پاکستان کا امیرترین شخص ....اصل مستحق زکوٰة وامداد
04 جون 2019 2019-06-04

کیا آپ کو پتہ ہے ، کہ سلطنت عثمانیہ کے بانی کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کیوں تین براعظموں کا شہنشاہ بنایا، اور ان کے زیرنگیں، سعودی عرب بھی تھا، اور اس کے علاوہ نجانے کتنے ملک تھے کہ جن کا شمار کرکے انسان حیران رہ جاتا ہے، باقی ممالک کا ذکر کیا کرنا ، حرمین شریفین کا خادم بن جانے کا اعزاز، تو رب المشرقین اور رب المغربین کے نزدیک تو دنیا اور آخرت کا سب سے بڑا انعام واکرام ہے، جس پہ جتنا ناز کیا جائے کم ہے، عثمان غازی اس سلطنت کے بانی تھے، نام کا اثر اس شخص پہ ضرور اثر دکھاتا ہے، حضرت عثمان ؓ کی شخصیت اور نام کا پرتو عثمان غازی پہ بھی پوری طرح نمایاں تھا، اُنہیں کی تقلید سخاوت میں اس حدتک چلے گئے تھے کہ وہ ادھار لے کر بھی لوگوں کی یعنی مخلوق خدا کے لیے ہمہ وقت اور شب وروز مصروف رہتے تھے۔

عثمان غازی کا تعلق کردستان سے تھاان کے آباﺅ اجداد پیشہ پیغمبرانہ اختیار کرکے بکریاں وغیرہ چرایا کرتے تھے، چنگیز خان نے جب کردستان پہ چڑھائی کی تھی تو پھر یہ سب ترکی آبسے تھے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ عثمان غازی ، لوگوں کی مدد میں اس قدر منہمک رہتے کہ ان کے گھروالوں کو ان سے گلے شکوے اس قدر بڑھ گئے کہ انہوں نے عثمان غازی کو گھر ہی سے نکا ل دیا، جب انہیں گھر سے نکالا گیا، تو رات کا وقت تھا، ان کے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا آخر کار وہ اپنے مرشد کے پاس پہنچ گئے، رات کو جاکر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنی سچی اور تاریخ ساز بپتا سنائی کہ مجھے رات اپنے ہاں بسرکرنے کی اجازت دی جائے، ان کے مرشد نے کہا اچھا میں اندر چلا جاتا ہوں، تم یہاں بیٹھک میں سوجاﺅ، عثمان غازی وہاں سوگئے، اور بے دھیانی میں ان کے پاﺅں اس طاق کی جانب ہو گئے، جہاں قرآن پاک رکھا ہوا تھا، کچھ ہی دیر سونے کے بعد اچانک ان کی آنکھ کھلی، بلکہ کچھ مو¿رخ تو یہ کہتے ہیں کہ ابھی ان کو اونگھ ہی آئی تھی کہ وہ بڑ بڑا کر اُٹھے، اور ساری رات آنسو بہاتے ، اور گڑگڑا کر رُورو کر اللہ تعالیٰ سے دست بستہ معافی مانگتے رہے کہ انجانے میں یہ غلطی مجھ سے سرزد ہوگئی ہے۔ مختصر یہ کہ ان کے مرشد نے رات کو خواب میں دیکھا، کہ احترام قرآن کے صدقے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کے سبب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عثمان غازی کو کل سے ہی بادشاہ بنادیا ہے۔ قارئین کرام، آپ لوگوں کو شاید میرے یہ الفاظ، لفاظی اور دروغ گوئی کی داستان نظر آئیں، مگر یہ تاریخی حقائق، اور مورخوں کی لکھی گئی داستان ہے۔ اب موجودہ دور کے عثمان غازی، ڈاکٹر محمد امجد ثاقب ، نے کوئی انوکھا کام کیا ہے؟ خلق خدا کی خدمت ہی تو کی ہے، جس کا انعام اللہ تعالیٰ فوری طورپر اس دنیا میں، اور پھر آخرت میں دیتا ہے، کہ دوسروں کو دنیا اور آخرت میں بھی رشک ہوتا ہے، خلق خدا کی ابتدا کیسے ہوئی؟ یہ چشم کشا واقعہ ناقابل یقین ہے، کہ دنیا میں ایسا کرنا بھی ممکن ہے، مگر قارئین دنیا بنانے والا، دنیا والوں میں سے ہی بظاہر دنیا دار،کوئی دل فگار کے دل کو آتش کدہ بنادیتا ہے، کہ جس کے شکستہ دل میں ایک پل بھی چین وآرام حرام ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر محمدامجد ثاقب نہ تو حکمران ہیں، اور نہ ہی سیاستدان ہیں، تو پھر ان کو کیا اخوت یونیورسٹی بنانی ضروری تھی، سرسید احمد خان کی طرح سوچ رکھنے والے نے، مکتب کی کرامات دکھانے کے لیے، ایسی یونیورسٹی بنا ڈالی کہ جس میں نہ تو فیس ہے اور نہ ہی رہائش کے اخراجات اور نہ کتابوں کی قیمت کا بوجھ، دراصل بقول حضرت حفیظ تائبؒ

میں یہ سمجھوں گا کہ آنکھوں کی نمی کام آگئی

آپ کی رہ میں ، جو میری زندگی کام آگئی

فقر سے نسبت ہوئی جو ہے متاعِ مصطفیٰ

کاروبار زیست میں بے حاصلی کام آگئی

حشر میں بھی یہ بنے گی میری بخشش کا سبب

دہر میں جیسے غلامی آپ کی کام آگئی

مختصر یہ کہ ڈاکٹر محمدامجد ثاقب پہ لکھنا ، ایک کتاب کا متقاضی ہے، جو شخص سود کے خلاف یورپ، امریکہ اور ڈنمارک وغیرہ میں گھنٹوں تقریر کرسکتا ہو، اور اصل ریاست مدینہ کا تصور پیش کرکے آداب حکمرانی ، اور اخلاق کریمانہ پہ کافروں کو قائل کرسکتا ہو، یہ میں سمجھتا ہوں، کہ محض اور محض اللہ تعالیٰ کی دین ہے، اور دراصل یہی دین مصطفوی ہے، میں صرف ڈاکٹر صاحب کو ہی نہیں ان کے والد محترم کو بھی جانتا ہوں، جنہوں نے رزق حلال کھلا کر سعادت مند اولاد پیدا کی ہے، ارشاد ربانی ہے، کہ والدین کے ساتھ محبت نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور ان کے لیے دعا کرتے رہو۔ کہ اے پروردگار ان پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے رحم اور شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا ، تمہارے دل کی بات کو تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے، اگر تم سعادت مند ہوئے، تو وہ تم کو معاف کردے گا، چونکہ وہ توبہ کرنے والوں کی خطاﺅں کو خوب جانتا ہے۔

راقم نے خود ڈاکٹر صاحب کے والد محترم کی بیماری پہ ان کی بے کلی، بے چینی اور پریشانی دیکھی ہے کہ ان پہ بھی ترس آتا تھا، فرمان ہے کہ جو اپنے گھروالوں سے مخلص ہوتا ہے، وہی سچے مسلمان کی نشانی ہے، آخر میں قارئین کرام آپ سے عرض ہے ، کہ فرمان الٰہی ہے کہ نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ کررکھو، اور نہ اسے بالکل کھلا چھوڑ دو، لوگوں میں اتنا اعتدال ہونا چاہیے کہ وہ نہ تو کنجوس بن کر دولت کی گردش کو روکیں، اور نہ فضول خرچ بن کر اپنی معاشی طاقت کو ضائع کریں ایسا کروگے، تو تم ایسے ہی بیٹھے رہ جاﺅ گے، اور لوگ تم کو ملامت بھی کریں گے، اور تم عاجز ہو جاﺅ گے، تمہارا پروردگار جس کے لیے چاہتا ہے، رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے، اور دیکھ رہا ہے، ڈاکٹر صاحب نے عین جوانی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور سود کے خلاف جہاد کی غرض سے مسجد میں بیٹھ کر خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کیا تھا، کہ تمہارے نام پہ بنی اسلامی ریاست میں سود کے بغیر غریب لوگوں کو قرضے دوں گا، اور اب جو کام انہوں نے ایک ہزار کی معمولی رقم سے شروع کیا تھا، اور اس وقت وہ اسسٹنٹ کمشنر تھے، مگر نہ تو انہوں نے رزق کی پرواہ کی اور نہ منصب اور مستقبل کو خاطر میں لائے، کئی سال پہلے وہ بیس لاکھ غریبوں کو پچاس ہزار کی رقم دے کر اپنے پاﺅں پہ کھڑا کرچکے تھے اب تو اس کی تعداد اور بڑھ گئی ہوگی۔ حالانکہ یہ کام علمائ، اور وفاقی شریعت کونسل کا ہے، جو اپنے نام کے ساتھ قبلہ تو لکھ لیتے ہیں مگر قبلے والے کے فرمان کے مطابق سود کے خلاف جہاد نہیں کرتے۔

قارئین ڈاکٹر ثاقب صاحب کے پاس اربوں روپےہیں عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو کھربوں بھی دے دے گا، ان کا حساب آڈٹ کے لیے بالکل اوپن ہے جسے کوئی بھی چیک کرسکتا ہے، پاکستان کا یہی امیر ترین شخص مستحق زکوٰة ہے، کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ پائی پائی کے لیے اللہ کو جوابدہ ہے، ڈاکٹر ثاقب نے وہ کام کردکھائے ہیں جو حکومتیں بھی نہیں کرسکیں۔ لہٰذ ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔رابطہ : 0300-8420495


ای پیپر