ہماری کشمیر پالیسی ہے کیا
04 جون 2020 (14:45) 2020-06-04

ایک صاحب نے سوال کیا آخر ہم فیصلہ کن جنگ لڑ کر کشمیر کو آزاد کیوں نہیں کرا لیتے… بھارت کو اٹھتے بیٹھتے دھمکی دیتے ہیں اگر اس نے ہماری سرحدوں کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا تو منہ توڑ جواب دیں گے… سرحدیں ہماری بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہیں… کچی پکی نہیں… عالمی قوانین ان پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں… بھارت چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرأت کرے گا تو منہ کی کھائے گا… عالمی سطح پر کوئی بھی اس کی کارروائی کو تسلیم نہیں کرے گا… افواج ہماری ان سرحدوں کی ہمہ وقت حفاظت کے لئے چاق و چوبند ہیں… ہر قسم کی پیشہ وارانہ صلاحیت سے مالامال ہیں… بہترین درجے کی دفاعی اور جنگی قابلیت رکھتی ہیں… دنیا کی کسی بھی منظم اور اعلیٰ تربیت یافتہ فوج سے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے… جذبہ حب الوطنی سے ہمارا ہر سپاہی اور افسر اس طرح سرشار ہے کہ پوری قوم اپنے سپوتوں پر فخر کرتی ہے… ان کی قربانیاں بھی بے مثال رہی ہیں… 1965ء میں لاہور آنے کی کوشش کی الٹے پائوں بھاگا… 1971ء میں مشرقی سرحدوں کی پامالی کے وقت حالات بدل چکے تھے بھارت نے ان کا فائدہ اٹھایا… لیکن کشمیر تو بہرصورت متنازع علاقہ ہے… اس کی سرحدیں اس وقت تک عارضی رہیں گی جب تک ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا وہاں کے عوام کی آزاد مرضی کے ساتھ فیصلہ نہیں ہوجاتا… اس کا بہترین حل اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے ہے… سلامتی کونسل اس کے انعقاد کے حق میں ایک نہیں کئی قراردادیں منظور کر چکی ہے… بھارت پاکستان اور کشمیری عوام اس تنازع میں باقاعدہ فریق کی حیثیت رکھتے ہیں… اور یہ ریکارڈ کی بات ہے کسی قسم کا الزام ہرگز نہیں بھارت ایک سے زائد مرتبہ ان قراردادوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی اور وعدہ کر چکا ہے… پھر اس سے منحرف ہو گیا… ریاست جموں و کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو پختہ سے پختہ تر کرتا چلا گیا… کشمیری عوام نے پہلے اس صورت حال سے نجات حاصل کرنے اور اپنے حق خودارادی کو یقینی بنانے کے لئے پرامن جدوجہد کی… بھارت کی فوجی ہیبت (MIGHT) کے آگے کامیاب نہ ہو سکے اگرچہ تھک ہار کر بیٹھنے کا نام نہ لیا… آخرکار مزاحمتی جنگ پر اتر آئے جو 1989ء سے لے کر آج تک جاری ہے… پاکستان اس جدوجہد کی اخلاقی اور کسی حد تک عملی حمایت کرتا رہا… لیکن حاصل آج تک کچھ نہیں ہوا…

علاوہ ازیں تین جنگیں ہم نے اس مقصد کے لئے لڑیں… 1971ء کی جنگ اگرچہ کشمیر کی آزادی کی خاطر نہیں لڑی گئی تھی تاہم ہماری سخت ناکامی پر منتج ہوئی… اس نے کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچایا… ہم نے چپکے سے باقاعدہ صف آرا ہو کر میدان جنگ گرم کرنے کی بجائے پراکسی جنگوں کا راستہ اختیار کر لیا… اور پھر اپنے دفاعی حصار کو مضبوط تر بنانے کی خاطر بھارت کے راستے پر چلتے ہوئے ایٹم بم بنا ڈالا… بھارت ننگی جارحیت کے ارتکاب کے قابل نہ رہا… پراکسی جنگوں کا ایک فائدہ ضرور حاصل ہوا کہ تنازع کشمیر زندہ تابندہ رہا… اسے مرنے نہیں دیا گیا کہ کشمیری عوام کوبھی ان سے مسلسل حوصلہ ملتا رہا… ان کے اندر یہ احساس جاگزیں رہا کہ ان کے پیچھے کوئی ہے… انہیں اکیلا اور بے یارومددگار نہیں چھوڑا گیا… بھارتیوں کی نیندیں حرام رہیں… انہوں نے قابض فوجوں کی تعداد سات لاکھ تک بڑھا دی… نہ صرف کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق نہایت وحشیانہ طریقے سے پامال کئے جاتے رہے( اور کیے جا رہے ہیں) بلکہ مقبوضہ وادی پر بار بار انسانی قتل عام کا بازار گرم رکھا گیا… ردعمل میں آزادی کے شعلے گھر گھر میں فروزاں ہو گئے… نوجوان، بوڑھے مرد اور عورتیں بچے، وادی کے ایک ایک فرد نے ہر حالت میں آزادی کے حصول کے نصب العین کو حرز جان بنا لیا… بھارت کے انہیں دام تزویر میں لانے کے تمام حربے ناکام ہو گئے… لیکن ان پراکسی جنگوں کی وجہ سے پاکستان کو نقصان بھی بہت برداشت کرنا پڑا… سیاچن کی چوٹیاں ہاتھ سے گئیں… کارگل کی لڑائی مہم جوئی ثابت ہوئی… بھارت نے عالمی سطح پر ہمیں دہشت گرد مشہور کرنے میں خاصی کامیابی حاصل کی… ہماری ڈپلومیسی یا سفارتی جنگ دنیا کو باور کرانے میں ناکام رہی کہ اگر دنیا کی کوئی قابض فوج علاقے کے لوگوں کو خودارادی کا طے شدہ حق دینے سے مسلسل انکاری ہو… ان پر ظالمانہ نوعیت کا فوجی قبضہ مضبوط سے مضبوط تر کرتی چلی جائے… وہاں کے عوام ننگی طاقت کے زور پر دبا کر رکھے … ان کے انسانی حقوق کو کسی طور پر خاطر میں نہ لائے تو ایسی مقبوضہ قوت اور اس کی حامل

فوج اور ریاست کے خلاف مسلح مزاحمتی جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہونا ان کا بنیادی حق ہے… اقوام متحدہ کا منشور اس کی تائید کرتا ہے… پاکستان چونکہ اس تنازع میں باقاعدہ فریق کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ایسی قوت لایموت فراہم کرنا اس کے فرائض میں شامل ہے… دنیا کا کوئی قانون اور طاقت اسے روک نہیں سکتی آخر کل کی بات ہے جنوبی ویت نام کی امریکی قبضے کے خلاف جنگ میں شمال میں ہوچی منہ کی حکومت نہ صرف جنوب کے برسرپیکار ویت نامیوں کو اسلحہ اور دوسری قسم کی مدد کیا باقاعدہ افرادی قوت فراہم کرتی رہی… یہاں تک کہ منزل مراد حاصل کر لی… امریکیوں کے مقابلے میں پوری سرزمین ویت نام اپنی فتح کے جھنڈے گاڑھ لئے… ویت نام دور حاضر کی سب سے طاقتور مقبوضہ فوج کے خلاف کامیاب اور مؤثر ترین قوت مزاحمت کا استعارہ بن گیا… عرف عام میں یہ لفٹسٹوں کی لڑائی تھی… لیکن دنیا بھر کے رائیٹسٹ جن کے اندر ذرہ برابر بھی ضمیر کی رمق پائی جاتی تھی اس کی حمایت پر مجبور تھے اگر کسی سے تنقیدی جملہ سرزد بھی ہو جاتا اسے نکّو بنا کر رکھ دیا جاتا… اس وقت کی مغربی دنیا کے دو چوٹی کے دانشور جن کے علم و شعور کا اکناف عالم میں ڈنکا بجتا تھاژارپاں ساختے اور برٹرینڈ رسل کھل کر اس جنگ کی حمایت میں آواز بلند کرتے تھے… امریکی سپر طاقت بلکہ فرانس اور برطانیہ جیسی ان کی اپنی حکومتوں کو جو اس جنگ میں امریکہ کی اتحادی تھی مجال نہ تھی اپنے چوٹی کے دانشوروں سے کسی قسم کی بازپرس کر سکے یا کوئی قدغن لگائے… کیونکہ ان کی اخلاقی پوزیشن بہت برتر تھی… نتیجے کے طور پر ان ملکوں کی رائے عامہ کا ایک معتد بہ حصہ ویت نام کے مزاحمتی گوریلوں کا حامی بن گیا… نوبت با ایں جارسید کہ امریکہ کی یونیورسٹیوں اور دوسرے مقامات پر بھی اپنی فوج اور حکومت کے خلاف مظاہرے ہونے شروع ہو گئے… پاکستان اس حوالے سے بری طرح ناکام رہا ہے… ہمارے مؤقف کو حددرجہ اصولی اور جائز ہونے کے باوجود کہیں بھی پذیرائی نہیں مل رہی… مغربی طاقتیں اور وہاں کی نام نہاد روشن دنیا دور کی بات ہے عالم اسلام کے ملک جو ہمارے بہترین ہمدرد، کشمیریوں کے خیرخواہ اور اصولی و اخلاقی لحاظ سے اس جنگ میں اتحادی ثابت ہو سکتے تھے آج منہ میں گھنگھنیاں ڈالے بیٹھے ہیں… مصر و شام کا کیا تذکرہ کیجیے… سعودی عرب جیسا ملک جو کبھی ہماری اور کشمیری عوام کی آواز کے ساتھ آواز ملا دیتا تھا اس کا رویہ بھی مغائرانہ ہے… ’او آئی سی‘ کا ادارہ مکمل طور پر اس کے رسوخ میں ہے… وہاں سے کشمیر کے تنازع پر ہر مرتبہ حق خودارادی کے حق میں قرارداد منظور ہو جاتی تھی… اس مرتبہ اس سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ہیں… ایک ترکی اور ملائشیا رہ گئے ہیں جو آج بھی کشمیریوں کے غم خوار ہیں باقی مسلم دنیا کو چپ سی لگی ہوئی ہے… دوسرے الفاظ میں بھارت نے عالم اسلام کے مختلف ممالک کے اندر اتنا رسوخ جما لیا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کاز دونوں کی شنوائی نہیں ہو رہی… اس غیرمعمولی اور مایوس کن سفارتی پسپائی کی وجوہ کیا ہیں… ایک یہ کہ پاکستان نے کشمیریوں کی مبنی برحق اور بین الاقوامی قانون یا اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ مطابقت رکھنے والی مسلح جدوجہد کو کبھی OWN نہیں کیا ہمیشہ اس سے سفارتی فاصلہ قائم رکھا… درون خانہ اسے اپنا سمجھا بیرونی دنیا کے سامنے دوری بھی اختیار کئے رکھی… دنیا کی دوسری قوموں جنہوں نے اس باب میں کامیابی حاصل کی کبھی یہ طرزعمل اختیار نہیں کیا… ہوچی منہ اپنے آپ میں جنوبی حصے کی جدوجہد کا اصل کمانڈر سمجھتا اور کہلواتا …پچاس کی دہائی کے دوران الجزائر کے عوام نے فرانس کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے بڑی کامیابی کے ساتھ لازوال قربانیوں سے بھرپور طویل گوریلا جنگ لڑی… بن بیلااس کے میدان کارزار کا بیک وقت فوجی رہنما اور سیاسی قائد تھا… وہ کامیابی حاصل کی کہ فرانس جیسی طاقت کے دانت کھٹے کر کے رکھ دیئے… عالم اسلام اور تیسری دنیا کا بچہ بچہ اس کی حمایت میں باہر نکل آتا تھا… ستر کی دہائی میں بھارت نے پاکستان کو توڑنے کی ناجائز ترین خفیہ جنگ کو فروغ دیا… مکتی باہنی بنایا… اسے مشرقی پاکستان کے شہر شہر پہنچا دیا… مکتی باہنی کی خالق وہاں کی خالق بھارت کی مشہور خفیہ ایجنسی ’را‘ تھی… بھارتی فوج بھی اسے بڑھوتی دینے میں پیش پیش تھی لیکن سب کچھ وہاں کی منتخب لیڈر وزیراعظم اندراگاندھی کی قیادت میں ہو رہا تھا… انہیں ایک ایک پیش رفت کا علم تھا اور رہنمائی مسلسل اپنے ہاتھوں میں لے رکھی تھی… کامیابی ہوئی… اگرچہ ناجائز ترین مقصد کی خاطر ہوئی… گمراہ کن پراپیگنڈے اور عیاری کے ساتھ ہوئی… لیکن ایک گوریلا جنگ تھی جو کامیاب سفارت کاری کے ساتھ لڑی گئی… عسکری اور سیاسی لیڈرشپ ہم خیال اور نیک زبان تھی… اس سب کے برعکس پاکستان میں فیصلہ سازی کے مراکز ایک سے زیادہ رہے ہیں… کشمیر کاز ہماری سیاست اور اقتدار پرستوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنا رہا… پالیسی میں یکسانی اور قیادت میں یکسوئی نہیںرہی ایک میان میں دو تلواروں کے درمیان کشمکش جاری رہی… اس کے منفی بلکہ مہلک اثرات ہماری کشمیر پالیسی پر پڑے… تھوڑے کو بہت جانیے آج عالم یہ ہے کشمیری مر رہے ہیں، ہلاکتیں ہو رہی ہیں، کوئی پرسان حال نہیں… لیکن اسی پر اکتفا نہیں بھارت نے آگے بڑھ کر گزشتہ سال کہ سفاکی کا وہ مظاہرہ کیا جس نے پورا بستر لپیٹ کر رکھ دیا… بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 اور ذیلی دفعہ 35-A کا خاتمہ کر کے اپنی مقبوضہ ریاست کو دو حصوں میں بانٹ کر اپنے مطابق اپنا جزولاینفک بنا دیا… کوئی اس کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے والا نہیں تھا… اپنے تئیں تمام کی تمام ریاست کی متنازع حیثیت ختم کر کے رکھ دی… پاکستان نے بہت شور مچایا… عالمی سطح پر صدائے احتجاج بلند کی… کوئی شنوائی نہ ہوئی… سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس منعقد ہوا… کارروائی باہر نہ آئی… ٹائیں ٹائیں فش… آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا… بھارتی دعویٰ کرتے ہیں ہم نے کشمیر کی جنگ لڑائی لڑے بغیر جیت دکھائی ہے… کوئی ہمارے ہاتھ روکنے والا نہیں… کشمیری عوام یقینا اس کے باوجود آرام سے سانس نہ لیں گے اپنی پُرزور جدوجہد جاری رکھیں گے… لیکن پاکستان ان کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا… سفارتی محاذ پر نہ میدان کارزار میں… ہماری اس باب میں پالیسی باقی رہ گئی ہے نہ حکمت عملی… مودی سرکار آزاد کشمیر پر نگاہیں گاڑھے ہوئے ہے… خطرہ موجود ہے لیکن بنیا ٹھنڈی کر کے کھائے گا… اس وقت لداخ کے مقام پر چین نے اس کو جو چپت لگائی ہے… اپنے گالوں کو سہلا رہا ہے… چین آج بھی ہمارا قریبی دوست ہے… کاش اس کے ساتھ تعلقات کی وہ گرم جوشی ہوتی جو 1965ء میں تھی یا دو تین برس پہلے جیسی جب سی پیک کا منصوبہ عروج پر تھا… ہم نے اسے کھنڈت میں ڈالا ہوتا تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی…


ای پیپر