عالمی عدالت کی رولنگ اوراسرائیلی دیوار
04 مارچ 2018 (18:55)

یہ آج سے تقریباً13 سال پہلے کی بات ہے۔ ہم تو رونا یہ روتے ہیں کہ وطن عزیز میں ماتحت عدالتوں، عدالت ہائے عالیہ یا عدالت ِ عظمیٰ کے فیصلوں کی پروا بارسوخ اور طاقتور طبقات نہیں کرتے، یہاں تو عالم یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا رکن ایک ملک جو کہ امریکا کا ایک انتہائی لاڈلا اور چہیتا ملک ہے ، اْس نے تو13سال گزر چکنے کے باوجود عالمی عدالت کے فیصلے کو بھی ردی کاغذ کے ایک ٹکڑے سے زیادہ حیثیت نہیں دی۔ اربابِ خبرو نظر بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی عدالت انصاف ہیگ نے9جولائی2004ء کو اپنے ایک فیصلہ میں قرار دیا تھا:’’اسرائیل کی جانب سے غرب اردن میں فصیل کی تعمیر عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اپنی سلامتی کے بارے اسرائیلی تشویش اسے منصفانہ نہیں بنا سکتی، فوجی ضرورتیں، قومی سلامتی کے تقاضے یا امن و تحفظ کے نام پر فصیل کی تعمیر کو منصفانہ قرار نہیں دیا جا سکتا‘‘ ۔ عدالت کے نزدیک:’’ دیوار کی تعمیر عالمی قوانین سے متصادم ہے اور اسرائیل جو کہ ایک قابض قوت ہے، اسے اس کی تعمیر فوری طور پر رو ک دینا چاہئے‘‘۔دنیا بھر کے انصاف امن، آزادی اور مساوات کے علمبردار شہریوں نے عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ عالم اسلام کے شہری اس فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دے رہے تھے۔یاد رہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے میں 700کلومیٹر سے زیادہ طویل دیوار بنانے کا پروگرام بنا رکھا ہے جس میں سے تب تک 200کلو میٹر پر تعمیر مکمل ہو چکی تھی جو کہ زیادہ تر شمال مغربی علاقے میں مشرقی بیت المقدس پر تعمیر ہو رہی ہے۔بتایا جا رہا تھا کہ یہ اسرائیل کا اقتصادی اعتبار سے سب سے بڑا منصوبہ ہے جس پر 3ارب 40کروڑ ڈالر کا خرچہ آئے گا۔ دیوار کی تعمیر جنوری 2002ء میں شروع ہوئی تھی۔ یہ دیوار نوکیلی تاروں، بجلی کے وائر اور کنکریٹ کا مجموعہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عالمی عدالت انصاف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دیوار کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے کیلئے کہا تھا۔ ایک فلسطینی ویب سائٹ پر جاری ہونیوالی اس رولنگ کی تفصیلات کے مطابق اس کی حمایت میں 14اور مخالفت میں 1ووٹ آیا۔ یہ حقیقت دنیا کے کسی بھی ایسے باخبر شہری سے مخفی نہیںجو عالمی قوانین کی مبادیات سے آگاہ ہو کہ کوئی بھی غاصب اور جارح ملک مقبوضہ دھرتی کے اصل شہریوں کے حقوق دباکر محض اپنی’’سلامتی کے دفاع‘‘ اور’’ غاصب اور جارح شہریوں کی سلامتی‘‘ کی آڑ میں کوئی ایسی تعمیر نہیںکر سکتا جس کے باعث مقبوضہ دھرتی کے اصل باسیوں کی نقل و حرکت اورمعمول کی زندگی متاثر ہو۔ یہ دیوار سراسر ایک غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر قانونی تعمیر ہے۔ اس قسم کی تعمیرات خونخوار درندہ صفت فاتحین معلوم شدہ انسانی تاریخ کے پہلے ساڑھے تین ہزار برسوں تک کرتے رہے اور ان ناجائز تعمیرات کو وہ اپنے غلبے اور بالادستی کی علامت کے طورپر دھرتی کے سینے پر ابھارتے رہے۔ ان ادوار میں بھی ایسی تعمیرات کو شعور، آزادی،مساوات اورانصاف کی بالادستی اور عملداری کو انسانیت کی شناخت تصور کرنیوالے ارباب دانش و بینش دھرتی کی شہ رگ پرسرطان کے پھوڑے سے تشبیہ دیتے رہے۔
اسرائیلی دیوار پر عالمی عدالت کی رولنگ سامنے آتے ہی اسرائیل نواز امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ نے عالمی عدالت کیخلاف پروپیگنڈہ کا ایک طولانی و طوفانی سلسلہ شروع کر دیا۔ ان کے تمام مبصرین، دانشوروں اور تھنک ٹینکس کے مفکرین کی تان اسی ایک نکتہ پر ٹوٹتی رہی: ’’اسرائیلی دیوار پر رولنگ نا مناسب ہے‘‘ جبکہ دوسری جانب غیر جانبدار عالمی مبصرین کا نقطۂ نظرتھا: ’’فیصلہ اعتدال پسندوں کے ہاتھ مضبوط کرے گا‘‘ اور تو اور وائٹ ہا ئوس نے اس پر جس رد عمل کا اظہار کیا ، اس کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزادی، امن ، مساوات اور تہذیب کا تن تنہا محافظ ہونے کا دعویدار ملک، اسرائیل کا معاملہ ہو تو ہر اصول اور اخلاقی قدر کو اٹھا کر بالائے طاق رکھدیتا ہے۔ سکاٹ میکیلن کا کہنا تھا : ’’ہم نہیں سمجھتے کہ اس موقع پر اس رولنگ کا سامنے آنا مناسب ہے‘‘۔ ادھر اسرائیلی حکام اس فیصلے پر اس تناظر میں نکتہ چینی کر رہے ہیں کہ عالمی عدالت نے فلسطینی دہشتگردی کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا اگر ’’دہشتگردی‘‘ نہ ہوتی تو دیوار بھی نہ ہوتی۔ وہ تو اس حد تک ڈھٹائی اور حقائق سے چشم پوشی کی روش کو اپنائے ہوئے تھے کہ کھلے بندوں اس قسم کی بیان بازی کر رہے تھے کہ عالمی عدالت کو اس معاملے پر رولنگ دینے کا اختیار ہی نہیں۔ ادھر اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان کا یہ جارحانہ مؤقف عالمی عدالت ِ انصاف،انسانی حقوق کمیشن جنیوا، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی ایسے تمام عالمی اداروں کو آئینہ دکھانے کیلئے کافی ہے۔ موصوف نے فرمایا:’’یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ پائے گا‘‘۔
اسرائیل نے ہر دور میں ہٹ دھرمی کی روش اختیار کی ۔ اس کی ہٹ دھرمانہ روش اور رویوں کو اصل طاقت اور توانائی امریکا ،سوویت روس اور طاقتور مغربی ممالک کی پشتیبانی نے فراہم کی ۔ جہاں تک امریکا کا تعلق ہے تو وہ اسرائیل کو’’ کمبل کے دوسری طرف پیدا ہونیوالا اپنا بچہ‘‘ سمجھتا ہے۔ جدید اصطلاح میں اس قسم کے بچوں کو ’’محبت کے بچے ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسرائیل اور امریکی تعلقات رومانس پر اساس رکھتے ہیں۔ آج بھی امریکا کی ہر ریاست میں یہودیوں کی درجنوں اور بیسیوں انجمنیں اور کمیٹیاں موجود ہیں۔ یہ انجمنیں اور کمیٹیاں مختلف تنظیموں کے سانچوں میں ڈھلی ہوئی ہیں۔ ایک امریکی مصنفہ لی اوبرائن نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’American Jewish Organizations & Israel’’میں ان تنظیموں کے نیٹ ورکس ، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم، مالی ذرائع اور اہداف و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ان تنظیموںکا بنیادی مقصد امریکی ریاستوں میں رائے عامہ کو اسرائیل کا ہمنوا بنانا ہے۔ امریکی یہودیوں کے بارے میں ’’ائر بک‘‘ کیمطابق امریکا میں 200 سے زائد یہودی تنظیمیں ہیں جن کی بدولت یہودی امریکا کی سب سے منظم اقلیت ہیں۔ یہودی امریکا میں طاقتور ترین کمیونٹی ہیں۔ وہ اعلیٰ ترین منتخب اداروں کے رکن ہیں، بڑے مالیتی اداروں میں قائدانہ حیثیتوں پر فائز ہیں۔ اس کے باوجود امریکا میں یہودیوں کو امریکی قومی معیشت کو یرغمال بنانے کے جملہ حقوق و وسائل فراوانی کے ساتھ حاصل ہیں،امریکی یہودیوں کا طرز احساس آج بھی یہی ہے ’’ہم عالمی سطح پر مسلمہ یہودی قوم کے فرد ہیں جس کا مرکز اسرائیل ہے‘‘ واضح رہے کہ امریکا میں یہودیوں نے سیکولرسٹ، لبرل، ماڈریٹ اور اتھیسٹ ہونے کے ماسک اپنے چہروں پر چڑھا رکھے ہیں۔
20ویں صدی کے5ویں عشرے میںبالادست استحصالی ،استعماری اور سامراجی قوتوں اور ممالک نے جبر، ظلم، ناانصافی اور طاقت کی منطق کا سہارا لیکر دنیا کے نقشے پر بزور بازو جو ناپسندیدہ اور مذموم سیاسی و جغرافیائی تبدیلیاں کیں، ان کا ایک مکروہ نقش 1948ء میں ارض فلسطین میں ناجائز اسرائیلی ریاست کے قیام کی صورت سامنے آیا۔ یہ ریاست خالصتاً نسلی عصبیت اورمذہبی منافرت کی بنیاد پر قائم کی گئی۔یہ جدید انسانی تاریخ اور تہذیب کا ایک عظیم المیہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے ’’اپنے ہی دیس میں مہاجر ‘‘ اور ’’اپنے ہی وطن میں غریب الوطن‘‘ بنانے کیلئے دنیا کے ہر براعظم کے مختلف ملکوں میں بکھرے مذہبی جنونی یہودیوں کو چن چن کر فلسطین میں لا بسایا گیا۔ اس وقت کی بڑی طاقتوں امریکا، برطانیہ، فرانس اور سوویت روس نے اس ضمن میں انتہائی منفی اور لائق نفریںکردار ادا کیا۔یہاں ریکارڈ کی درستگی کیلئے یہ بات بھی واضح رہنا چاہیے کہ جنگ عظیم دوم کے خاتمہ کے دو سال بعد برطانیہ نے فلسطین کا مسئلہ جب اقوام متحدہ کے سامنے رکھا تو اقوام متحدہ نے منصفانہ اور مبنی بر حقائق کردار ادا کرنے کے بجائے ’’طاقتوروں کی باندی‘‘ ہونے کا ثبوت دیا۔ ایک سپیشل کمیشن تشکیل دیا گیا۔ جس کی سفارش پر متحدہ فلسطین کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے عرب اور اسرائیل دوریاستوں میںمنقسم کر دیا گیا۔ عربوں نے 27 نومبر 1947ء کو اس کمیشن کی سفارشات کو مسترد کر دیا جبکہ اسرائیل نے میٹھا میٹھا ہپ ہپ کے مصداق ان تجاویز کو قبول کر لیا۔ یوں 14مئی 1948ء کو ’’آزاد اسرائیل ریاست‘‘ کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ دوسری جنگ عظیم 1939-45ء کے دوران نازیوں کی جانب سے یہودیوں کے قتل عام کی ڈس انفارمیشن پھیلا کر یورپی حکومتوںنے ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت یہودیوں کو ’’محفوظ فرار ‘‘ اور ’’مضبوط حصار‘‘ کی راہ دکھا کر فلسطین پہنچانا شروع کر دیا۔
نام نہاد آزاد اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی یہودیوں نے ’’گریٹر اسرائیل ‘‘کے قیام کی راہیں ہموار کرنا شروع کر دیں۔ 2000ء تک اسرائیلی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کی وجہ سے 7لاکھ فلسطینی ہجرت پر مجبور کر دئیے گئے۔فلسطینی مہاجرین کی تازہ ترین تعداد 50لاکھ سے متجاوز ہے۔ اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 194محض ردی کاغذ کا ایک بوسیدہ ٹکڑا ہے۔ یہ قرارداد فلسطینیوں کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد ہو جائیں۔ اس قرار داد کی کسی ایک شق پر بھی اقوام متحدہ تادم تحریر عمل کروانے سے قاصر رہی۔ 1966ء کی جنگ میں اسرائیل نے جارحیت کر کے مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا۔ یہ قبضہ تمام مسلمہ عالمی قوانین کے منہ پر ایک سنگین فولادی طمانچے کی حیثیت رکھتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ فلسطینی عوام مشرقی یروشلم کو آزاد فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ بنانا چاہتے ہیں۔ 1966ء میں اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر62میں اسرائیل پر زور دیا گیا تھا کہ اسرائیل 1966ء کے دوران قبضہ کئے جانیوالے علاقہ جات سے اپنی فوج کا فوری انخلاء کرے۔ ان قرار دادوں اور عالمی قوانین کو بھی اسرائیل کے صہیہونی حکام نے پر کا ہ سے بھی زیادہ وقعت نہ دی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ عالمی طاقت امریکا نے بھی اپنا تمام وزن ہمیشہ اسرائیلی صیہونیوں کے پلڑے میں ڈالا۔ ایک نام نہاد فلسطینی اتھارٹی قائم کی گئی۔ یہ ایک محصور و محدود اتھارٹی ہے۔ کیمپ ڈیوڈ مذاکرات، اوسلو معاہدہ، شرم الشیخ کا معاہدہ محض کاغذ بازی ہی ثابت ہوئے۔


ای پیپر