کیا چین امریکہ کی جگہ لینے جا رہا ہے؟
04 جون 2020 (21:24) 2020-06-04

عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا سے نبرد آزما ہونے کے دوران چین کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ درست پالیسی وباء کا مقابلہ کرنے اور اس کے اثرات کم کرنے میں اہم کردار دا کر سکتی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کا یہ بھی ماننا ہے کہ چین میں پیداواری سرگرمیوں کی بحالی بتدریج جاری ہے اور معیشت معمول کی طرف لوٹ رہی ہے جو عالمی اقتصادی مشکلات میں کمی کے لئے مددگار ثابت ہو گی۔ اس میں کو ئی دو ارئے نہیں ہے کہ کورونا کا پھیلاؤ عالمی معیشت پر گہرے اور سنگین اثرات مرتب کر رہا ہے، ایسے میں عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے چین کی پالیسی اور تجربات کو عمدہ کوشش قرار دیا جانا دنیا کے لئے صرف خبر نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں امکانی تبدیلی کا بھی ایک اشارہ ہے۔ جہاں ایک طرف کورونا پر قابو پانے کے لئے دنیا بھر میں اقتصادی سرگرمیوں کو سست کرنا پڑ رہا ہے، وہیں اگر عالمی مالیاتی ادارہ کی رپورٹ یہ کہہ رہی ہے کہ چین میں اقتصادیات کی گاڑی پٹری پر لوٹ رہی ہے تو ماہرین کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا اقتصادیات کے معاملے میں نئی کروٹ لے رہی ہے۔ جس کا برملہ اظہار یورپی یونین کے وزیرِ خارجہ جوزف بورویل نے گزشتہ ہفتے جرمنی کے سفارتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے اس انداز میں کیا کہ شواہد عالمی طاقت کے طور پر چین کے امریکہ کی جگہ لینے کے کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کو چین کے حوالے سے مضبوط پالیسی بنانا ہو گی اور اپنے مفادات و اقدار کو سامنے رکھنا اور کسی کا آلۂ کار بننے سے بچنا ہو گا۔ جوزف بورویل کے اس بیان کو کورونا وائرس سے جنم لینے والے مسائل اور عالمی سماجی، معاشی اور سیاسی امور پر اس کے اثرات کے منظر نامے میں سوچ میں اس تبدیلی کا اشارہ کہا جا سکتا ہے جو عالمی ادارۂ صحت کے اجلاس میں امریکی الزامات پر بعض یورپی ممالک کے تحفظات کی صورت میں سامنے آئی۔ گزشتہ کچھ سالوں سے امریکہ اور چین میں ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیکس لگانے اور الزامات لگانے سے سرد جنگ سی صورتحال بن چکی ہے۔ لگ تو یہی رہا ہے کہ امریکہ نے ہی بھارت کو شہ دی ہے کہ وہ لداخ میں سڑک کی تعمیر شروع کرے وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ چین کا کیا ردِ عمل آتا ہے، جو کہ بظاہر تو بہت سخت آیا ہے اور بھارت کو ایک بار پھر سے بہت سبکی اٹھانی پڑی ہے۔ ادھر نیپال جو بھارت کی شر انگیزیوں سے حد درجہ پریشان تھا اس نے بھی سرحدی مسائل اٹھا لئے۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا طاقت کا توازن تبدیل ہونے والا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ چین پر آئندہ ہفتے سخت پابندیاں عائد کریں گے، لیکن کیا کیا امریکی پابندیوں کی کوئی حیثیت ہو گی چائنہ کا ردِ عمل اس سے بھی سخت آئے گا۔

امریکہ نے ہمیشہ اپنی سپر پاور ہونے کی حیثیت کا غلط استعمال کیا ہے، بیرونِ ملک اپنی فوجی قوت کا استعمال 1890ء میں شروع کیا اور ان125سالوں میں کوئی سال بھی ایسا نہیں جس میں امریکی فوج کسی نہ کسی غیر ملک میں مصروفِ جنگ نہ ہو یا وہاں امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے موجود نہ ہو اس وقت امریکی افواج دنیا کے تمام برِ اعظموں میں موجود ہیں۔ 1890ء میں امریکی افواج کا ارجنٹائن میں حکومت کے حق میں شروع ہونے والا 125سالہ سفر ہنوذ جاری و ساری ہے۔اس سوا صدی پر محیط بیرونِ ممالک میں مداخلت کے دوران ہیٹی، ہوائی، نکارا گوا، چین، کوریا، پانامہ، کولمبیا، فلپائن، اسپین، کیوبا،ہونڈوراس، ڈومی نیکن ریپبلک، میکسیکو، جرمنی، یوگوسلاویہ، سربیا، ایران، لبنان، ویتنام، کیوبا، انڈونیشیا، گوئٹے مالا، کموڈیا، عمان، انگولا، لیبیا، ایل سلوا ڈور، گریناڈا، کویت، صومالیہ، مونٹے نیگرو، بوسنیا، کروشیا، کانگو، سوڈان، افغانستان، پاکستان، روانڈا حتیٰ کہ دنیا میں کون سا ملک ہے جہاں امریکہ نے پچھلے 125سالوں میں مداخلت نہیں کی بلکہ اس عرصہ میں کئی ملک ایسے ہیں جہاں امریکہ نے ایک سے زیادہ مرتبہ مداخلت کی۔ امریکہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ڈھونگ رچا کر کرۂ ارض پرامن قائم کرنے کی بات کرتا ہے یہ امریکی امن اقوامِ عالم کے وسائل چھین کر انہیں جبراً خاموش کرنے کی کیفیت ہے۔ امریکی امن، عالمی غلبہ، نیو ورلڈ آرڈر اور گلوبلائزیشن جیسی تمام اصطلاحیں صرف اور صرف ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔

آج امریکہ شدید اندرونی اور خارجی مسائل سے دوچار ہے امریکی معاشرے میں امیر اور غریب کی بڑھتی ہوئی تفریق، غرباء کی خستہ حالی جنہیں بنیادی طبعی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ امریکی کارپوریشنوں کی لوٹ مار اور بے لگام منافع خوری کے ظالمانہ اور مجرمانہ طرزِ عمل نے انسانیت کشی کے کلچر کو جنم دیا اس غیر منصفانہ صورت حال نے امریکی معاشرے میں دراڑ یں ڈال دی ہیں۔ حالیہ دنوں امریکہ میں پولیس کے ذریعے ایک امریکی سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ جس کے خلاف پورے امریکہ میں زبردست احتجاج کیا جا رہا ہے، ورجینا، شکاگو اور واشنگٹن جل رہا ہے کہیں پولیس پر حملے ہو رہے ہیںتو کہیں لوٹ مار مچی ہوئی ہے۔ ورجینا میں کرفیو لگا ہوا ہے، واشنگٹن میں فوج اتار دی گئی ہے، شکا گو جل رہا ہے الغرض جس بات پر امریکہ پوری دنیا پر تنقید کرتا تھا آج اسی کے ملک میں وہی کچھ ہو رہا ہے، یہ سب واقعات امریکی معاشرے کی زبوں حالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ قوموں کے عروج و زوال کی داستانوںمیں قانونِ قدرت کے عبرت آموز سبق ہیں ابھی کل کی بات ہے کہ سوویت یونین جیسی سپر پاور کو افغانستان جیسی پسماندہ قوم نے شکست و ریخت سے دوچار کر دیا کیا، امریکہ کا موجودہ غلبہ بھی ایسے ہی انجام کو پہنچ رہا ہے یا اسے ابھی مہلت ملے گی اس کا جواب وقت دے گا۔

وباء پھیلنے کے بعد امریکا سمیت کئی ممالک کی طرف سے عالمی ادارہ صحت پر چین سے ساز باز اور دنیا کو کرونا کے خلاف خطرے سے بر وقت آگاہ کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ووہان میں کورونا وائرس کے کیسیز رپورٹ ہونے کے بعد امریکی سیکریٹری خارجہ امئیک پومپیو نے کہا تھا کہ یہ وائرس چینی لیبارٹریوں میں تیار کیا گیا حالانکہ عالمی ادارہ صحت اور امریکی حکومت کے اعلیٰ ماہرِ امراض کا کہنا تھا کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور بات میں یہ بات ثابت بھی ہو گئی کہ یہ امریکی پروپیگنڈا تھا۔ امریکہ کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے رواں کرونا کے خطرات کو چین کے ساتھ مل کر مخفی رکھا۔ دوسری طرف عالمی ادارہ صحت نے رواں سال جنوری میں چین میں پھیلنے والے والے کورونا وائرس پر چین میں جلد قابو پانے پر بیجنگ حکومت کی تعریف بھی بہت سے ممالک کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہے۔ امریکی صدرٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں ڈبلیو ایچ او پر الزام لگایا ہے کہ اس نے پہلے مہینوں میں کرونا کی خطرناک صورتحال کو چھپانے کے لئے چین کے ساتھ ملی بھگت سے کام کیا۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بھی تنظیم سے تعلقات کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ ڈبلیو ایچ او کی 450 ملین ڈالر کی امداد بند کرنے پر غور کر رہا ہے۔ امریکہ عالمی ادارہ صحت کو سب سے زیادہ امداد فراہم کرتا ہے۔ چینی صدر شی نے کورونا سے لڑنے کے لئے اگلے دو سالوں میں دو ارب ڈالر مختص کئے ہیں، مستقبل کی سپر پاور کا یہ ایک مثبت طرزِ عمل ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اب امریکہ کی بالا دستی کا بھوت ختم ہونے کو جا رہا ہے اور اس کی جگہ جلد ہی چائنہ لے لے گا اور دنیا میں ایک امن پسند سوچ ابھرے گی وسائل کی لوٹ مار کی جگہ یکساں ترقی کے مواقع میسر آئیں گے صرف طاقتوروں کے مفادات کا تحفظ نہیں کیا جائے گا بلکہ ہر ملک کے لئے ایک جیسی صورتحال ہو گی، معاشی استحصال کا خاتمہ ہو گا۔


ای پیپر