یہ ملاقات اک بہانہ ہے!....(بیسویں و آخری قسط)
04 جون 2020 2020-06-04

وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے بڑے پرعزم تھے کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد شوگر مافیا کے کسی کردار کو کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم کا یہ عزم واقعی سچا ہے پھر اس میں صرف جہانگیر ترین نہیں پھنستے تھے، پھر اس میں بے شمار ایسے لوگ بھی پھنسیں گے جو ہر وقت وزیراعظم کے اردگرد بیٹھے ہوتے ہیں اور وزیراعظم ان کے مشوروں کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ وزیراعظم کے کردار کا یہ ایک امتحان ہے۔ اس معاملے میں انصاف کے تقاضے کسی حد تک وہ پورے کرتے ہیں؟ کبھی کبھی مجھے اپنے سسٹم، اپنے قانون خصوصاً اپنی اخلاقی روایات پر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں رشوت لینے کے عمل کو ہی غلط اور ناجائز سمجھا جاتا ہے۔ رشوت دینے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا جبکہ ہمارا دین واضح طور پر کہتا ہے ”رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں“۔ یہاں رشوت دینے والا رشوت لینے والے کے خلاف اینٹی کرپشن میں درخواست لے کر پہنچ جاتا ہے اور اس کی درخواست پر کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ درخواست دینے والے سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم نے رشوت دی کیوں تھی؟ رشوت دینے والے یہ جواز تراشتے ہیں، انہیں مجبوری کے تحت رشوت دینی پڑتی ہے۔ اس کے بغیر ان کے کام نہیں ہوتے۔ بندہ پوچھے رشوت دینے والوں کی کوئی مجبوری ہوسکتی ہے۔ رشوت لینے والوں کی کوئی مجبوری کیوں نہیں ہوسکتی؟ میں نے اس حوالے سے وزیراعظم سے اپنی ملاقات میں بڑی تفصیل سے بات کی۔ میں نے انہیں بتایا پنجاب میں رشوت کئی گنا بڑھ گئی ہے جو کام پہلے پانچ ہزار میں ہوتا تھا اب پچیس ہزار میں ہوتا ہے۔ خصوصاً محکمہ مال اور محکمہ پولیس میں رشوت کے بغیر کوئی کام کسی ”معجزے“ کے تحت نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمایا وہ اس کی انکوائری کروائیں گے۔ ظاہر ہے انکوائری کیلئے وہ آسمانوں سے فرشتے اتار کر تو لا نہیں سکتے۔ سو ممکن ہے انکوائری کے بعد انہیں ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹ ہی ملے۔ پر حقیقت یہی ہے جو وزیراعظم کی خدمت میں عرض کردی۔ جہاں تک جہانگیر ترین اور شوگر مافیا کا معاملہ ہے انصاف کے تقاضے صرف اس صورت میں پورے ہوسکتے ہیں وزیراعظم اس معاملے میں کسی کو کوئی رعایت نہ دیں۔ ویسے جو ہمارا سسٹم ہے، جو ماضی میں ہوتا آیا ہے وزیراعظم کو چاہئے اس مکمل اطمینان کے ساتھ اپنے قریبی ذمہ دار ساتھیوں کو بھی گرفت میں لے آئیں کہ آگے جا کر کون سا کسی کو کوئی سزا ہوجانی ہے بلکہ وزیراعظم کو چاہئے اس حوالے سے اپنے کچھ ساتھیوں کو باقاعدہ اعتماد میں لے لیں کہ آگے جا کر عدالتوں سے آپ کو کوئی نہ کوئی رعایت تو مل ہی جاتی ہے۔ سو مجھے اگر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو تھوڑا بہت سہارا دینے کیلئے آپ کو گرفت میں لانا پڑ بھی جائے اس میں آپ کیلئے فکر مندی کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔ جیسے ہی عدالت نے آپ کو کوئی ریلیف دے دیا میں بھی فوراً آپ کو آپ کے عہدے پر بحال کردوں گا۔ خیر یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔ فی الحال تو وزیراعظم عمران خان خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنی جماعت کے کرپٹ مافیا پر ایسا ہاتھ ڈالا جس نے دوسری سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں انہیں ایک منفرد مقام پر لا کر کھڑے کردیا۔ ہماری اکثر سیاسی جماعتیں اپنے لوگوں کے جرائم چھپاتی ہیں یا ان کی پارٹی کے کسی اہم رہنما کے خلاف کوئی سکینڈل سامنے آ جائے تو اس کی انکوائری کا حکم مجبوراً کسی نہ کسی کے مطالبے یا دباﺅ پر دبا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انکوائری افسران پر دباﺅ ڈالا جاتا ہے کہ اسے بے قصور قرار دے دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین اور شوگر مافیا کے خلاف کارروائی یا انکوائری کا حکم کسی کے مطالبے پر نہیں اپنے ضمیر کی آواز پر دیا۔ اپوزیشن تو ویسے ہی یہ مطالبہ نہیں کرسکتی تھی کیونکہ وہ خود اس شوگر مافیا کا حصہ ہے اور دوسری پریشانی اپوزیشن خصوصاً ”اپوزیشن لیڈر“ کیلئے یہ تھی، وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف انکوائری کا حکم دے کر یہ ثابت کردیا، وہ سابق تمام سیاسی حکمرانوں سے بہتر ہیں اور ظاہر ہے وزیراعظم کو ہر حوالے سے اپنے جیسا ثابت کرنے والے سابق سیاسی حکمران یہ کیسے چاہیں گے وزیراعظم کسی بھی حوالے سے ان سے منفرد اور بہتر ثابت ہوں۔ ملاقات میں وزیراعظم نے واضح طور پر مجھ سے کہا ”اگر میں دوسری سیاسی جماعتوں کے چوروں اور ڈاکوﺅں کو بے نقاب کرنے میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوا اور اتنے سال مسلسل اس کیلئے جدوجہد کی تو اپنی جماعت کے چوروں اور ڈاکوﺅں کو بے نقاب کرنے میں بھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوں گا“۔ میں سوچ رہا تھا وزیراعظم کی دو ”اپنی جماعتیں“ ہیں۔ ممکن ہے آگے چل کر وہ اتنے طاقور ہوجائیں اپنی دوسری ”جماعت“ کے کچھ لوگوں کی ”بدعنوانیوں“ کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیں جن کے خلاف چھوٹی سی کسی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے بڑے بڑے سیاسی حکمرانوں کے ہمیشہ پَر جلتے ہیں جہاں تک جہانگیر ترین کا معاملہ ہے میرے خیال میں انصاف کے تقاضے صرف اسی صورت میں پورے ہوسکتے ہیں پی ٹی آئی اور عام لوگوں میں موجود اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے عملی شواہد سامنے لائے جائیں کہ پارٹی کیلئے ان کی قربانیوں کو نظرانداز کرکے ان کے خلاف جو انکوائری کروائی گئی اس کے پیچھے کسی کا کوئی ذاتی یا سیاسی ایجنڈہ نہیں تھا۔ پی ٹی آئی شاید واحد جماعت ہے جس میں کئی گروپ ہیں، جو ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ کبھی ایک ”گروپ“ خان صاحب کی قربت میں آجاتا ہے، کچھ عرصے بعد اس گروپ کا مخالف گروپ خان صاحب کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ پی ٹی آئی کے کچھ اہم رہنما بتاتے ہیں جہانگیر ترین بھی اسی ”ڈرٹی پالیٹکس“ کا شکار ہوئے اور شاید ٹھیک ہی ہوئے۔ عدلیہ سے نااہلی کا ”اعزاز“ حاصل کرنے کے بعد سیاست کا کیڑا کچھ عرصہ کیلئے وہ اپنے اندر سے نکال دیتے، پارٹی خصوصاً حکومتی معاملات میں بے جا مداخلت نہ کرتے تو بدنامی کے جس مقام پر جا کر وہ کھڑے ہوگئے ہیں ممکن ہے اس سے بچ جاتے۔ خیر اب بھی ان کیلئے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ خصوصاً اگر انہوں نے واقعی کرپشن کی ہے پھر تو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ویسے مجھے یقین ہے وہ پریشان ہوں گے بھی نہیں کیونکہ وہ پاکستان کے سسٹم کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، بلکہ اس کا حصہ ہیں۔ جہاں تک خان صاحب کا تعلق ہے، تھوڑی بہت سمجھ انہیں بھی آگئی ہوگی کہ پاکستان میں اگر مال نہیں بنانا تو سیاست میں آنے کا فائدہ؟ چلیں انہیں تو مال بنانے کی ضرورت نہیں کہ ان کی ضرورتیں ہمیشہ دوسروں نے ہی پوری کی ہیں۔ باقیوں کا کیا قصور ہے؟؟!!


ای پیپر