مطالعے اور کتابوں کی دُنیا … !
04 جون 2020 (14:42) 2020-06-04

اس موضوع پر کالم لکھنے کی تحریک کس بنا پر ہوئی اس بارے میں شاید اس سلسلے کے آغاز کے پہلے دو کالموں میں (جو چھپ چکے ہیں) کچھ وضاحت موجود تھی۔ اب اس کا دوہرانا مناسب نہ ہو گا ۔ تاہم یہ بتانا شاید نامناسب نہ ہو اور نہ ہی میں اسے خود نمائی پر محمول کرتا ہوں کہ میری برسوں سے یہ عادت چلی آ رہی ہے کہ جب تک میں روزانہ کسی کتاب، کسی نئی یا پرانی تصنیف، کسی مضمون یا کالم ، یہاں تک کہ پہلے سے پڑھے ہوئے کسی کالم یا کتاب کے کسی حصے یا کسی رسالے وغیرہ کا تھوڑا بہت مطالعہ نہ کر لوں مجھے چین نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ کتنے ہی قابلِ قدر مصنفین اور مصنفات کی قیمتی تصانیف بالخصوص ناول، آب بیتیاں یا کسی ایک خاص عہد یا دور کے واقعات سے متعلق معتبر شخصیات کی لکھی ہوئی یاداشتیں اور کتنے ہی نمایاں قلمکاروں اور کالم نگاروں کے آدھے ادھورے یا پورے کالم اور قلمی نگارشات میں سے کوئی نہ کوئی اقتباس جو مجھے لیٹے لیٹے آسانی سے دستیاب ہو اُس کا پڑھنا ایک طرح کا میرا معمول بنا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مطالعہ بھی ایک طرح کا چسکا یا شوق ہے ، جسے پڑ جائے وہ اُ سے آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا۔ میرے اندر مطالعے کی یہ عادت جو فطری طور پر کچھ نہ کچھ پہلے سے موجود تھی کیسے راسخ اور پختہ ہوئی اپنی جگہ یہ ایک داستان ہے۔ لیکن اس میں اہم کردار میرے مربی ، محسن اور ہمدم دیرینہ محترم عرفان صدیقی کا ہے کہ اُن کی وجہ سے میرا کچھ ایسے رسائل و جرائد اور کُتب و تصانیف سے تعارف اور رسائی ہوئی کہ جس سے میری مطالعے کی عادت کو بلا شبہ جلا ملی۔

محترم عرفان صدیقی کے نام سے کون واقف نہیں ۔ آپ ایک صاحبِ طرز نثر نگار، مستند کالم نگار ، سنجیدہ خو تجزیہ کار اور خوبصورت شاعر کی حیثیت سے ہی نہیں جانے جاتے ہیں بلکہ ایک صاحبِ سیرت و کردار مقبول شخصیت ، قابلِ احترام معلم اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے ایک انتہائی قریبی اور بااعتماد ساتھی کی بھی پہچان رکھتے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور بعد میں محترم شاہد خاقان عباسی کے ادوارِ حکومت میں ان کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ رہے ہیں اور ملک میں علم و ادب کی ترویج و اشاعت اور قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے زیرِ انتظام مختلف علمی و ادبی اداروں کے پلیٹ فارم سے اہلِ قلم خواتین و حضرات کی قدر افزائی اور مالی معاونت کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کرنے کے حوالے سے بھی ایک مثبت کردار کے مالک رہے ہیں۔ خیر یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس پر کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔ اس وقت بات میرے اندر مطالعے کی عادت پختہ اور راسخ ہونے اور اس میں محترم عرفان صدیقی کے کردرا کی ہو رہی ہے اُسی کی طرف لوٹتے

ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ 1964 ء کے جون ، جولائی یا اگست میں سے کوئی ایک مہینہ تھا جب محترم عرفان صدیقی صاحب کی وساطت سے میرا ماہنامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ لاہور سے تعارف ہوا ۔’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘نیا نیا چھپنا شروع ہوا تو اُس کے کچھ ہی عرصہ بعد لاہور سے ’’ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ‘‘اور ’’ماہنامہ حکایت‘‘ بھی چھپنا شروع ہو گئے اس طرح ان سے بھی شناسائی ہو گئی ۔ ان تینوں رسالوں کی اُس وقت قیمت 1 روپیہ 50 پیسے یا اُس کے لگ بھگ ہوتی تھی۔ ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘ کے جون ، جولائی یا اگست 1964 ء کے جس شمارے کا میں حوالہ دے رہا ہوں یہ اس کا معمول سے بڑھ کر زائد صفحات پر چھپا ہوا سال نامہ تھا جس میں جماعتِ اسلامی کے بانی امیر ، سیاسی رہنما اور پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام میں مفکرِ اسلام اور اسلام کے داعی کی پہچان رکھنے والی شخصیت سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کا انٹریو چھپا تھا۔ یہ انٹر ویو ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کے مدیر مسئول محترم الطاف حسن قریشی نے لیا تھا۔ ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کا یہ شمارہ بہت بڑی تعداد میں غالباً1 لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں جو اُس دور کے لحاظ سے اشاعت کی ناقابلِ یقین تعداد گردانی جا سکتی تھی چھپا۔ ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘سے میرا یہ پہلا تعارف تھا اگلی چار ، پانچ دہائیوں تک میں اس کا مستقل خریدار رہا۔اس کے بہت سارے پرانے پرچے میرے بڑے بیٹے سعد عثمان ملک جس نے ماشاء اللہ سیاسیات میں ماسٹر اور بین الااقوامی امور میں ایم فل کی ڈگریاں لے رکھی ہیں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ میں ان پرانے شماروں میں سے کبھی کبھار کوئی نہ کوئی مضمون اب بھی پڑھ یا دیکھ لیتا ہوں جو کالم نگاری میں بطورِ حوالہ میرے لیے مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘بلا شبہ ایک زمانے میں اپنے انداز کا بہت ہی مقبول ماہنامہ تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی جیسا میں نے اُوپر لکھا لاہور سے ’’ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ‘‘ جس کے مدیر مشہور ادیب سید قاسم محمود مرحوم تھے اور ’’ماہنامہ حکایت ‘‘ جس کے مدیر مشہور کہانی کار جناب عنایت اللہ مرحوم تھے بھی چھپنے لگے ۔ ڈائجسٹ رسالوں کے چھپنے کی یہ روایت لاہور سے کراچی پہنچی اور وہاں سے بھی کئی ڈائجسٹ ، رسالے منصہ شہود پر آ گئے۔ ان میں’’ خواتین ڈائجسٹ‘‘، ’’جاسوسی ڈائجسٹ‘‘، ’’سسپنس ڈائجسٹ‘‘ اور ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ کے نام نمایاں تھے۔ کراچی سے چھپنے والے ان ڈائجسٹ رسالوں میں ہندو عقائد کیمطابق دیوی ، دیوتائوں کی کہانیاں شائع کرنا ایک مشترک بات رہی ہے ۔ ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ کو اپنے مدیر محترم شکیل عادل زادہ کی لکھی ہوئی سلسلہ وار کہانی ’’بازی گر‘‘ اور اپنے معیار طبعاعت اور صوری حسن کی وجہ سے باقی ماہناموں پر ہمیشہ فوقیت حاصل رہی۔ خیر ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کے ذکر کی طرف واپس آتے ہیں جیسا میں نے اُوپر کہا یہ ماہنامہ اپنی مثال آپ تھا۔ اس کو ممتاز ، مقبول اور وسیع الا اشاعت اور صوری و معنوی اعتبار سے مثالی جریدے کا روپ دینے میں اس کی مجلسِ ادارت کا بڑا ہاتھ تھا۔ ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی مجلسِ ادارت کے صدر تھے اور اب بھی ہیں تو محترم الطاف حسن قریشی مدیر مسئول کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے اور پیرانہ سالی کے باوجود اب بھی اپنی اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں۔ ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کے ادارتی عملے میں مختلف ادوار میں محترم مقبول جہانگیر (مرحوم)، آباد شاہ پوری (مرحوم)، محترم اسد اللہ غالب اور محترم ضیاء شاہد وغیرہ کے نام نمایاں رہے۔ ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کے ہر پرچے میں محترم الطاف حسن قریشی کا ’’مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں‘‘ کے عنوان سے لکھا ہوا اداریہ اور ’’ہم کہاں کھڑے ہیں‘‘ کے عنوان سے قومی امور کے بارے میں ایک تجزیاتی مضمون اور اُس کے ساتھ کسی شخصیت کا انٹر ویو طویل عرصے سے ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کی پہچان رہے ہیں ۔

’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کا تذکرہ مزید طویل ہو سکتا ہے لیکن تھوڑا سا ذکر ’’ ماہنامہ اُردو ڈائجسٹ ‘‘کے ادارے کے تحت چھپنے والے ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کا کر لیتے ہیں۔ جس کا بھی میں کئی دہائیوں تک مستقل قاری رہا۔ 1969 ء میں ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ کا اجراء ہوا تو جناب مجیب الرحمن شامی اس کے مدیر تھے اور مجلسِ ادارت میں مختلف اوقات میں کئی شخصیات شامل رہیں جن میں محترم سجاد میر، ممتاز اقبال ملک ، ہارون الرشید، رفیق ڈوگر جو ’’دید شُنید ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے اور مرحوم مختار (پورا نام میں بھول رہا ہوں) اور محترم سعود ساحر وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ہفتہ روزہ ’’زندگی‘‘ کے ادارتی عملے کے یہ ارکان اتنے معروف ہوئے کہ جس بھی اخبار یا جریدے سے منسلک ہوئے میں ان کا قاری بنا رہا۔ یہ تفصیل بھی بڑی طویل ہو سکتی ہے لیکن میں محترم عبدالقادر حسن اور’’غیر سیاسی باتیں ‘‘ کے عنوان سے چھپنے والے اُن کے کالم کا مختصراً تذکرہ کر کے اس کو ختم کرتا ہوں۔ عبدالقادر حسن ہمیشہ سے میرے پسندیدہ کالم نگار رہے ہیں۔ اُن کا سیدھا سادہ اندازِ تحریر اور اُس میں سیاسی شخصیات اور حالات و واقعات کے تذکرے کے ساتھ اپنے علاقے اور اپنے گائوں ’’سون سکیسر ‘‘ کا تذکرہ ہمیشہ سے مجھے اچھا لگتا رہا ہے۔ اُن کے بعض بہت قدیم کالموں کے مندرجات مجھے اب بھی یاد ہیں۔ ’’سون سکیسر ‘‘ جسے ’’اعوان کاری‘‘ بھی کہتے ہیں اِس سے کچھ میری بھی نسبت بنتی ہے کہ ہمارے گائوں چونترہ میں بسنے والے اعوانوں کے آبائو اجداد بھی کسی زمانے میں اسی اعوان کاری سے نقل مکانی کر کے یہاں آ کر آباد ہوئے تھے۔ بہت سارے مصنفین، قلمکار اور اُن کی تصانیف اور کُتب کا ذکر ابھی باقی ہے انشاء اللہ ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔


ای پیپر