بابری مسجد کی جگہ مندر کی ناجائزتعمیر
04 جون 2020 (21:23) 2020-06-04

دنیا پر کڑا وقت آیا ہوا ہے اور پوری دنیا کورونا وائرس کی مہلک عالمی وبا سے دو چار ہے جبکہ ہمارے ہمسائے ہندوستان میں آر ایس ایس اور بی جے پی گٹھ جوڑ ہندو توا ایجنڈے کو بے رحمی سے آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔ یعنی ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کے مقام پر ایک مندر کے تعمیراتی کام کا آغازکر دیا گیا ہے۔ یہ آغازبھارتی سپریم کے ایک متنازع فیصلے کے بعد کیا گیا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے تعصب پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوئوں کے حوالے کر دی جبکہ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ زمین فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے بھارت کے جھوٹے سیکولرازم کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ فیصلے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ بھارت اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ہے۔

مسلمانوں کیلئے یہ فیصلہ کوئی انوکھا یا چونکا دینے والا نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ چاہے بھارت کی کوئی ماتحت عدالت ہو یا سپریم کورٹ،خاص طورپر مسلمانوں کے معاملے میں فیصلہ ہمیشہ ہندو کے حق میں ہی آئے گا۔ بھارت عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا یا 5رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے۔ فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا۔

ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جبکہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں۔ تاریخی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی زمین پر نہیں کی گئی تھی۔ مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر اپنی عبادت کرتے تھے۔ 1949ء میں بابری مسجد گرانا بت رکھنا غیر قانونی ہے۔مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ

ہندوؤں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیر متنازع ہے جبکہ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے۔ عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔

کیا سپریم کورٹ نے بابری مسجد بارے ناقابل تردید حقیقتوں کو بھی نہیں دیکھا یا جان بوجھ کر ان کو جھٹلایا۔ کیا کسی نے عدالت کو نہیں بتایا کہ یہاں کئی صدیوں تک اذان کی صدائیں بلند ہوتی رہیں اور یہاں باقاعدہ نماز ادا کی جاتی رہی۔ مسلمان مغلوں کا دور گزرا، انگریز حکمران ہوئے، اس کے بعد بھارت ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا مگر ان سب کے باوجود بابری مسجد کے مینار کھڑے رہے کسی کو اس پر قبضہ کرنے یا اسے مسمار کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کے زیرقیادت سیکولر بھارت اپنے تمام شہریوں سے یکساں سلوک روا رکھنے کا دعوے دار تھا۔کیا سپریم کورٹ بھول گئی کہ بھارت کے آئین میں مذہب، رنگ اور نسل سے اوپر اٹھ کر تمام بھارتیوں کو یکساں تحفظ حمایت دی گئی تھی۔ ان کے بنیادی حقوق یکساں تھے، ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت سرکار کی اولین ذمہ داری تھی، لیکن ہندتوا کے نعرے لگانے اور بھارت کو ہندوانے کے جنون میں مبتلا عناصر گزشتہ تین عشروں سے سیکولر اقدار کو زمین بوس کرنے کے لئے شدت سے سرگرم ہیں۔

ایودھیا کا تنازع بھارتی وزیر اعظم مودی کی انتظامی صلاحیت کی اہم آزمائش بنتا جا رہا ہے ۔نریندر مودی ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے لیے دباؤ کا شکار ہیں۔ ایودھیا بھارت کا قدیم شہر ہے۔ تاہم کچی سڑکوں اور سیوریج کے کھلے نظام والے اس خستہ حال شہر میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی ہندو افراد کا مطالبہ ہے کہ یہاں مندر تعمیر کیا جائے۔ ایک بزرگ پنڈت اور ایودھیا مندر مہم کے سربراہ نرتیا گوپال داس نے نریندر مودی کے حوالے سے کہا، ’’ہم امید رکھتے ہیں کہ مندر انہی کے دور اقتدار میں تعمیر کیا جائے گا۔‘‘ ایودھیا شمالی بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ہے جہاں متنازعہ مقام پراب فوجیوں کا پہرہ ہے اور چاروں جانب حفاظتی مینار بنا دیے گئے ہیں۔مودی ان ہندو انتہا پسندوں کو بھی ناراض نہیں کر سکتے جو ان کی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی بھارتی وزیر اعظم کو اپنے ان سخت گیر ہندو حمایتیوں کے ہاتھوں ملک کے معاشی ایجنڈے کو پٹری سے اترنے سے بھی بچانا ہے۔ بی جے پی کے اتر پردیش میں ریاستی سربراہ کاشو پرساد موریا سے جب ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے مطالبے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’’ہم ہر جمہوری ادارے کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس قضیے کو عدالت میں طے ہونا چاہیے۔‘‘

مغل دور میں قائم کمی جانے والی تاریخی بابری مسجد کو انیس سو اننچاس میں متنازع قرار دے کر بند کروادیا گیا تھا۔ انتہا پسند ہندؤں کا دعویٰ ہے کہ بابری مسجد ‘رام’ کی جائے پیدائش پر بنائی گئی ہے اور اسی بنیاد پر چھ دسمبر انیس سو بانوے کو انتہا پسند ہندوؤں نے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا۔ 24 برس قبل بابری مسجد کے انہدام نے بھارت کے آزاد ہونے کے بعد سب سے خونریز فسادات کو جنم دیا اور مذہبی تقسیم کو مزید پروان چڑھایا جو آج بھی قائم ہے۔ ایودھیا کا تنازع بھارتی وزیراعظم مودی کی انتظامی صلاحیت کی اہم آزمائش بنتا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں پھوٹنے والے فسادات کے نتیجے میں لگ بھگ 1000 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے تھے۔

بابری مسجد کے مقام پر مندر کی تعمیر کے آغاز پر پاکستان نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہا۔ اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہ ملنا بھارتی سیکولرازم کے جھوٹے دعویٰ کو بے نقاب کرتا ہے۔ دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے او آئی سی کے سفیروں کی میٹنگ سے متعلق بھارتی میڈیا کی جھوٹی رپورٹس بھی مسترد کر دیں اور کہا کہ پاکستانی نمائندے نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر ریاستی سرپرستی میں تشدد کا ذکر کیا۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے انتہا پسندی پر مبنی نظریے اور ہندوؤں کی بالا دستی قائم کرنے کے عزائم کے زہریلے مجموعے کے زیرِ اثر ہے۔


ای پیپر