ہمارا بیانیہ اور عالمی طاقتیں
04 مارچ 2018 (18:55) 2018-03-04

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں دنیا نے ہمیں واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے حوالے سے ہمارے بیانیے اور مؤقف کو تسلیم نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے ترکی کے علاوہ باقی تمام بڑے اور قابل ذکر ممالک نے اس اجلاس میں ہمارے خلاف ووٹ دیا۔ امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی اور دیگر ممالک کی قرارداد کو پہلی مرتبہ کامیابی نہ ملی کیونکہ چین ، ترکی ، سعودی عرب اور G.C.C نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ مگر دوسری کوشش میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کامیابی حاصل ہو گئی اور صرف ترکی نے ہمارے حق میں ووٹ دیا۔
پاکستان کو ایک مرتبہ پھر اس فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے جو کہ ان ممالک پر مشتمل ہے جو کہ دہشت گردی کے لئے رقوم کی فراہمی کو موثر طریقے سے روکنے میں ناکام ہیں۔ پاکستان اس سے پہلے 2012ء سے 2015ء تک اس فہرست میں شامل رہا۔ اس وقت شمولیت کی وجہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے سرمائے کی فراہمی کو روکنے کے لئے درکار قوانین اور ادارہ جاتی میکنزم موجود نہ تھے مگر اس بار شمولیت کی وجہ کالعدم تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کا نہ ہونا اور ان پر چندہ اور عطیات اکٹھے کرنے پر موثر پابندیوں کا اطلاق نہ ہونا ہے۔
یہ یقینا پاکستان کے حوالے سے ایک منفی پیش رفت ہے۔ اگرچہ حکومتی وزارء کا موقف یہ ہے کہ اس سے پاکستانی معیشت اور تجارت پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے اور نہ ہی نئے قرضوں کے حصول میں دشواری کا سامنا ہو گا۔ اگر اس دلیل اور منطق کو من و عن تسلیم بھی کر لیا جائے اور یہ بھی مان لیا جائے کہ یہ محض ایک علامتی اقدام اور فیصلہ ہے تو بھی اس کے پاکستان کے امیج ، تصور اور تاثر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کو پہلے ہی عالمی سطح پر اپنے امیج اور تاثر کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے اندرونی حالات کی نسبت اس کا بیرونی تاثر اور امیج بہت خراب ہے۔ اس منفی تاثر اور امیج میں جہاں غیروں کا عمل دخل ہے وہیں پر ہماری داخلی پالیسی اور اقدامات کا بھی عمل دخل ہے۔ کیا ہم اپنی داخلی پالیسیوں اور ترجیحات کو تبدیل کئے بغیر اس منفی تاثر اور امیج کو تبدیل کر سکتے ہیں؟ اسے بہتر بنا سکتے ہیں؟ میرے خیال سے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ خارجہ پالیسی کو داخلہ پالیسی سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہمیں دنیا سے یہ شکوہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں اور جدوجہد کو تسلیم نہیں کرتی بلکہ الٹا ہم پر غلط الزامات عائد کرتی ہے۔ دوسری طرف دنیا کے کئی ممالک ہم پر یہ الزامات عائد کرتے ہیں کہ ہم چند کالعدم تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات سے گریز کر رہے ہیں۔ہمارے لئے تشویش اور پریشانی کا باعث یہ حقیقت ضرور ہونی چاہئے کہ ہمارے اتحادی بھی اس معاملے پر پوری طرح ہمارے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے۔ اس حقیقت کو ہم عالمی سازش اور دشمنوں کی ریشہ روانیاں قرار دے کر رد اور نظرانداز کر سکتے ہیں یا پھر صورت حال اور زمینی حقائق کا درست اور حقیقت پر مبنی تجزیہ کر کے موجودہ صورت حال سے نکلنے کی بہتر حکمت عملی اور پالیسی بنا سکتے ہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کے طاقتور ممالک کی حیثیت ہمارے عوام کی طرح نہیں ہے کہ جنہیں طاقت ، رعب ، دبدبے اور خوف و ہراس کے ذریعے دبایا جا سکے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ ، تھنک ٹینکس، میڈیا اور ریاستی اداروں کے درمیان اس حوالے سے سنجیدہ بحث کی جائے۔ کھل کر تبادلہ خیال کیا جائے۔ جو لوگ اس وقت ریاستی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں انہیں غدار اور دشمن قرار دینے کی بجائے ان کے ساتھ سنجیدہ اور آزادانہ بحث کا آغاز کیا جائے تا کہ قومی پالیسی پر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
ہر سماج میں تضادات موجود ہوتے ہیں۔ نظریاتی اور سیاسی اختلافات موجود ہوتے ہیں۔ تمام انسان ایک جیسی سوچ نہیں رکھتے۔ اس لئے دنیا میں مختلف مذاہب، عقائد، نظریات اور سوچیں موجود ہیں۔ مختلف سوچوں، نظریات، مذہب اور عقائد کے لوگوں کا اپنے نظریات ، عقائد اور تصورات پر قائم رہ کر دوسروں کو برداشت کرنے، ان کا احترام کرنے، انہیں برابر کا انسان سمجھنے اور اپنے نظریات اور عقائد دوسروں پربزور قوت نہ تھونپنے کے نتیجے میں رواداری ، برداشت اور بھائی چارے پر مبنی جمہوری سماج تشکیل پاتے ہیں۔ ریاست اس رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیتی ہے۔ جمہوری روایات، قانون کی حکمرانی اور اداروں کے استحکام اور مضبوطی کے ذریعے نظریاتی اور سیاسی اختلافات کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ نظریاتی اور سیاسی کشمکش کو مسلح تصادم میں تبدیل ہونے سے روکتی ہے۔
پاکستانی ریاست اور حکمرانوں نے یہ طے کرنا ہے کہ انہوں نے پاکستان میں برداشت ، رواداری ، انسانی عظمت اور برابری کے رجحانات ، سوچ اور ثقافت کو پروان چڑھانا ہے یا پھر رجعت پسندی اور قدامت پرستی کی ثقافت پر مبنی انتہا پسندی اور شدت پسندی کو فروغ دینا ہے۔ جو کچھ اس وقت ہمارے ہاں ہو رہا ہے وہ ان پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے جو 1977ء کے بعد سے اس ملک میں جاری ہیں۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی کے آگے بند باندھے بغیر دہشت گردی کو مکمل طور پر شکست نہیں دی جا سکتی۔ یہ کام محض تقریروں ، بیانات اور مخالفین کو برا بھلا کہنے سے نہیں ہو گا۔ بلکہ ہمیں فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
مثلاً اگر ہم نے 2015ء کے بعد ان تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف موثر اقدامات کئے ہوتے اور اس حوالے سے ایک یکساں پالیسی اور حکمت عملی اپنائی ہوتی تو ہمیں پیرس میں اس طرح صفائیاں پیش نہ کرنی پڑتیں۔ پاکستانی ریاست اور حکمرانوں نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ قانون بنانے اور اس میں تبدیلی کا حق اور اختیار پارلیمنٹ کا ہے یا چند مذہبی گروہوں کو ان معالات پر بالادستی حاصل رہے گی۔ کسی بھی قانون پر عمل درآمد کروانا ریاست اور حکومت کی ذمہ داری ہے یا پھر مسلح جتھوں کی۔ یہ حق انہیں حاصل ہے کہ وہ قانون کو نافذ کریں۔ کسی بھی آئینی یا قانونی شق یا ابہام کی تشریح یا وضاحت اعلیٰ عدالتوں کا کام ہے یا پھر یہ حق چند مذہبی رہنمائوں یا گروپوں کو حاصل ہے۔ پاکستان کے تحفظ ، دفاع اور سلامتی کی ضامن پاکستان کی مسلح افواج ہیں یا پھر نجی مذہبی ملیشیا اور مسلح گروہ ہیں۔ ہمیں دنیا کی بہترین فوج اور خفیہ اداروں کے ہوتے ہوئے مسلح گروہوں کی کیا ضرورت ہے؟ ہمیں اپنے تزویراتی مقاصد اور مفادات کو مسلح جتھوں اور گروہوں سے الگ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنے ماضی سے نکلنے اور آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے اندرونی خلفشار اور انائوں کے ٹکرائو پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ جب تک علامہ خادم رضوی جیسے لوگ ہماری سیاست اور ریاست کو یرغمال بناتے رہیں گے تب تک ہمیں اپنے بیانیے کو منوانے اور تسلیم کروانے میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔ دنیا بہت حد تک بدل چکی ہے اور مزید بدل رہی ہے۔ ہمیں حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو تبدیل کرنا ہے۔ یہ تبدیلی ہماری اپنی ضرورت ہے نہ کہ بیرونی دبائو یا جبر کے تحت تبدیل ہونا۔


ای پیپر