مارچ حکمرانوں پر بھاری
04 مارچ 2018 (18:51) 2018-03-04

مارچ ستم ڈھانے آ پہنچا،3 دن اہم 3 تاریخوں پر نظریں جمی ہیں، 3، 13، 18، پاکستانی سیاست میں بھونچال کی پیشگوئیاں، قیاس آرائیاں،پوری سیاست ان ہی قیاس آرائیوں اور نت نئی افواہوں پر چل رہی ہے، ٹوٹ پھوٹ مقدر ٹھہری، ’’مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے‘‘ قضاوقدر کے فرشتوں نے لکھ دیا کہ سب کچھ ختم کردیا جائے گا ایک صور اسرافیل ہی تو پھونکنا ہوگا۔ دو مزید فیصلے سب کچھ ختم کردیں گے، سابقے، لاحقے کچھ برداشت نہیں۔
کیا مجبوری کے تحت سب کچھ ہو رہا ہے؟ کچھ نہ کہیں تو بہتر، ایک تاریخ گزر گئی تمام تر خدشات اور افواہوں کے باوجود سینیٹ الیکشن ہوگئے، ساری جماعتیں شامل حکمران جماعت غائب، جو جیتے وہ آزاد، پنجاب سے ن لیگ کے حمایت یافتہ گیارہ اور اسلام آباد سے دونوں امیدوار مشاہد حسین سید اور اسد جونیجو کامیاب ہوگئے، ن لیگ میں دراڑ پڑی نہ ہی ٹوٹی، سندھ میں پیپلز پارٹی آگے پشاور میں وزیر اعلیٰ کے حمایت یافتہ سمیع الحق کو صرف 3 ووٹ ملے۔اللہ نہ کرے آزاد ارکان کو دوسرے ہانک کر لے جائیں نثار جٹ جدی پشتی مسلم لیگی جہانگیر ترین کے ہتھے چڑھ کر بنی گالہ پہنچ گئے، ختم نبوت قانون میں مبینہ ترمیم پر ناراض جہاں گئے کیا انہوں نے قوانین کے تحفظ کی یقین دہانی کرا دی؟ پابندی لگا دی گئی کہ جیتنے والے کہیں بھی جاسکتے ہیں بس جاتی امرا کا رخ نہیں کرسکتے جبکہ مبصرین کی رائے ہے کہ آزاد حیثیت میں جیتنے والے آئین کے آرٹیکل 63اے کی شق2 کے تحت کسی بھی پارلیمانی پارٹی میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں ، آرٹیکل51اور 106 بھی آزاد ارکان کو شمولیت کی آزادی سے متعلق ہیں، پھر قدغن کیسی، پارلیمنٹ کو عضو معطل بنانے کا فائدہ؟ اے میرے آقا اے میرے مولا یہ پردے ہی پردے میں کیا ہو رہا ہے؟ ایک تاریخ گزر گئی دو باقی ہیں مقدمات بھی دو ہی ہیں ریفرنسز پر سزائیں، نا اہلی کی مدت کا تعین، 13، 18مارچ یا ایک آدھ دن آگے پیچھے، نا اہلی تا حیات رو رعایت کی گنجائش کہاں ہے، اف اتنا کڑا احتساب، دوسرے دس سال کا حساب دینے سے گریزاں یہاں 70 سالوں کا حساب ،300 ایکڑ کے مکان کا این او سی جعلی، نقشہ منظور شدہ نہیں ایک ہفتہ میں جواب دینے کی مہلت دوسرا کیس ایک ماہ تک ملتوی، ریفرنسز کی روز سماعت، احتساب عدالت کے ’’صاحب بہادر‘‘ کی ریٹائرمنٹ سے قبل فیصلہ ہونا ہے، صاحب بہادر کی ملازمت میں توسیع بھی زیر غور، بڑے مسائل ہیں جیل بھیجنا بھی تو آسان نہیں، بی اور سی ٹیمیں صرف نا اہلی سے مطمئن نہیں مکمل مائنس چاہیے تاکہ شاہراہ دستور کا راستہ صاف مل جائے، دستور رہے نہ رہے اقتدار پر قبضہ چاہیے، قبضہ مافیا پچھلے 5 سالوں سے ان ہی کوششوں میں سر گرداں ہے اربوں کھربوں کا نقصان ہوچکا جمہوریت گھائل ہو کر کومے میں پڑی ہے ملک بیرونی دشمنوں کے شکنجے میں آگیا ،گرے لسٹ میں شامل بلیک لسٹ کے خدشات منڈلا رہے ہیں سرحدوں پر تنائو بھارت کی جانب سے 400 سرحدی خلاف ورزیاں، اندر دہشتگردی لیکن اقتدار ملنے تک کسی کی پرواہ نہیں کسی نے ان حالات پر تشویش کا اظہار کیا تو قریب بیٹھے ایک سیانے نے کہا۔
یہ جو اس ملک میں شطرنج بچھی ہے اس کو
پہلے ان ہارنے والوں کی سیاست سے نکال
ریاست کے ستون ایک دوسرے کر گرانے کی کوششوں میں مصروف، پاکستانی تاریخ جمہوریت پر حملوں سے بھری پڑی ہے 70 سال بعد بھی جمہوریت کا مستقبل سوالیہ نشان ہے جسے آئین سے غداری کے جرم میں پکڑنا تھا وہ باہر بیٹھا ہدایات دے رہا ہے جبکہ پاکستان میں اس پر حملے کے ملزم پکڑے جا رہے ہیں اس سے کسی نے نہیں پوچھا کہ اس نے منی لانڈرنگ کیسے کی اربوں ڈالر کہاں سے آئے، کارخانے نہ فیکٹریاں مگر دبئی سے لندن اور امریکا تک بھاگ دوڑ، ان ہی اقدامات سے جمہوریت تباہ ہوئی، اکانوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان میں جمہوریت کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے 2014ء کے دھرنوں کے بعد سے جمہوریت کے اسکور میں مسلسل کمی سے گراف 4.64 سے 11.26 تک پہنچ گیا کسی کو فکر ہے؟ ہر گز نہیں، ایڈونچرازم اور ایکٹیو ازم نے ہمیں پاتال تک پہنچا دیا ایک طرف عمومی خطابات کہ سیاسی معاملات عدالت میں لے جانے سے مارشل لاء کی راہ ہموار ہوتی ہے، سیاسی جماعتوں کو نصیحت کہ وہ اپنے معاملات پارلیمنٹ میں حل کریں ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن پارلیمنٹ کے بنائے قوانین بنیادی حقوق کے منافی اس لیے کالعدم، سیاستدان مایوس مقدمات میں پیشیاں بھگتیں یا قانون سازی کریں، انتظامیہ کا ہر اقدام چیلنج عدالت سے رجوع انتہائی آسان ایک درخواست ہی تو دینی پڑتی ہے فوری سماعت کے لیے منظور۔
وزیر اعظم کو نا اہل قرار دلانیوالوں نے کیا پایا؟ صرف دلی تسکین ’’کچھ کا ضمیر بک گیا کچھ کی انا بکی‘‘ جسے نا اہل قرار دیا گیا اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ ’’کیا بجھا دیں چراغ ہستی بھی‘‘ وزارت عظمیٰ سے ہٹائے گئے تو پارٹی کے صدر بن گئے صدارت سے بر طرف کئے گئے تو تا حیات قائد بن گئے، اس سے آگے کچھ نہیں ،آئین خاموش ہے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم و مغفور چالیس سال بعد بھی پیپلز پارٹی کے قائد شمار ہوتے ہیں پارٹی نے حالیہ ممبر سازی مہم میں جو اشتہار اور بینر لگائے ان پر ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور بلاول بھٹو کی تصاویر لگائیں آصف زرداری کہاں گئے لوگ جانتے ہیں سمجھتے بوجھتے ہیں کہ جیالوں کے ووٹ بھٹو کی تصویر کو ملیں گے زرداری کو نہیں، اسی پر اطلاق کیا جائے گزشتہ دنوں کے جلسے ضمنی انتخابات مخالفین کو دہلائے دیتے ہیں شہباز شریف ن لیگ کے لاکھ صدر بن جائیں لیکن سمجھتے ہیں کہ ووٹ بڑے بھائی کو پڑیں گے، عمران خان مایوس ہیں آصف زرداری بے چین، دیگر مخالفین پسپا ہو کر تتر بتر،یقین کر بیٹھے ہیں کہ یہی شب و روز رہے تو آئندہ انتخابات جب بھی ہوئے ووٹ نواز شریف کو ہی پڑیں گے ،کیوں؟ بقول ڈاکٹر صفدر محمود ’’کمزور فیصلے کے بجائے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات ثابت ہونے کا انتظار کرلیا جاتا تو شاید بہتر ہوتا آج نہایت گمبھیر الزامات سیاسی مہم جوئی کی خاک تلے دب چکے ہیں اقامہ ہر طرف چھاگیا ہے اور آنے والے فیصلوں پر قبل از وقت شکوک کی چادر ڈال دی گئی ہے‘‘ فائدہ کس کو ہوا نقصان میں کون رہا، نتیجہ کیا نکلے گا؟ ڈاکٹر صفدر محمود بین السطور بہت کچھ کہہ گئے ’’کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی‘‘ مخالفین اپنے پیدا کیے حالات سے جو فائدہ اٹھانا چاہتے تھے نہیں اٹھا سکے لودھراں چکوال کے ضمنی الیکشن اور چند روزقبل نہال ہاشمی کی خالی نشست پر سینیٹ کا انتخاب نوشتہ دیوار ہے، سینیٹ کے حالیہ نتائج کیا کہہ رہے ہیں، عمران خان ضمنی انتخابات میں بھی بدستور نمبر 2 پیپلز پارٹی چوتھے پانچویں نمبر پر موجود، مذہبی جماعتیں آگے جانے کی جدوجہد میں مصروف لیکن عددی لحاظ سے پیچھے ۔ نواز شریف اندر ہوں یا باہر عدالت میں ہوں یا بلیو ایریا کی بیکری میں ملکی سیاست ان ہی کے گرد گھوم رہی ہے لاہور، چکوال، لودھراں میں دوبارہ انتخابات ہوئے تو بھی نتائج یہی رہیں گے، تب کیا ہوگا کیا حالات مزید بگڑ جائیں گے؟ تیسرے فریق کو آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا یا ریاست کے سارے ستون اپنے اپنے ایرینامیں واپس آکر جمہوریت کے حقیقی استحکام میں اپنا آئینی کردار ادا کریں گے تھوڑا سا غور کرلیا جائے کرپشن اور منی لانڈرنگ ڈھونڈتے کتنا عرصہ بیت گیا فرد واحد کی کرپشن ڈھونڈی نہ جاسکی حالانکہ اس میدان میں بڑے بڑے شہسوار بگٹٹ دوڑ رہے ہیں۔


ای پیپر