آدابِ مساجد، آدابِ مسجد نبوی
04 جون 2020 2020-06-04

قارئین کرام! میں آج سے کافی عرصہ قبل جب طالب علمی کے دور میں تھا، تو مجھے حج کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، میرے ساتھ میرے ماموں، ہمشیرہ اور بہنوئی بھی تھے۔ کچھ عرصہ قبل دوبارہ عمرے کی سعادت نصیب ہوئی، تو یقین کیجئے، سوائے گنبد خضریٰ کے ہر شے بدل چکی ہے اور پرانی مسجد نبوی کہیں سے بھی دکھائی نہیں دیتی، نہ ہی اس کے کوئی آثار نظر آتے ہیں۔

مگر یقین کیجئے کہ مسجد نبوی کی جو توسیع کی گئی ہے، اسے دیکھ کر دل انتہائی خوش ہوجاتا ہے، ہمارے نبی محترم جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی خواہش بھی یہی تھی کہ مسجد میں توسیع کی جائے۔ مسجد نبوی شریف وہ عالی مرتبت دربار ہے جس کی خاکروبی کو اولیاءو سلاطین اور شہنشاہ بھی سرمایہ افتخار اور سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ اسی دربار رسالت مآب کے ایک گوشے میں مقصود اور وجہ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آسودہ خواب ہیں۔

اس لئے اس دربار ذی وقار میں نہایت آداب و احترام، خشوع و خضوع، عجز و انکساری کے ساتھ داخل ہونا چاہئے۔ بزرگان دین ہمیں سمجھاتے ہیں کہ یہ وہ جگہ، ہے کہ یہ مقام وحی کے اترنے کی جگہ اور جائے عزت و رحمت ہے اور یہ حضور کی مسجد ہے۔

اسی لئے جب اس مسجد میں داخل ہونا نصیب ہو، تو اس کی تعظیم کے پیش نظر نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ داخل ہوں اور مسجد کی آرائش، زیبائش اور شان و شوکت کی طرف بالکل دھیان نہ دیں کہ آپ کی آمد کا مقصد ہی آپ کو حاصل نہ ہوسکے۔

اگر آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلامان ابن غلامان کے فرمودات پر عمل پیرا ہیں تو ذرا چشم تصور میں اپنے نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس شان و شوکت کو ذہن میں لائیں، جب آپ اپنے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو دوبدو ملنے کیلئے تشریف لے گئے تھے اور بوقت ملاقات اس کا فاصلہ ایک کمان سے بھی کم تھا مگر قربان جائیے اپنے پیارے نبی پر، کہ صرف اس وقت نہیں کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے مل رہے تھے بلکہ جب سفر معراج شروع ہوا تو نہ تو ان کی آنکھ ذرا سی بھٹکی، نہ ان کا دھیان تھوڑی دیر کیلئے کہیں اور گیا۔

بہتر یہ ہوتا ہے کہ مسجد نبوی میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کرلیا جائے خواہ وہ تھوڑی دیر کیلئے کیوں نہ ہو کیونکہ مسجد نبوی میں کی گئی عبادت کا ثواب بے حد زیادہ ہے کیونکہ مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں لہٰذا کسی بھی مسجد میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کرلینی چاہئے بلکہ حفظ ماتقدم کے طور پر تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے براہ راست یہ درخواست کرلے کہ میں جب بھی مساجد میں داخل ہوں تو اسے اعتکاف کی نیت کی سعادت کے ثواب سے مالامال کردیا جائے۔

مسجد نبوی میں داخل ہونے کے بعد کوشش کی جائے کہ ریاض الجنتہ میں بھی جائیں اور سید کونین اور سیاح لامکان کے مصلےٰ یعنی محراب کے دائیں جانب کم از کم دو نوافل تحیتہ الحجہ اور تحیتہ الوضو بھی ادا کرلئے جائیں چونکہ لوگوں کا وہاں کافی رش ہوتا ہے اور ہر مسلمان کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے یہ سعادت ضرور نصیب ہو، لہٰذا نوافل زیادہ طویل نہ پڑھیں اگر وہاں پڑھنے والے زیادہ نہ ہوں تو پھر زیادہ نوافل پڑھنے کو ترجیح دیں، خصوصاً مسجد نبوی اور ہر مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ دعا مانگنی چاہئے کہ اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور واپسی پہ کہے کہ الٰہی میں تجھ سے تمہارے فضل کا طلب گار ہوں۔

تمام مساجد میں اور بالخصوص مسجد نبوی میں دھیمی آواز سے بات کرنی چاہئے۔ حضرت سائبؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ کسی نے کنکر مار کر مجھے جگایا اور آواز نہیں دی، میں نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروقؓ نے مجھے فرمایا، کہ ان دو آدمیوں کو جو اونچی زبان میں بات کررہے ہیں، میرے پاس لاﺅ، میں نے حکم کی تعمیل کی اور ان دونوں کو بلا کر آپ کے سامنے پیش کردیا۔

آپ نے ان سے دریافت فرمایا، کہ کہاں کے رہنے والے ہو، انہوں نے جواب دیا، کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں، حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا، کہ تم اگر مدینے کے رہنے والے ہوتے تو اپنے کئے کی ضرور سزا پاتے۔ تم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد مبارک میں اس طرح بلند آواز میں باتیں کررہے ہو، میں نے محض تمہیں مسافر ہونے کی وجہ سے معاف کردیا ہے اور سزا نہیں دی۔

سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں، کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے، کہ میری مسجد کو اگر یمن اور صنعا تک وسیع کردیا جائے، تو یہ پھر بھی میری مسجد ہے، اسی لئے حضرت عمر فاروقؓ نے فرمایا تھا، کہ مسجد نبوی شریف کو ذوالحلیفہ تک وسیع کردیا جائے، تو تب بھی وہ مسجد نبوی ہی کہلائے گی اور اس کی عظمت برقرار رہے گی۔

قارئین! انشاءاللہ مسجد نبوی کے بارے میں میرے پاس جو معلومات ہیں، وہ میں ثواب کی نیت کیلئے اگلی دفعہ آپ کے ساتھ شیئر کروں گا، کیونکہ ریاست مدینہ کا نام لے کر محض حکمرانی کرلینا وجہ تکبر نہیں ہونی چاہئے۔ نفاذ اسلام کیلئے بھی کچھ تو کرلینا چاہئے۔ کیا سود لینے اور دینے والا اپنے آپ کو مسلمان کہلاسکتا ہے؟؟؟ بقول شاعر مظفر شاہ

کیسے جھکوں سرشت میں شامل ہے، سرکشی

آباءکسی بھی حال میں سائل نہیں ہوئے!

رنج و محسن تو پیار میں حائل نہیں ہوئے!

ہم لٹ گئے، کفر پہ مائل نہیں ہوئے


ای پیپر