتگو اور بجائے مغربی مفکرین کے بجائے قرآن و حدیث اور اسلامی واقعات کے ذریعے بات کرتے ہیں ۔ میری چونکہ ان سے بہت پرانا تعلق ہے ، اس لئے میں ان کے ظاہر و باطن سے بخوبی واقف ہوں اور مجھے خوشی ہوتی ہے کہ اس بلند مقام تک پہنچنے کے بعد بھی ان کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے بالکل اجلا، صاف اور شفاف ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان سے نکلنے والا ہر ہر لفظ لوگوں کے سینوں میں اترتے ہوئے انہیں عمل کے رستے کا مسافر بناتا ہے ۔ بلاشبہ پاکستان میں کئی سالوں بعد منظم طریقے سے ادبی بیٹھکوں اور علمی محافل کو بڑی عمدگی کے ساتھ سجانے اور لوگوں کو اس طرف مائل کر نے کا کریڈٹ بھی قاسم علی شاہ فائونڈیشن کو جاتا ہے ۔

قارئین محترم! نہ صرف انسانی رویوں، ان کی نفسیات کی پاکیزگی ، نا امیدی اور مایوسی جیسی بیماریوں کے خلاف سینہ سُپر ہو کر جہاد کرنا بلکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کے زہر کو ختم اور لوگوں میں بڑھتی ہوئی نفرتوں کے خاتمے کے لئے قاسم علی شاہ فائونڈیشن نے ایک عظیم الشان منصوبے’’ آئو صلح کریں ‘‘ کا آغاز بھی کیا ہوا ہے ۔لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس اور درویش صفت انسان جناب جسٹس انوارالحق ، جنہوں نے عدالتی نظام کو بہتر بنا نے میں کافی سنجیدگی سے کام کیا اور بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہائیکورٹ میں جتنی جدید اصلاحات کی گئیں ، جسٹس صاحب ان کے بانی ہیں ، اور قاسم علی شاہ خود اس منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ معاشرے میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر معاملہ طلاق تک جا پہنچتا ہے جس کی وجہ سے دو خاندان اور بالخصوص بچے جس کرب و اذیت سے گذرتے ہیں ، اس کا ثبوت آپ گارڈین عدالتوں میں آئے روز دیکھ سکتے ہیں ۔ عدالتوں میں اس حوالے سے کیسز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور معاملہ بہت گھمبیر ہوتا جا رہا ہے ۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے قاسم علی شاہ فائونڈیشن نے ’’ آئو صلح کریں ‘‘ کے پلیٹ فام سے لوگوں میں بالخصوص میاں بیوی کے درمیان بلا معاوضہ مصالحت کا آغاز کیا ہے اور اب تک درجنوں کیسز کامیابی کے ساتھ سر انجام پائے ہیں اور اس کے بہت مثبت نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ میںیہاں ایک دفعہ پھر مبارکباد پیش کرتا ہوںجناب قاسم علی شاہ اور ان کی پوری ٹیم کو جو کام ریاست کا کرنے والاتھا وہ اسے بخوبی سر انجام دے رہے ہیں ۔ نیکی کا جو بیج انہوں نے بویا ہے عنتقریب وہ ایک تن آور درخت بن کر معاشرے میں اپنی چھائوں کرے گا اور یوں عدم برداشت، نفرت، مایوسی اور نا امیدی جیسی لعنتیں خود ختم ہو جائیں گی ۔


ای پیپر