”عید“ کی سچی خوشی کیسے حاصل کریں؟
04 جون 2019 2019-06-04

وہ بتانے لگا :”دفتر والے چھٹی نہیں دے رہے تھے۔ میں نے اعتکاف کا بہانہ کیا اور یوں مجھے آخری عشرہ اپنے گھر کے اے سی کمرے میں گزارنے کا موقع مل گیا ! میں نے اس کی باتیں سنیں تو کہا : اگر رمضان المبارک میں اعتکاف کے لیے چھٹی لی تھی تو اعتکاف بھی بیٹھ جاتے۔ وہ بولا ! آپ درست کہتے ہیں مگر پچھلے برس کے تجربے نے مجھے مسجد کی طرف جانے نہ دیا۔ میں نے دیکھا بیشتر اعتکاف والے عبادت کے بجائے اپنا زیادہ وقت لیب ٹاپ یا موبائل پر گزارتے ہیں۔ سو اس بار میں نے گھر میں مکمل ریسٹ کا پروگرام بنایا۔ الحمدللہ روزے بڑے اچھے جارہے ہیں اب تو آخری روزہ ہے یہ بھی گزر جائے گا۔ سر سچی بات ہے ہم رمضان المبارک کا مکمل احترام نہیں کرسکتے دنیا دار جو ہوئے۔ سحروافطاربڑے خشوع خضوع کے ساتھ کرتے ہیں۔ ساری نمازیں بھی پڑھی نہیں جاسکیں۔ اس ماہ میں پرانی فلمیں بڑے کام آتی ہیں۔ اس بار آخری عشرے میں دن کے وقت دودرجن فلمیں دیکھیں۔ اب عید کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

یہ ساری باتیں ایک سرکاری نوجوان ملازم نے بتائیں جو اکثر مجھے حجام کے پاس ملتا ہے اتفاق کہہ لیں یا کچھ اور ہم ادھر اکٹھے ہی کٹنگ کرانے جاتے ہیں۔ باتیں جاری تھیں کہ میری باری آگئی “۔ حجام نے قینچی کے ساتھ اپنی زبان بھی چلانا شروع کردی۔ بزرگو! بندوں سے کیا ڈرنا۔ روزہ بندہ اللہ کے لیے رکھتا ہے ہم تو مزدور پیشہ لوگ ہیں۔ بعض اوقات سخت گرمی میں روزہ چھوٹ ہی جاتا ہے۔ میں تو اپنے ایک شاگرد کے والد کو روزے رکھواتا ہوں۔ جو روزے نہ رکھ سکوں اس کا دینی حل جو موجود ہے۔ اصل میں اس مہینے اخراجات بھی بہت ہوجاتے ہیں افطار پر ہزار روپیہ لگ جاتا ہے۔ یہ کوئی فائیو سٹار افطاری نہیں ہوتی، یہ سادہ سی افطاری کا خرچا ہے۔ عید لینے والے بھی جان نہیں چھوڑتے سحری میں اس جدید دور میں جگانے کے لیے کسی ڈھول ٹین والے کی ضرورت نہیں ہے مگر بعض لوگ ڈھول بجا کر اب بھی جاگے ہوﺅں کو جگاتے نظرآتے ہیں۔

لاہور میں ویسے ہی شہر جاگتا رہتا ہے خاص طورپر رمضان المبارک میں ساری رات بازار ہوٹل تک کھلے رہتے ہیں عید بازاروں میں سحری تک رش رہتا ہے۔ اب بندہ ان ڈھول سے جگانے والوں کو پوچھے کہ تم گلی گلی یہ ڈھول ٹین کھٹکاکے کسے جگا رہے ہو۔ مگر ابھی عید میں ایک دن پڑا ہے اور آگئے عیدی وصول کرنے۔ میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔

ایک زمانے میں عید کارڈ دے کر عید کی خوشی کا اظہار ہوتا تھا۔ ان دنوں موبائل پر ہی ”مسیج“ سے ہرکام چل رہا ہے۔ غمی خوشی عید بقر عید پر وٹس اپ اور فیس بک پر ہی فرض ادا کرلیا جاتا ہے۔ ”کٹنگ مکمل ہوئی تو مجھے “ گوشت لینے کے لیے جانا تھا۔ قصائی مٹن گیارہ سوروپے کلو وصول کررہا تھا۔ بولا !ڈاکٹر صاحب!عید کی وجہ سے سو روپے زیادہ لے رہے ہیں۔ منڈی سے 1050فی کلو پڑا ہے بکرے مہنگے ہوگئے ہیں عید پر آپ کو پتہ ہی ہے ہر شے کو پر لگ جاتے ہیں۔ عید کے بعد ہزارروپے (پرانا ریٹ) بحال ہو جائے گا۔ اور سرجی ہم تو بکریاں نہیں لاتے صرف دیسی بکرے لاتے ہیں آپ کو تو پتہ ہے ؟آپ چند منٹ انتظار فرمائیں میں باجی کو فارغ کرلوں پھر آپ کا قیمہ بناتا ہوں۔ میں نے مسکراکر کہا میرا قیمہ نہ بناﺅ گوشت سے قیمہ بنانا۔ اس پر دیگر گاہک بھی ہنسنے لگے۔

افطاری کے بعد عید مانگنے والوں کی لائن لگ گئی۔ پہلے مالی آیا پھر چوکیدار ، خاکروب کارواش کرنے والے سے لے کر الیکٹریشن تک نے ”عیدی“ کا مطالبہ کیا۔ گھر کی کام کرنے والیوں کو صرف عید نہیں کپڑے بھی دینے پڑتے ہیں۔

مجھے اپنے بچپن اور گاﺅں کی عید یاد آگئی۔ کس قدر خوشی سے بھرپور عید ہوا کرتی تھی اب تو عید پر سب کچھ ہوتا ہے خوشی نہیں ہوتی۔ یہ سالانہ اخراجات کا ایک بابرکت مہینہ ہوتا ہے۔

رحمتوں کے اس مہینے میں ہربندہ ”عید“ کمانے کی فکر کرتا ہے۔ وہ روزہ رکھتا ہے نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور اپنے کاروبار میں ساری چالاکیاں استعمال کرتے ہیں ملاوٹ کرنے، جعلی اور دونمبر اشیاءبھی فروخت کرنے سے باز نہیں آتے۔

بیشتر مڈل کلاس کے مرد حضرات سوکر دن گزارتے ہیں۔ صبح عید پڑھ کر عزیزواقارب کو فون پر عید کی مبارک دیتے ہیں۔ فیس بک اور وٹس اپ پر عید کی مبارک بادیں تو ایک دوروز قبل ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ صدقہ خیرات لینے والے عید کے روزبھی ”گھر سے نکل کر ”عیدی“ اکٹھے کرتے ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم جو فقط صرف اپنی ”عید“ کے لیے چوکس رہتے ہیں اور ”عید“ خوشی اور پرجوش انداز میں مناتے ہیں کیا ایسے میں وہ حقیقی ضرورت مند جو مانگنے کے لیے اپنی زبان کسی کے آگے نہیں کھولتے۔ کبھی ہمیں یاد آتے ہیں ؟عید کی سچی خوشی حاصل کرنے والوں کو مشورہ ہے کہ حقیقی اور سچی خوشی کے لیے آپ کسی چہرے پر خوشی بکھیرنے کی کوشش کریں۔ اپنے اردگرد ایسے خودار ضرورت مند سفید پوش افراد کا کھوج لگاکر خاموشی کے ساتھ ان کی مدد فرمائیں۔ اسی میں ہماری عید سچی خوشی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔


ای پیپر