جارج فلائیڈ:نسل پرست امریکہ میں 20ڈالر پر قتل
04 جون 2020 (14:44) 2020-06-04

25مئی کا دن امریکی سیاہ فاموں کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا۔ جب 46سالہ سیاہ فام جارج فلائیڈ امریکی ریاست مینی پولس میں ایک ریسٹورنٹ پر کھانا لینے گیا اور 20ڈالر کا نوٹ ادائیگی کیلئے دیا ریسٹورنٹ والوں نے کہا یہ نوٹ جعلی ہے فوری طور پر پولیس کو کال کی گئی پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو گرفتار کرلیا مگر اس نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کردیا ۔ یہاں سے آگے کی کہانی بڑی خوفناک ہے مگر اس سے پہلے آپ کو امریکی سماجی پس منظر سے آشنا ہونا ضروری ہے۔

امریکہ میں آج سے 500 سال پہلے گوروں نے وہاں کے اصل باشندوں ریڈ انڈین کی نسل ختم کر کے علاقے پر قبضہ کیا اور وسیع زمینوں کے مالک بن گئے ۔انہوں نے تاریخ کے ساتھ ظلم یہ کیا کہ ان زمینوں پر کام کرنے کیلئے افریقہ سے بحری جہازوں میں بھر بھر کر لاکھوں کی تعداد میں سیاہ فاموں کو وہاں لے جایاگیااور غلامی کو ایک معاشرتی شکل دی۔ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے غلامی کا کاغذی طور پر خاتمہ کردیا گیا اور نصف صدی پہلے سیاہ اور سفید فاموں کیلئے مساوی حقوق تسلیم کئے گئے مگر زمینی حقائق آج بھی بڑے دل شکن ہیں۔ امریکہ میں سیاہ فاموں کی شرح 12 فیصد ہے مگر امریکی جیلوں میں قید اعداد و شمار کے مطابق جیلوں میں 33 فیصد سیام فام ہیں۔ ان کومعمولی جرائم میں پکڑ کر سزا دی جاتی ہے۔ ان کیلئے تعلیم اور ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار باراک اوبام جوایک سیاہ فام تھا جب امریکہ کا صدر بنا تو امید تھی کہ وہ سیاہ فاموں کے خلاف نسلی امتیاز کے خاتمے میں معاون ثابت ہو گا۔ اوباماکے دور میں امریکی اٹارنی جنرل سیاہ فام تھا مگر سیاہ فاموں پر مظالم میں کمی نہیں آئی۔

اوباماکے دور میں بھی ریاست فرگوسن میں مائیکل برائون اورنیویارک میں ایریک گارنر جیسے سیاہ فام جعلی پولیس مقابلوں میں بے گناہ مارے گئے جس کے بعد ملک بھر میں Black Lives Matter کے نام سے ایک تحریک شروع ہوئی جس نے سفید فاموں کے غصے کو اور بھڑکا دیا۔ اب واپس جارج فلائیڈ کا ذکر کرتے ہیں جسے جعلی نوٹ چلانے کے الزام میں پکڑا گیا اور اس نے پولیس وین میں بیٹھنے سے انکار کردیا پہلے تو وین کے اندر اس پر تشدد کرنے کی کوشش کی گئی پھر اسے وین سے باہر نکالا گیا اسے ہتھکڑی لگی ہوئی تھی اور اس کے دونوں ہاتھ اس کی پشت کی طرف تھے۔ واقعہ کی آزادانہ ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آچکی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس وردی میں

ملبوس شخص جس کی شناخت Derek chauvin کے نام سے ہوئی اس نے پولیس جیب سے نکال کر ملزم کو سڑک پر سرعام لٹایا اور اپنا ایک گھٹنا اس کی گردن پر رکھا اور دوسرے گھٹنے کوملزم کی بیک سائیڈ کی پسلیوں پر رکھ کر دبایا ہواہے۔ جارج فلائیڈ پولیس کی منتیں کر رہا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے۔ ڈیرک کے دیگر ساتھی سڑک پر عوام کی طرف منہ کرکے کھڑے ہیں کہ کسی کو نزدیک نہ آنے دیا جائے۔ فوٹیج میںدور سے لوگوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں کہ اس کی گردن سے پائوں ہٹائو ورنہ یہ مرجائے گا۔ ملزم بار بار کہہ رہا ہے کہ مجھے سانس نہیں آرہی میرے اوپر سے ہٹ جائو۔مجھے بھوک لگی ہوئی ہے۔آوازیں آہستہ آہستہ مدہم ہونے لگتی ہیں یہ ساری کارروائی دس منٹ سے کم عرصے میں ختم ہوجاتی ہے۔ آخر میں ملزم کہتا ہے مجھے پانی دوآخری الفاظ پلیز پلیز ۔ اس کے بعد آوازیں خاموش ہوجاتی ہیں۔ دور سے آواز آتی ہے اس کی نبض چیک کرو یہ مرچکا ہے۔ پولیس اسے ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال پہنچاتی ہے جہاں اسے مردہ قرار دیا جاتا ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جارج فلائیڈ کی پولیس حراست میں بے رحمانہ موت کے بعد سیاہ فام احتجاج امریکہ کے 75سے زیادہ شہروں میں پھیل چکا ہے۔انہوں نے پورے ملک میں آگ لگادی ہے۔ جلائو گھیرائو اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی تاریخ میں شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ سیاہ فاموں نے وائٹ ہائوس کا گھیرائوکر لیا۔ سکیورٹی حکام نے وائٹ ہائوس کی لائٹیں بند کروا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی فیملی کو وہاں سے نکال کر حفاظتی بنکر میں منتقل کیا کیونکہ ان کی جان کو خطرہ تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی بضد ہیں کہ ہنگاموں کو سختی سے کچلاجائے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر پولیس ناکام ہوئی تو وہ فوج اور نیشنل گارڈز کے حوالے کر دیں گے تاکہ امن عامہ کو برقرار رکھا جاسکے۔

قاتل پولیس مین ڈیرک کو گرفتار کرلیا گیا ہے مگر سرکاری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دل کی بیماری ڈرگ کا استعمال اور آکسیجن کی کمی یعنی دم گھٹنے جیسی وجوہات لکھی گئی ہیں جس کی روشنی میں پولیس نے قتل نہیں بلکہ Homicideیا اتفاقیہ یا بلا ارادہ قتل کی دفعات لگائی ہیں جسے امریکی قانون کی زبان میں تھرڈ ڈگری قتل کہاگیا ہے جس کی قانونی حیثیت یہ ہے کہ قتل ہوا تو ہے مگر اس کی سزا Maximumنہیں بنتی۔ یہ ایک لمبی بحث ہے کہ امریکی پولیس اور عدالتیں کس طرح کسی کو سزاسے بچانے کیلئے قانون کا سہارا لیتی ہیں۔

اس ایک واقعے سے ملک بھر کے سیاہ فام ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہو چکے ہیں جو الیکشن میں اس کے خلاف ووٹ دیں گے۔ اس واقعے پر گوروں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ احتجاج کرنے والے سیاہ فاموں کو جیلوں میں ڈالا جائے اور 10، 10 سال قید کی سزا دی جائے۔ احتجاج کرنے والوں نے جو بنر اٹھا رکھے ہیں ان پر مقتول کے آخری الفاظ I cnannot breath درج ہیں۔ ایک بینر پر لکھا تھا:

You murder us and we keep silent; we are not arabs

یعنی آپ ہمارے لوگوں کو قتل عام کریں ہم کوئی عرب نہیں ہیں کہ اس (ظلم پر) پر خاموش رہیں۔

امریکی نسل پرستی کے یہ واقعات چند دن کے بعد لوگوں کو بھول جائیں گے مگر امریکہ ایک ناکام ریاست کے طور پر تیزی سے ابھرنا شروع ہو چکا ہے۔ یہاں پر نسلی امتیاز کے علاوہ سماجی امتیاز جو امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھ چکی ہے، وائٹ کالر کرائم اور وال سٹریٹ گھپلوں میں اربوں ڈالر پر کوئی کارروائی نہیں جبکہ غریب آدمی کی زندگی 20 ڈالر سے بھی سستی ہے۔


ای پیپر