سندھ میں انتخابی جوڑ توڑ کی حرکیات
04 جون 2018 2018-06-04

انتخابات ہونے یا نہ ہونے کی غیر یقینی صورت حال نے انتخابی مہم کی چال کو سست کردیا ہے۔اور انتخابات کی اہمیت کو کم کردیا۔سپریم کورٹ بیچ میں آگئی۔ جس نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ تاہم ایک پوری مشق کے دوران ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ بالادست پارلیمنٹ نہیں، بلکہ کوئی اور ہے ۔ اب جو انتخابات ہونے جارہے ہیں وہ سپریم کورٹ کی مرہون منت ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں سے درخواستیں لے رہی ہیں، امیدواروں کی نامزدگی کے لئے انٹرویو کر رہی ہیں۔ سندھ میں بعض جماعتوں نے امیدواروں کے نام بھی فائنل کر دیئے ہیں۔ اس صوبے میں تمام پارٹیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ہر پارٹی کی اپنی اپنی مشکل ہے۔ پیپلزپارٹی کے پاس امیدوار زیادہ لیکن سندھ میں حلقے کم ہیں۔ کیونکہ پارٹی 2013ء کے انتخابات کے بعد ہرمنتخب ہونے کے قابل افراد کو پارٹی میں سمیٹنے کا کام کر رہی ہے۔ سندھ میں حکمران جماعت ہونے کے ناتے اس کے لئے یہ کام آسان رہا۔ اختیارو اقتدار بھی تھا، زراعت کے لئے پانی، گندم کا باردانہ اور گنے کی خریداری سے لیکر علاقے میں افسران کا تقرر اور تبادلہ بھی تھا۔ پارٹی کی بھرپور کوشش ہے کہ کوئی بھی بااثر الیکٹ ایبل اس کے دائرے سے باہر نہ رہے۔ تاہم پیپلزپارٹی کو بعض ناراضگیوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ پیپلزپارٹی کے سینئر ترین رہنما علی نواز شاہ نے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ کے بھائی علی گوہر مہر نے پگارا کو جی ڈی اے کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کی یقین دہانی کرادی غلام رسول انڑ کی بھی ملاقات سابق وزیراعلیٰ علی محمد اور علی گوہر نے پیپلزپارٹی سے ٹکٹ کی درخواست نہیں دی۔ مخدوم جمیل الزمان کو تھر میں قحط کی رپورٹ نہ کرنے اور امدادی اقدامات کی سمری نہ بھیجنے پر سندھ حکومت نے معطل بھی کیا تھا۔ سندھ کی تاریخ میں شاید پہلے وزیر ہیں جنہیں معطل کیا گیا تھا۔ ہالا کے مخدوم خاندان کی تاریخ یہ رہی ہے کہ ہر مرتبہ وزارت اعلیٰ یا عظمیٰ کے خواب دیکھتا رہا لیکن پیپلزپارٹی کے ساتھ رہا۔ الگ ہونے کی ہمت نہیں کی ۔ بس ناراضگی دکھاتے ہیں پھر انہی شرائط پر واپس آجاتے ہیں۔
دوسرے صوبوں کا ہوم گراؤنڈ رکھنے والی دو اہم پارٹیوں تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کے پاس امیدواروں کی کمی ہے۔ یہی صورت حال سندھ سطح پرپیر پگارا کی قیادت میں قائم گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی ہے۔ اس اتحاد میں قومی عوامی پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل وغیرہ بطور پارٹی شامل ہیں، مگرعملی طور پر یہ اتحاد پارٹیوں یا سیاسی گروپوں کے بجائے بااثرشخصیات پر مشتمل ہے۔ یہ وہ بااثر وڈیرے ہیں جنہیں پیپلزپارٹی ’’ عزت‘‘ نہ دے پائی۔
گزشتہ انتخابات کے لئے بھی سندھ کے ان بااثر شخصیات نے پیر پگارا کی ہی قیادت میں دس جماعتی اتحاد قائم کیا تھا، جس میں نواز لیگ بھی شامل تھی۔ یہ اتحاد نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا۔ دو ہفتے قبل ضیاء الحق کے بیٹے اعجازالحق اور حافظ سعید نے پیر پگارا سے ملاقات کی تھی۔ تجزیہ نگار اس ملاقات کو اہم قرار دے رہے ہیں۔ آج یہ بااثر افراد جن پر اقتدار کی سیاست کرنے والی دوسری جماعتیں تکیہ کر رہی ہیں وہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی رکن کسی پارٹی میں شمولیت کے بجائے انفرادی طور پر اس اتحاد کا تو حصہ بن رہے ہیں لیکن پارٹی میں شمولیت نہیں کر رہے۔ سب خود کو دوسرے سے کم تر نہیں سمجھتے۔ پیپلزپارٹی کے مخالفین مقابلہ کرنا چاہ رہے ہیں لیکن وہ دوسری دو بڑی جماعتوں تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز میں بھی شمولیت پسند نہیں کر رہے۔ نواز لیگ نے سندھ پر توجہ نہیں دی۔ اتنی بھی نہیں جتنی 2013 کے انتخابات میں دی تھی۔وہ سندھ کو پاور بیس سمجھ ہی نہیں رہی تھی۔ یا اس نے یہ طے کر لیا تھا کہ سندھ سے پیپلزپارٹی کو نکالنا آسان کام نہیں۔اس مرتبہ اس کے لئے پنجاب کو مضبوط کرنا ضروری تھا، اور اس کا دشمن نمبر ون پیپلز پارٹی نہیں، تحریک انصاف تھی۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ شاید وہ پیپلزپارٹی کو سندھ میں اجارہ
داری کو تسلیم کر رہی ہے اور اس میں کوئی رخنہ نہیں ڈالنا چاہتی۔ منتخب ہونے کے قابل افراد سمجھتے ہیں کہ نواز لیگ کا اقتدار میں آنا مشکل ہے۔ اور اگر آئی بھی تو گزشتہ انتخابات کے بعد والی صورت ہوگی۔کیونکہ نواز لیگ اپنے ایم این ایز کو کوئی سہولت جس کو یہ لوگ عزت کا نام دے رہے ہیں، نہیں دے سکی۔
سابق ڈپٹی اسپیکر اور بعد میں نواز لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے سید ظفر شاہ نواز لیگ سے علیحدہ ہو گئے۔ ٹھٹھہ سے نواز لیگ کے ایم این اے شیرازی برادران نے نواز لیگ کو ٹکٹ کے لئے درخوستیں نہیں دی ہے وہ جی ڈی اے کی حمایت سے لیکن آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔ تاہم جی ڈی اے میں بھی متوازی رجحانات چل رہے ہیں۔ اتحاد کے سیکرٹری ایاز لطیف پلیجو نے انتخابات کے ممکنہ التوا کی مخالفت کی ہے جبکہ اتحاد کے ایک اور رہنما ارباب غلام رحیم نے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
سندھ میں نواز لیگ کو پچاس فیصد نشستوں پر امیدوار ہی نہیں مل سکے ہیں۔ سندھ میں قومی اسمبلی کی 61 نشستوں میں سے صرف 22 پر درخواستیں دی گئی ہیں۔ لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نام نہیں جو انتخاب جیت سکے۔ پارٹی کا صوبائی پارلیمانی بورڈ شاہ محمد شاہ کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں راحیلہ مگسی، اور شیرازی شریک نہیں ہوئے۔ شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ میں ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور ایم ایم اے کا اتحاد ہو سکتا ہے۔ صوبائی کی 130 میں سے صرف 75 کے لئے درخوستیں ملی ہیں۔ اب نواز شریف کراچی میں پہنچ رہے ہیں۔ وزارت عظمیٰ سے برطرفی کے بعد یہ پہلا موقعہ ہوگا کہ وہ سندھ آرہے ہیں ، یہ دورہ صرف دارلحکومت تک محدود ہے جہاں وہ اجتماع سے بھی خطاب کریں گے۔ اور یہ بھی زیر غور ہے کہ ماہ جون کے آخر میں کراچی میں ایک بڑا جلسہ منعقد کرے ، جس سے نواز شریف یا شہباز شریف میں سے کوئی ایک خطاب کرنے کیلئے کراچی جائیں گے اور انتخابی مہم کے سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) کا کراچی کا یہ جلسہ اہمیت کا حامل ہے۔
تحریک انصاف میں شمولیت نہ کرنے کی وجہ غیر یقینی صورت حال ہے کہ کیا اس کو اقتدار ملے گا؟ اگر ملے گا بھی تو وفاق میں ملے گا۔ سندھ میں نہیں ہوگا۔ وفاق میں بھی مخلوط حکومت ہوگی۔ جہاں آزاد اراکین کی زیادہ قدر و قیمت ہوگی۔ لہٰذا تحریک انصاف میں شمولیت کے باوجود یہ بااثر شخصیات اقتدار سے دور ہی رہیں گی۔ تحریک انصاف کے پاس نہ سندھ کو آفر کرنے کے لئے کوئی ایجنڈا ہے ، نہ تنظیم اور نہ ہی یہ جماعت اپنا کوئی ووٹ بینک بناسکی ہے۔ اس کی حکمت عملی یہ رہی کہ اس کو ووٹ نہیں منتخب بندے چاہئیں۔ لہٰذایہ پارٹی عوام میں جانے کے بجائے بااثر شخصیات کے پیچھے گھومتی رہی۔ سوشل میڈیا پر سرگرم نصف درجن نوجوان ہونگے جو پیپلزپارٹی مخالف بیانئے کو تحریک انصاف کے حق میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسے یہ انتخاب پولنگ اسٹیشن پر نہیں، فیس بک پر ہی ہوگا۔ اقتداری سیاست کرنے والی سندھ کی شخصیات تحریک انصاف میں کوئی کشش محسوس نہیں کرتے۔ اس پارٹی میں شمولیت کا کوئی خاص فائدہ نہیں۔ جب ووٹ بھی نہیں ایسے میں عمران خان کی پالیسیوں کا کیوں دفاع کرتے رہیں؟ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے میں آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنا زیادہ مفید رہے گا۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف انتخابات کے دوران ان باثر افراد کے ماضی کا بوجھ اٹھانا نہیں چاہتی۔ وہ ڈر رہی ہے کہ فاروق بندیال کی طرح لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کے گیارہ اور صوبائی اسمبلی کے 17 حلقوں سے امیدواروں کا اعلان کیا ہے جبکہ امیدواروں کی نامزدگی پر تحریک انصاف کراچی گروپوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ کے دوران معاملہ مار کٹائی تک پہنچ گیا تھا۔
کراچی میں یہ پتہ ہی نہیں چل رہا کہ کون ایم کیو ایم کے کس گروپ کے ساتھ ہے؟ ایم کیو ایم پاکستان نے تاحال امیدواروں کا فیصلہ نہیں کرسکی ہے۔ یہی صورت حال کراچی کی پاک سرزمین پارٹی کی ہے۔ اس کا فیصلہ سینیٹ کے انتخابات کی طرح بالکل آخری وقت پر ہوگا۔ 2013ء کی صورت حال کے برعکس آج سندھ کی قوم پرست جماعتیں منقسم ہیں۔ جلال محمود شاہ کی سندھ یونائیٹڈ پارٹی، قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی ، ایاز لطیف پلیجو کی قومی عوامی پارٹی بہت کم نشستوں پر انتخاب لڑنے جارہی ہیں لیکن بیشتر حلقوں میں وہ آمنے سامنے ہیں۔ علی قاضی کی قیادت میں حال ہی میں تشکیل دی گئی تبدیلی پسند پارٹی بھی تاحال ایک درجن حلقوں پر امیدواروں کا اعلان کر پائی ہے۔ مذہبی جماعتیں تاحال سندھ میں خاص طور پر صوبے کے دارلحکومت کراچی میں اپنا ہوم ورک مکمل نہیں کر پائی ہیں۔
ذولفقار مرزا اور قومی اسمبلی کی سابق اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے پیر پگارا سے ملاقات کی ۔ اورجی ڈی اے میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ انہوں نے فنکشنل لیگ یا اور کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی ۔ جی ڈی اے میں مرزا جوڑے کی شمولیت کی بڑی وجہ ان کے انتخابی حلقوں میں پیر پگارا کے مریدوں کے ووٹ ہیں۔ بدین کے حلقے زرداری صاحب کے لئے عزت کا مسئلہ ہیں۔ مرزا اور ان کے سابق ساتھی آصف زرداری ہر حال میں ایک دوسرے کو شکست دینا چاہتے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم نواز لیگ کو خیرباد کہہ کے جی ڈی اے کا حصہ بن چکے یں۔ غوث علی شاہ جی ڈی اے کے ٹکٹ پر انتخاب لڑیں گے۔ تحریک انصاف کے رہنما مخدوم شاہ محمود قریشی سندھ کے ضلع تھر سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا چاہتے ہیں۔انہیں اس حلقے میں پیپلزپارٹی مخالف ووٹ کی ضرورت ہے۔ وہ گزشتہ مرتبہ بھی اس حلقے سے امیدوار تھے۔ لیکن پیپلزپارٹی کے پیر نور محمد شاہ کے ہاتھوں ہار گئے تھے۔ کسی رسمی اتحاد کے بجائے مفاہمتی فارمولا کے لئے جی ڈی اے اور پی ٹی اے کے درمیان مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں۔


ای پیپر