کورونا کا وجود ہی تسلیم نہیں تو ڈرنا کیسا؟
04 جون 2020 (14:43) 2020-06-04

کورونا وائرس جس کا وجود ہمارے ہاں اب تک تسلیم ہی نہیں کیا جا سکا، ووہان، یورپ اور برطانیہ میں تباہی پھیلانے کے بعد پاکستان میں روزانہ اوسطاً 60 سے زائد لوگوں کو متاثر کر رہا ہے۔ کورونا کی وبا نے چین پر حملہ کیا تو ہم نے اسے چینی باشندوں کی جانب سے حرام جانور کھانے کا نتیجہ قرار دے دیا۔ امریکہ اور یورپ پر یلغار ہوئی تو ہمیں وہ طاقتور ممالک سے قدرت کا انتقام نظر آیا۔ ہم نے سائنس کا مذاق بھی اڑایا اور سپر پاورز کو مفلوج ہوتے دیکھ کر سکون کا سانس بھی لیا۔ ہمارے ملک میں کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے تو ذمہ داری بیرون ملک سے آنے والوں پر ڈالی گئی۔ کسی نے ایرانی زائرین کو نشانہ بنایا تو کسی نے تبلیغی جماعت کے افراد کو کہیں بند کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔ وائرس مزید بڑھا اور لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا تو ہم فلاسفر قوم نے اسے یہودی و مغربی سازش کے بعد اپنی ہی حکومت کی سازش قرار دے دیا۔ کورونا کے مریض کو دیکھنے کے لیے سڑکوں پر جمع ہونے والی زندہ دل قوم نے یہ بھی سوچا کہ ہماری قوت مدافعت دوسرے ملکوں کی نسبت زیادہ ہے لہذا وائرس ہمیں کچھ نہیں کہے گا۔ ایک تھیوری نے یہ بھی کہا کہ وائرس بس بیماروں اور بوڑھوں کو متاثر کرے گا نوجوان محفوظ ہیں۔ مگر حقائق یہ ہیں کہ محکمہ سیکنڈری اینڈ پرائمری ہیلتھ کے اعداد و شمار کے مطابق تادم تحریر پاکستان میں رپورٹ ہونے والے کورونا مریضوں کی تعداد 76 ہزار سے زائد ہے۔ اب تک 16 سو زائد مریض دم توڑ چکے جبکہ 27 ہزار سے زائد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں کورونا سے متاثر ہونے والے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد 16 سے 30 سال تک کے نوجوانوں کی ہے۔ قیاس آرائیاں کرنے والی ہونہار قوم اب بھی یہ سمجھ رہی ہے کہ میڈیا نے سنسنی پھیلائی ہوئی ہے حقیقت میں وائرس ہے ہی نہیں، اتنی اموات تو ملیریا اور ڈینگی سے ہو جاتی ہیں،اتنی بڑی آبادی میں چند سو اموات ہو بھی گئیں تو کیا فرق پڑے گا؟ ایک سوچ یہ بھی کی حکومت کہیں سے پیسے لینے کے لیے قدرتی موت مرنے والے مریضوں کو بھی کورونا مریض کہہ رہی ہے۔ ایسی فلاسفر قوم پر حکومت کیوں نہ روز نیا تجربہ کرے، لاک ڈاؤن کر دو، لاک ڈاؤن کھول دو، گھروں میں رہو لیکن معشیت چلانے کے لیے باہر نکلو، عید کی شاپنگ کر لو کہ کورونا چھٹی پر گیا ہے۔ آجکل بھی صورتحال یہ ہے کہ موصوف کورونا ہفتے اتوار کو مکمل اور جمعہ کو آدھی چھٹی پر جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا کی ویکسین یا علاج دریافت نہیں ہوا مگر ہماری ہاں پہلے دن سے ہی دیسی ٹوٹکے موجود ہیں۔ پاکستانیوں نے کہیں خوف کے مارے تو کہیں محض ایڈونچر کے طور پر تقریباً ہر ٹوٹکا آزما لیا ہے مگر نہیں اپنایا تو عالمی ادارہ صحت کا بتایا ہو ناک اور منہ ڈھاپنے کا طریقہ کار۔۔۔ دنیا کی صحت سے متعلقہ بڑی تنظیموں نے دنیا کو پہلے دن سے ہی الرٹ کر رکھا ہے کہ کورونا سے بچنا ہے تو ناک اور منہ ڈھانپیں، چھینکتے وقت کہنی سے منہ کو ڈھانپیں، سماجی فاصلہ رکھیں، بار بار ہاتھوں کو صاف کریں، ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں اور غیر ضروری طور ہر کسی بھی سطح کو چھونے سے پرہیز کریں۔ مگر ہمارا ماننا ہے کہ کیونکہ یہ مغربی ٹوٹکہ ہے اسلیے سازش بھی ہو سکتا ہے۔ ہماری فلاسفر قوم کے ڈاکٹرز بھی دنیا میں الگ ہی مقام رکھتے ہیں۔ سرکار کا کروڑوں کا خرچہ کر کے سائنس پڑھ پڑھ کر ڈاکٹر بنتے ہیں مگر علاج حکیم سلیمان کی حکمت سے ہی کرتے ہیں۔ کئی ڈاکٹرز آف دی ریکارڈ اپنے مریضوں اور جاننے والوں کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ ماسک پہننے کی تو کوئی ضرورت ہی نہیں۔ سرکار پہلے دن سے ہزاروں تجربات کر رہی ہے مگر ماسک پہننا لازم نہیں قرار دے رہی۔ وزیر اعظم خود قوم سے خطاب کرتے ہوئے ماسک استعمال کر رہے ہیں نہ معمول کی کسی میٹنگ میں۔ اپنے قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پنجاب میں عثمان بزدار نے بھی ماسک پہننا نافرمانی سمجھ رکھا ہے۔ ہمارے ملک میں مسئلہ کشمیر ہو یا افغانستان کا، ٹدی دل کا حملہ ہو یا کورونا کی وبا، سب مسائل کا حل طویل میٹنگز اور بیان بازی ہی ہے۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے '' look busy to nothing '' پاکستان میں حکومت ہو، سرکاری ملازمین یا کوئی بھی ذمہ دار عہدے کا محافظ اس محاورے کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے تو کامیابی اسے کے قدم چومتی ہے، چاہے اس کامیابی سے اداروں اور قوم کا کباڑا ہو جائے۔ کورونا صورتحال میں بھی یہی کیا گیا جو وقت اور پیسہ آگاہی مہم پر لگانا تھا وہ مریضوں کی تعدار رپورٹ کرنے پہ لگا دیا گیا۔ لاک ڈاؤن مسئلے کا حل نہیں یہ نعرہ بھی لگایا گیا اور لاک ڈاؤن بھی کیا گیا۔ گرم پانی کا استعمال، پیاس لہسن، زیتون اور پتہ نہیں کون کون سی جڑی بوٹیوں کا پرچار کرنے کے بعد ہمارے حکما حضرات بھی اب ویکسین کی تیاری کے منتظر ہیں۔

سرکاری وزراء کی پریس کانفرنسز ، سیاسی اجتماعات اور تازہ ترین مثال شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے ماڈل ٹاؤن میں لگنے والے تماشے کی ویڈیوز دیکھ لیں۔ عوامی نمائندگان کی جانب سے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑانے کے مناظر عوام کو کورونا کا وجود تسلیم نہیں کرنے دیتے۔ کورونا کے آغاز کے دنوں میں صدر عارف علوی کا ایک پبلک سروس مسیج دیکھا تھا باقی کسی نے نہ اپنے عمل سے اور نہ الفاظ سے آگاہی دینے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم خود ماسک پہن کر عوام سے احتیاط کرنے کا کہتے تو حالات مختلف ہو سکتے تھے۔

اسی طرح وزراء اعلیٰ، حکومتی ذمہ داران اور سکرین پر نظر آنے والی شخصیات کو ماسک پہن کر آگاہی دینا پہلی ذمہ داری تھی مگر ہم نے نہیں نبھائی ذمہ داری اور کورونا کو پھیلنے دیا اور اب صورتحال یہ ہے کہ 76 ہزار مریضوں کی سرکاری سطح پر موجودگی کے باوجود آدھی آبادی کورونا کے وجود کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔


ای پیپر