نواز شریف کا پا رٹی صدارت کے بعد قا ئد بننے کا عمل
04 مارچ 2018 (18:59)

با وصف مسلم لیگ ن کے خلا ف مسلسل ا ڑ تی ہو ئی افوا ہوں کے ، پا رٹی پر میا ں نو ا ز شر یف کی مضبو ط گر فت کے ثبوت بھی اسی تسلسل سے آ ر ہے ہیں۔ اب سا منے کی با ت ہے کہ بے شک عد ا لت عظمیٰ نے میا ں نو ا ز شریف کو ملک کی وزارتِ عظمیٰ کیلئے نا ا ہل قر ا ر دینے کے بعد پا ر ٹی کی صدا ر ت کے لئے بھی نا ا ہل قر ا ر دے دیا، مگر پا ر ٹی کے ممبر ا ن نے انہیں تاحیات پا ر ٹی کا قا ئد منتخب کر کے عند یہ دے دیا کہ بے شک وہ پا رٹی کے صد ر نہیں ر ہے، مگر پا ر ٹی کے ہر چھو ٹے بڑے فیصلے کا ا ختیا ر انہی کے پا س ر ہے گا۔ اس سے پہلے کہ ہم ان کے قا ئد بننے کے بعد پا ر ٹی کی مقبو لیت کے گر ا ف پر غو ر کریں، کیوں نہ ان کے پا ر ٹی کی صد ا ر ت کے لیے نا ا ہل قر ا ر دیئے جا نے وا لے ا مر کا جا ئزہ لیں۔ تو قا رئین تفصیل اس ا جمال کی کچھ یو ں ہے کہ اکیس فر وری کو سپر یم کو ر ٹ آ ف پا کستا ن نے الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اپنے پا نچ صفحو ں پہ تحر یر فیصلے میں چیف جسٹس جنا ب نثار ثا قب صا حب نے کہا گیا کہ کوئی نااہل شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا۔ عدالت نے سابق وزیر اعظم کے بطور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا ۔ علاوہ ازیں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینیٹ ٹکٹ بھی منسوخ کردیئے گئے ہیں۔عدالت عظمیٰ کا فیصلہ کے مطا بق ما ننا ہے کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا اہل نہ ہو، وہ کسی سیاسی جماعت کی سربری کا حق بھی کھو دیتا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد، جمہوری نظام کے اس بنیادی نکتے کو بنایا گیا ہے کہ افراد کے کسی گروہ، کسی سیاسی جماعت یا حکومت کی سربراہی کا حق صرف اسی شخص کو حاصل ہے، جو صادق اور امین ہو اور جو صادق اور امین ہونے کی شرائط پر پورا نہ اترتا ہو، ان میں سے کسی کی رہنمائی کے لیے قابل بھی نہیں رہتا۔ اس فیصلے سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ایسا ممکن نہیں کہ کوئی شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے تو نااہل ہو لیکن وہ قانون سازی جیسا اہم فرض ادا کرنے والی برسراقتدار یا حزب اختلاف کی کسی سیاسی جماعت کی سربراہی کا عہدہ انتہائی اہم ہوتا ہے، لوگ اپنے لیڈر کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ تمام چیزیں پارٹی سربراہ کے گرد گھومتی ہیں اور یہ کہ لوگ پارٹی سربراہ کے کہنے پر چلتے ہیں اور ہمہ وقت پارٹی سربراہ کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ چنانچہ پارٹی سربراہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشرے کا ایک معزز فرد ہو، سچا ہو اور ملک و قوم کی امانتیں سنبھالنے کے قابل ہو۔ ان شرائط کے پس منظر میں کارفرما منطق اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ ملکی معاملات چلانے اور قومی معاملات میں قانون سازی کی اہل جماعت یا حکومت کی سربراہی ایک ایسے شخص کے
پاس ہونی چاہیے جو پارٹی یا حکومتی معاملات کو دیانت داری سے چلاسکے، ان میں کسی قسم کی ہیرا پھیری نہ کرے۔ درست کہ آئین کا آرٹیکل 17 سیاسی جماعت بنانے کا حق دیتا ہے، لیکن یہ حق مشروط ہے۔ سیاسی جماعت کا سربراہ بننے کے لیے قانونی شرائط موجود ہیں۔ اِس مقا م پہ یہ بھی یا د دلا نا ضر و ری ہے کہ گزشتہ برس 28 جولائی کو پانامہ کیس کی سماعت کے بعد عدالت عظمیٰ نے اس و قت کے و زیر اعظم میا ں نواز شریف کو بطورِ اسمبلی ممبر، عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا، جس کے بعد وہ پارٹی کی سربراہی کے لائق بھی نہیں رہے تھے۔ اپنی پارٹی کے برسر اقتدار ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نواز شریف نے گزشتہ برس اکتوبر کے پہلے ہفتے میں انتخابی اصلاحات بل منظور کرالیا، جس کے تحت کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو 5 سال سے زائد مدت کے لیے نااہل نہیں کیا جاسکتا۔ اسی ترمیم کے تحت سابق وزیر اعظم نے خود کو اپنی پارٹی مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے لیے اہل قرار دلوالیا اور ایک بار پھر پارٹی سربراہ بن گئے۔ اس ترمیم کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔ یہ کہ آیا آئین میں کوئی ایسی ترمیم کی جاسکتی ہے اور یہ کہ جس کو عدالت نے نااہل قرار دیا ہو وہ عارضی طور پر یعنی کچھ مدت کے لیے نااہل قرار پائے گا یا مستقلاً نااہل ہوجائے گا۔ اس کے بعد الیکشن ایکٹ 2017ء کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئیں۔ انہی درخواستوں کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے روز نواز شریف کو پارٹی سربراہی کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا۔
میا ں نو ا ز شریف کو مسلم لیگ ن کی صد ا ر ت کے لیے نا ا ہل قر ا ر دیئے جا نے کے بعد لگ ر ہا تھا کہ پا ر ٹی ایک نئے بحرا ن سے دو چا ر ہو جا ئے گی۔ چنا نچہ پا رٹی قیا د ت کے خلا ف طر ح طر ح کی افوا ہیں گر د ش کر نے لگیں۔مگر تب میا ں نواز کو پا ر ٹی کا قا ئد ا و ر میاں شہبا ز شر یف کو صدر مقر ر کیے جا نے اِن افو ا ہو ں کا دم تو ڑ دیا۔ پا رٹی کے ایک بر و قت کیے گئے اجلا س میں میا ں نو ا ز شر یف اور میا ں شہبا ز شر یف نے ایک دو سرے کے نا م اور عہد ے تجو یز کر کے ثا بت کر دیا کہ شریف خا ند ا ن کسی قسم کی بھی پھو ٹ کا شکا ر نہیں۔ کو ئی شک نہیں کہ میا ں نو ا ز شر یف کو لو دھر ا ں کے ضمنی الیکشن نے ایک نیا اعتما د دیا ہے۔ یہ اسی عتما د کا تھا کہ ان کی تقر یر میں ان کا لہجہ نہا یت دو ٹو ک تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا جر م پی سی او کے تحت حلف لینے سے بہت کم ہے۔ بر ملا کہتا ہو ں کہ ایسے فیصلے نہیں ما نتا جس میں ہما ر ے ضمیر اور ا صو لی مو قف کی تو ہین ہو۔ پھرانہو ں نے یا د دلا یا کہ 70بر سو ں سے کسی بھی منتخب وز یر ا عظم نے اپنی آئینی مد ت پو ری نہیں کی۔انہو ں نے بطو ر صد ر ،شہبا ز شریف کے انتخا ب کو نہا ئت عمد ہ قر ا ر دیا۔ اب اگر ہم مسلم لیگ ن کے اس عمل کا پی ٹی آ ئی اور پی پی پی کے نقطئہ نطرسے جائز ہ لیںتو بے شک اب تک ان دو نو ں جما عتو ں کا مو قف وا ضح نہیں، تا ہم ان کی پر مژ دگی کو محسو س کیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کے سر براہ عمرا ن خا ن کے لیے تو مید ا ن ایک عر صے سے صا ف تھا، مگر وہ اس کا کسی طو ر فا ئد ہ اٹھا نے میں مکمل طو ر پر نا کا م رہے۔ لود ھرا ں کے الیکشن میں جہا نگیر تر ین کے بیٹے ، علی تر ین کی واشگا ف نا کا می میں بڑا د خل عمرا ن خا ن کی غلط پالیسیوں کا ہے۔ ایک خو د پسند ی ہے، جس کے ا ثر سے وہ نکلیں تو کچھ کریں۔ یہاں تک کہ ان کے ذا تی مسا ئل پار ٹی کے مسائل کے طو ر پر سا منے آ تے ہیں۔ رہی با ت پیپلز پا رٹی کی تو آ صف زرداری اور بلا ول بھٹو زردا ری کے دا من میں ’میں اچھامیںاچھا‘ کی گر دا ن کیے کے سوا کچھ نہیں۔با پ بیٹے کے دعو ے بہت بلند با نگ ہیں، لیکن جب کبھی وو ٹو ن کی گنتی ہوتی ہے تو حا صل کر دہ وو ٹ پا نچ ہزا ر کی منز ل بھی عبو ر نہیں کر پا تے۔
قطع نظر اِس نکتے کے آ یا مسلم لیگ ن نے میا ں نوا ز شر یف کو اپنا ا حیا ت قا ئد بنا کر پارٹی کی سر بر ا ہی کا مسئلہ مستقل بنیا دو ںپر حل کر لیا یا نہیں، یہ امر غو ر طلب ہے کہ عدا لت عظمیٰ نے مسلم لیگ کے اس اقد ا م کو کنگ بننے کے بجا ئے کنگ میکر بننے کی سا ز ش کا نا م دیا ہے۔ یہ اندا ز ہ لگا نا کہ عد ا لت عظمیٰ اس پہ کیا ایکشن لیتی ہے، اس و قت مشکل ہے۔ اس کے لیے ہمیں تھو ڑا انتظا ر کر نا پڑے گا۔


ای پیپر