بادشاہ نہیں بادشاہ گر
04 مارچ 2018 (18:56) 2018-03-04

مسلم لیگ (ن) کی سیاست کے تیسرے دور کا آغاز ہور ہا ہے۔
سینیٹ کے انتخابات،اس کے نتائج اس تیسرے دورکانکتہ آغاز ہوں گے۔البتہ عام انتخابات کی مہم الیکشن کے نتائج آئندہ حکومتی سیٹ اپ میں مسلم لیگ (ن) کی سمت کا تعین کرینگے۔اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ مسلم لیگ پاکستان کے سیاسی مستقبل میں کسی مقام پر کھڑی ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ اس کے پاس نواز شریف،شہباز شریف کی شکل میں مقبول عام قائدین موجود ہیں۔مریم نواز شریف کی صورت میں تازہ دم لیڈر شپ میسر ہے۔جو نہایت تیزی سے مقبولیت کی سیڑھیاں پھلانگ رہی ہیں۔حمزہ شہباز شریف ہیں جو اپنے والد کے نائب کے طور پر پنجاب کے سیاسی خاندانوں کے ساتھ ڈیلنگ کا تجربہ حاصل کرچکے ہیں۔صرف یہ ہی نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے سرد و گرم چشیدہ سیکنڈ لائن کیڈر ہے۔جس میں راجہ ظفر الحق سے لے کر خواجہ سعد رفیق،خواجہ آصف، احسن اقبال،سردار مہتاب خان عباسی،اقبال ظفر جھگڑا،جنرل (ر) عبدالقادرسمیت ایک لمبی فہرست ہے۔یہ وہ افراد ہیں جو عوامی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ اور پس پردہ فیصلہ ساز قوتوں تک بھی رسائی رکھتے ہیں۔اپنے تاریخی پس منظر، پاکستان سیاست میں سر گرم کردار اور اپنی مقبولیت کی وجہ سے کاروبارریاست میں مسلم لیگ اس کا نام کوئی بھی ہو اس کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔جلد یا بدیرمسلم لیگ (ن) اور اس کے ساتھ اختلاف رائے رکھنے وا لی قوتیں کسی مشترکہ نقطے پر متفق ہو جائیں گی۔مچھلی اور پانی زیادہ دیر تک ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے۔مسلم لیگ (ن) اور اقتدار کے کھیل میں شریک قوتیں ایک روزاکھٹی نظر آئیں گئی۔ اس وقت بھی خارجہ پالیسی،دفاع،انسداد دہشت گردی ایسے قومی بیانیوں پر اتفاق رائے موجود ہے۔ میاں نواز شریف نے1983ء میں ایک نوارد کے طور پر سیاست میں صوبائی وزیر کے طور پر انٹری ڈالی۔وہ قسمت کے دھنی ہیں۔ اس انٹری کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔وہ آگے بڑھتے رہے اور منزلیں یکے بعد دیگر ے سر ہوتی رہیں۔وہ پہلے براہ راست الیکشن کے بعد پنجاب کے چیف منسٹر بنے۔گو کہ وہ غیر جماعتی الیکشن تھا۔لیکن اس غیر جماعتی نظام کے اندر سے مسلم لیگ نکلی۔ نواز شریف صوبائی سطح تک محدود تھے۔لیکن جماعتی سطح پر ان کا گروپ حاوی ہوتا چلا گیا۔بڑے بڑے جغادری مسلم لیگی محض نا م ہی کے عہدیدار تھے۔نواز شریف نے نووارد ہونے کے با وجود پیپلز پارٹی کے طوفانی ریلے کا مقابلہ کیا۔پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کیلئے مسلم لیگ کو آئی جے آئی بنا کر دی گئی۔آئی جے آئی میں غلام مصطفی جتوئی،قاضی حسین احمد
ایسے لیڈر بھی تھے۔لیکن فیصلے نواز شریف کے اشارہ ابرو پر ہوتے تھے۔نواز شریف 1990ء میں پیپلز پارٹی کو ہرا کر اور آئی جے آئی میں اپنے رفقائے کار کو ناک آؤٹ کر کے وزیر اعظم بن گئے۔لیکن وہ جلد ہی اپنے مربی اسحاق خان کی سیاسی شفقت سے محروم ہوگئے۔پیپلز پارٹی غلام اسحاق سے مل گئی۔مسلم لیگ کے اندر نقب لگی۔اسی دوران نواز شریف نے پہلی مرتبہ تمام سیاسی بوجھ اتار پھیکنے کا فیصلہ کیا۔ایف ایٹ میں اس وقت کے ڈپٹی سپیکر حاجی نواز کھوکھر کے گھر کے باہر خالی گراؤنڈ میں مسلم لیگ (ن) بن گئی۔نوازا شریف اس کے سربراہ۔بحیثیت سربراہ مسلم لیگ نواز شریف کی سیاست کا یہ پہلا دور تھا۔انہوں نے ڈکٹیشن نہ لینے کا نعرہ لگایا۔عوام نے اس نعرے کو پذیرائی دی۔انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹرف پر پیش قدمی کی۔پیپلز پارٹی پیچھے ہٹتی گئی۔یہ پسپائی آج بھی جاری ہے۔اس دورمیں انہوں نے پیپلز پارٹی کو ٹکنے نہ دیا۔اور1997 ء میں ایک مرتبہ پھر پرائم منسٹر بن گئے۔اس مرتبہ وہ دوتہائی اکثریت سے آئے تھے۔صدر ان کی اپنی جماعت کاتھا۔چاروں صوبوں میں ان کی اپنی حکومت۔آرمی چیف انہوں نے اپنی مرضی کا تعینات کیا۔بظاہر دور،دور تک کوئی رکاوٹ نہ تھی۔راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔اٹھاون ٹوبی ایسی جمہوریت کش ترمیم بھی اپنی موت آپ مر چکی تھی۔پاکستان ایسے ارتقائی عمل سے گزر تے ملک میں معاملات کبھی بھی سازہ نہیں ہوتے خاص طور پر جب حالات بہت سادہ نظر آ رہے ہوں تب بھی نہیں ۔تاریخ فی الحال اس بات کا تشفی بخش جواب تلاش نہیں کر سکی کہ نواز شریف اور پرویز شرف کے مابین اختلافات کیا تھے۔بظاہر تو کارگل ہی وجہ نزاع بنا۔بہر حال پاکستان میں 12 اکتوبر 1999 ء کو تیسرا اب تک کا آخری مارشل لالگ گیا۔اس مارشل لا کے بعد نواز شریف کی سیاست کے نئے دور کا آغاز ہوا۔ یہ ابتلا کا دور تھا۔اگلے لمحے کا بھی پتہ نہ تھا۔نواز شریف کو پارٹی قیادت سے محروم کر دیا گیا۔اگلے مرحلے میں ان کو خاندان کے ہمراہ جلا وطنی پر مجبور کر دیا گیا۔2002ء میں منعقد ہ الیکشن میں مسلم لیگ (ن)کو سترہ نشستیں حاصل ہوئیں۔مسلم لیگ کے اندر سے سیٹ ٹیوب بے بی پیدا کیا گیا۔جن کا نام مسلم لیگ (ق) رکھا گیا۔پرویز مشرف نے بڑھک ماری کہ وہ نواز شریف، بے نظیر دونوں کو پاکستان واپس نہیں آنے دیں گے۔چند سال بھی نہ گزرے تھے کہ وہی مشرف بے نظیر بھٹو کیساتھ خفیہ معاہدے پرمجبور ہوا۔اسی دوران نواز شریف کمزور پڑتے پرویز مشرف کی مرضی کے خلاف سعودی عرب سے برطانیہ منتقل ہو گئے۔یہ نواز شریف کی وطن واپسی کی جانب پہلا قد م تھا۔پرویز مشرف بے نظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں کا راستہ نہ روک سکا۔نواز شریف اور بے نظیر وطن لوٹے۔بے نظیر بھٹو کو وزارت عظمٰی کی جانب بڑھتے قدم دیکھ کر ان کو قتل کر دیا گیا۔نواز شریف کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔پیپلز پارٹی نے مرکز میں اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) نے حکومت بنائی۔دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو سیاسی سپیس دی۔اور ایک ایسے دور کا آغاز ہو ا جس کو کچھ دنوں بعددس سال مکمل ہو جائیں گے۔پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور گزرا تو ایک مرتبہ پھر الیکشن ہوئے اس دوران پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھر ی جا چکی تھی۔بہر حال 2013 ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو بھر پور مینڈیٹ ملا۔نواز شریف تیسری مرتبہ پرائم منسٹر بنے۔ اس پانچ سالہ دور کی کارکردگی اس کالم کا موضوع نہیں ۔ پانچ سالہ کارکردگی کا احاطہ کسی اگلے کالم میں۔ پاکستان میں پاپولر سیاست کی قیمت ادا کرنی پڑ تی ہے۔عدالتی فیصلوں پر تنقید قلمکار کا مینڈیٹ نہیں ۔بہر حال عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں نواز شریف اب پارٹی قیادت کے بھی اہل نہیں ۔فیصلوں کی تلوار بھی سر وں پر لٹک رہی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی سیاست چوبیس سالوں سے نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے۔نواز شریف کی سیاست کے تیسرے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔اب وہ بادشاہ کی بجائے بادشاہ گری کریں گے۔


ای پیپر