تلاش
04 مارچ 2018 (18:49) 2018-03-04

ہم ان دنوں ان جید معقول، وضع دار، ایماندار سیاستدانوں کی تلاش میں ہیں جو انتخابات میں شریک ہونے اور ممبر پارلیمنٹ بننے کے لیے اپنی زرعی اراضی تک کو فروخت کرنا ’’سعادت‘‘ سمجھتے تھے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب مذکورہ عہدہ بڑا نام اور مقام رکھتا تھا۔ رکن پارلیمنٹ ہونا کسی بڑے اعزاز سے کم نہ تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی تمام تر توانائی اور صلاحیتیں صرف کرنا ’’ عین ثواب‘‘ خیال کرتے تھے۔ ان کا دوسرا مقصد مخالفین کو زیر اثر کرنا، حلقہ میں رعب اور دبدبہ رکھنا بھی ہوتا تھا۔ اس ’’ کار خیر‘‘ کے لیے وہ حلقہ کی افسر شاہی کو شریک سفر رکھتے لیکن مر کزی کردار ’’ سنتری بادشاہ‘‘ کا ہوا کرتا تھا۔ منہ زور افراد کو نیچا دکھانے کا کام اسی ’’ معصوم‘‘ سے لیا جاتا تھا۔ اس زمانے کا تھانیدار بھی بڑا و ضع دار ہوتا تھا۔ یہ منتخب اراکین کے ساتھ وفاداری نبھانے میں آخری حد تک جاتا تھا۔ اس دور میں بد عنوانی ، رشوت ستانی کی اصطلاحیں ایجاد نہ ہوئی تھیں اس لیے کسی کو بد عنوانی کا الزام لگانے کی جرأت تھی نہ ہی تھانیدار کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ۔ البتہ اراکین اسمبلی اپنی مرضی اور حیثیت سے افسر شاہی اور تھانیدار کے گھر بھینس چھوڑ آتے تاکہ ان کے بچوں کے لیے دودھ کا اہتمام ہو سکے۔ فصل آنے پر گندم بھی ڈال دیتے۔ باغات کے پھل فروٹ تو معمول کی کارروائی سمجھے جاتے۔ یہ سادہ لوح ارکین تھانہ کچہری کی سیاست کرتے بھی تھے تو اپنی ذاتی جیب خرچ سے۔ شاید اس زمانے میں ’’ ٹاؤٹ‘‘ نامی کردار کا دور دور تک وجود نہ تھا۔ ویسے بھی اس طرز کی اصطلاح کے استعمال کو غیر ممنوعہ خیال کیا جاتا تھا ۔
پسماندہ اور دیہی آبادی سے تعلق رکھنے والے ان راکین کی بڑے شہروں میں جائیدادیں بنانے اور وہیں مقیم ہونے کی شہادتیں بھی ملتی ہیں۔ بعض کے شہری ماحول میں رنگنے اور رنگین مزاج اختیار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے کچھ کی بازار حسن کی یاترا کے ثبوت بھی ملتے ہیں۔ لیکن اس طرز کے شوقین اپنی بدنامی اور عوامی خوف کے سبب رات کی تاریکی میں اس بازار کا رخ کرتے اور سورج کی پہلی کرن کے طلوع سے قبل گھر لوٹ جاتے۔ ان میں کچھ تو اس حسن کے اتنے اسیر ہوئے کہ ان ’’ حسیناؤں‘‘ کو دل دے بیٹھے اور پھر شریک حیات کے روپ میں اپنانے پر مجبور بھی ہوئے۔ اپنی وضع داری اور روایات کے ہاتھوں مجبور ان اراکین نے اس رشتہ کو وہ مقام بھی دیا جو اس کا تقاضا تھا۔
اس دور کی انتخابی مہم بھی بڑی سادہ تھی۔ بڑی بڑی گاڑیوں کا جلو کہیں دکھائی نہ دیتا تھا، ایک ہی پرانی موٹر پر چند افراد سوار ہو کر اس کا آغاز کرتے۔ دیہات یا بستی میں نمبردار، ذیل دار کے گھر براجمان ہوتے، ان کی دعوت پر سارا گاؤں زیارت کے لیے امڈ آتا۔ ذیل دار یا نمبردار خود ہی پورے گاؤں کی طرف سے حمایت کا یقین دلاتا۔ یوں انتخابات تک یہ سفر جاری رہتا اس عہد کے نعرے بھی بڑے سادہ ہوتے تھے۔ الیکٹرانک میڈیا کی سہولت تو عنقا تھی۔ البتہ اخبارات میں انتخابی مہم کی خبر شائع کروائی جاتی لیکن اس میں بھی بڑی وضع داری دکھائی جاتی تھی۔ نہ تو مخالفین پر کیچڑ اچھالا جاتا نہ ہی خاندان کے ذاتی معاملات عوام میں زیر بحث لائے جاتے۔ شکست کو بھی کھلے دل سے قبول کیا جاتا۔ صاحب کردار ہونے کی بناء پر بڑے بڑے آمر کے سامنے سینہ تان کر مخالفت کرنے کا ’’ رسک‘‘ یہ اراکین ہی لیا کرتے تھے البتہ جو کسی بشری کمزوری میں مبتلا ہوتے وہ فوجی حکمرانی کی چھتری تلے پناہ لیتے تھے۔
پہلے آمر کی رخصت کی کو کھ سے عوامی عہد کا آغاز ہوتاہے۔ قائد عوام بڑے نعرہ کے ساتھ چھوٹا دل لیے نمودار ہوتے ہیں، بات توجمہوریت ہی کی کرتے مگر مخالفین کو آڑے ہاتھوں لینے کی روایت کو بھی آگے بڑھاتے رہے۔ دائیں اور بائیں بازو میں منقسم سیاسی جماعتوں نے اس عہد کو بھی دیکھا ہے تاہم اس دور میں عام فرد کا رکن پارلیمنٹ بننا سنہری دور کی یاد دلاتا ہے۔ آپ اسے نظریاتی سیاست کا عہد قرار دے سکتے ہیں۔
اگلے دور کا آغاز ’’ عزیز ہم وطنو‘‘ سے ہوتا ہے عملی سیاست میں غیر جماعتی انتخابات کی پیو ند کاری سیاسی زوال کا سبب بنتی ہے اور پورا سیاسی کلچر ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔ باوردی اشخاص جمہوری افراد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں، انہیں وزارء کرام کی شکل میںعوام پر مسلط کیا جاتا ہے، اس مشق سے چھانگا مانگا کی سیاست جنم لیتی ہے۔ سیاست عوامی خدمت سے نکل کر سیاسی دکانداری کا روپ دھار لیتی ہے۔ ہارس ٹریڈنگ کا نیا’’ ٹرینڈ‘‘ متعارف کروایا جاتا ہے۔ وزارتوں کے حصول سے لے کر پرمٹ کی فروخت تک پیسے کو مرکزی حیثیت حاصل ہو جا تی ہے۔ ملازمتوں کی فروخت سے ارکین کے گھر کا باورچی خانہ چلتا ہے۔ یہ ماحول افسر شاہی کو حوصلہ دیتا ہے۔ سیاسی فہم اور شعو سے عاری ارکین کی سیاسی کمزوری کا فائدہ یہ طبقہ اٹھانے کی حتیٰ المقدور کاوش کرتا ہے۔ خود ساختہ امیر المومنین اپنے ’’ پیٹی بھائیوں‘‘ کی بعض کارروائیوں پر چپ سادھ لیتے ہیں۔ نظریاتی سیاست اس گٹھ جوڑ کے بوجھ تلے دم توڑ جاتی ہے اور قومی اداروں کے ٹکراؤ کا وقت آن پہنچتا ہے۔
اب تعلیم یافتہ، نڈر، بے باک، بااصول، نہ جھکنے والے نہ بکنے والے اراکین دستیاب نہیں ہیں۔ جو کبھی ماضی کا خاصہ تھے فی الوقت جو دستیاب ہیں ان سے ایسی ہی پارلیمانی حرکات کی توقع ہے جس کے وہ مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کی حرکات و سکنات عوام کو ہضم نہیں ہو رہی۔ سوشل میڈیا پے براجمان کھلنڈرے اس لیے ان کی درگت بنانے میں مصروف ہیں جسے واقفان حال ’’عوامی شعور‘‘ قرار دیتے ہیں۔
جس انداز سے بد عنوان افراد پر دست شفقت رکھا جا رہا ہے اور اجتماعی کاوش سے ان کے حق میں قرار دادیں منظور کی جارہی ہیں یوں دکھائی دیتا ہے کہ اب سیا سی جماعتوں کو بھی وہ بے لوث، وفادار، ایماندار اور نڈر اراکین اسمبلی کی حاجت نہیں رہی جو کبھی ان کی شناخت ہو ا کرتے تھے۔ بدلتے وقت کے ساتھ انہوں نے بھی اپنے سیاسی معیار کو تبدیل کر لیا ہے۔ گزشتہ دو پارلیمانی ادوار کی تکمیل کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ کاروبار سیاست کی ترقی کے لیے اب ان امیدواران کا چناؤ لازم ہے جو درج ذیل صلاحیتوں کے حامل ہوں۔
اک تو ان میں بد عنوانی کی بناء پر نااہل سربراہ پارٹی کو قائد بنانے، اس کا وفادار رہنے، اس کی قیادت پر مکمل یقین کرنے کی خوبی بدرجہ اتم موجود ہونا لازمی قرار پاتی ہے۔ دوسرا ان پر لازم ہے کہ بد عنوانی میں ملوث افراد کے ساتھ جب کبھی یک جہتی کے اظہار کی دعوت دی جائے اور انہیں احتجاج کا نادر موقع ملے اس سے قطعی طور پر رو گردانی کے مرتکب نہ ہوں ان کے اندر ان کی حمایت میں قراردار پیش کرنے کی صلاحیت اور جرأت بھی ہو۔ پارٹی میں ایسے افراد کو الگ مقام سے نوازا جائے گا۔
متوقع امیدواران کو پیش آمدہ تمام منصوبہ جات بشمول مجوزہ شاہرات، موٹروے،بائی پاس کے روٹ اور راستہ کا علم ہونا ضروری قرار پاتا ہے تا کہ اس کی پاداش میں وہ اپنے ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کو فروغ دے کر آئندہ متوقع انتخابات کے لیے دولت جمع رکھیں تا کہ اس عمل میں عام آدمی کی شرکت کا راستہ بند کیا جاسکے البتہ انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ عسکری ادارہ جات کے زیر اہتمام رہائشی منصوبہ جات میں شمولیت کرنے سے مکمل احتیاط اور پرہیز کریں۔ ان کی اس ’’ گستاخی‘‘ سے اداروں کے ٹکراؤ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے ۔
متوقع میدواران کو پارلیمانی عہد میں زیادہ وقت پارلیمنٹ کے باہر گزارنے پر پورا ملکہ حاصل ہونا چاہیے لیکن مراعات کے حصول میں سستی اور کا ہلی قطعی نا قابل برداشت ہوگی۔ توقع کی جاتی ہے کہ متوقع امیدواران ہارس ٹریڈنگ کے سنہری اصولوں سے بخوبی واقف ہوں گے البتہ انہیں’’ انڈر ہینڈ ڈیل‘‘ سے گریز کر نا ہوگا۔ تمام معاملات پارٹی قائد کے علم میں لانا ان پر لازم ہوگا البتہ حصہ بقدر جثہ کی ادائیگی میں انہیں مایوس نہیں کیا جائے گا۔ متوقع امیدواران سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ ایسے کارکنان کی فوج ظفر موج ضرور رکھیں گے جو سوشل میڈیا کی ماہر ہو تا کہ موقع ملنے پر مخالفین کی مغلظات سے ’’ خدمت‘‘ کر کے ان کی ’’ نانی‘‘ یاد دلائی جا سکے۔ ان خو بیوں کے حامل متوقع امیدواران کی نہ صرف تلاش ہے بلکہ پارٹی ٹکٹ کے حصول کا سنہری موقع ان کے پاس ہے تا کہ پارلیمانی نظام کے فروغ کو سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے۔
اس ماحول کے باوجود ہمیں تلاش ہے اس سپہ سالار کی جو سقوط ڈھاکہ کا بدلہ لے اور کشمیر کی آزادی کو یقینی بنائے اس منصف اعلیٰ کی جو عا م آدمی کو سستا اور جلد انصاف فراہم کرے۔ اس محتسب کی جو لوٹی قومی دولت واپس لا سکے اور اس باشعور سیاسی قیادت کی جو قومی اداروں کو مضبوط سے مضبوط تر بنادے۔


ای پیپر