لہو لہو شام
04 مارچ 2018 (18:40)

شام کیا ہے ایک کیفیت کا نام ہے۔ ایک شام تو وہ ہوتی ہے جو محبوب کے ساتھ منائی جاتی ہے اور آج کل اسے ڈیٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صبح دوپہر شام رات بلکہ آج کل فجر کے وقت بھی منا لی جاتی ہے۔ یہ ذرا مختلف قسم کی ہوتی ہے اور تمام پاکستانیوں کو جس کی جیب میں پان یا بوتل کے پیسے ہیں کو تجربہ ہے مگر آج ہم جس شام کی بات کر رہے ہیں یہ ذرا مختلف قسم کی شام ہے جوشاعروں اور دانشوروں کے ساتھ منائی جاتی ہے۔
اس شام کے لئے جو سب سے بڑی شرط ہے کہ ایک عدد شاعر یا دانشور ہونا چا ہیے ، یہ ٹو ان ون بھی ہو سکتا ہے مگر شاعر کے لئے یہ شرط ہرگز نہیں کہ شاعر کوئی بہت پائے کا ہو۔ بس شاعر ہونا چاہیے اور چہرے پر سنجیدگی ہو۔ اگر نہیں ہے تو کم ازکم سٹیج پر بیٹھنے تک کیونکہ جب تک اڑے بال حال و بے حال شخص نظر نہ آئے اسے شاعر نہیں مانتے اور یہ بھی ضروری ہے کہ حلیہ بھی شاعرانہ ہو کم از کم شیو بڑی ہو۔ ہاں اگر آپ مال شال والے ہیں تو سب چلے گا کیونکہ فنکشن کا خرچہ آپ کے پلے سے ہی جانا ہے نا۔
اب دوسرا کام جگہ کا بندوبست اس میں پھر بچپن کی ڈیٹ کا تصور آجاتا ہے۔ جگہ اس حد تک خفیہ ہو کل اگر کوئی جانا چاہے تو اوبروالا کم ازکم ہزار روپے کا تو بل بنائے ہی۔ ہال میں نا کافی بتیان تھوڑی کرسیاں اورشاعری سے ناواقف لوگوں کی زیادہ تعداد ہونی ضروری ہے اس سے ایک تو بھرے ہوئے ہال کا تصور ابھرتا ہے دوسرے داد بھی۔ شاعری کی رموز نہ سمجھنے والے لوگوں سے ملتی ہے جس کو شاعری کی الف بے پتا ہے وہ داد تھوڑی دے گا۔
اور ویسے بھی چائے سموسوں کی لالچ میں کافی ارد گرد کے لوگ بھی مشاعرہ سننے آ جاتے ہیں اور شام کی چائے کو رات کے کھانے سے بدل لیتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان میں مسئلہ صرف کھانے کا تو ہے۔ کھانا کھاو رشوت کھاؤ عزت کھاؤ اور آخر میں ملک کھاؤ للہ میں کہاں چلی گئی۔
اور آخری بات ہال کو صرف تقریب سے چند منٹ پہلے کھولنے کی اجازت ہے پہلے کھول کر ناقابل اعتبار شاعروں سے چوریاں ضرور کروانی ہیں۔ ویسے بھی شام کے وقت جھاڑ پونچھ کرنے والا کونسا بیٹھا ہوگا اور کرسیاں آپے ہی شاعرات کے تین گز کے دوپٹوں سے صاف ہو جائیں گی۔ ایک خاص بات اور اس ٹولے میں شاعر اور شاعرات دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک اپ ڈیٹ اور دوسرے اپ ٹو ڈیٹ۔ اب یہ صاحب شام کی تقدیر پر منحصر ہے کہ کون کس کے حصے میں آتا ہے۔ تین گز والے کچھ اپنے اپنے اور ایک گز والے سپنے سپنے لگتے ہیں۔ اب آتے ہیں صاحب شام پر، بولنے والے چند لکھنے والوں کو آمادہ کیا جاتا ہے جو اکثر تو اپناغصہ ہی نکالتے ہیں اور اگر اپ کے دوست احباب ہوئے تو آپ کی وہ وہ تعاریف کریں گے کہ اپ خود حیران ہو جائیں گے کہ آپ اتنے عالم و فاضل بھی ہو سکتے اور اس سے بڑھ کرآپ جیسا شاعر یا تو غالب تھا یا آپ ہیں۔ ان تقریروں کے بعد اچھا خاصا بندا کافی عرصہ تک خود کو بابائے اردو قسم کی چیز سمجھتا رہتا ہے۔ اب آئیے تقریب کے انقاد کی تنظیموں کی طرف، ایک دن اچانک اپ کو بیٹھے بیٹھے ادراک ہوتا ہے کہ آپ اچانک ایک بہت زیادہ بڑے شاعر، محقق اور ادیب ہو گئے ہیں اور آپ کو بہت سے لوگ ملنا چاہتے ہیں۔ آپ کے اعزازمیں ایک تقریب ہونا چاہئے۔ اب آتے ہیں آپ کی طرف۔ اگر تو آپ کی جیب میں دس بیس ہزار ہیں توآپ ایک فٹ ککڑ ہیں دوسری بات اگر آپ بیرون ملک رہتے ہیں تو پھر بھی آپ کے پاس دانہ ڈالنے کے لئے نوٹ تو ہونگے ہی، تو ویسے بھی شوق کا کوئی مول نہیں …دوستوں کے درمیان چند ہزار کیا چیز ہیں۔ اب تنظیم والے باسی پھولوں سے ہال سجائیں گے، شاعر بلائیں گے اور آپ کی تعریف میں محفل سجائیں گے۔ ہاں اگر آپ نے تاجپوشی بھی کروانی ہے تو ایک اپنا تاج ہمراہ لے آئیے تاج پوشی بھی ہو جائے گی بھلے بچوں والا تاج پہن کر آپ کارٹون ہی لگیں۔ تو یہ ہے شاعر کی۔ شام اکثر شام کے بعد رات بھی ہے کہ پھر ایک عدد مشاعرہ بھی ہوتا ہے کہ اگر بوریت میں کوئی کثر رہ گئی ہے تو میرے جیسے شاعروں کی بے خیال اور بے روح شاعری سے بھی لطف اندوز ہو جائیے۔ اب اتنی دور سے شاعر صرف چائے پینے تو نہیں آئے نا۔ جب تک چائے کا دور چلتا ہے بیبیوں کے گھر جانے کا وقت ہو جاتا ہے اور مرد حضرات بے رنگ تقریب سے ویسے ہی بھاگنے کی سوچ رہے ہوتے ہیں کیونکہ اکثر خواتین کو مغرب کے بعد اکیلے جانے سے بھی ڈر لگتا ہے اور کافی سموسے بچ جاتے ہیں جو منتظم کے گھر دو دن کھائے جاتے رہتے ہیں ۔
میری منتظموں سے گزارش ہے ایک تو تقریب اس شاعر کی رکھیں جس کو کوئی جانتا بھی ہواور لوگ خوش دلی سے تقریب میں آئیں اوراس بیچارے پر خرچہ پانی ڈالنے کے بجائے اس شام کا اعزازیہ ہی دے دیں۔ دوسرا اگر کسی کو بلائیں تو صرف اس کا کلام ہی سنیں اطمنان سے اور اس کی شاعری کے سحر میں ڈوب کر نکلیں۔ تیسرے وقت پر تقریب شروع کریں اور وقت پر ختم کریں۔ آج کل کے مصروف دور میں چار پانچ گھنٹے انتظار بھی ایک اذیت ہے اور سب سے آخری بات کہ آپ کی تنظیم کے کوئی خفیہ مفاد نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ادب کے خدمت ہے تو آپ صرف ادب سے جڑے رہیں نا کہ این جی او کی طرز پر تصویروں اور ریکارڈنگ سے کوئی اندر کھاتے فائدہ اٹھائیں یہ لکھاری لوگ زیادہ تر معصوم لوگ ہیں۔ پلیز ان سے ذاتی مفاد نہ اٹھائیے۔خدا حامی و ناصر ہو ۔


ای پیپر