ٹڈی دل کی یلغا ر کو خدا را سنجیدہ لیں
04 جون 2020 (21:24) 2020-06-04

وطنِ عزیز میں جہا ں دیگر قد رتی آ فا ت فصلوں اور با غا ت کو وقتاْفو قتاْنقصا ن پہنچا تی رہتی ہیں، وہیں ایک بڑی آ فت ٹڈی دل کی یلغا ر ہے۔ بد قسمتی سے اس وقت ملک کے زر عی رقبے کا بڑا حصہ ٹڈی دل کے غو لو ں کی ز د میں ہے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک کے کل 154 اضلاع میں سے 61 میں اس وقت ٹڈی دَل کے نشانے پر ہیں۔ دوسری جانب یہ بتایا جارہا ہے کہ افریقہ کی طرف سے ٹڈیوں کے مزید غول پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ان کے امسال جون، جولائی تک یہاں پہنچ جانے کا اندیشہ ہے۔ اس طرح پہلے سے موجود ٹڈی دَل کے ساتھ جب یہ نئے غول بھی مل جائیں گے تو زرعی پیداوار اور سبزے کے لیے غیرمعمولی تباہی برپا کرسکتے ہیں۔ خوراک کے تحفظ، مویشیوں کی بقا اور سماج کے کمزور طبقات کے لیے یہ صورتحال تباہ کن ہوسکتی ہے۔ا قوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے رواں ماہ کے شروع میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ جاری سال میں پاکستان میں ٹڈی دَل کی وجہ سے ربیع اور خریف کی فصلوںکا مجموعی نقصان چار ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں ربیع کی فصلوں کے نقصان کا اندازہ مجموعی مالیت کے 15 فیصد کے برابر یا 205 ارب روپے کے قریب جبکہ خریف کی فصلوں کے نقصان کا تخمینہ 25 فیصد یا 464 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ کیا یہ نقصان اسی تخمینے تک محدود رہے گا، کم ہوگا یا بڑھ جائے گا؟ اس کا انحصار ٹڈیوں کی یلغار، رخ اور ہمارے اداروں کی دفاعی حکمت عملی پر ہوگا۔ ٹڈی دَل کا دوسرے سال میں یہ دوسرا حملہ ہے۔ گزشتہ برس شروع ہونے والا حملہ رواں سال کے آغاز تک جاری رہا اور اس دوران ہماری حکومت کے متعلقہ ادارے اس خطرے کے ساتھ پوری طرح نمٹنے میں ناکام رہے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ حملے کئی برس کے وقفے کے بعد ہوئے تھے اور اس دوران ہمارے پلانٹ پروٹیکشن ادارے کی اس حوالے سے تیاری تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی۔ اس ایک برس کے اور ٹڈی دَل کی دوسری یلغار کے باوجود تیاری میں فی الحال کوئی فرق واضح نہیں ہوا۔ مگر اس برس پہلے سے شدید حملے کا اندیشہ ضرور ہے۔ ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ بادی النظر میں ایک ہی امکان واضح دکھائی دے رہا ہے اور وہ وسیع رقبے پر زرعی پیداوار اور سبزے کی تباہی اور غربت و بد حالی میں اضافے کا ہے۔

ہمارے ہاں یہ وتیرہ بن چکا ہے کہ جب تک حالات گھمبیر صورت اختیار نہ کریں اور جب تک پانی گردن تک نہ پہنچ جائے اور سانس لینے میں دشواری نہ پیش آنے لگے، ہمارے ادارے ٹس سے مس نہیں ہوتے اور جب

پانی سر سے گزرنے لگتا ہے تو ہنگامی اقدامات کے لیے دوڑ لگادی جاتی ہے۔ پہلے ٹڈی دَل کے حوالے سے یہی طرزِ عمل اختیار کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ٹڈی دَل ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ اس طرح کورونا وائرس کی وجہ سے آنے والی کساد بازاری اور معاشی مواقع کے تنزل کے ساتھ ٹڈی دَل کے حملوں کے معاشی اثرات مزید گھمبیر صورت اختیار کر جائیں گے۔ فوڈ سیکورٹی کا مسئلہ، جس کی جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زاعت نے بھی اشارہ کیا ہے، ان حالات میں ناقابلِ برداشت منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ ٹڈی دَل کی یلغار جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کے مقابلے میں ہماری حکومت کی انسداد حکمت عملی غیر مؤثر اور محدود دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کے اپنے اداروں کے مطابق ملک کا نصف کے قریب رقبہ ٹڈی دَل کے نشانے پر ہے، مگر انسدادی کارروائیاں چند علاقوں تک محدود ہیں جبکہ زیادہ تر علاقوں میں غریب کاشتکار اپنی مدد آپ کے تحت ٹڈیوں کو بھگانے کے جتن کر رہے ہیں۔ یہ طر یقے انتہا ئی دقیا نو سی ہیں۔جیسے ڈھولچیو ںکے ذریعے ڈھول بجو ا کر اس کے شو ر سے ٹڈی دل کو منتشر کرنا۔ اس سے ذہن میں ایک معصو م سا سوا ل یہ ابھرتا ہے کہ اگر شور بر پا کر کے ٹڈی دل کو یو ں منتشر کیا جا سکتا ہے تو محکمہ زر اعت اس تیکنیک سے فا ئد ہ اْٹھا نے کے لیئے کیو ں سا ئنس کی مد د سے کو ئی جد ید طر یقہ استعما ل نہیں کر تا؟ یقین کیا جا سکتا ہے کہ اس کے لیئے کسی لمبے چو ڑے بجٹ کی ضر ورت نہیں پڑے گی۔ مگر یہا ں تو وہ جو کہتے ہیں کہ ’اگلے وقتو ں کے ہیں یہ لو گ انہیں کچھ نہ کہو ‘ کا سا عالم طا ری ہے۔ ایسے میں عقلِ سلیم یہ سو چنے پہ مجبو ر ہے کہ آ خر اس آ فت کا ازالہ کیونکر ممکن ہے؟ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق پاکستان نے گزشتہ برس آنے والی ٹڈیوں کا صفایا کرنے کے لیے جو سست اور ناکام حکمت عملی اپنائی اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں مقامی سطح پر بھی ٹڈیوں کی افزائش کی رفتار کافی تیز ہے اور باہر سے نئے جھنڈ بھی پاکستان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے رواں سال جنوری میں ٹڈی دَل کے انسداد کے لیے ایکشن پلان تشکیل دیا گیا اور فروری میں وفاقی حکومت نے ٹڈی دَل کا صفایا کرنے کے لیے ایمرجنسی کا اعلان بھی کردیا تھا، مگر اس عرصے میں اس آفت سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے عملی اقدامات سے واضح ہوجاتا ہے کہ حکومت اس مسئلے کے اثرات کا اب بھی درست احاطہ نہیں کر رہی جس کا خمیازہ بھی ہمیں ہی بھگتنا پڑے گا۔ ہمارے ہاں یہ رواج بن چکا ہے کہ وقت پر حرکت نہیں کرنی، اور بے وقت نعرے بازی کرتے رہنا ہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے جب سندھ کے وزرا ٹڈی دَل کا شور مچا رہے تھے تو بعض اعلیٰ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہاں تک کہا گیا کہ ٹڈی دَل کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے، مگر خطرہ نہ پہلے کسی سے پوچھ کر آیا تھا، نہ اب پوچھ کر آئے گا۔ ہم وقت طور پر حقائق سے آنکھیں چرا سکتے ہیں مگر اس سے زمینی حقائق بدل نہیں جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت کے مطابق 40 لاکھ ٹڈیوں کا ایک جھنڈ 35 ہزار افراد کی خوراک تباہ کر سکتا ہے۔ ہماری حکومت کو یہ تخمینے اور اعداد و شمار خطرے کی گھنٹی کے طور پر لینے چاہئیں۔ یہ واضح ہے کہ اب بھی اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے دن ہمارے مسائل میں اضافے کی خبر دے رہے ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹڈی دَل کے خطرے کا منظم انداز میں تخمینہ لگایا جائے اور ٹڈیوں کے ان لشکروں کا بھی جو افریقہ سے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں اور پھر ان کے سدِ باب کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ کوششیں کی جائیں ۔ اس حوالے سے کوششیں کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ محض موجود ٹڈیوں کا خاتمہ ہی کافی نہ ہوگا۔ ٹڈی دَلوں کی اس وقت تک مکمل بیخ کنی ممکن نہیں جب تک ان کے دیئے گئے انڈوں کو بھی تلف نہیں کیا جائے گا۔ اب بھی وقت ہے کہ جامع پالیسی وضع کی جائے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے، ورنہ بہت زیادہ دیر ہوجائے گی۔


ای پیپر