کیکڑا ون منصوبہ؛؛؛ناکام ہوا یا سازش کا شکار؟
04 جون 2019 (22:15) 2019-06-04

ہمیں معدنی وسائل سے مستفید ہونے کیلئے جدید ٹیکنالوجی میں طاق ہونا پڑے گا

ہمایوں سلیم

اس امر میں کوئی دورائے نہیں کہ پاک سر زمین کواللہ تعالیٰ نے طرح طرح کی معدنیات اور قدرتی وسائل سے مالامال کر رکھا ہے۔ یہ معدنی وسائل تیز رفتار اقتصادی اور صنعتی ترقی کے فروغ میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں تیل کے ذخائر سطع مرتفع، پوٹوہار، کھوڑ، ڈھلیاں، کوٹ میال،ضلع اٹک میں سارنگ،ضلع چکوال میں بالکسر، ضلع جہلم میں جویامیر اور ڈیرہ غازی خان میں ڈھوڈک اور سندھ میں بدین، حیدرآباد، دادو اور سانگھڑ کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ صنعتوں کو رواں رکھنے کے لئے قدرتی گیس مطلوب ہوتی ہے۔ اس کو گاڑیوں میں اور گھریلو کاموں (امورِ خانہ داری) کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال بہت عام ہوگیا ہے کیونکہ یہ پیٹرول کے مقابلے میں سستی ہوتی ہے۔ملک کی توانائی کا تقریباً 35 فیصد قدرتی گیس سے پورا ہوتا ہے۔گیس کے ذخائر کے سب سے اہم مقامات بلوچستان میں سوئی، ا±چ اور زَن، سندھ میں خیرپور، مزرانی، سیری، ہنڈکی اور کندھ کوٹ اور پنجاب میں ڈھوڈک، پیرکوہ، ڈھلیان اور میال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب میں ڈنڈوت، مکڑوال اور پڈھ ، بلوچستان میں شارگ، خوست، ہرنائی، سار، ڈیگاری، شیری اور مچھ، سندھ میں کوئلہ کی کانیںموجود ہیں۔ علاوہ ازیں خام لوہا، کرومائیٹ، تانبا، جپسم، نمک، چونے کا پتھر اور سنگِ مر مر جیسی معدنیات بھی پاکستان کے مختلف حصوں میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ تیل اور گیس کے ذخائر اگر دریافت کر لئے جائیں تو اس دولت سے پاکستان اقتصادی لحاظ سے بآسانی خود کفیل ہو سکتا ہے۔ گاہے بگائے حکومتوں کی جانب سے عام کو یہ خوشخبریاں بھی ملتی رہتی ہیں کہ ملک کے فلاں علاقے سے فلاں معدنی ذخیرے کی نشاندہی ہوئی ہے جہاں سے اسے نکال کر ملک کی تقدی بدل دی جائے گی۔

گزشتہ دنوں بھی ایسی ہی ایک خوشخبری سامنے آئی تھی کہ کیکڑا ون آف شور بلاک کی خوشخبری سامنے آئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ہم تیل اور گیس کے ذخائر کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ اس حوالے سے سندھ کی ساحلی پٹی پر کراچی سے 280 کلو میٹر دور کیکڑا ون آف شور بلاک میں 5 ہزار 470 میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی۔ ڈرلنگ کے دوران آپریشن ٹیم نے خود اطلاع دی کہ اسے ڈرلنگ کے دوران ہائی پریشر کا سامنا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تیل اور گیس کے ذخائر کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔ابتدائی تخمینہ جاتی رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا کہ تیل وگیس کے ذخیرہ تک رسائی حاصل کر لی گئی ہے ، اس بلاک ( کیکڑا ون بلاک )میں 9 ٹریلین کیوبک فٹ گیس اور خام تیل کی بڑی مقدار موجود ہو سکتی ہے جو پاکستان کی ایک سو سال تک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوں گے ۔

وزیر اعظم نے بھی قوم کو خوشخبری دی کہ وہ جلد تیل اور گیس میں خود کفیل ہونے جا رہے ہیں ۔ پھر اچانک تین وفاقی وزرا نے کیکڑا ون کا دورہ کیا جس کے بعد ڈرلنگ کرنے والی کمپنیوں نے وزیر اعظم کو حتمی رپورٹ بجھوانے سے پہلے ہی کنواں بند کرنا شروع کر دیا جب وزیر اعظم کو رپورٹ ملی اس وقت تک کھدا گیا کنواں ریت اور سیمنٹ سے یوں بھر دیا گیا تھاکہ اگر کوئی دوبارہ اسے کھودنے کی کوشش بھی کرے تو نہ کامیاب نہ ہو سکے ۔

یہاں پرسوال یہ نہیں ہے کہ کیکڑا ون میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود تھے یا کہ نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ڈرلنگ کی حتمی رپورٹ آنے سے پہلے یہ کنواں کس کے کہنے پر بند کیا گیا۔ ماہرین کا مو¿قف ہے کہ آج کے اس جدید دور میں ایسی کوئی کمپنی نہیں ہے جو مصدقہ شوائد کی عدم موجودگی میں اربوں روپے سمندر میں جھونک دے ۔ اگست 2018 ءمیں اس وقت کے نگراں وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے انکشاف کیا تھا کہ معروف توانائی کمپنی ایگزون موبل پاکستان میں کویت سے بھی بڑے تیل کے ذخائر دریافت کرنے کے قریب ہے۔نگراں وزیر خارجہ کے مطابق ایگزون کمپنی پاک ایران سرحد کے قریب اب تک 5000 میٹر تک ڈرلنگ کر چکی ہے اور وہ تیل کے نئے اور وسیع ذخائر دریافت کرنے کے بہت قریب ہے۔عرب نیوز نے بھی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ مذکورہ ذخائر دریافت ہونے کا قوی امکان ظاہر کیا تھا اس رپورٹ کے مطابق تیل کی دریافت کے بعد پاکستان دنیا کے 10 سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔کھدائی کے اختتام پر بھی کمپنی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ کیکڑا ون آف شور بلاک میں ڈرلنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا، تیل و گیس کے ذخیرے کے حجم کے تخمینے کے لئے ٹیسٹنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ تیل و گیس ملنے یا نہ ملنے کا کے لئے ٹیسٹنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کیکڑا ون می آف شور بلاک میںکھدائی کے دوران ہائیڈرو کاربن کی موجودگی اور ہائی پریشر کا سامنا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کا عمل دو سے تین روز کے دوران مکمل کر لیا جائے گا۔ ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تیل وگیس کے ذخائر کی موجودگی کی رپورٹ آنے کے بعد انفراسٹرکچر بنانے کا کام شروع کیا جائے گا۔ تیل کو نکالنے اور قابل استعمال بنانے کے لیے دو سال اور گیس کو نکالنے کے لیے اور اسے قابل استعمال بنانے کے لئے تین سال لگیں گے۔ عالمی تحقیقاتی ادارے ریسٹیڈ انرجی کے مطابق تیل اور گیس کی دریافت پاکستان میں تین بڑی ممکنہ دریافتوں میں شامل ہے۔ کیکڑا ویل سے ڈیڑھ ارب بیرل کے برابر خام تیل اور گیس دریافت ہو سکتی ہے۔ ایگزون کمپنی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کیکڑا ون بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے گیارہ جنوری 2019ءمیں ڈرلنگ شروع کی گئی جو اب مکمل کر لی گئی ہے، لیکن بعد میں کیا ہوا کہ ‘وہاں سے ذخائر نہیں ملے کا مژدہ سنا کر قوم کی خوشیوں پر آرام سے پانی پھر دیا گیا۔

خیر یہ تو ہمارے اندیشے تھے جو شاید چلتے رہیں گے، کیوں کہ جب تک ہمیں صحیح معلومات فراہم نہیں کی جاتیں تب تک ہم عوام قیاس آرائیوں اور مفروضوں پر قائم باتوں پر یقین کرتے رہیں گے۔ لیکن اس حوالے سے Ben A van کی کتاب Earth Structure کا جائزہ لیا جائے تو اس خیال کی نفی ہو جاتی ہے کہ تیل اور گیس کے ذخائر بہتے دریا کی مانند ہوتے ہیں۔ اگر کہیں سے یہ دونوں پیداوار حاصل ہو رہی ہیں تو اس کے آس پاس ان پیداوار کا کوئی نہ کوئی منبع ضرور موجود ہو گا۔ یہ تصور درست نہیں اس لئے کہ یہ ذخائر چھوٹے بڑے “پیالہ” نما اسٹریکچروں، تالابوں یا جھیلوں کی صورت میں ہوتے ہیں اور کسی بھی جانب اپنا بہاو¿ نہیں رکھتے۔ یہ جہاں ہوتے ہیں وہیں ہوتے ہیں البتہ کسی زلزلے یا زمین کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں اگر کہیں اور ذخیرہ کرنے کی جگہ موجود ہو تو وہاں منتقل ضرور ہو سکتے ہیں یا پھر زمین کے سارے بندھن توڑ کر زمین سے باہر نکل پڑتے ہیں۔ لہٰذا اگر ماہرین کے مطابق یہاں زیر زمین تیل کے تالاب موجود ہیں تو اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن حالیہ ریسرچ (کیکڑا ون نامی علاقے میں) میں تیل وگیس کے ذخائر کی تلاش پر 10 کروڑ ڈالر خرچ کرنے کے بعد حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ منصوبے کو روک دیا جائے! کیا کیکڑا ون واقعی ناکام ہوا یا تیل کے قریب پہنچنے کے بعد اس منصوبے کو کسی بیرونی طاقت کے دباﺅ پر روک دیا گیا ہے؟تیل و گیس کی تلاش کےلئے کھدائی کا فیصلہ یونہی بیٹھے بٹھائے، خواب یا تصور کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے قبل خلائی سیارے سے معلومات اکٹھا کرنے کے علاوہ بالا و زیر زمین زیادہ سے زیادہ حقائق جاننے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ کھدائی کا فیصلہ سب سے آخری اور حتمی اقدام ہوتا ہے، زمین کی سطح سے نیچے مٹی اور دیگر دھاتوں کی پرتوں کو ایکسرے کے عمل سے گزارہ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مذکورہ ذخائر کا حجم تک معلوم ہو جاتا ہے تاہم معیار کا اندازہ ڈرلنگ مکمل ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے۔ لہٰذامیں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان بیرونی دباﺅ تلے دبک کر رہ گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دباﺅ کیا ہے؟ کیوں ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟پاکستان اگر تیل و گیس کی پیداوار میں کم سے کم اپنی ضروریات کی حد تک ہی خودکفیل ہو جاتا ہے تو یہ بات پہلے جوہری صلاحیت رکھنے والے اسلامی ملک کی صورت عالمی طاقتوں کےلئے قابل قبول نہیں دوسری حقیقت یہ ہے کہ تیل اور اسلحہ بیچنے والے طاقتور مافیا کسی بھی صورت پاکستانی معیشت کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ خلیجی ممالک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر امریکی اور یورپی کمپنیوں کی ملکیت ہیں، یہ کمپنیاں ایسا شیطانی گٹھ جوڑ رکھتی ہیں کہ فی الحال تیل کو اسی علاقے تک محدود رکھتے ہوئے دنیا کو مہنگے داموں تیل بیچنا چاہتی ہیں، اس لئے اگر خلیج کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی تیل نکل آیا تو خلیج کا مہنگا تیل کون خریدے گا؟ یہ مافیا کتنا طاقتور ہے اس بات کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ خود امریکہ بھی اپنے ہاں حاصل ہونے والا تیل استعمال نہیں کر پا رہا اور وہ بھی خلیجی ممالک سے تیل خرید رہا ہے۔امریکہ نے شیل تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کی عالمی مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت 145ڈالر سے 30 ڈالر فی بیرل کر دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن کمپنیوں نے شیل گیس میں سرمایہ کاری کی تھی وہ دیوالیہ ہو گئیں کیونکہ شیل گیس نکالنے پر لاگت ہی پچاس ڈالر فی بیرل آتی تھی! کینیڈا نے مٹی صاف کر کے تیل نکالنا شروع کیا تو وہ سعودی عرب کے بعد تیل پیدا کرنےوالا دوسرا بڑا ملک بن گیا مگر یہاں بھی لاگت زیادہ تھی چنانچہ مذکورہ مافیا نے کینیڈا کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

باراک اوباما نے جب امریکی صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا تو انہیں پہلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ امریکہ توانائی کے متبادل زیادہ پائیدار اور بڑے ذرائع کی تلاش کے قریب پہنچ چکا ہے اور جس دن نئی انرجی دنیا میں متعارف کرا دی اس دن ہمارے وارے نیارے ہو جائیں گے اور امریکہ پر جو چودہ کھرب ڈالر کا قرض ہے وہ بوجھ بھی اتر جائے گا مگر صدر اوباما کو آٹھ سال کے دوران متبادل انرجی نہ مل سکی کیونکہ جن کمپنیوں کی تیل پر اجارہ داری تھی انہوں نے مذکورہ تحقیق کو آگے بڑھنے نہیںدیا۔

بہرکیف روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور عالمی اداروں کی جانب سے سخت شرائط کا مقصد بھی یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی انارکی کی طرف لے جایا جائے ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ تیل نکل آئے اور پاکستان کے ہاتھ سالانہ دس سے پندرہ ارب ڈالر جیسی لاٹری لگ جائے؟ چنانچہ پہلے اےگزون موبل کو کہا گیا کہ عالمی مارکیٹ میں ایرانی تیل کی کمی کو پورا کرنے کےلئے کیکڑا ون کھولیں لیکن پھر اچانک امریکہ اور تیل کی علاقائی قوتوں میں معاملات طے پا گئے اور ایگزون موبل کو نتائج دینے سے روک دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ کیکڑا ون پر سیدھی کھدائی روک کر عمودی ڈرلنگ شروع کی گئی تھی اور اسی دن سے واقفان حال سمجھنے لگے تھے کہ دال میں کچھ کالا ہے کیونکہ آج سے دس سال پہلے پنڈی گھیب میں میانوالہ ون نامی رگ لگایا گیا جو ایشیاءکا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ بتایا گیا تھا۔ مذکورہ مقام پر تیل اور گیس کا دباﺅ اس حد تک زیادہ تھا کہ رگ کے سیفٹی والو تک پھٹ گئے‘ ملحقہ دیہات خالی کرانے کے آرڈر تک آ گئے لیکن پھر امریکہ سے ہائی پریشر والو خصوصی آرڈر پر بنوائے گئے۔ محدود پیمانے پر سپلائی بھی شروع کی گئی اور یہاں سے تیل ریفائنری تک لے جانے کےلئے پائپ لائن بھی بچھ گئی مگر دو سال بعد اس کنویں کو جہاں ایشیاءکے سب سے بڑے ذخائر موجود تھے اچانک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ امریکی اور یورپی کمپنیاں اور ان کے ساتھ پاکستانی کمپنیاں جو ڈرلنگ کرتی ہیں وہ ہمیشہ ناکام ہی کیوں ثابت ہوتی ہیں؟ کیکڑا ون میں تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اوراس حوالے سے وزیر اعظم پاکستان کو جو حقائق بتائے گئے، وہ بھی سو فیصد درست تھے مگر قومی فیصلہ سازی کرنے والوں میں دہری شہریت اور پاکستان سے باہر ذاتی و کاروباری مفادات رکھنے والوں کی اکثریت ہے، جن سے چھٹکارہ حاصل کئے بغیر ممکن ہی نہیں کہ پاکستان کبھی بھی تیل و گیس یا کوئلے کے وسیع ذخائر کی کھوج اور ان زیرزمین نعمتوں کے ذخائر سے خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکے۔ لہٰذاان حالات میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے....

قدرت نے ہمیں اس قدر معدنیات کی دولت سے نواز ہے تو ہم خود کو اس قابل کیوں نہیں بناتے کہ ہمیں ان کی دریافت کے لئے اغیار کے سامنے ہاتھ ہی نہ پھیلانا پڑھیں۔ کیا یہ ممکن نہیں ہم جدید ٹیکنالوجی میں وہ مقام حاصل کر لیں کہ اپنے قدرتی وسائل سے فیضیاب ہونے کے لئے ہمیں دوسروں کا دست نگر نہ ہونا پڑے۔ اگر ہم باعزت طریقے سے دنیا میں رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کرنا ہوگا، نہیں تو زندگی کے دن تو ایسے تیسے کٹ ہی جاتے ہیں۔

٭٭٭


ای پیپر