امریکہ و مغرب اورمسلمانوں سے امتیازی سلوک
04 مارچ 2018 (18:46)

نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جس جنگ کا آغاز کیا تھا اس کے نتیجے میں دہشت گردی کا خاتمہ تو نہیں ہو سکا مگر اس کی کوکھ سے پورا مشرقِ وسطیٰ کے لئے عدم استحکام برآمد ہوا ہے جس کی بنا پر مختلف ملکوں میں خانہ جنگی کے دوران لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں داعش جیسی فورس نے جنم لیا ہے جس نے عراق اور شام کے مختلف علاقوں میں اپنے زیرقبضہ علاقوں میں حکومت قائم رکھی ہے۔ امریکہ اور یورپ کا ماننا ہے کہ داعش میں ایسے افراد شامل ہیں جو مغربی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ ترین سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرکے جہاد کے نام پر جنگ میں شامل ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے کچھ سیاستدانوں اور دانشوروں نے اعتراف کیا ہے کہ یہ ہماری پیدا کردہ ہے یا اسے ہماری پالیسیوں نے جنم دیا ہے۔
اس تمام صورت حال کے منفی نتائج امریکہ اور یورپ میں بے گناہ مسلمانوں کے خلاف ناروا سلوک کی شکل میں سامنے آ رہے ہیں۔ امریکہ میں دہشت گردی کے خلاف نئے قوانین کے تحت مسلمانوں کو بہت سے معاملات میں نشانہ بنایا بلکہ امریکہ میں مختلف دیگر مذاہب اور طبقات نے بھی مسلمانوں کے ساتھ نہایت تلخ رویہ روا رکھا۔ اگر کسی جرم میں کوئی مسلمان ملوث ہوا تو اسے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم کا موضوع بنا دیا گیا اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے علاوہ مختلف حربوں سے بری طرح تنگ بھی کیا جائے گا۔ گزشتہ جمعہ کو امریکی ریاست کولوراڈو میں گوشت کی ایک فیکٹری میں کام کرنے والے دو سو مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی پر نوکری سے فارغ کردیا گیا۔ کولوراڈو کی گوشت فیکٹری کے یہ ملازم جونہی جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد فیکٹری پہنچے انہیں ملازمت سے برطرفی کے پروانے تھما دیئے گئے۔ ملازمت سے برطرف کئے جانے والوں میں سے بیشتر صومالیہ اور دیگر ممالک کے مسلمان ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فیکٹری کے مالک نے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے جانے والے ملازموں کو واپسی دوبارہ فیکٹری میں داخل ہونے سے روک دیا۔ فیکٹری کے وکیل کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو ملازمت سے فارغ کئے جانے کے پیچھے مذہبی منافرت نہیں۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے امریکہ میں فیکٹری مالکان کا اپنے مسلمان ملازمین کے ساتھ رویہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے بعض فیکٹریوں سے بغیر کسی ٹھوس وجہ مسلمان ملازمین کو ملازمت سے فارغ کردیا جاتا ہے۔
فرانس یورپی یونین کا ایک اہم رکن ملک ہے اور یہاں کئی عشروں سے الجزائر، مراکش، تیونس، موریطانیہ اور کئی دیگر عرب ممالک کے تارکین وطن آباد ہیں۔ فرانس میں پارلیمنٹ کی جانب سے حجاب پر پابندی کے فیصلے کے خلاف عالم اسلام کے اکثر ممالک کے شہری صدائے احتجاج بلند کرتے رہے ہیں۔یوں تو مغربی ممالک روا داری، برداشت اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی اور فروغ کے بزعم خویش دعویدار بنے پھرتے ہیں لیکن حقائق و حالات ان کے اس دعوے کی تردید اور نفی کرتے ہیں۔ مغرب میں مسلمانوں کی تعداد پانچ کروڑ سے زائد ہے ، صرف فرانس میں ان کی تعداد61 لاکھ 30ہزار ہے۔ دنیا بھر کو روا داری ، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا درس دینے والے مغربی معاشروں میں تنگ نظری کی انتہا کا عالم یہ ہے کہ محض رنگ و نسل اور عقیدہ و مذہب کے اختلاف کو جواز بنا کر مسلم شہریوں کو ہراساں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیںجانے دیا جاتا ۔ اہل مغرب کا دعویٰ ہے کہ وہ نسل پرستی کے سب سے بڑے مخالف ہیں لیکن 9/11اور 7/7کے بعد حالات نے عالمی برادری کے سامنے تصویر کا انتہائی بھیانک رخ پیش کیا۔ مغرب کی اسلامی عقائد اور تعلیمات کو دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کی پالیسی اور کوششیں ضرر رساں ثابت ہوئی ہیں۔ ایک سابق جرمن سفارت کار مراد ہو فمین نے جو حلقہ بگوش اسلام ہوئے، اپنے ایک مضمون میں اسلام مخالف مغربی ذہنیت کو یوں بے نقاب کیاکہ ’اہل مغرب کو اسلام کے علاوہ ہر چیز گوارا ہے ،جب ان کا کسی مسلمان شخص کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے تو ان کی رواداری اور بے پایاں وسیع القلبی رخصت ہو جاتی ہے، غیر مسلموں کے وہی عادات و اطوار جو خوش دلی سے قبول کر لیے جاتے ہیں مسلمانوں کے لیے باعث ننگ و عار بن جاتے ہیں اور انہیں ’ کٹر ،متعصب، غیر مہذب، غیر آئینی اور پسماندہ قرار دیا جاتا ہے‘۔۔ فرانس جو حریت فکر اور آزادیٔ اظہار کا سب سے بڑا نقیب ملک بنتا ہے ، وہاں مسلم بچیوں کو سکارف پہننے پر تعلیمی اداروں سے نکال دیا جاتا ہے اور تو اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں یہ مناظر بھی دیکھنے میں آئے کہ حجاب پر اصرار کرنے والی باپردہ خواتین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں تضحیک آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک مسلمہ صداقت ہے کہ اسلام عورت کو خاندانی نظام کی بنیادی اکائی تصور کرتا ہے۔ حجاب کا بنیادی مقصد بھی عورت کی عفت ، عصمت اور عظمت کو معاشرے سے تسلیم کروانا ہے۔
امریکہ اور مغربی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کے منافرت پر مبنی ایسے اقدامات سے مسلمانوں اور غیرمسلموں میںخلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ عراق، افغانستان ، شام، یمن، لیبیا، مصر اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں لاکھوں مسلمان دہشت گردی کی جنگ کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں مگر امریکہ اور یورپ آج بھی وہاں مقیم مسلمان جو کئی نسلوں سے وہاں رہ ہے ہیں انہیں مسلمان ہونے پر منافرت اور تعصب کا نشانہ بناتے ہیں جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں خوف اور نفرت جنم لیتی ہے۔ مغرب جو انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کا علمبردار ہے مسلمانوں کے حقوق اور ان کو اظہار رائے کی آزادی دینے پر تیار نہیں۔ یورپ کے کئی ممالک خواتین کے حجاب پر پابندی لگا چکے ہیں اور اس پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں رکھی گئی ہیں۔ ایک طرف یورپ اور امریکہ مسلمانوں پرپابندیاں لگاتے ہیں۔ دوسری طرف آزاد، خودمختار مسلمان ملکوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کی روش پر چلیں۔ اسلام پر عملدرآمد نہ کریں۔ اسلام کا دیا ہوا نظام عدل و تعزیر نافذنہ کریں۔ مغرب اور امریکہ کو مسلمانوں سے یہ امتیازی سلوک ختم کرنا چاہیے۔ یورپ میں مسلمان خواتین کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دی جائے۔ امریکہ اور یورپ کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان ملکوں کی ترقی میں مسلمان تارکین وطن نے اہم کردار ادا کیا ہے صرف مذہبی تعصب کی بناء پر ان سے زیادتی نہ کریں ان کو بھی درجہ اول کے شہریوں کا حق دیں اور مجرم چاہے مسلمان ہو یا عیسائی اس سے مذہب کی بنیاد پر سلوک نہ کیا جائے۔ مذہبی عبادت کی ادائیگی پر برطرفی کی سزا دینے پر متعلقہ مالکان معافی مانگیں اور ان تمام مسلمانوں کو بحال کیا جائے۔ امریکی قانون ساز اس سلسلے میں قوانین تیار کریں اور اچھا ماحول بنائیں تاکہ مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ ختم ہوسکے۔


ای پیپر