لولی لنگڑی جمہوریت اور قومی مفاد
04 مارچ 2018 (18:43)

ارض وطن میں عام انتخابات تقریباً چار ماہ کی دوری پر ہیں کہا یہ جا رہا ہے کہ باقاعدہ انتخابی عمل اس وقت شروع ہو گا جب نگران حکومت کا قیام عمل میں آجائے گا حلقہ بندیاں مکمل ہو جائیں گی اسی طرح الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول کا اعلان کردے گا۔ ابھی یہ مرحلے طے ہونا باقی ہیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ انتخابی مہم زورو شور سے شروع ہو چکی ہے۔ سیاسی جماعتیں ماضی کی طرح مخالفین کی کردار کشی اور الزام تراشی کی گندی سیاست (جن کا مہذب اور ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ) میں بری طرح پھنسی ہوئی نظر آ رہی ہیں ۔ جمہوری ملکوں میں قومی ایشوزاور مسائل پر سیاسی جماعتوں کا الگ الگ موقف ضرور ہوتا ہے جسے سیاسی جماعتیں مختلف اوقات میںاپنی عوام کے سامنے پیش بھی کرتی رہتی ہیں لیکن جب انتخابات کا وقت آتا ہے تو باقاعدہ طور پر منشور کا اعلان کیا جاتا ہے بعد ازاںاس منشورپر اقتدار ملنے کی صورت میں عمل کرنا پڑتا ہے جبکہ انتخابات میں عوام اس پارٹی کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں جس کے منشور سے وہ متفق ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے
ہمارے ہاں اکہتر سالوں سے اس طرح کی کوئی روایت قائم نہیں ہو سکی ہمارے ہاں سب سیاسی جماعتوں کو جائز اور ناجائز طریقے سے اقتدار حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے شاید اسی لئے حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں ۔اندریں حالات بھارت نے پاکستان کیخلاف غیر اعلانیہ جنگ چھیڑ رکھی ہے امریکہ بہادر ہمیں دہشت گرد ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے اور افغانستان کی طرف سے ارض وطن کی پاک مٹی پر مسلسل حملے کیئے جا رہے ہیں ان بیرونی خطرات کے باوجود سیاسی پارٹیاں اندرونی استحکام کی حفاظت کی بجائے آپس میں دست و گریباں ہیں جس کا مقصد صرف آنے والے انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانا ہے عملی طور پر اس وقت ملک کی تینوں بڑی پارٹیاں کہیں نہ کہیںاقتدار میں ہیں۔ وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے تو سندھ میں پیپلزپارٹی اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اقتدار میں ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو عام انتخابات میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگنے چاہئیںکہ انہوں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے کیا وہ پورے بھی کئے یا دوبارہ ووٹ مانگنے آن پہنچے ہیں۔ مسلم لیگ ن فخر سے اعلان کر تی دکھائی دے رہی ہے کہ اس نے معیشت بحال ، دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ، جبکہ رواں مالی سال میں اڑھائی کھرب روپے کی لاگت سے مزید 257ترقیاتی منصوبے مکمل کر نے کا اعلان جن میں کچھی کینال، چشمہ نیو کلیر پاور پلانٹ، نیلم جہلم ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ بھی شامل ہیں کہ کریڈٹ
لے رہی ہے۔باوجود اس کے پیپلزپارٹی سندھ اور تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں جہاں اپنے کارہائے نمایاں انجام دینے کے دعوے کر رہی ہیں وہیں ان کی یہ کوشش بھی ہے کہ ن لیگ کی قیادت کو مقدمات میں الجھا کر سیاست بدر کر دیا جائے اوریہ بظاہر اس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔مسلم لیگ (ن) نے اپنے تاحیات قائد میاں نوازشریف کی وزرات عظمیٰ اور جماعت کی صدارت سے نااہلی سمیت دیگرتمام تر مشکلات کے باوجود پنجاب سے نہال ہاشمی کی خالی ہونیوالی سینٹ کی نشست پر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔اس پر کامیاب سینیٹرڈاکٹر اسداشرف کو انکی بے مثال کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ’’الحمدللہ مسلم لیگ (ن) کے ہر ممبر نے اپنی پارٹی کو ووٹ دیا‘ کیا ملا آپ کو جماعت کا نام اور نشان چھین کر‘ ۔ مسلم لیک ن جو حکمران جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت اور پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب میں بھی حکمران ہے اسکے ٹکٹ ہولڈرز امیدوار سینٹ کے ان الیکشنز میں مجبورا پہلی مرتبہ آزاد حیثیت میں حصہ لے رہے تھے توقعات کے مطابق اسلام آباد کی دونوں اور پنجاب سے گیارہ نشستیں ن لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے جیت لیں ۔میں سمجھتا ہوں اب بہتر یہی ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرکے انہیں قیادت سے محروم کرنے کی سازشیں کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ملک کے اداروں کو چلنے دیا جائے۔میاں نوازشریف کے حوالے سے آج قومی سیاست میں ایسی صورت حال استوار ہوتی دکھائی دینے لگی ہے کہ انہیں جتنا دیوار کے ساتھ لگانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں یا کی جارہی ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ بڑھ چڑھکر اپنے خلاف سازشوں میں مصروف حلقوں سمیت دیگر عناصر کو چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ سسٹم میں موجود خرابیوں کو دور کرنا از حد ضروری ہوچکا لیکن اس کیلئے ہمیں آئین و قانون کی عملداری کو یقینی بنانا چاہیے۔ کسی ماورائے آئین اقدام سے نظام کی درستگی کی بجائے اس میں بڑی خرابی پیدا ہونے کا تاثر بہر حال موجود ہے۔ سینٹ کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار آزاد قرار پانے کے باوجود منتخب ہو چکے ہیں انہیں اپنی پارٹی کے ساتھ وابستگی کی بنیاد پر ملنے والے مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہئے۔میں سمجھتا ہوںبہر حال انتخابی ضابطہ اخلاق سمیت دیگر معاملات پر غور کے لئے الیکشن کمیشن نے 6 ما رچ کو سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کر رکھا ہے کیا ہی اچھا ہو کہ جملہ سیاسی جماعتیں اس نادر موقع سے فائدہ اٹھا کر انتخابی مہم کے لئے ایک سنجیدہ ضابطہ اخلاق پر عملی اور قلبی اتفاق کریں بہت ہوچکا اب سیاسی ٹولوں کو بھی موجودہ صورت حال میں مثبت کردار ادا کرنا ہوگااور سیاسی محاذ وں پر غیر سیاسی لڑائیاں لڑنے کی بجائے عوام کے سامنے اپنا انتخابی منشور لے کر جانا چاہئے اور انتہائی شفافیت کے ساتھ فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہئے کہ وہ کس جماعت کو اپنی نمائندگی کا اختیار دیتے ہیںآج کے حالات اور ہماری لولی لنگڑی جمہوریت اور قومی مفادکا تقاضا ہے کہ ماضی کا باب بند کر کے مستقبل میں دانشمندی اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارض وطن کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔


ای پیپر