افغانستان کو جینے دو
04 مارچ 2020 2020-03-04

مجھے یہ بات امریکیوں سے پہلے افغانستانیوں سے کہنی ہے جو اس جنگ کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں جن کی ایک ، دو نہیں نجانے کتنی نسلیں جنگ و جدل میں جنم لے کر ، ایک مشکل ترین زندگی گزارنے کے بعد،مٹی میں فنا ہوچکی ہیں۔ ہم ایک پر امن ملک میں رہتے ہوئے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ افغانی جہاد کر رہے ہیں، انہوں نے پہلے دنیا کی ایک سپر پاور سوویت یونین کو توڑا اور اب میرے بہت سارے جذباتی دوستوں کے مطابق امریکا کو اٹھارہ برس کی جنگ کے بعد دھول چٹا دی ہے مگر میں سوچتا ہوں کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد بھی وسط ایشیائی ریاستوں میں معیار زندگی وہ ہے جس کا افغانی صرف خواب دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کیسی فتح تھی جس کے بعد میرے ہمسائے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر سے محروم ہو گئے ۔ میں جب افغانستان میں جنگ کی تاریخ دیکھتا ہوں تو مجھے خانہ جنگی کے ادوار اسی طرح ملتے ہیں جس طرح ہمارے ہاں حکومتوں کے ادوار، افغان ایک جنگ سے نکلتے تو خانہ جنگی میں گھستے، ایک خانہ جنگی سے نکلتے تو دوسری خانہ جنگی میں مرتے مارتے نظر آتے ہیں ۔

میں جب افغانستان گیا اور اسامہ بن لادن سے ملا تھا تو بظاہر یہ زمانہ امن کا تھا۔ افغانستان سے بہتر کس ملک کے لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ امن دو جنگوں کے درمیانی وقفے کو کہتے ہیں اور مجھے نظر آ رہا تھا کہ یہ وقفہ ختم ہونے والا ہے۔ ہم طالبان رہنماو¿ں کی معیت میں البدر ٹو پہنچے تھے جہاں ہمارے ساتھ ہی اسامہ بن لادن کا استقبال ایسی گولہ باری سے کیا گیا تھا کہ پہاڑ لرز اٹھے تھے۔ اسامہ بن لادن امریکہ اور اس کے ساتھ ساتھ آل سعودپر برہم تھے۔ وہ دنیا بھر میںامریکی مفادات کونشانہ بنانے کا اعلان کر رہے تھے۔ اس وقت کم از کم پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا مگر ایک ایسے کیمرے پر اس ملاقات کی ویڈیو ریکارڈ کی جا رہی تھی جو ہمارے ہاں طویل عرصے تک شادی بیاہوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ یہیں ہماری ملاقات اسامہ بن لادن کے دست راست ایمن الظواہری سے بھی ہوئی تھی اور مصر کے ٹریڈ سنٹر میں ہونے والی دہشت گردی کے نابینا مجرم کا بیٹا ہماری گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اور ہم نے اسی سفر میں سنگلاخ چٹانوں پران کی قیادت میں باجماعت نمازیں بھی ادا کی تھیں۔

مجھے اپنی یادداشتوں کو مجتمع کرتے ہوئے جمع تفریق کر لینے دیجئے کہ نائن الیون کے بعد امریکا نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو مانگا تھا مگرطالبان کا کہنا تھا کہ اسامہ مہمان ہیں اور وہ اسلامی اور افغان روایات کے تحت مہمان کی حفاظت کے پابند ہیں۔ طالبان نے اسامہ بن لادن کوبچاتے بچاتے اپنی حکومت ختم کروا لی۔ لاکھوں افغان ایک مرتبہ پھر مہاجر ہو گئے۔ تورا بورا جیسے نجانے کتنے واقعات ہوئے، کتنی شادی کی تقریبات کی روشنیوں کو دہشت گردی سمجھ کر پورے کے پورے خاندان امریکی فوج نے اڑا دئیے۔ اس وقت خود افغان حکومت کے پاس یہ اعداد وشمار موجود نہیں ہیں کہ ان کے کتنے معصوم شہری مارے گئے۔ اشرف غنی گذشتہ برس جنوری میں بتا رہے تھے کہ پانچ برسوں میں پینتالیس ہزار افغان سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں، براون یونیورسٹی میں قائم واٹس انسٹی ٹیوٹ کی ریسرچ کے مطابق طالبان کے بیالیس ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں ( سوری! سید منور حسن کی زبان میں شہادت کا رتبہ پاچکے ہیں)۔ گذشتہ برس فروری میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق بتیس ہزار افغان شہری جاں بحق ہوئے مگر مجھے یہ رپورٹ کسی محدود عرصے کی لگتی ہے مگر بہرحال امریکیوں کے پاس اپنے اعداد وشمار موجود ہیں جن کے مطابق تئیس سو امریکیوں سمیت صرف ساڑھے تین ہزار غیر ملکی فوجی مارے گئے ہیں۔ اب آپ مہاجر ہوجانے والے چالیس لاکھ افغانوں سمیت ایک غیر رسمی اندازے کے مطابق مارے جانے والے ساڑھے تین لاکھ افغانوں کے بارے بھی سوچیں۔ امریکا کا نقصان کتنا تھوڑا ہے کہ اس نے گذشتہ انیس، بیس برسوں میں اگرچہ پاکستان، افغانستان ، شام اور عراق میں کارروائیوں پر چھ ٹریلین ڈالر خرچ کردئیے ہیں مگراس کے باوجود مریکیوں کو صحت اور تعلیم کی تمام سہولتیں حاصل ہیں، ان کی سڑکیں آباد اور عمارتیں جگمگا رہی ہیں۔ ان کی عورتیں اب بھی جن ہسپتالوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں وہاں دنیا کی بہترین سہولتیں حاصل ہیں مگر افغانستان کی مجبور عورتیں اورمعصوم بچے۔۔؟

اب بہت ظاہری کوششوں اور خفیہ رابطوں کے بعد ایک معاہدہ ہوا ہے۔ ہمارے دوست کہتے ہیں کہ یہ طالبان کی فتح ہے جنہیں باقاعدہ فریق تسلیم کر لیا گیا ہے اور جب انٹر افغان مذاکرات کا نتیجہ نکلے گا تو طالبان افغانستان کی تسلیم کی گئی حکومت میں حصے دار ہوں گے اگرچہ وہ اس وقت بھی افغانستان کے بڑے حصے پر قابض ہیں مگر دوسری طرف نظر آ رہاہے کہ معاہدے کی پہلی سطر سے ہی امریکی مفادات کی ترجمانی اور پاسبانی کی گئی ہے۔ امریکا کہتا تھا کہ طالبان سمیت کوئی بھی قوت اس کے مفادات پر حملہ آور نہ ہو اور طالبان کے ساتھ معاہدہ اس امر کی ضمانت فراہم کر رہا ہے۔ اب معاملہ یوں ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے کٹھ پتلی حکمران ہونے کے باوجود امریکا کی طرف سے امن معاہدے میں اہمیت نہ دئیے جانے پر ردعمل میںکہا ہے کہ وہ پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو انٹر افغان مذاکرات سے پہلے ہرگز رہا نہیں کریں گے البتہ یہ رہائی انٹر افغان ڈائیلاگ کے ایجنڈے کا حصہ ضرور ہو سکتی ہے۔ اسی معاہدے کی ایک شرط کہتی ہے کہ رہا ہونے والے طالبان رہنما کسی بھی امریکی مفاد کو زک نہیں پہنچائیں گے مگر میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان نسل درنسل کے جنگی تجربات کے بعد جس قسم کی تقسیم کا شکار ہے اس میں یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی۔امریکا کے تھنک ٹینک تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ انٹر افغان مذاکرات کے بعد امریکی مفادات پر حملے کرنے والے دوبارہ منظم اور طاقتور ہو سکتے ہیں۔

یہ خطرہ اپنی جگہ پر موجود ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس معاہدے کو نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ایک وکٹری کارڈ کے طور پر کھیلیں گے۔ وہ اتنا وقت گزاریں گے کہ ایک مرتبہ پھر امریکی عوام کو بے وقوف بنا سکیں اور اس کے بعد کیا ہو گا اس کا علم دنیا کی کسی قوت کو نہیں ہے۔ کیا یہ خطرناک امر نہیں کہ انڈیا ہی نہیں بلکہ ایران بھی اس معاہدے کو ناکام بنانے کے لئے متحرک ہو گیا ہے اور افغانستان میں ان دونوں کی کٹھ پتلی قوتوں کے مو¿ثر وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میں ابھی تک دو عشرے پہلے اسامہ بن لادن کی پریس کانفرنس اورنائن الیون کے بعد طالبان حکومت کے ردعمل میں پھنسا ہوا ہوں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف نے افغان طالبان حکومت کا پارٹنر نہ بن کے اور ایک پرانی پالیسی سے یوٹرن لے کر پاکستان کو بڑی تباہی سے بچا لیا تھا مگرافغانستان نہیں بچ سکا۔ افغانستانیوں کے پاس ایک مرتبہ پھر یہ موقع آیا ہے کہ وہ امن کو بحال کر سکتے ہیں مگر ان میں سے کچھ امریکا کے ایجنٹ ہیں، کچھ انڈیاکچھ ایران اور کچھ پاکستان کے، افسوس، مجھے ان دھڑوں میں خود افغانستان کے ایجنٹ نظر نہیں آتے۔ افغانستان اس وقت تک تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اورآئی ٹی سمیت جدید ٹیکنالوجیز میں آگے نہیں جا سکتا جب تک خود افغانی امن ، تعمیر اور ترقی کے راستے پر چلنے کا فیصلہ نہ کرلیں۔ افغانستان کے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ جہاں امریکا اس کے آکسیجن ٹینک کے پائپ پر سے پاوں ہٹائے وہاں خود افغانستانیوں کو بھی اپنے پاو¿ں اس سے ہٹانے ہوں گے ورنہ افغانستان یونہی سیاست اور معاشرت کے آئی سی یو میں تڑپتا ، سسکتا رہے گا، افغانستانی یونہی جلاوطن ہوتے، غیروں کے بوٹ پالش کرتے یا اپنے وطن میں تکلیف دہ انداز میں مرتے رہیں گے۔


ای پیپر