مِزاح کی رُت
04 جون 2020 (21:21) 2020-06-04

انگریزی ادب کے منفرد لکھاری شیکسپئیر نے اپنے مزاحیہ کھیل "As You Like It" کے افتتاحیہ میں دنیا کو سٹیج سے تشبیح دی ہے۔انھوں نے لکھا کہ دنیا ایک سٹیج کی مانند ہے،تمام مردو خواتین محض اداکار ہیں،سٹیج پر ان کے اپنے داخلے اور اخراج ہیں،اور ایک انسان اپنے وقت میں بہت سے کردار ادا کرتا ہے۔ مذکورہ سطور میں لفظ "کردار"لکھاری ہونے کے ناتے سمجھنے پر مجبور کر رہا ہے کہ انسان فطری رویہ اپنا کر زندگی بسر نہیں کرتا بلکہ مختلف کرداروں کے سانچوں میں ڈھلتا ہے۔یعنی انسان والدین کے روبروایک تابع فرمان اولاد کا روپ دھارتا ہے، دفتر میں اپنے ساتھیوں اور دیگر ملازمین کے ساتھ دفتری کردار کالبادہ اوڑھتا ہے،طالب ِ علم ہونے کی صورت میں اساتذہ کے سامنے شاگرد کا کردار ادا کرتا ہے، دوست احباب میں محفل کی کیفیت کو بھانپتے ہوئے مکالمے ادا کرتا ہے،رشتہ داروں میں اپنے رشتے کے تقدس اور قربت کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے میل جول رکھتا ہے۔ خاص طور پرشوہر اپنی بیگم کے روبرو یا تو حاتم طائی بنتا ہے یا پھر کمزور اعصاب کا حامل قیدی۔نیز انسان مختلف کرداروں کو اپناتے ہوئے زندگی بسر کرتا ہے۔

کرداروں کی حساسیت میں کیفیت کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ کہیں خوشی ہے تو محفل پُر مسرت کیفیت کا رنگ اپناتی ہے، کہیں غم کا عالم ہو تو محفل میں موجود تمام حاضرین کے قلوب ویرانی کی عکاسی کرتے ہیں۔مفہوم یہ اخذ ہوتا ہے کہ کردار کیفیت پر انحصار کرتے ہیں۔

دورِ حاضر جدت سے بھر پور ہے۔ ہر طرف برقی آلات کی ریل پیل ہے۔ کسی مجلس میں شریک حاضرین ایک دوسرے سے محوِ گفتگو ہونے کی بجائے موبائل فون پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس یا ایپلی کیشنزکو استعمال کرنے کو فوقیت دیتے ہیں۔ہم اگر ان ایپلی کیشنز(خصوصاََ فیس بُک) پر غور کریں تو ایسا محسوس ہوتا

ہے کہ ہر کوئی دانش ور، عاقل، معزز تجزیہ کار ،حسین و جمیل اور خاص طور پر مزاح نگار ہے۔ یعنی آپ کو فہم و فراست سے بھرپور سطور دکھائی دیں یا نہ دیں، مزاحیہ اشعار، تصاویر (مختلف عنوانات کے ساتھ ایڈٹ کر کے، جنھیں تکنیکی زبان میں memes کہتے ہیں) اور طنزیہ جملے ضرور دکھائی دیں گی۔صرف سوشل میڈیا پر وقت صَرف کرنے سے وقت کا زیاں ضرور ہوتا ہے مگر گزر ضرور جاتا ہے۔ مندرجہ بالا احوال مِزاح کی رُت کی عکاسی کر رہا ہے۔

طنز و مزاح اپنی عادت کا حصہ بنانے سے اطراف کا ماحول ساز گار رہتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا صارفین کا صرف مزاح پر غور و فکر اچھے مستقبل کی نوید نہیں دے رہا۔ کہتے ہیں کچھ عمل فراغت میںاچھے لگتے ہیں۔ ایسے ہی مزاحیہ عادات بھی فارغ اوقات اور غیر سنجیدہ حالات میں دل کو لبھاتی ہیں۔ مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ ہم بہت سی سنجیدہ کیفیتوں میں متضاد کردار ادا کر رہے ہیں۔مختلف مسالک کے علما ِ کرام پر مزاحیہ خاکے اور ویڈیوزبنا رہے ہیں۔ اگر کوئی ابہام ہے یا اختلاف ہے تو دلیل یا تحقیق کے زور سے دورکیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا رویہ معززین بلخصوص مذہب کی توقیر کوٹھیس پہنچا رہا ہے۔ اگر ایسا اندازِ بیان رہا تو مذاہب مخالف تنظیمیں ہم پر غالب آ جائیں گی۔ بالائی سطور میں کردار اور کیفیت کی تفصیل واضع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں حالات کی مناسبت سے اپنی شخصیت عیاں کرنی چاہئے۔

ہر شخص کی ذاتی زندگی ہوتی ہے۔اپنی سرگرمیوں کا ذمہ دار بھی خود ہوتا ہے۔کسی کی ذاتی زندگی پر ازراہِ تفنن فقرے کسنا، اس عمل کا لائسنس کون دیتا ہے؟ یہ معاملہ آپ کے کردار کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ایک بات جو طویل عرصے سے منظر ِ عام پر ہے ، وہ یہ کہ ہم انتہائی سنجیدہ حالات میں غیر سنجیدہ ہو رہے ہیں۔مزاح کی بیت بازی میں ہر کوئی حصہ لے رہا ہے۔ اس سے شعوری ، فکری ، علمی اور تحقیقی جستجو رک چکی ہے۔وقت گزارنے کے لئے صرف کھوکھلا مزاح ہی سہارا بن رہا ہے۔ اب تو فیس بُک پر مزاحیہ پیج بن چکے ہیں۔ ان کو چلانے کے لئے ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر ہنسنا ہنسانا بھی ایک کاروبار بن چکا ہے۔ اس کا گاہک بننا ٹھیک تو ہے مگر ہمیشہ نہیں۔ جیسا کہ کالم کے ابتدائی جملوں میں کردار پر بات کی ہے۔

عوام میں مزاحیہ اندازِ بیان کا رجحان ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے تفریحی پروگرامز سے بڑھنا شروع ہوا۔ ان میں ہر سیاسی شخصیت کی نقل کی جاتی ہے، بہت سے سماجی کرداروں پر فقرے کسے جاتے ہیں۔ بے دھڑک ہو کر کسی بھی سرکاری، غیر سرکاری، سیاسی، سماجی، ثقافتی شخصیت کی نقل کی جارہی ہیں۔ ان مکالموں کا مطلب صرف عوام کو تفریح مہیا کرنا ہے۔ لیکن جب کوئی بھی عمل حد سے تجاوز کرنے لگے تو حالات بگڑنے لگتے ہیں۔رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی اور فضا کو مزاح کے بادلوں سے سجا دیا۔غیر سنجیدہ دانش مندی کی کثرت نے غیر معمولی مشغلوں کو طول دینا شروع کر دیا ہے۔اب تو یہ وقت بھی آ چکا ہے کہ قبرستان میں دوران ِ تدفین موجود لوگ بے دھڑک مسکراتے ہوئے عام گفتگو کرتے ہیں۔ یعنی ماحول کے عین متضاد کردار ادا کرتے ہیں۔بڑے بزرگ کے روبرو بات کرنے کا ڈھنگ بھی متاثر ہو رہا ہے۔حتہٰ کہ تعلیمی اداروں میں علمی سرگرمیوں کے درمیان بھانڈ بندی کے عناصر کیفیت کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔

ذہنی تنائو سے لبریز دور ِ حاضر میں مِزاح کی رُت وارد ہوناماحول کو سازگار تو بناتی ہے، مگر علم و تحقیق سے دوری کا سبب بھی بنتی ہے۔معاشروں کی تعمیر و ترقی علم و ہنر سے ہی ممکن ہے، مزاح تو اُردو ادب کی صنف نثر میں زیادہ سود مند ثابت ہوتا ہے۔ اگر یہ موسم لانا ہی ہے تو علم کا شملہ معاشرے کی زینت بنائو۔


ای پیپر