اے شام !
04 مارچ 2018 (18:54)

میں دوحہ کے مشہور شاپنگ سنٹر’’ سٹی سنٹر ‘‘ میں کھڑاتھا ، سٹی سنٹر دوحہ کارنیش سے چند قدم فاصلے پر واقع ہے ۔ تقریبا آدھا گھنٹہ گھومنے کے بعد میںنیچے جانے کے لیے لفٹ کے انتظارمیںتھا ۔ کچھ عرب فیملیز اور نوجوان بھی اسی انتظا ر میں کھڑے تھے ، اتنے میں ایک عربی نوجوان نے میرے حلیے اور لباس کو دیکھ کر کہا ’’انت باکستانی ‘‘ ، میں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاں میں گردن ہلا دی ۔ اس کے بعد گفتگو شروع ہوئی اور ہم بہت جلد آپس میں فرینک ہو گئے ۔ ان نوجوانوں میں کچھ قطری ، کچھ مصری اور باقی دیگر عرب ممالک سے تعلق رکھتے تھے ۔ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ، آخر میں میں نے پوچھا ’’ پاکستان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ‘‘پہلے تو وہ مسکرا دیئے لیکن جب میں مسلسل ان کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا تو ان میں سے کچھ نے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنایا اور ہوا میں لہرا کر اونچی آواز سے بو لے ’’ باکستان نمبر ون ‘‘ ، اس کے ساتھ ہی لفٹ کا دروازہ کھلا اور ہم نیچے چل دیئے ۔ اسی سفر میں مجھے چند انڈین دوستوں کے ساتھ بھی انٹریکشن کاموقعہ ملا ، مسلسل ایک ہفتہ ساتھ گزارنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ انڈین مسلمان نہ صرف پاکستان کے حالات سے باخبر ہیں بلکہ فکر مند بھی ہیں ، مودی سرکار پاکستان کے بارے میں جورویہ بھی رکھے لیکن انڈیا کے بیس کروڑ سے زائد مسلمان پاکستان کے بارے میں کلمہ خیر کہتے ہیں اور اس کی بہتری اور استحکام کے لیے دعا گو ہیں ۔ دنیا میں اس وقت ساٹھ کے قریب اسلامی ملک ہیں ، ان میں سعودی عرب، قطر، کویت اور بحرین جیسے ترقی یافتہ اور تیل کی دولت سے بھرپور ملک بھی ہیں اور انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ترقی یافتہ اور بڑے ملک بھی ، ان میں ترکی جیسی ابھرتی ہوئی معیشت بھی ہے اور پاکستان جیسا ایٹمی ملک بھی، مگر اس سب کے باوجود آج کا مسلمان جس قدر لاچار ، بے یار و مددگا ، مظلوم اور مجبور ہے شاید اس سے پہلے کبھی نہیں تھا ۔ آپ دنیا کی پچھلے بیس سال کی ہسٹری اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو دنیا کے ہر خطے میں مسلمان کا لہو بہتا ہوا نظر آئے گا ، مسلمانوں پر جتنا ظلم و ستم پچھلے بیس سالوں میں ہوا شاید پچھلی دس صدیوں میں بھی اتنا ظلم نہیں ہو ا ہو گا ۔ ان بیس سالوں میں مسلمانوں کو غیروں نے بھی پیٹا اور اپنوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ، آپ دیکھ لیں اکیسویں صدی کا آغاز پاکستان اور امریکہ کے ہاتھوں افغانستان کی تباہی و بربادی سے ہوا ، اس کے بعد سے اب تک عراق ، لیبیا،
کشمیر، فلسطین ،میانمار اور شام مسلسل اس جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں ۔ نہ جانے کتنے لاکھ لوگ ان جنگوں میں شہید ہو چکے ہیں اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد تو کروڑوں میں ہے۔ کیا کبھی کسی نے سوچا کہ ان بیس سالوں میں مسلمانوں کے سوا کسی دوسری قوم یا ملک کا خون بہا ہو؟ ہر گز نہیں ۔ افسوس یہ نہیں کہ اس ظلم کے خلاف کسی اسلامی ملک کی طرف سے آواز نہیں اٹھی بلکہ اضطراب یہ ہے کہ آئندہ بھی ایسی کسی آواز اٹھنے کی امید نہیں ۔ آپ دیکھ لیں عرب ممالک میں سے اکثریت اپنی بادشاہت بچانے میں مصروف ہیں ، سعودی عرب امریکہ کو گود میں بیٹھنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ، شہزادہ محمد سعودی عرب میں سینما ہاؤس کھولنے اور سیاحت انڈسٹری کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں ۔ دبئی کے امیر انڈیا سے دوستیاں بڑھانے اور معاشی مفادات حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، شام پر بات کرنے کی بجائے انہیں عرب دنیا میں سب سے بڑا مندر بنانے سے غرض ہے ، قطر2022کے فیفا ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور باقی عرب ممالک بھی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹے ہوئے اپنی سرداریاں اور بادشاہتیں بچانے میں مصروف ہیں ۔ افریقہ کے پچیس تیس ملک غربت کے ہاتھوں مر رہے ہیں ، یہ صرف نام کے مسلمان ہیں ، آپ انہیں اور ان کے بچوں کو ایک روٹی دے دیں اور ان سے جو مرضی کلمہ پڑھوا لیں ، عیسائی مشنریاں بڑی تیزی سے ان ممالک میں اپنا نیٹ ورک پھیلا رہی ہیں ، نہ جانے کتنے لاکھ لوگ عیسائیت اختیار کر چکے ہیں ۔ ساٹھ اسلامی مما لک میں سے عرب اور افریقہ کے تقریبا یہ پچاس ملک نکل گئے،یہ دوسرے مسلمان ممالک کی مدد کو کیا آئیں گے یہ اپنا وجود برقرا ر رکھ لیں اور اپنا قبلہ سیدھا کر لیں یہی بڑی بات ہے ۔ باقی کیا بچا؟ صر آٹھ دس ملک ، ان میں انڈونیشیا اور ملائشیا جغرافیائی مسائل کی وجہ سے اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے ، یہ باقی مسلم ممالک سے انتہائی دور ہیں اور یہ عالمی برادری میں بھی اتنے متحرک نہیں لہذا یہ بھی کچھ نہیں کر سکتے ۔ باقی کیا بچا؟ پاکستان ، ترکی مصر اور ایران ، ایران کو بھی آپ سائیڈ پر کر دیں ، مصر اپنے اندرونی مسائل میں الجھا ہوا ہے ، باقی کیا بچا ترکی اور پاکستان ، ترکی شام سے متصل ہونے کی وجہ سے شام کی مدد کر رہا ہے ،لاکھوں شامی مسلمان ترکی کی سرحد پر ترک خیموں میں زندگی بسر کر رہے ہیں ، ترکی شامی مسلمانوں کا واحد سہارا اور آخری پناہ گا ہے ، اگر ترکی بھی شامی مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے نہ بڑھتا تو ان کی نسل ختم کر دی جاتی ۔ یہ اصل حقائق ہیں ، ساٹھ اسلامی ممالک میں سے صرف پاکستان اور ترکی ایسے ہیں جو مسلم امہ کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان پاکستان کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔آپ سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر جائیں فلسطین اور شام کی مائیں بہنیں پاکستان اور پاک فوج کا نام لے کر انہیں مدد کے لیے پکار رہی ہیں ۔آپ شامی مہاجر بچوں سے ملیں وہ کہتے ہیں ایک دن پاکستانی فوج آئے گی اور ہم سب کو آذاد کروائے گی اور بشار الاسد کو مار ڈالے گی۔ میں کالم کو جذبات کی رو میں بہانا نہیں چاہتا ، یہ اصل حقائق ہیں ،عالم اسلام کو پاکستان سے کتنی توقعات ہیں ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں ۔ حکمرانوں سے گلہ نہیں کہ ان کی ترجیحات کچھ اور ہیں ، افسوس اس پر ہے کہ ہمارا میڈیا ، علماء، دانشور اور طلباء نے بھی اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی ۔ انڈین اداکارہ کی موت پر لائیو نشریات دکھائی گئیں لیکن غوطہ میں جو قیا مت ٹوٹی اس پر کسی کا دل نہیں رویا، غوطہ میں آگ برستی رہی لیکن ہمارا میڈیا پی ایس ایل کے میچ دکھاتا رہا ۔ علماء نے بھی چپ سادھ لی ہے ، شاید اس لیے کہ ان کی اب کوئی سنتا نہیں ورنہ ممبرو محراب سے جو آواز اٹھ سکتی تھی اس کی گونج شام تک سنائی دے سکتی تھی ۔ ہمارا دانشور بھی خاموش ہے ، اس کی ساری دانش جمہوریت کی مجاور بن گئی ہے اور سیکولر دانش ہمیں سبق دے رہی ہے کہ آپ اپنے گھر کو دیکھو ، خود کو اس جھگڑے سے الگ رکھو ۔ باقی رہے مدارس اور یونیورسٹی کے طلباء تو ان کی پہنچ اب صرف فیس بک اور واٹس ایپ تک ہے ۔ مدارس کے طلباء سے تو میں ویسے ہی مایوس ہوں کہ وہ اب بحیثیت مجموعی معاشرے کا ایک غیر فعال اور اجنبی طبقہ بن کر رہ گئے ہیں ، جس عالم کو معاشرے کے لیے رول ماڈل اور لیڈر ہونا چاہئے تھا وہ جدید ذہن، جدید نفسیات، سماجی علوم اور سماجی رویوں سے ہی بے خبر ہے ، ایسے میں اس سے کسی راہنمائی کی امید رکھنا خود کو دھوکا دینے والی بات ہے ۔
اے اہل پاکستان !خدا را شامی مسلمانوں کا دکھ درد محسوس کریں ، حالات کس قدر دردناک ہیں ہم اس کا تصوربھی نہیں کر سکتے، ہزاروں نہیں لاکھوں مائیں بہنیں بیوا ہو چکی ہیں ،ان کی عزتیں محفوظ نہیں، لاکھوں بچے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں اور لاکھوں شامی مہاجرین مدد کے منتظر ہیں ، اے اہل پاکستان !مسلم دنیا کو تم سے امیدیں ہیں ، وہ تمہاری منتظر ہے ،وہ تمہیں پکار رہی ہے، کیا تمہیں بھی کچھ احساس ہے ؟؟؟۔


ای پیپر