گدھا ،اونٹ اور سیاستدان…؟؟؟
04 مارچ 2018 (18:38) 2018-03-04

قارئین کو یاد ہوگا کہ نوازشریف کی سیاسی تربیت فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق کے زیر سایہ ہوئی، ضیاء دور میں وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے، وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء میں پنجاب کی صوبائی کابینہ میں بطور وزیرخزانہ شامل ہو گئے پھر ایسی ’’گڈی ‘‘چڑھی کہ 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات میں نواز شریف قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں پہ کامیاب ہوگئے، 9 اپریل 1985ء کو پنجاب کے وزیراعلٰی کی حیثیت سے حلف اٹھایا، 31 مئی 1988ء کو جنر ل ضیا ء الحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کر دیا تاہم قریبی مراسم کی وجہ سے نواز شریف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا،
1988ء میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے جنرل جیلانی کا دست شفقت کام کر گیا اور اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیاگیا، نواز شریف 1988ء کے انتخابات میںدوبارہ وزیراعلٰی پنجاب منتخِب ہوئے پھر ترقی ان کے پیچھے پیچھے اور وہ آگے آگے تھے
2013 ء کے الیکشن میں تیسری باروزیر اعظم کا ’’ہما ‘‘نواز شریف کے سربیٹھا اور تقریباً چار سال وزیر اعظم رہے نااہلی کی صورت میں تاحال زبان کے نشتر حساس اداروں پر چلا رہے ہیں،موصوف میں ہوتا تو یہ
ہوتا میں ہوتا تو یہ ہوتا کی گردان کیے ہوئے ہیں حالانکہ صرف چہرہ بدلا ہے حکومت تو ن لیگ کی ہی ہے کہ جو ’’بین‘‘ کیے جا رہے ہیں، سابق وزیراعظم نوازشریف نے تازہ فرمان میں کہا ہے کہ انصاف کی کرسی پرموجود لوگوں کی اللہ کے حضور سب سے زیادہ پوچھ ہوگی، ووٹ کا تقدس ہونا چاہیے، مینڈیٹ کی توہین نہیں ہونی چاہیے، ووٹ کا احترام ہوگا توملک ترقی کرے گا، ہمارا بیانیہ لوگوں کے دلوں میں گھرکرچکا ، ہمیں ووٹ کا تقدس بحال کرنا ہے اوریہ پیغام ہمیں ملک بھرمیں پھیلانا ہے، ایک فیصلہ انسان کا اورایک اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے،جولوگ انصاف کی کرسی پربیٹھتے ہیں اللہ کے سامنے سب سے زیادہ جواب دہ انہیں ہونا ہے،
بات تو سچ ہے مگر جب بندے پرکرسی کا نشہ چڑھا ہوتا ہے تووہ عقل کل بن جاتا ہے اوراسی غرور میں وہ کئی ’’چن‘‘چڑھاتا ہے،80 کی دہائی میں وارد ہونے والے نواز شریف کو کیا پتا تھاکہ ایک روز وہ ملک کی باگ ڈور سنبھالے گااور تین بار اس ملک کے سیاہ و سفید کامالک بن کر عوام کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔یہ سچ ہے کہ نبی پیغمبر بھی عہدحکمرانی کو عوام کی امانت سمجھتے تھے اور انہوں نے اس اقتدار کی امانت میں کبھی خیانت نہ کی ہمیشہ عوام کو انصاف دیا ۔اب روٹی کے نام پر گولی، کپڑاکے نام پرکفن اور مکان کے نام پر قبر دی جا رہی ہے۔ ہم اگر اقتدارکو عوام کی امانت کے طورپر لیں توواقعی سب سے زیادہ احتساب حاکم وقت کا ہو گا ،نواز شریف کے پورے ٹبر کو اقتدار سے ہاتھ دھونے کے بعد ہرجگہ کیڑے ہی کیڑے نظر آ رہے ہیں، موجودہ دور کا حاکم خود کو ارفع واعلیٰ سمجھتاہے پولیس کے ذریعے بندے مرواتا ہے اور پھر قاتل کو بہادر بچہ بھی کہتا ہے۔ زمینوں پر قبضے کروائے جاتے ہیں، بجلی گیس کے نام پر لوٹ مار کی جاتی ہے، قرضے لے کر
ہڑپ کیے جاتے ہیں، جب کیس بنے تو بیمار ہو جاتے ہیں،مخالفین پر جھوٹے مقدمات بنوائے جاتے ہیں،مثالیں صحابہ کرامؓ اور سرکار مدینہؐ کی دیتے ہیں کام چور اچکوں والے کرتے ہیں۔
حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں کے بے گناہ لوگ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال یہاں بھی ہمارا منہ چڑا رہی ہے ،قانون شکنی عام،انصاف نام کی کوئی چیز نہیں، پیسے والے شرفاء اور غریب کی کوئی عزت نہیں،عزتوں کے لٹیرے ملک پر براجمان ،عوام کا سیاستدانوں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے،ایک مثل ہے کہ نہ ہی گدھے کو معلوم ہے کہ اس نے کس کا بوجھ لاد رکھا ہے اور نہ ہی اونٹ کو معلوم ہے کہ گدھا اسے کس سمت لے جا رہا ہے،یہی حال ہماری قوم پر مسلط حکمرانوں،فرقہ پرستوں کا ہے کہ انہیں معلوم ہی نہیں جس امت کے وہ رہنما بنے ہوئے ہیں اس کی قدروقیمت کیا ہے اور نہ ہی ہم لوگوں کو شعور اور سمجھ بوجھ ہے کہ یہ گدھے نما سیاسی اور روحانی رہنما ہمیںکس طرف لے جا رہے ہیں،اللہ کا انصاف بڑا ڈاھڈاہے۔ دیکھیں انصاف دینے والے آج خود در در سے انصاف مانگ رہے ہیں ’’ڈلہے بیروں کا ابھی کچھ نہیں بگڑا‘‘کاش ہم سمجھ جائیں؟؟؟


ای پیپر