مرشد! یہاں آفات سے دوچار ہے خلق خدا پیہم
04 جون 2020 (21:22) 2020-06-04

پانچ چھ گیدڑوں کا ایک گروہ تھا، وہ آپس میں گہرے دوست بن گئے۔ وہ روز ایک فیصلہ کرتے کہ آج جنگل کے خطرناک جانوروں سے کیسے نمٹنا ہے۔ وہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کام سرانجام دینا ہے۔ وہ ٹولی کی صورت میں دن بھر جنگ میں گشت کرتے اور طرح طرح کے گل کھلاتے۔ دن بھر کی آوارہ گردی، بدمعاشی اور بیان بازیوں کے بعد شام کو اپنے ٹھکانے پر آجاتے۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا مگر باتیں بیان بازیوں تک ہی رہیں۔ حالات میں کوئی خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ جنگل کا وہی پرانا قانون رہا۔ خطرناک جانور اور خطرناک ہو گئے۔ لاقانونیت حد سے بڑھ گئی ، منہ زوری کی انتہا نہ رہی۔ مظلوم جانوروں پر ظلم و ستم کی انتہا بڑھ گئی۔ کوئی تبدیلی نہ آئی مگر موسم بدل گیا اور سردی کی شدت میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ گیدڑ سارا دن مٹر گشت کرتے اور شام کو ٹھکانے پر اکٹھے ہو جاتے مگر اب کی بار انہیں جب انہیں سردی نے تنگ کرنا شروع کیا اور سردی کی شدت سے بچنے کے لیے انہوں نے فیصلہ کیاکہ زمین کھود کر زیر زمین گھر بنا لیے جائیں اور یہی گھر ہمیں سیاسی کرسی اور سیاسی پلیٹ فارم کے لیے بھی کام دیا کریں گے اور سردی سے بچاؤ رہے گا۔ فیصلہ ہو گیا کہ گھر بنائے جائیں لیکن ایک گیدڑ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور اس نے کہا کہ آج ایسے تیسے میں رات بسر کر لی جائے صبح ہوتے ہی پہلاکام یہی کریں گے۔ صبح ہوئی تو شوق سیاست میں گیدڑ بن سنور کے جنگل کی طرف نکل گئے۔ سارے دن کی مصروفیت میں وہ بھول گئے کہ انہوں نے سردی سے بچاؤ کے لیے کوئی بندوبست بھی کرنا تھا۔ شام ہوئی، گنے آبلے اور پر سوچا؟ کون تھا باعث آغاز سفر شام کے بعد … اور پھر وہ سردی سے ٹھٹھرنے لگے… طے ہوا کچھ بھی کل ہر صورت میں پہلے گھر بنائے جائیں گے۔ اس

کے بعد کوئی اور کام ہو گا۔ یہاں تک کہ ہر شام دن کا یہی وعدہ ہوتا اور خود کو تسلی دے کر اگلی صبح پر کام مؤخر کیا جاتا۔ گیدڑوں نے انہی وعدوں، انہی تسلیوں ، انہی سوچوں اور اداس شاموں کی آس پر پوری سردیاں گزار دیں اور گھر نہ بنا سکے اور نہ کوئی جنگل کے آئین میں تبدیلی آئی اور نہ ہی جنگل میں بسنے والے دیگر افراد کی بودو باش میں کوئی مثبت فرق لا سکے۔ عید سے پہلے تاجروں کی جان پر بنی ہوئی تھی کہ وہ بھوک سے مر گئے ہیں۔ جو سرمایہ ان کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا ہے ، ان سے وابستہ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہے اور سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے یہاں تک کہ وزیراعظم صاحب بھی غریب پروری کا دم بھر رہے تھے۔ شیخ رشید کی جان پر بنی ہوئی تھی اور وہ بار بار مزدوروں اور چھابڑی والوں کی حمایت میں بیان جاری کر رہے تھے۔ مارکیٹیں کھول دی اور ایس او پیز کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ لفظ ایس او پیز کو صرف بولنے کی حد تک استعمال کیا گیا؟ خود ساختہ ایس او پیز پر عمل کروانا مشکل کام نہ تھا۔ ہر ضلعے کی انتظامیہ اپنے اپنے ضلع میں ہر شخص پر سختی سے آئین لاگو کر دیتی کہ جس نے بھی بازار کا رخ کرنا ہے وہ ماسک پہنے گا؟ ہاتھوں میں دستانے پہنے گا (ہاتھوں پر لگا لہو تلاش کرنا ہو تو تمام شہر خود بخود دستانے پہن لیتا تھا) کسی طرح کا بھی سینی ٹائزر اپنے پاس رکھے گا۔ حتیٰ کہ دکاندار بھی سینی ٹائزر اپنے گائک کو دے گا جو ایسا نہیں کرے گا اسے بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔ چند ایک کو جرمانہ ہوا ہوتا تو یہ قوم ناک کی سید تک سیدھی ہوجانی تھی(مگر کہا کریں اس قوم کی ناک ہی نہیں) مگر ایسا کچھ نہ ہوا اور کرونا کے مریضوں میںحد درجہ اضافہ ہو گیااور شرح اموات میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ کرونا سے ڈرنے کے لیے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر سرکاری ادارے رہ گئے ہیں اور باقی پوری عوام نے کورونا کو جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے۔ عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا اور نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔ حکومت نے چینی پر سبسڈی دی اور نتیجہ عوام بھگت رہی ہے۔ کروڑوں نوکریوں کا وعدہ کیا اور نتیجہ بیروزگار نوجوان بھگت رہے ہیں۔ 50لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا اور اس جھانسے میں آ کر بے گھروں نے ووٹ دیئے اور خمیازہ بے گھر لوگ بھگت رہے ہیں۔ عوام نے نئے پاکستان کے لیے ووٹ دیئے مگر پرانے پاکستان کی حالت خستگی کی طرف گامزن ہے۔ جن سے کرپشن کی پائی پائی وصول کرنی تھی وہ لندن روانہ کر دیئے گئے۔ کہیں کرنل کی بیوی اخلاقیات کی دھجیاں بکھیرتی نظر آ رہی ہے اور کہیں ملک ریاض کی بیٹی مرحوم سلطان راہی کی روح تازہ کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کہیں قادیانیوں کا فتنہ اپنے پورے جوبن پہ نظر آ رہا ہے اور کہیں عالم دین اپنی عزت بچانے کے لیے میڈیا کے پروردہ لوگوں سے معافی مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ کہیں سانحہ ماڈل ٹاؤن انصاف کو ترس رہا ہے اور کہیں سانحہ ساہیوال قصہ پارینہ راہ ہونے کو ہے۔ کہیں ہاتھ سے پکڑی ہوئی شراب کی بوتلیں شہد بن جاتی ہیں تو کہیں نوخیز کلیوں کو اپنی ہوس کے لیے مسل دیاجاتا ہے۔ دیکھیے مرشد! ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے… مرشد ہمارے ساتھ حادثہ ہوا ہے… مرشد! ہمارے ساتھ کھلواڑ ہوا ہے… مرشد! ہمارے جذبات کے ساتھ کھیلا گیا ہے… مرشد! ہمیں دیا دکھا کر اندھیرے میں رکھا گیا ہے… مرشد! اس ملک کا چراغ ہمارے پرکھوں نے خون دے کر جلایا ہے… مرشد! ہمارے بزرگوں نے اس ملک کا چراغ ہواؤں کے سامنے سینہ سپر ہو کر جلایا ہے۔ مرشد! نتھیا گلی سے نکلیں… گرمی کی لو اور تپتی دھوپ میں آئیں… مرشد! ہمیں سردی لگتی ہے… مرشد! ہم ان گیدڑوں کی طرح وعدہ نہیں کرنا چاہتے جو وعدہ کرتے کرتے سردیاں گزار گئے۔ مرشد! آپ محو استراحت ہیں اور خلق خدا آفات سے دوچار ہے: مرشد! کمر کس لیں۔بقول جاوید رامش

یہاں آفات سے دوچار ہے خلق خدا پیہم

وہ محو استراحت تھا کسی ٹھنڈی پہاڑی پر


ای پیپر