اتنا ہی لے تھالی میں …بے کارنہ جائے نالی میں
04 مارچ 2018 (18:44) 2018-03-04

آج کل شادیوں کاسیزن عروج پر ہے گزشتہ دنوں مجھے اوپرتلے سات شادیوں کے دعوت نامے مو صول ہوئے سوچ میں پڑگیا کہ کن ولیموں میں شرکت کروں کس ولیمے میں معذرت اختیارکروں۔ بندئہ ناچیز ایک ہلکی پھکی سی جاب کرتا ہے۔ ایک ’سنڈے‘ میں بندہ کتنی شادیاں اٹینڈکرسکتا ہے؟ شادی کارڈز پر ولیمے کا وقت پاکستان سٹینڈرٹائم کے مطا بق ایک سے دوبجے کا درج ہوتاہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ، کھانا ہمیشہ تین سے چار گھنٹے لیٹ شروع کیا جاتا ہے جب کہ ہمارے شہر کے عوام کامزاج بھی عجیب وغریب ہے جب تک سیاسی مہمانِ خصوصی نہ پہنچ جائے مہمان بے چارے قیدی پرندے کی طرح خودکوقید ی سا خیال کرتے ہیں۔ یہی حال چال اب نماز ِجنازہ کا ہوچکاہے جب تک سیاسی مہمان نہ آ جائے جنازہ لیٹ کردیا جاتا ہے۔ سیاسی وی آئی پی مہمان کیا ہوگئے زمین کے ناخداہی ہوگئے ۔ اس باراللہ بھلا کرے جے ڈبلیو ریسٹورنٹ کے ڈائریکٹر محترم احساس پسند دوست رائو وقاص کا جوفون کرکے بتادیتا ہے عامربھائی تقریب شروع ہونے والی ہے آجائیں۔ اس سے وقت کی کافی بچت ہوجاتی ہے۔گزشتہ سے پیوستہ سنڈے پیارے کزن علم دوست رائوتصورحسین کے بھتیجے اوربھانجی کی شادی تھی۔ بارات چار سوکلومیٹردُوربہاول پورروانہ ہونا تھی۔ بارات میں توشرکت نہ کرسکا البتہ ولیمے میں شرکت کرلی۔ دوبجے پنڈال میں پہنچا تو دس سے گیارہ مہمان زرق برق کپڑوں میں الگ تھلگ سے بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں ایک مہمان کزن رائوفیض الحسن تھے جن کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا۔ فیس بک پر ان کی انمول پوسٹ سے فیض یاب ہوتا رہتا ہوں لیکن اب چند ہفتوں سے فیض بھائی کی پوسٹس موصول نہیں ہورہی تھیں۔موبائل فون اورفیس بک نے ایک خواب جیسی سہولت تو فراہم کردی ہے لیکن آپس میں حقیقی رشتے اور محبتیں پھیکی سی پڑگئی ہیں۔ بہرکیف ان سے پرتپاک طریقے سے مصافحہ
ہوا ،پوچھا جناب ِمحترم آج کل کیا کام ہورہا ہے؟ دِھیمے اورمیٹھے لب ولہجے میں فرمانے لگے عامربھائی چائنہ سے سلکی دھاگے منگواکرکپڑے اوردوپٹے بنوارہے ہیں، بس باقی الحمدللہ رَبّ کریم کا فضل ہے۔ فیض بھائی کے بارے میں بتاتاچلوں فیض بھائی اڑھائی تین سال بعد اپنا کاروبارتبدیل کرتے رہتے ہیں۔ کبھی ڈیکوپینٹ فرنیچرکا شوروم بنا لیتے ہیں،کبھی سکول بنالیتے ہیں اور کبھی پٹرول پمپ بنا بیٹھے ہوتے ہیں۔ بس ہرملاقات میں ان کا نیا کار وبارہوتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد رائوتصوربھی تشریف لے آئے۔ ایک گھنٹہ کے انتظارکے بعدکھانا شروع ہوا۔مہمانوں کو کرسیوں پربیٹھے بیٹھائے ہی ٹیبل پر کھانا پیش کردیا گیا لیکن مہمانوں بے زبانوں نے کھانے کے ساتھ وہی سلوک کیا جیسا ہماری حکومتیں عوام کے ساتھ کرتی ہیں۔ اپنی اپنی پلیٹوں میں کھاناضرورت سے زیادہ بھرلیا حالانکہ اس طرح کا رویہ توعام طورپروہاں اختیارکیا جاتا ہے جہاں کھانا الگ سے پلیٹوں میں ڈالاجاتاہو، دھکم پیل کی وجہ سے خطرہ ہوتا ہے پتا نہیں بوٹیاں ،رشین سیلڈ،فرنی،کھیراورآئس کریم وغیرہ بعدمیں ملے نہ ملے بس پلیٹیں منہ تک بھرلواورجو باقی کھانا بچ جائے پلیٹ سمیت ٹیبل کے نیچے رکھ دواورپھر ایک نئی پلیٹ پکڑواورکھانا ڈالوجوبچ جائے ٹیبل کے نیچے رکھ دو۔سات کھانوں کے ساتھ سات پلیٹیں اوردس کھانوں کے ساتھ دس نئی پلیٹیں ہم استعمال کرتے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد سبزچائے کا دورشروع ہوا۔ ڈسپوزل تھرموپول کے نرم و نازک کپوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ گرما گرم سبزچائے کی گرمائش کوبرداشت کرسکے لہٰذا آپ جیسے ہی کپوں میں چائے بھرنے کے لئے گرماگرم سبز چائے کے حمام میں تھرموپول کے کپ ڈالیں گے توکپ ٹوٹ کرتین چارحصوں میں بکھر جاتا ہے اورخطرہ بھی رہتا ہے کہیں کپ ٹوٹ کر کسی کے اوپرنہ گر جائے ۔ اکثر شادیوں میں سبز چائے کوذائقہ داربنانے کے لئے اس میں بادام اورپستے ڈالے جاتے ہیں۔ یہ بادام اورپستے حمام کی نالی میں پھنس جاتے ہیں جس سے سبزچائے کی نکاسی بند ہوجاتی ہے پھر مہمان ڈسپوزل تھرموپول کے کپوں کوحمام میں ڈال کرسبزچائے اپنے کپوں میں بھرنا شروع کردیتے ہیں۔ لاہور،اسلام آباداورکراچی جیسے شہروں میں بادام اورپستے ٹرے میں ڈال کرالگ سے رکھ دیئے جاتے ہیں جو مہذب یافتہ مہمان حسب ضرورت کپوں میں ڈال لیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسانہیں ہوتا۔ اگرایسا ہوتومہمان سبزچائے سے قبل ہی بادام اورپستوں کا صفایا کردیتے ہیں ۔ایکسپرٹ سبز چائے پینے والے ڈسپوزل تھرموپول کے کپوں کوڈبل کرکے بآسانی حمام سے چائے نکال لیتے ہیں جب کہ بچے اوردوسرے نان ایکسپرٹ مہمان چائے نکالتے ہوئے اپنے کپڑے کم اور دوسروں کے کپڑے زیادہ خراب کردیتے ہیں۔اورجوگرماگرم چائے گرنے سے جلن ہوتی ہے اس کی تکلیف الگ سے ہوتی ہے …
سب کچھ ہوتا ہے لوگوں میں
بس احساس ہی نہیں ہوتا
مجھے اس ولیمے میں ایک بات بہت پیاری لگی اوریہی بات کالم لکھنے کا سبب بنی کہ رائوتصورنے اپنی آستینوں کوچڑھایا ہوا تھااور سبز چائے جگ میں ڈال کر بچوں
اورسب مہمانوں کے کپوں میں چائے ڈال رہے تھے یہ ایک بہت ہی نائس ٹرینڈ فرینڈ ہے اور ثواب کاکام بھی ہے۔ اس عمل سے بچے بہت خوش ہورہے تھے ۔ شادی بیاہوں میں اس طرح کی قربانی دینا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے ایسے موقعو ں پر تو ہم وقتی طور پر ایک دوسرے سے طوطے کی طرح آنکھیں پھیر لیتے ہیں میری قارئین سے گزارش ہے کہ براہ مہربانی ولیموں کے موقعوں پر وہ بھی سبز چائے کے حمام پر کسی ویٹر کی ڈیوٹی لگا دیا کریں۔ آخرمیں رائوتصوراوربہاول پورسے آئے ہوئے پیارے کزن رائو یحییٰ پنوار بھائی اور دوسرے دوستوں نے مل کرکھانا کھا یا کھانا کھاتے ہوئے رائوتصوراوررائو یحییٰ بھائی نے ایک ہی پلیٹ میں تمام لوازمات کو حسب تمنا باری باری کھایا اورآخرمیں پلیٹ کو شیشے کی طرح چمکا دیا۔ رائو تصورنے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا عامربھائی پلیٹ صاف کرنے کی یہ عادت میں نے رائو یحییٰ بھائی سے سیکھی ہے۔ مجھے بات سن کرحیرت کا جھٹکا لگا۔ میرا خیال تھا کہ شاید پلیٹ کی صفائی ستھرائی کا طریقہ انہوں نے ناروے سے اپنایا ہوگا۔ رائو یحییٰ بہاول پورکے جیّد عالم دِین مولانا عبداللطیف ؒکے بڑے صاحب زادے ہیں ۔یحییٰ بھائی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا عامربھیا ہم لوگ کھانے پینے میں احتیاط نہیں برتتے۔ بس کھاتے کم اورضائع زیادہ کرتے ہیں۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کھائو پیئو لیکن حد سے نہ بڑھو۔لیکن ہم کھانے میں حتیٰ کہ لڑائی جھگڑوںمیں بھی ہر حد کو پار کر جاتے ہیں۔ عامربھیا کھانے کے آداب کے بارے میں بتا رہے تھے رَسولؐ اللہ کا فرمان عالی شان ہے ۔ کھانے کے بعد اُنگلیوںکوچاٹ لیا کرو،برتن کو صاف کرلیاکر و،اور فرمایاکہ:تم کو معلوم نہیں کہ کھانے کے کس ذرّے اور کس حصے میں کھانے کا خاص اَثر ہے۔ پھر مزیدایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوکہا کہ آپ ؐ کا فرمان ہے کہ جو شخص جس برتن میں کھائے پھر اسے اچھی طرح سے صاف کر لے تو اس کے لیے برتن استغفار کرتا ہے۔ اسی
دوران پروفیسر کاشف خضری صاحب کا فون آ گیا عامربھائی آج لاہور میں جنرل صاحب کے بیٹے کا بھی ولیمہ ہے، ملک عبدالرزاق صاحب بھی میرے ہمراہ ہیں، کیا پروگرام ہے؟ اگرولیمے سے فارغ ہوگئے ہوتوآجائو ورنہ ہم آپ کا مزید ویٹ کرلیتے ہیں میں نے کزنز سے اجازت لی اور پروفیسرکاشف خضری صاحب کے پاس پہنچ گیا اورہم تینوں دوست لاہورکی جانب روانہ ہوگئے۔ وہاں ولیمے کی تقریب میں ہم تینوں دوستوں نے الگ الگ پلیٹ کی بجائے ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھایا اورپلیٹ کو شیشے کی طرح چمکا دیا۔دراصل پروفسیرکاشف خضری صاحب درویش صفت انسان ہیں اورہم مشترکہ دوست اکثرایک ہی پلیٹ میں کھانا کھاتے ہیں اور ملک عبدالرزاق کھانے پینے کے موقع پر اکثر ایک شعرگنگناتے ہیں کہ … اتنا ہی لے تھالی میں …بے کارنہ جائے نالی میں ۔‘‘ اللہ کریم ہم سب کو نبی کریمؐ کے اسوئہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔


ای پیپر