انتخاب سے پہلے پولیٹیکل انجینئرنگ ختم نہیں ہوئی
04 جون 2018 2018-06-04

نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک حکمران نہیں بلکہ ایک ایسے چوکیدار کا فرض ادا کر رہے ہیں جو اپنے اس فرض سے غافل نہیں کہ اس کی آخری منزل 25 جولائی ہے۔ انہوں نے اپنی نظریں کیلنڈر پر مرکوز کی رکھی ہیں۔ وہ ماضی کے نگرانوں کے مقابلے میں مختلف نظر آئے ہیں وجہ یہ ہے کہ ماضی کے نگرانوں کے سیاسی عزائم تھے۔ جب جانبداری کا معاملہ ہو تو حق کیسے ادا ہو سکتا ہے۔ مگر اب معاملہ مختلف ہے۔ خود وزیر اعظم کہہ چکے کہ وہ اپنی مدت کو کسی صورت نہیں بڑھائیں گے یہ ان کا دو ٹوک فیصلہ ہے۔ ان کا یہ عزم اور ارادہ کچھ لوگوں کو اچھا نہیں لگتا۔ خاص طور پر خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے جو شرارت کی اور یہ شرارت بنی گالہ کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ سیاست دانوں نے قومی اسمبلی کی تحلیل سے چند یوم قبل فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا جو تاریخی فیصلہ آئینی ترمیم کے ذریعے کیا بے شک اس ترمیم کے پیچھے کوئی اور ہی قوت تھی کام اچھا تھا ہو گیا ہونا چاہیے بھی تھا ۔ ساتھ تمام جماعتیں اس کے پیچھے تھیں۔ تحریک انصاف کے اراکین کے دستخط بھی موجود تھے۔ تحریک انصاف الیکشن میں التواء چاہتی ہے۔ اس کو 25 اکتوبر ’’سوٹ‘‘ نہیں کرتا۔ خود کپتان نے ایک ڈیڑھ ماہ کا التواء مانگا نہیں مل سکا۔ نہ حلقہ بندیوں کا بہانہ کام آیا اورنہ کوئی اور مطالبہ مانا گیا۔ جب نگران وزیر اعظم آئینی ضرورت سے آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں تو چیف جسٹس سے الیکشن کمیشن تک اس کی آرزو کیسے کر سکتے ہیں۔ پرویز خٹک کو معلوم تھا کہ فاٹا میں پارلیمانی سیاست کا معاملہ 2023 ء کے انتخاب میں اُٹھے گا۔ پھر بھی چیف الیکشن کمشنر کے نام انہوں نے ایک خط لکھ کر الیکشن کے التواء کی ایسی بھونڈی شرارت کی جس کی کسی جگہ پزیرائی نہیں ہے۔ موقف پر ویزی یہ تھا ’’ صوبے میں فاٹا ختم ہونے کے بعد قبائلی علاقوں کے لیے صوبائی اسمبلی میں 21 نشستیں رکھی گئی ہیں ان پر25 جولائی کو انتخاب ہونے چاہیں‘‘۔ خط کی خوشبو سے لکھنے والے کی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے کہ عام انتخاب کا التواء اب تمام کاوشین اور رکاوٹیں دور ہو چکیں تو لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ نے پارلیمنٹ سے پاس کیے ہوئے ایکٹ 2017 ء کو یوں تہہ و بالا کر دیا کہ جیسے پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں ۔ الیکشن کمیشن جو اپنا انتخابی شیڈول جاری کر چکا تھا اسے امیدواروں کو دو دن کے لیے فارم نامزدگی دینے بند کر دیے۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے فیصلے کو جانبدار قرار دیا خود الیکشن کمیشن نے سپریم کورت میں پٹیشن دائر کر دی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اس عزم کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔ مگر تحریک انصاف نے دبے لفظوں میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی تائید کی اور تحریک انصاف کے ترجمان نے تویہاں تک کہ ڈالا کہ ہم نے تو امیدواروں کے فارم پر اعتراجات کیے تھے۔ سیاست کے پر دے کے پیچھے سے پتلیوں کو ابھی تک نچایا جا رہا ہے۔ اور کھیل ابھی تک ختم نہیں ہوا ۔ سیاست کے اس گرما گرم ماحول میں سپریم کورٹ اور نیب کو اپنے قدم پھونک پھونک کر رکھنے چاہیں۔ جب ٹارگٹ ایک پارٹی بن رہی ہو تو پری پول رگنگ کا الزام لگے گا اور ایسا کسی حد تک نظر آ بھی رہا ہے۔ میلوں قطار میں کھڑے ہوئے سائلوں کو اس طریقے سے انصاف دینا عدلیہ کا کام نہیں یہ تو بادشاہت کے زمانے کے مناظر ہوتے تھے۔ پھر وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو چیف جسٹس سے یہ کہنا پڑ جائے کہ وہ ان کا موقف سن لیں۔ پھر آپ جو مرضی رولنگ دیں ۔ جب کسی کو
سنانہیں جائے گا انصاف کیسے ہو گا۔ اس سلسلے کا ایک مکالبہ شہباز شریف اور چیف جسٹس میں ثاقب نثار کے درمیان بھی ہوا ہے۔ از خود نوٹس میں اتوار کے روز شہباز شریف کو بلا رکھا تھا۔ ایک جانب سے سوال پر سوال آ رہے تھے ایک سوال تو ایسا تھا جس سے شہباز شریف تلملا اٹھے جب چیف جسٹس نے پوچھا۔ ’’ آپ نے عوام سے وعدہ پورا کیا ہے۔‘‘ جو سوال و جواب ہوئے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ متفق اعلیٰ جو تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہا ہو۔ جس کا کام نظر آتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ کراچی اور پشاور کو لاہور بناؤگا تو بہت سے لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے۔ کسی اور وزیر اعلیٰ یا کسی اور حکمران سے ایسے لہجے میں بات نہیں کرتا۔
پھر کڈنی ایند یور ٹرانسپلانٹ کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے ایسے ریمارکس دیئے جس کو ادارے کے سربراہ چپ چاپ سنتے رہے ریمارکس میں ان کو یہاں تک کہا یہ کوئی سلطنت تھی جس کے وزیر اعلیٰ پنجاب سلطان تھے۔ جو لاکھوں تنخواہیں دیتے رہیں آپ سرجن ہیں آپ کو سربراہ کس طرح مقرر کر دیا۔ یہاں تک ڈاکٹر سعید کی قابلیت اور تجربہ تک پوچھ لیا۔ اور ان کے بیرون ملک جانے پر پابندی لگا دی۔ ڈاکٹر سعید کے بارے میں سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کے ریمارکس ہیں۔ جس میں ڈاکٹر سعید کے تجربے اور امریکہ میں ان کی ملازمت اور ان کی امریکہ میں آمدن کے حوالے سے مکمل تفصیل بھی لی۔ دو یوم سے بتایا کہ امریکہ سے کچھ ڈاکٹروں نے انہیں پاکستان آنے سے پہلے مشورہ دیا تھا کہ بچوں سمیت نہ جائیں۔ مگر ڈاکٹر سعید نے جو کام پاکستان میں کر دیا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگر یہاں کوئی کرپشن ہوئی ہے تو اس کا حساب ڈاکٹر صاحب کو ضرور دینا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریمارکس کے نام پر جو بے عزتی اور توہین ہوئی ہے۔ وہ واپس نہیں آتی دلچسپ بات یہ ہے کہ ریمارکس فیصلے یا ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتے میاں شہباز اور ڈاکٹر سعید نے جو کارنامہ انجام دیا ہے۔ اس سے کئی پرائیوٹ ہسپتالوں کے کاروبار پر زد پڑی ہے ایک رقابت ہے جو سر چڑھ کر بول رہی ہے۔2018 ء انتخاب میں کام ہوا ہے یا نہیں ۔ یہ کام تاریخ کے سپرد بھی ہے۔
آنے والے انتخاب کے لیے کون کون کیا کر رہا ہے۔ سب دیکھ رہے ہیں۔ کپتان کے لیے جو جوڑ توڑ ہو رہی ہے وہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ بلوچستان کے احساس محرومی کو ایڈریس کرنے کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی کی تخلیق ایسے لوگوں نے کی ہے جن کو یہ معلوم نہیں کہ بلوچستان کے غریب پٹھان اور بلوچی کیسی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس پارٹی کے سربراہ لسبیلہ کے نواب یوسف کے صاحبزادے ہیں ان کا خاندان ان کا باپ اور دادا وزیر اعلیٰ رہا۔ الحاق سے پہلے ان کی ریاست چلتی تھی۔ خالد مگسی کا خاندان بھی نوابوں کی اسی لڑی سے تعلق رکھتا ہے۔ ۔۔جمالی قبیلہ کا ایک حصہ بھی اس پارٹی میں شامل ہے۔ اس طرح یہ پارٹی بنیادی طور پر سیاسی انجینئرنگ میں اپنا حصہ ڈالے گی اور عمران خان کے لیے وزیر اعظم بننے میں کردار ادا کرے گی اگر کپتان کو بلوچستان سے فائدہ ہوا تو خیبر پختونخوا سے ان کے لیے نشستیں کم ہو جائیں گی۔ ایسی ہی حکمت عملی کی جا رہی ہے۔ پیر پگاڑہ کی سربراہی میں جو گرینڈ الائنس تشکیل دیا گیاہے اس کا مقصد اندرون سندھ سے پارٹی کی بڑھتی ہوئی پارلیمانی طاقت اور برتری کو ختم کرنا ہے۔ اس میں بڑی حد تک تو کامیابی ہوئی ہے مگر آصف علی زرداری نے بھی مضبوط امیدواروں کے ذریعے مضبوط بند باندھا ہے۔ تحریک انصاف سے گرینڈ الائنس کا فائدہ کچھ حد تک تو ہو سکتا ہے مگر اس سے اندرون سندھ بڑا نقصان ہونے کی توقع نہیں ہے۔ خاص طور سندھ سے تعلق رکھنے والی فہمیدہ مرزا نے اپنی سیاسی زندگی کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ وفاداری بدل لی ہے ذاتی جھگڑا زرداری سے رہا ہے مگر یہ بھی تو حقیقت ہے فہمیدہ کو پاکستان کی خاتون سپیکر بننے کا موقع بھی پارٹی کے کو چیئرمین آصف زرداری نے فراہم کیا تھا ان کو خاوند سندھ کی وزارت داخلہ ملی تھی آصف زرداری کی دوستی میں مبینہ ایک شوگر مل کا بھی جھگڑا ہے حیدر آباد کے قاضی خاندان سے تعلق رکھنے والی فہمیدہ مرزا پیپلزپارٹی کی بدولت ہی لگاتار بدین سے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ہیٹ ٹرک کرنے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔ ان کے والد عبدالمجید عابد بھی انتخابی معرکوں میں اہم رہے وہ ضیاء الحق کے ریفرنڈم کی ضمانت میں پیش پیش تھے جونیجو کی کابینہ میں رہے۔ پھر وہ دوبارہ پی پی پی چلے گئے پارٹی کیا بدلی فہمیدہ مرزا اب وہ پارٹی کو ایک مافیا قرار دیتی ہیں اور پیر پگارا سے مل کر کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر جو پریس کانفرنس کی اس کا نفیسہ شاہ نے جواب دیا ہے کہ بدین میں فارم ہاؤس شوگر مل کیسے بنی 43 کروڑ کیسے معاف کروائے اب پیپلزپارٹی نے حکمت عملی کے طور پر ذوالفقار مرزا کے مخالف پپو شاہ اور اُن کی اہلیہ اور سابق سینیٹر یاسمین بی بی کو دبئی سے واپس بلا کر پیپلزپارٹی میں شامل کر لیا ہے۔ دوسری جانب کراچی سے ایم کیو ایم کے سابق ایم این اے گوڈیل تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں جبکہ عامر لیاقت حسین کو اُس کے غیر سنجیدہ اور متنازع رویہ کے باعث تحریک انصاف نے ٹکٹ نہیں دیا۔ جو کچھ بھی منظرنامے پر ہو رہا ہے ۔ اب عوام کی باری پر انتظارکریں جو کچھ ہو سکتا تھا ہو چکا۔ اب نہ تو انتخاب ملتوی ہونے والے ہیں اب مقابلہ لوٹوں کا ہے۔ اب معاملہ جی ٹی روڈ اُسی جگہ کھڑا ہے۔ جو جی ٹی روڈ سے جیتے گا وہ پاکستان کا حکمران بنے گا۔


ای پیپر