عیدالفطرانعام واکرام کادن
04 جون 2019 (22:09) 2019-06-04

حافظ کریم اللہ چشتی:

آج عید الفطر کا دن ہے۔ عید کی اصل مسرتیں تو دوسروں کے چہروں پر خوشیوں کے کھلانا ہے۔ لفظ عید ”عود“سے نکلاہے جس کے معنی لوٹ آنے کے ہیں، عید کا دن چونکہ ہر سال لوٹ کر آتا ہے اس لئے اس کو عید کہتے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے لئے شادمانی کا دن ہوتا ہے۔ رحمتوں اور برکتوں والے مہینے رمضان المبارک کے آخری دن کی شام کو عیدکا چاند نظر آتا ہے جس سے مومنوں کو بے حد خوشی ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے روزے پایہ¿ تکمیل تک پہنچے اور ان کی ماہ رمضان کے روزوں کی عبادت بارگاہ رب العزت میں قبول ہوئی۔ ایک مہینہ کی روزہ درانہ زندگی گزارنے کے بعد مسلمان آزادی کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں، اللہ رب العالمین کا شکر بجالاتے ہوئے اجتماعی طور پر دو رکعت نماز عیدالفطر ادا کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں، خوشی مناتے ہیں، صدقہ خیرات کے ذریعے غریبوں کی مدد کرتے ہیں، یہ سب چیزیں عید کی روح کو بتاتی ہیں۔

عید کی اصل روح اللہ کو یاد کرنا ہے۔ اپنی خوشیوں کے ساتھ لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہونا ہے۔ اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے دوسرو ں کے حقوق کو ادا کرنا ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ گویا تیاری اور احتساب کا مہینہ تھا۔ اس کے بعد عید کے دن گویا نئے عزم اور نئے شعور کے ساتھ زندگی کے آغاز کا دن ہے۔ عید کا دن دوبارہ نئے حوصلوں کے ساتھ مستقبل کی طرف سفر کے آغاز کا دن ہے۔

روزے میں آدمی دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے ایک لمحہ کے لئے کٹ گیا تھا۔ حتیٰ کہ انسان نے اپنی فطری ضرورتوں تک پابندی لگا دی تھی۔ یہ دراصل تیاری کا وقفہ تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ باہر دیکھنے کی بجائے اپنے اندر کی طرف دھیان دے۔ اور اپنے آپ میں وہ ضروری اوصاف پیدا کرے جو زندگی کی جدوجہد کے دوران اس کے لئے ضروری ہیں۔ جن کے بغیر وہ کاروبار حیات میں مفید طور پر اپنا حصہ ادا نہیں کر سکتا۔ مثلاً صبروبرداشت، اپنی واجبی حد کے اندر رہنا، منفی اثرات سے اپنے آپ کو بچانا اس قسم کا ایک پُرمشقت مہینہ گزار کر وہ دوبارہ زندگی کے میدان میں واپس آیا ہے۔ اور عید کے تہوار کی صورت میں وہ اپنی زندگی کے اس نئے دور کا افتتاح کر رہا ہے۔ اس طرح عید کا دن مسلمانوں کے لئے آغاز ِحیات کا دن ہے۔ روزہ نے آدمی کے اندر جو اعلیٰ صفات پیدا کی ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اب وہ سماج کا زیادہ بہتر ممبر بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی پہلے سے بہتر انسان ہوتا ہے۔ روزہ میں آدمی نے بھوک، پیاس برداشت کی تھی۔ اب باہر آ کر وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوشگواریوں کو برداشت کرتا ہے۔ روزہ میں اس نے اپنے سونے اور جاگنے کے معمولات کو بدلا تھا، اب وہ وسیع تر انسانی مفاد کے لئے اپنی خواہشوں کو قربان کرتا ہے۔ روزہ میں اس نے عام دنوں سے زیادہ خرچ کیا تھا، اب وہ اپنے واقعی حق سے زیادہ لوگوں کو دینے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ میں وہ بندوں سے کٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ اب باہرآکر وہ سطحی چیزوں میں الجھنے کے بجائے بلند مقصد کے لئے متحرک ہوتا ہے۔ روزہ میں وہ اپنی خواہش کو روکنے پر راضی ہوا تھا، اب باہرکی دنیا میں یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے والا بن جائے۔ روزہ سال کے ایک مہینہ کا معاملہ تھا، تو عید سال کے گیارہ مہینوں کی علامت ہے۔ روزہ میں صبر، عبادت، تلاوت قرآن اور ذکرالٰہی کے مشاغل تھے، اب عید سے جدوجہد حیات کا مرحلہ پھر سے شروع ہوتا ہے۔ روزہ اگر انفرادی سطح پر زندگی کا تجربہ تھا تو عید اجتماعی سطح پر زندگی میں شریک ہونا ہے۔ روزہ اگر اپنے آپ کو اللہ کے نور سے منور کرنے کا وقفہ تھا، تو عیدگویا ساری دنیا میں اس روشنی کو پھیلانے کا اقدام ہے۔ روزہ اگر رات کی تنہائیوں کا عمل تھا، تو عید دن کے ہنگاموں کی طرف صحت مند پیش قدمی ہے۔ روزہ جس طرح محض بھوک، پیاس نہیں، اسی طرح عید محض کھیل تماشے کا نام نہیں۔ دونوں کے پیچھے گہری معنویت چھپی ہوئی ہے۔ روزہ وقتی طور پر عالم مادی سے کٹنا اور عید دوبارہ عالم مادی میں واپس آ جانا ہے۔ روزہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور عید اس زیادہ نئے بہتر سال کا آغاز ہے۔ جو روزہ کے بعد روزہ داروں کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔

عید دراصل نئی زندگی شروع کرنے کا دن ہے۔ عید کا پیغام ہے کہ مسلمان ایمانی قوت اور نئے امکانات کی روشنی میں از سر نو زندگی کی جدوجہد میں داخل ہوں ۔ ان کا سینہ اللہ تعالیٰ کے نور سے روشن ہو، مسجدیں اللہ کے ذکر سے آباد ہوں۔ ان کے گھر تواضع کے گھر بن جائیں۔ سارے مسلمان آپس میں متحد ہو کر وہ جدوجہد کریں جس کے نتیجے میں انہیں دنیا میں اللہ کی نصرت اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام کے طور پر جنت ملے۔ عید کی اصل خوشی تو یہی ہے کہ انسان کو بقائے دوام حاصل ہو جائے، اس کی آخرت سنور جائے، اس کی عبادت وریاضت اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبول ہو جائے، اس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ اور اس کے حبیب کی اطاعت میں گزرے تا کہ اللہ پاک کی خوشنودی حاصل ہو جب وہ دنیا سے جائے تو صاحب ایمان جائے قبر کے سوال و جواب میں آسانی ہو قبر میں مثل ِجنت راحت نصیب ہو پھر یومِ حساب کو اس کی نجات ہو۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔ ترجمہ” اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو۔ اور اللہ کی بڑائی بولو۔ اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزارہو“۔ (سورة البقرہ)

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خوشی اور فرحت کے لئے سال میں دو اہم دن مقرر کئے ہیں جن میں سے ایک عیدالاضحی اور دوسرا عیدالفطر کا دن ہے۔ آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلی عیدالفطردو ہجری میں ادا فرمائی۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ حضور جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو (دیکھاکہ) وہاںکے لوگ دو دن کھیل تماشے میں گزارتے تھے، حضور نے دریافت فرمایا کہ یہ دن کیا ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم ایام جاہلیت میں ان دو دنوں میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے، رسول کریم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے ان ایام کے بدلے میں تمہیں ان سے بہتر دو ایام یوم الاضحی اور یوم الفطر عطا فرمائے ہیں۔ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص ماہ رمضان المبارک میں دن کو روزہ رکھے، رات کو (قیام )نوافل ادا کرے اور عید کے دن صدقہ فطر ادا کر کے عید گاہ میں جائے تو عیدگاہ سے واپس ہونے تک اس کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضوراکرم نے فرمایا کہ رمضان المبارک کی آخری شب میں اس امت کی مغفرت ہوتی ہے، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا! یارسول اللہصلی اللہ علیہ والہ وسلم وہ شب قدرہے؟آقا نے فرمایا نہیں بلکہ کام کرنے والے کو اس وقت پوری مزدوری دی جاتی ہے جب کہ وہ کام پورا کر لیتا ہے ۔(مسنداحمد) اللہ پاک اور اس کے حبیب کی رضا کے لئے انسان ماہِ رمضان میںدن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے۔ دن بھی اللہ پاک کی رضا میں اور رات بھی اللہ پاک کی عبادت میں گزارتا ہے۔ جب ماہِ رمضان ختم ہوتا ہے تو انسان کے گناہ بھی معاف کر دیئے جاتے ہیں اور اسے بطورانعام واکرام عیدالفطر عطا کی جاتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیںکہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں کی جانے والی دعا رد نہیں ہوتی۔1۔شب جمعہ 2۔ رجب کی پہلی رات 3۔ شعبان کی پندرہویں شب 4۔ عیدالفطرکی رات 5۔ عیدالاضحی کی رات(بیہقی)

سرکار ِمدینہ نے ارشاد فرمایا ” کہ عید کے روز اللہ تعالیٰ زمین پر کچھ فرشتوں کا نزول کرتا ہے جو یہ ندا کرتے ہیں! اے محمد کے امتیو! چلو اور اپنے اس پر وردگار کے حضور میں آﺅ جو لازوال بخشتا ہے، تھوڑے سے تھوڑا نیک عمل بھی قبول فرماتا ہے اور بڑے سے بڑا گناہ معاف کر دیتا ہے پھر جب سب لوگ میدان عیدگاہ میں نماز کے لئے جمع ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خوش ہو کر فرشتوں سے فرماتا ہے اے میرے فرشتو! تم نے دیکھاکہ امت محمدیہ پر میں نے رمضان کے روزے فرض کئے تھے انہوںنے مہینہ بھر کے روزے رکھے، مسجدوںکو آباد کیا، میرے کلام پاک کی تلاوت کی، اپنی خواہشوںکو روکا اور اپنی شرم گاہوں کی، حفاظت کی اپنے مال کی زکوٰة ادا کی اور اب ادب سے اظہار تشکر کے لئے میری بارگاہ میں حاضر ہیں میں ان کو بہشت میں ان کے اعمال کا بدلہ دوںگا پھر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے اے محمد کے امتیو! جو چاہو مانگو مجھے اپنے عزت وجلال کی قسم اس موقع پر مجھ سے جو مانگو گے میں دوںگا اور تم عیدگاہ سے پاک وصاف ہو کر نکلو گے تم مجھ سے خوش ہو اور میں تم سے راضی ہوں یہ ارشادات سن کر ملائکہ خوش ہوتے ہیں اور امت محمدیہ کو بشارت دیتے ہیں۔ (تذکرة الواعظین)

عید کے دن سات قسم کے گناہ گار بخشش کی نعمت سے محروم رہیں گے۔گراں بیچنے کے لئے غلہ کو روک کر رکھنے والا، ہمیشہ شراب پینے والا، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا، رشتہ ناطہ توڑنے والا، دل میں کینہ رکھنے والا، زنا کار، سود خور

عیدکے دن کے مسنون و مستحب امور

مسواک کرنا، غسل کرنا، کپڑے نئے ہوں تو بہتر ورنہ دھلے ہوئے پہننا، خوشبو لگانا، صبح سویرے اٹھ کر عیدگاہ جانے کی تیاری کرنا، صبح کی نماز اپنے محلہ کی مسجد میں ادا کرنا، نماز عیدالفطر سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا، عیدگاہ کی طرف پیدل چل کر ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا، گھر سے عیدگاہ کی طرف جاتے ہوئے، راستے میں عیدالفطر کے دن تکبیرات پڑھنا، نمازعیدالفطر کو جانے سے پہلے طاق عدد کھجوروں یا چھواروں کا کھانا یا میٹھی چیز کھا لینا، عید کی نماز کسی بڑے میدان میں ادا کرنا سنت ہے لیکن بڑے شہر یا اس جگہ جہاں زیادہ آبادی ہو ایک سے زائد مقامات پر عیدین کے اجتماع بھی درست ہیں اور میدان کی بھی شرط نہیں، بڑی مساجد میں بھی یہ اجتماع صحیح ہیں جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ اگر کسی ایک جگہ اجتماع ہو گا تو بہت سے لوگ نماز عید سے محروم رہ سکتے ہیں۔

اللہ پاک ملک پاکستان کو استحکام اور امن کاگہوارہ بنائے۔ ہماری تمام جانی مالی عبادات کو اپنے حبیب کریم کے صدقے قبول فرما کر ہمارے لئے ذریعہ نجات بنائے۔ (آمین)

٭٭٭


ای پیپر