عید فواد چودھری کے کہنے پر کر لوں؟
04 جون 2019 2019-06-04

جس نے پورے رمضا ن روزے رکھے، دن بھر گرمی کے باوجود بھوکا پیا سارہا، رات ہوئی تو قیام کا حکم تھا، تھکاوٹ کے باوجود قرآن کو ذوق اور شوق کے ساتھ سنا، نیند کی قربانی دی اور سحری کے لئے اٹھا اور اس رمضان کے بعد آپ کہتے ہیں کہ وہ عید کے لئے فواد چودھری کے اعلان پر انحصار کر لے، مفتی منیب الرحمان جیسے جید علمائے دین کی بھد اڑائے ، ان کی عینک پر سوال کرے اور دوربین کے استعمال پر جگتیں لگائے۔ سوال پوچھے کہ آپ فجر سے عشا تک نمازیں سورج کو دیکھ کر ادا کرتے ہیں یا گھڑی کو ، جو ٹیکنالوجی کی ایجاد ہے، اسی ٹیکنالوجی کی جس کی بنیاد پر قمری کیلنڈر تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ رویت ہلال کے لئے ’ ضائع‘ ہونے والی چالیس لاکھ روپوں کی رقم بچا لی جائے۔

ارے واہ، کمال کے دانشور ہو صاحب، جو یہ سمجھتے ہو کہ دین اور سائنس میں تضاد ہے اور خود کو جدت پسند قرار دینے کے لئے ان مولویوں پر لٹھ لے چڑھ دوڑتے ہو جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو اب تک فتنوں سے بچائے ہوئے ہیں، تم ان پر تقلید کی تنقید کرتے ہو اور میں کہتا ہوں کہ اگر وہ تمہارا اجتہادی فارمولہ قبول کر لیں تو رد جہاد میں تو مرزا قادیانی آچکا، تم نماز، روزے اور زکوٰة پر بھی اپنی سائنس لگا دوجیسے اس وقت قربانی کے خلاف میدان لگا ہوا ہے۔روئیت کا مطلب دیکھنا ہے اور ہلال کا مطلب وہ چاند جس کی عمر اٹھارہ، انیس گھنٹے ہو، ہاں، اس ہلال کو جدید آلات کی مدد سے بھی جانچا جا سکتا ہے کہ اس کی پیدائش ہوئی ہے یا نہیں مگر میری نظر میں سوال یہ نہیں ہے کہ فواد چودھری اور مفتی منیب الرحمان کے درمیان چاند کی پیدائش پر جھگڑا ہے، میر امقدمہ تو اس توہین اور تضحیک کا ہے جودانستہ طور پر علمائے کرام کی ، کی جا رہی ہے،خود کو ارسطو اور افلاطون سمجھتے ہوئے انہیں ٹیکنالوجی سے بے بہرہ اور جاہل ثابت کیا جا رہا ہے اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ایک مخصوص ذہنیت کی طرف سے یہ باقاعدہ ایجنڈا ہے کہ وہ قمری کیلنڈر بنا کے خود کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے مامے ثابت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ا س سے پہلے بیسیوں ایسی ویب سائیٹس موجود ہیں جو چاند کی نقل و حرکت کے بارے ننانوے فیصد تک درست امکانات کو ظاہر کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے تہواروں کے لئے قمری کیلنڈر کی تشکیل کا اعلان اور اس کی بنیاد پر علمائے کرام کی ہجو ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔

روئیت ہلال کمیٹی اس وقت بھی چاند دیکھتے ہوئے سپارکو، محکمہ موسمیات، فلکیات، فضائیہ اور بحریہ کی مدد لیتی ہے۔ اس حوالے سے سب سے مفید اور موثر خدمات بحریہ کی ہیں اور نیوی کے متعلقہ حکام پندرہ روز قبل چاند کی ممکنہ روئیت کے حوالے سے رپورٹ بھیج دیتے ہیں۔کمیٹی کو ماہرین ہی بتاتے ہیں کہ کس شہر میں چاند نظر آنے کے امکانات موجود ہیں اور کس علاقے میں نہیں اور وہ اسی کی بنیاد پر شہادتیں قبول کرتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب وغیرہ میں باقاعدہ قمری کیلنڈر رائج ہیں تو یہ بات انتظامی طور پر درست ہے مگر عیدین اور حج کا چاند دیکھنے کے لئے وہاں بھی گیارہ رکنی آل شیخ کمیٹی قائم ہے اور اسی طرح انڈونیشیا میں سرکاری روئیت ہلال کمیٹی موجو د ہے۔ یہ کیلنڈر ضرور بننا چاہئے بلکہ بننا کیا چاہئے کہ اگر آپ فیس بک پر شعبہ فلکیات جامعہ الرشید کے پیج پر چلے جائیں تو آپ کو اس کی ماہانہ پیشین گوئی مل جائے گی۔ یہاں جامعہ رشیدیہ کے استاد شہباز جی کی کتاب تفہیم الفلکیات وفاق کے نصاب کا حصہ بنائی جا چکی ہے یعنی وہ یہ مضمون مدارس کے طالب علموں کو باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے ۔کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں کہ قمری کیلنڈر کو معاونت کے لئے ضرور رکھا جائے لیکن اگر کنفیوژن ہو گی تو پھر بھی آپ کوفیصلے کے اعلان کے لئے کسی کمیٹی کی ضرورت ہو گی۔

یہ کہا جاتا ہے کہ چاند کی پیدائش کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں، اس کا تعلق سائنس سے ہے مگر یہ بات کہنے والے بھول جاتے ہیں کہ ہماری عبادات کا بھی سائنس سے کوئی تعلق نہیں، ان کا تعلق دین سے ہے لہٰذا جب رمضان المبارک کی بات ہو گی یاعیدین کی تو اس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق حتمی تشریح اور فیصلے کا اختیار علما کو ہی ہو گا کسی لیبارٹری میں بیٹھے ہوئے شخص کو نہیں اورمجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ جناب فواد چودھری کا تعلق نہ تو دین سے ہے اور نہ ہی سائنس کے حوالے سے ان کے پاس کوئی ڈگری ہے، ہاں، ان کا تعلق فتنے سے ضرور ہے، وہ ہر جگہ ایک نیا فتنہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ چاند کی طلوع ہونے کا حتمی کیلنڈر جاری کرنے کا اعلان کرنے والے شخص کے بارے میں یہ کسی کو علم نہیںکہ جب اقتدار کا نیا سورج طلوع ہو گا تو اس کا اپنی سیاسی پیدائش کہاں ہو گی۔

جو دین کا علم رکھنے والوں کو جاہل سمجھتا ہے وہ خود بہت بڑا جاہل ہے ، وہ نہیں جانتا کہ و ہ جن رصد گاہوں کی بنیاد پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور سنت کے مطابق عمل کرنے والوں کو جاہل کہہ رہا ہے، ان کی ایجاد اور تحقیق کا سہرا مسلمانوں کے سر ہی ہے۔ میں یہ بھی بتا دوں کہ گیلیلیو سے پانچ سو برس پہلے ، نوویں صدی میں متعدد مسلم مفکروں نے اس نظرئیے کو عام کر دیا تھا کہ زمین گول ہے، زمین کے گھیر کے بارے میں مسلم ماہرین کا حساب کتاب اتنا درست تھا کہ انہوں نے نوویں صدی میں کہہ دیا کہ یہ چالیس ہزار کلومیٹر سے زائد ہے اور یقین کیجئے کہ یہ اکیسویں صدی کے حسابات سے صرف دو سوکلومیٹر ہی کم ہے۔اگر میں فلکیات سے کچھ غیر متعلقہ ہوجاو¿ں تو بتاو¿ں کہ موجودہ چیک کی بنیادبینک تھا یعنی ایسا تحریری معاہدہ جس میں اشیاءکی ڈیلیوری پر رقم کا وعدہ کیا جاتا تھا، یہ بینک بھی دسویں صدی سے قبل بغداد میں تھا۔ دنیا بھر میں نمبروں کا سسٹم ممکنہ طور پر ہندوستان میں سامنے آیا مگر نمبروں کا انداز عربی ہے جسے کاغذ پر پہلی بار مسلم ریاضی دان الخوارزمی اور ال کیندی نے آٹھ سو پچیس عیسوی میں استعمال کیا، الجبرا کا نام بھی الخوارزمی کی کتاب الجبر کے نام پر رکھا گیا جو تاحال استعمال ہو رہا ہے۔ مسلم ریاضی دانوں کا کام تین سو سال بعد اطالوی ماہر فیبونسی کے ذریعے یورپ پہنچا، اسی طرح تکون اور الگورتھم کی تھیوری بھی مسلم دنیا سے ہی سامنے آئی۔ پہلا فاونٹین پین 953 ءمیں ایک مصری سلطان نے ایجاد کیااور ونڈ مل کو ایک ایرانی خلیفہ نے ساتویں صدی عیسوی میں، یورپ میں یہ اس کے پانچ سو برس کے بعد آئی، اسی طرح جدید دور کے سرجیکل آلات کی بنیاد دسویں صدی عیسویں کے مسلم سرجن الظواہری نے رکھی،ا نہوں نے کیپسول اور زخموں کو ٹانکے لگانے والا دھاگہ بھی ایجاد کیا، مسلم اطبا نے ہی افیون اور الکحل سے بے ہوش کرنے کی تکنیک ایجاد کی۔ صابن بھی عربوں کی ایجاد ہے اور شیمپو بھی ایک مسلم نے انگلینڈ میں انیسویں صدی میں متعارف کروایا۔رائٹ برادران سے ایک برس پہلے ایک مسلم موسیقار،شاعر اور انجینئرعباس ابن فرانز نے ایک اڑن مشین تیار کی مگروہ ہوا میں تیرنے میں ناکام رہا ،852 عیسوی میں اس نے ڈھیلے لباس اور لکڑی کے پروں کے ساتھ قرطبہ کی عظیم مسجد کے مینار سے چھلانگ لگائی ، وہ ہوا میں تیرنے میں تو ناکام رہا مگر اس کے گرنے کی رفتار ضرور کم ہو گئی اور اس طرح پیراشوٹ ایجاد ہوا اور مان لیجئے کہ کافی اور کیمرا بھی مسلمانوں کی ہی ایجاد ہیں۔ جس شخص نے سب سے پہلے یہ جانا کہ روشنی آنکھوں سے نکلتی نہیں بلکہ داخل ہوتی ہے وہ دسویں صدی کے مسلم سائنسدان ابن الہیشم تھے اور اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پہلا پن ہول کیمرا ایجاد کیا ور لیب بھی بنائی۔

حاصل صرف یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو جاہل سمجھتے تھے وہ اپنی سوچ کو بدلیں۔ سائنس کا انکار نہیں ہے مگر سائنس صرف مدد گار و معاون ہوسکتی ہے دین کا متبادل نہیں ہو۔ سائنس کو سائنس رہنے دیں اور دین کو دین۔ 


ای پیپر