پولیس اسٹیشنز یا جدید کمپلینٹ سینٹرز !
04 مارچ 2020 2020-03-04

پاکستان میں پولیس ریفارمز کے حوالے سے بہت گفتگو ہو چکی ہے ۔ کئی تھنک ٹینک بھی اس حوالے سے کام کر رہے ہیں ۔ دانشوروں کی محفلوں میں بھی یہ موضوع کسی نہ کسی حوالے سے سامنے آتا رہتاہے ۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ تھانہ کلچر کی تبدیلی اور پولیس ریفارمز کا تعلق کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر اس شہری کی خواہش رہی ہے جو پاکستان میں پر امن معاشرے اور قانون کی حکمرانی کا خواب دیکھتا رہا ہے ۔ ایک عرصہ تک وزیر اعظم عمران خان کی تقاریر اور ٹی وی شوز کا موضوع بھی پاکستان میں پولیس کلچر کی تبدیلی رہا ہے ۔ وہ اب بھی اس حوالے سے بات کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک تبدیلی یہ بھی آئی کہ پہلے وہ پولیس ریفارمز یا تبدیلی کے حوالے سے صرف کے پی کے کی مثال دیا کرتے تھے لیکن اب انہوں نے خاص طور پر پنجاب میں پولیس کی کارکردگی کو سراہنا شروع کر دیا ہے ۔ ایک سے زائد بار انہوں نے میڈیا کے سامنے آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی تعریف کی ہے جبکہ آئی جی پنجاب اسے اپنی پوری فورس کی تعریف قرار دیتے ہیں جو ان کی پروفیشنل ازم کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ پنجاب میں پولیس کے حوالے سے آخر ایسا کیا ہوا جس کی بدولت وزیر اعظم اسی پنجاب پولیس کی تعریف کرنے لگے جس کے وہ ناقد تھے ۔ انسانی رویوں کو پرکھنے والے جانتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی کا ناقد ہو تو پھر اس کو تعریف پر آمادہ کرنے یا متاثر کرنے کیلئے کارکردگی کو کئی گنا زیا دہ بڑھانا پڑتا ہے ۔ یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ موجودہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر نے ایسے اقدامات کئے ہیں جن کی بدولت پنجاب میں پولیسنگ کا انداز بدل رہاہے ۔ کرائم آبزرور کے طور پر جب میں نے اس نقطہ پر فوکس کیا تو معلوم ہوا کہ پنجاب پولیس جدید پولیسنگ کی طرز پر کئی آئی ٹی پراجیکٹس متعارف کروا چکی ہے جس کی وجہ سے عوام کے مسائل تیزی سے حل ہو رہے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ موجودہ آئی جی پنجاب شہریوںسے پولیس کے رویہ پر خاص توجہ دے رہے ہیں ۔میری دلچسپی ان کے حالیہ اقدامات میں سب سے زیادہ تھانہ کلچر یعنی تھانوں کے اندر کے ماحول میں تبدیلی لانے کیلئے کئے گئے اقدامات پر ہے ۔

اس میں دو رائے نہیں کہ پولیس کے رویہ کے حوالے سے عام شہری دو جگہوں پر متاثر ہوتا ہے ۔ ایک جب کوئی واردات ہو تو وہاں پہنچنے والی پولیس ٹیم یا اہلکار

کا رویہ انسان کبھی نہیں بھول پاتا۔ یہ رویہ نان پروفیشنل اور غیر ذمہ دارانہ ہو گا تو متاثرہ شخص پولیس کے برے امیج کے حوالے سے چلتا پھرتا اشتہار بن جائے گا کیونکہ وہ اگلے کئی برس اس رویہ کا حوالہ دیتا رہے گا ۔ اسی طرح اگر جائے واردات پر پہنچنے والی پولیس ٹیم کا رویہ مدعی یا متاثرہ شخص کے ساتھ اچھا ہو گا تو یہ بھی پولیس کی امیج بلڈنگ کے لئے دیر پا پبلسٹی بن جائے گی ۔ موجودہ آئی جی اس چیز کو بھی مانیٹر کر رہے ہیں کہ 15 پر کال چلنے کے بعد متعلقہ پولیس کتنے منٹ میںپہنچی ہے۔ دوسری اہم جگہ پولیس اسٹیشن ہے جہاں لوگ اپنی شکایات درج کروانے جاتے ہیں ۔ یہاں لوگوں کو جیسا ماحول اور رویہ ملے گا وہ اسے عمر بھر یاد رکھیںگے ۔ پولیس کا ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ تھانوں کا ماحول ،عملہ کا رویہ اور محدود وسائل کی بدولت جن لوگوں کے مسائل حل ہو جاتے تھے وہ بھی پولیس رویہ اور تھانہ کلچر کے حوالے سے منفی گفتگو ہی کرتے تھے ۔ اس طرح پولیس اسٹیشن جانے والے نوے فیصد لوگ جن کو پولیس ریلیف فراہم کر دیتی تھی وہ بھی پولیس کے خلاف تھے ۔ وزیر اعظم عمران خان اسی تھانہ کلچر کو تبدیل کرنا چاہتے تھے اور وہ پولیس اسٹیشن کو عوام دوست کمپلینٹ سنٹر بنانا چاہتے تھے جو موجودہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے دور میں ممکن ہوا ۔ اس وقت صوبہ کے 50 سے زائد پولیس اسٹیشز کو سپیشل انیشیٹیو ماڈل پولیس اسٹیشن کے نام سے جدید طرز پر قائم کیا گیا ہے ۔ اس پراجیکٹ کا افتتاح وزیر اعظم پاکستان نے کیا تھا لہذا وہ پنجاب میں تھانہ کلچر کی اس تبدیلی کے خود بھی گواہ ہیں ۔ سپیشل انیشیٹیو کے تحت قائم کئے گئے ان پولیس اسٹیشنز کوشہریوں کو سہولیات کی باآسانی فراہمی کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیز کے کمپلینٹ سینٹرز کی طرز پر ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور سمارٹ ورکنگ کے آئیڈیاز پر مشتمل ( سپیشل انیشیٹو) ماڈل پولیس اسٹیشنز جہاں شہریوں کے مسائل کے خاتمے اور انہیں سروسز کی فوری فراہمی کا باعث بنیں گے وہیں یہ پولیس ورکنگ کو مزید موثر بنانے کے ساتھ ساتھ تھانہ کلچر کی تبدیلی کے عمل کو مزید تیز کریں گے جس سے پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد سازی کی فضا مزید مضبوط ہوگی۔ انہوںنے یہ بھی بتایا کہ اس پراجیکٹ میں سمارٹ اینڈ کمیونٹی پولیسنگ کی طرز پر شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے علاوہ انکی سہولت اور خدمت پر بطور خاص توجہ دی گئی ہے جس سے شریف شہریوں کو پولیس اسٹیشن آنے کا ڈر یا خوف نہیں ہوگا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصدشہریوں کو بہتر ماحول اور سہولیات کی بروقت و باآسانی فراہمی کو یقینی بنانا ہے لہذااپ گریڈ کئے گئے ماڈل تھانوں کی عمارت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ان تھانوں کے پہلے حصہ میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ پولیس کائونٹر اور ویٹنگ روم بنائے گئے ہیں جہاںکائونٹرز ٹوکن سسٹم کے ذریعے شہریوں کو بروقت راہنمائی اور سہولیات فراہم کریں گے جبکہ عوام کی سہولت کیلئے مصالحتی کمیٹی روم ، ایس ایچ او روم اور میٹنگ ہال بھی تھانے کے اسی اگلے حصہ میں ہوں گے۔ یہاں آنے والا شہری ٹوکن لے کر اپنی باری کے انتظار میں ویٹنگ روم میں بیٹھے گا ۔ اسی طرح جو معاملات آپس میں طے ہو سکیں اور دونوں پارٹیاں معاملات باہمی رضا مندی سے حل کر سکتی ہوں اس کے لئے انہیں مصالحتی کمیٹی روم مہیا کیا جائے گا ۔ اگر وہ کسی بھی وجہ سے مصالحت پر آمادہ نہ ہوں یا ان کا راضی نامہ نہ ہو سکے تو فرنٹ ڈیسک ان کی شکایات درج کر کے کاروائی کا آغاز کریں گے ۔ شہری کو تھانے کے ایک ہی حصہ میں ایس ایچ او ، فرنٹ ڈیسک ، انتظار گاہ اور مصالحتی کمیٹی روم دستیاب ہو گا جہاں پولیس ملازمین کے رویے کی نگرانی کے لئے ایک ایک لمحہ کی ویڈیو کیمروں سے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے جبکہ تھانے کے ایسے دفتری امور سے متعلقہ شعبے جن کا براہ راست شہریوں سے تعلق نہیں وہ تھانے کے پچھلے حصہ میں قائم کئے گئے ہیں تاکہ اہلکاروں کے آنے جانے سے شہری پریشان نہ ہوں۔ ان میں محرر کا کمرہ ،تفتیشی افسران کے کمرے، مانیٹرنگ اینڈ آپریشنز کے کمرے اور حوالات شامل ہیںجہاں پولیس تفتیش اورانکوائریوںکے تمام معاملات سمیت اپنے روز مرہ کے معمولات سر انجام دے گی۔یہاں سب سے اچھا یہ ہوا کہ ٹوکن سسٹم کے اجراء سے تھانے میں سفارش، پرچی اور وی آئی پی سسٹم کا خاتمہ ہوگا اور تمام معاملات میرٹ کے مطابق سر انجام پائیں گے۔ بلاشبہ یہ پراجیکٹ پنجاب میں روایتی تھانہ کلچر کے خاتمے اور لوگوں کے دلوں سے تھانوں کا خوف ختم کرنے کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے اس لئے میرے خیال میں اس پراجیکٹ کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے صوبہ کے تمام تھانوں کو اسی طرز پر بنانا بہت ضروری ہے ۔ چونکہ وزیر اعظم پاکستان خود ان ماڈل پولیس اسٹیشنز کو دیکھ کر تعریف کر چکے ہیں لہٰذا ہر پولیس اسٹیشن کو اسی طرز پر بنانے کے لئے آئندہ بجٹ میںمحکمہ پولیس کے لئے اضافی فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اگر پنجاب کے تمام تھانے اسی طرز پر بن گئے تو یہ روایتی تھانہ کلچر اور تھانوں کے حوالے سے عوامی خوف کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گی ۔ سچ کہیں تو تھانہ کلچر کی اصل تبدیلی یہی ہو گی۔


ای پیپر