لداخ تنازع کا فیصلہ کُن موڑ
04 جون 2020 (14:42) 2020-06-04

یہ بات واضح ہے کہ بھارت کسی ہمسائے سے کوئی بھی تنازعہ حل کرنے میں سنجیدہ نہیں بلکہ وجہ تنازعات بن رہا ہے اسی وجہ سے ایک بھی ہمسایہ اُس سے خوش نہیں اپنے طورطریقے درست کرنے کی بجائے علاقائی طاقت بننے کے جنون میںنریندرمودی نے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اِس لڑائی اور محازآرائی سے صرف جنوبی ایشیا کے ممالک ہی متاثر نہیں ہورہے بلکہ بھارت کا اپنا بھی نقصان ہورہا ہے حالت یہ ہوگئی ہے کہ کوئی ہمسایہ اُس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیںچینی معیشت کو ترقی کی راہ سے ہٹانا امریکہ کی ضرورت ہے اِسی لیے وہ بھارت کو تھپکی دیکر چڑھ جا سولی پہ رام بھلی کرے گا کے مصداق جنگ میں کودنے کا مشورہ دے رہاہے وگرنہ امریکی پالیسی ساز بخوبی جانتے ہیں کہ بھارت میں اتنی استعداد ہی نہیں کہ چین سے لڑائی جیتنا تو کُجا مناسب طریقے سے مقابلہ کر سکے بھارت رقبے اور آبادی کے لحاظ سے خطے کا بڑا ملک ضرور ہے لیکن جارحانہ عزائم کی بنا پر کسی کا پسندیدہ نہیں بلکہ نفرت کی علامت بن چکا ہے صرف امریکہ مفادات کی وجہ سے ریشہ خطمی ہے وگرنہ اُسے بھی پتہ ہے کہ جنونی بھارت دنیا کے لیے خطرے سے کم نہیں ۔

لداخ ایک ایسے سلگتے تنازعہ کی شکل اختیار کر چکا ہے جس سے پُورا خطہ تنائو کا شکار ہے اور کسی بھی وقت کسی انہونی کا باعث بن سکتا ہے قبل ازیں سکم میں بھارت وچین کے فوجیوں میں ہاتھا پائی ہوئی جس پر دونوں ممالک نے فوجی دستوں کی تعداد میں اضافہ کیا اب لداخ میں میں بھی تصادم معمول بنتا جا رہا ہے ہاتھا پائی کے بعد دونوں طرف سے ایک دوسرے پر سنگ باری ہونے لگی ہے ابھی تو بھارتی فوجی بینرلہرا کر چینی سپاہ سے واپس جانے کی اپیل کر رہے ہیں لیکن کسی وقت صورتحال میں تباہ کُن تبدیلی کا امکان رَد نہیں کیا جاسکتا گزشتہ ماہ کے دوران ایل او سی پر دونوں ممالک کے فوجی سات بار باہم الجھ چکے ہیں دوواقعات میں

دونوں طرف کے فوجی اچھی خاصی تعداد میں زخمی بھی ہوئے اور کچھ گرفتاریاں بھی ہوئیں جس کا چین نے نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو تباہ کُن نتائج کے لیے تیاد رہنے کا انتباہ کرتے ہوئے نہ صرف لائن آف ایکچوئل پر گشت بڑھا دیا ہے بلکہ یکطرفہ امن کا مظاہرہ کرنے کی بجائے رویہ جارحانہ کر لیا ہے فضائی نگرانی کے لیے ہیلی کاپڑ پروازیں کرتے نظر نظر آتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ بھارت کو امریکی تھپکی کی چین کوپرواہ نہیں اور وہ سبق سکھانے کی کاروائی کرنے کا تہیہ کر چکا ہے چیتے اور میمنے کی لڑائی میں کون فاتح ہوتا ہے سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔

دریائے گلوان اور پینگونگ سوجھیل کے اطراف میں چین نے اپنا دائرہ اثرمزید پینتیس کلو میٹر بڑھا لیا ہے جس پر بھارت غم و غصے کا شکارہے دونوں ممالک ہی ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا حق جتاتے ہیں چین نے مشرقی کنارے پراگر مزید گشتی اُتار دی ہیں تو مغربی کنارے پر بھارتی کشتیاں متحرک ہیں نئے جھگڑے میں شدت کی وجہ اُس سڑک کی تعمیر ہے جو بھارت فوجی ٹرانسپورٹ کے لیے بنا رہا ہے جسے چین اپنے مفادکے لیے خطرہ تصور کرتا ہے جھیل کے شمال میں واقع پہاڑ کی ڈھلوانوں سے ہی ایل او سی گزرتی ہے مغربی سیکٹر کی متنازعہ گلوان وادی میں بھارتی تعمیرات کوچین یکطرفہ اور غیرقانونی تصور کرتا ہے اسی لیے پیپلز لبریشن آرمی نے علاقے پر اپنا کنٹرول مزید سخت کردیا ہے چین ایک ایسا چیتا ہے جسے بھارتی میمنا زیر نہیں کر سکتا جس کا مودی کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ادراک ہے اسی لیے اپنے دوست کو سُبکی سے بچانے کے لیے دونوں ممالک میں ثالثی کی پیشکش کر بیٹھے ہیں لیکن بھارت کی طرف سے امریکی پیشکش رَد کرنے کے پس منظر میں یہ سوچ کارفرما ہے کہ وہ خود کو بڑی طاقت سمجھتاہے اور اُس کے خیال میں ثالثی کی ضرورت کمزور ممالک کو ہوتی ہے ۔

1962کی بھارت چین جنگ میں دہلی کو منہ کی کھانا پڑی اِس لیے مودی حکومت فوری طور پرنیا محاز کھولنے سے گریزاں ہے اور مزاکرات کے زریعے کوئی افہام تفہیم کا پہلو تلاش کرنا چاہتی ہے مگر چین اب کسی رعایت پر تیار نہیں 2017 سے دونوں ممالک علاقے لداخ کے متنازعہ علاقے میںتعینات فوجی دستوں میں اضافہ کر رہے ہیں لیکن بڑے پیمانے پر تصادم کی نوبت نہ آئی مگر نئی زیرِ تعمیر سڑک پر چین کسی قسم کی نرمی دکھانے پر تیار نہیں اُس کے سخت رویے سے واضح ہے کہ بھارت کو ایک بار ہی ایسا سخت سبق سکھا دیا جائے تاکہ مستقبل میں کبھی آنکھیں دکھانے کے قابل نہ رہے کرونا بحران کے دوران بھارت نے پوری کوشش کی کہ چین سے انڈسٹری بھارت منتقل ہوجائے کوئی معیشت کے خلاف سازش کرے اور چینی بھول جائیں یہ ممکن نہیں سی پیک کے خلاف بھارتی سازشوں سے زمانہ آشنا ہے اِن حالات میں اپنے پالتو کو بچانے کے لیے امریکہ کوشاں ہے کہ بھارت چین ٹکرائو کی صورت میں کسی طرح پاکستان کو غیر جانبدار رہنے پر قائل کرلیا جائے تاکہ بھارت صرف چین کے محاز پر توجہ مرکوز سکے مگر ایل او سی کی روز ہونے والی خلاف ورزیاں اور کشمیر کی حثیت تبدیل کرنے پر پاکستان کا خاموش رہنا ممکن نہیں 1962 کی جنگ میں بھی چین نے پاکستانی قیادت کو کشمیرپر چڑھائی کامشورہ دیا تھا مگر ہماری قیادت نے غیر جانبدار رہ کر نہ صرف کشمیر حاصل کرنے کاسنہری موقع گنوادیا بلکہ 1965 میں جنگ کی صورت میں خمیازہ بُھگتا اِ س لیے پاکستان اگر جنگ کے ایام میں اپنے مفادات کا تحفظ نہیں کرتا تو عوام ایسی حکومت کا بولورام کردے گی علاقے کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین اِس بات پر متفق ہیں کہ بھارت چین جنگ اگر ہوتی ہے تو یہ جنگ دو ممالک تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان اور نیپال بھی لڑائی کا حصہ بن سکتے ہیں اور یہ لڑائی علاقے میں نئے ممالک کا باعث بن سکتی ہے عین ممکن ہے بھارتی فو ج مایوسی کا شکارہے اور چینی جارحیت کی صورت میں موثر دفاع کی سکت نہیں رکھتی اِس لیے ممکن ہے انتہا پسند ہندو قیادت کئی علاقوں سے محروم ہوجائے اِس صورت میںمغربی جانب خالصتان کی صورت میں سکھ جبکہ مشرق میں ایک آزادعیسائی ریاست کے معرضِ وجود میں آنے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔


ای پیپر