بچھڑ گئے ۔۔۔
04 جون 2018 2018-06-04

دہلی سے تعلق رکھنے والے اُردو کے مشہور ادیب (مزاح نگار) مرزا فرحت اللہ بیگ نے اُردو کے ہی مشہور نثر نگار اور عثمانیہ یونیورسٹی حیدر آباد دکن کے اُردو کے نامور اُستاد مولانا وحید الدین سلیم مرحوم کے بارے میں اپنے مضمون میں جو فیڈرل بورڈ اسلام آباد کی بارھویں کی اُردو کی کتاب میں شامل ہے لکھا ہے کہ وحیدالدین سلیم سے اُن کی وفات سے ایک دو سال قبل حیدر آباد دکن سے اور نگ آباد دکن تک ریلوے کے درجہ اول کے ڈبے میں سفر کے دوران میری ملاقات رہی تو وحید الدین سلیم نے بڑی حسرت سے مجھ سے کہا کہ نذیر احمد ( اُردو ناول نگاری کے بانی سمجھے جانے والے اُردو کے مشہور نثر نگار مولوی نذیر احمد )خوش قسمت تھا کہ اُسے آپ (مرزا فرحت اللہ بیگ ) جیسا شاگرد ملا جس نے نذیر احمد کی وفات کے بعد اُس کے بارے میں مضمون (مولوی نذیر احمد کی کہانی ۔۔۔۔ کچھ میری ،کچھ اُن کی زبانی) لکھ کر اُن کو زندہ جاوید کر دیا ہے۔ کاش ہمیں بھی کوئی ایسا شاگرد نصیب ہوتا جو ہمارے بارے میں لکھتا ۔ اس پر میں (فرحت اللہ بیگ ) نے انہیں ترت جواب دیا کہ مولانا آپ فوت ہو جائیے میں آپ کے بارے میں مضمون لکھے دیتا ہوں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کے مضمون میں مولانا وحید الدین سلیم سے اُن کا یہ مکالمہ مجھے اس لیے یاد آ رہا ہے کہ وحید الدین سلیم جیسی بلند پایہ علمی و ادبی شخصیت اس بنا پر حسرت کا شکار رہی کہ کا ش کوئی (خواہ اُن کا کوئی شاگرد ہی کیوں نہ ہو) اُن کے بارے میں تحریر لکھ دیتا تاکہ اُن کا نام زندہ رہے تو محترم عرفان صدیقی صاحب کی تازہ تصنیف ’’جو بچھڑ گئے ‘‘ (یہ اُن کے نقشِ خیال کے تحت قومی معاصرین میں چھپنے والے کالم سے یاد گار انتخاب ہے) میں جن شخصیات کا تذکرہ آیا ہے بلا شبہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں محترم عرفان صدیقی جیسی خوبصورت شخصیت اور اُردو کے صاحب طرز نثر نگار اور بے مثال کالم نگار کے موئے قلم کا شاہکار بننے کا موقع نصیب ہوا ہے۔
محترم عرفان صدیقی کا نام کسی تعارف کا محتا ج نہیں یوں تو وہ ایک اُستاد ہونے کے ساتھ ایک خوبصورت شاعر اور نثر نگار کے طور پر لکھنے لکھانے کا سلسلہ کب سے جاری رکھے ہوئے تھے۔ مجھے اُن کا ہمدمِ دیرینہ ہونے کے ناطے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ انہوں نے کبھی بھی ایک قلمکار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کو ذاتی نمود و نمائش کے لیے استعمال نہیں کیا۔ اَسی کی دہائی میں انہوں نے ریڈیو کیلئے یاد گار ڈرامے لکھے جو قومی نشریاتی
رابطے (نیشنل ہُک اَپ) میں نشر ہوئے ۔ اَسی کی دہائی کے آخری برسوں میں انہوں نے جب اُن کا شمار ایف جی سرسید کالج راولپنڈی کے اُردو کے بلند پایہ اساتذہ میں ہوتا تھا سرکاری ملازمت سے قبل از وقت فراغت لے لی اور صحافت اور لکھنے لکھانے کو اپنا کُل وقتی مشغلہ بنا لیا۔ جلد ہی اُن کا نام ادب اور صحافت کی دنیا میں معروف ہو گیا۔ نوے کی دہائی کے ابتدائی اور درمیانی برسوں میں وہ پہلے لاہور سے جناب مجیب الرحمن شامی کے معروف ہفت روزہ ’’زندگی‘‘ اور ماہانہ’’ قومی ڈائجسٹ ‘‘ اور بعد میں مولانا صلاح الدین مرحوم کے کراچی سے نکلنے والے ہفت روزہ ’’تکبیر‘‘ جو اُس زمانے میں پاکستان کا سب سے زیادہ شائع ہونے والے نیوز میگزین تھا کے ساتھ وابستہ رہے۔ مسلم لیگ ن کے دوسرے دورِ حکومت میں جسٹس ریٹائرڈ محمد رفیق تارڑ نے صدرِ مملکت کا منصب سنبھالا تو انہوں نے بڑے اصرار اور چاؤ سے جناب عرفان صدیقی کو اپنا پریس سیکریٹری (میڈیا ایڈوائزر) مقرر کیا ۔ اکتوبر 1999 میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ جمایا اور جولائی 2001 میں محترم رفیق تارڑ کو بطورِ صدرِ مملکت مستعفی ہونا پڑا تو عرفان صدیقی بھی مشرف کی حکومت کی طرف سے ذمہ داریاں جاری رکھنے کی خوش دلانہ پیشکش کے باوجود ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے اور انہوں نے روزانہ (Daily ) صحافت میں’’ نقشِ خیال ‘‘کے عنوان سے کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا۔ مجھے یاد ہے کہ روزنامہ ’’نوائے وقت ‘‘ میں بلند پایہ دانشور، سینئیر صحافی اور قلمکار جناب ابن الحسن مرحوم کا ہفتہ وار کالم (ہر اتوار کو ) چھپا کرتا تھا جس کی بری وقعت سمجھی جاتی تھی اور ذوق شوق سے پڑھا جاتا تھا۔ اُن کی وفات کے بعد یہ سلسلہ موقوف ہوا تو کچھ عرصہ بعد اُس کی جگہ عرفان صدیقی کے ایک دو کالم نوائے وقت میں چھپے تو پڑھنے لکھنے اور سوچ بچار کرنے والے حلقوں میں اُن کے نام کی مزید دھوم مچا گئی ۔ یہاں تک کہ 2001 میں (نائن الیون ) سے قبل عرفان صدیقی روزنامہ’’ نوائے وقت ‘‘میں اپنے کالم ’’نقشِ خیال ‘‘ کے ساتھ ہفتے میں چھ دن مستقل طور پر جلوہ گر ہونے لگے۔ نوائے وقت میں محترم عرفان صدیقی کی کالم نگاری کا یہ سلسلہ چلتا رہا میں ذاتی طور پر آگاہ ہوں کہ اس دوران بھاری مشاہرے پر دوسرے بڑے قومی معاصرین کی طرف سے انہیں وابستگی اختیار کرنے کی پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے مقابلتہً بہت ہی کم مشاہرے پر نوائے وقت سے اپنی وابستگی کو بر قرار رکھا۔ یہاں تک کہ 2008 میں حالات اس نہج پر پہنچے کہ انہیں نوائے وقت سے وابستگی ختم کرنی پڑی اور وہ ملک کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ ’’جنگ ‘‘ سے وابستہ ہو گئے اورمسلم لیگ کے دورِ حکومت میں جنوری 2014 میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی امور کا منصب سنبھالنے تک روزنامہ ’’جنگ ‘‘ میں کالم لکھتے رہے ۔ اُس کے بعد سے مسلم لیگ ن کی حکومت سے وابستگی کی بنا پر اُن کی کالم نگاری کا سلسلہ موقوف چلا آ رہا ہے تاہم اب جب وہ وزیرِ اعظم کے مشیر (بلحاظ عہدہ وفاقی وزیر) برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں تو اُن سے یہ درخواست کی جاسکتی ہے کہ وہ کالم نگاری کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں اس سے لاکھوں کی تعداد میں اُن کے قارئین جو اُن کی تحریریں پڑھنے سے پچھلے چار ساڑھے چار سالوں سے محروم چلے آ رہے ہیں اُن کے دل کی مراد بھر آئے گی۔
’’جو بچھڑ گئے ‘‘جیسے شروع میں لکھا گیا ہے عرفان صدیقی کے نقشِ خیال کے عنوان سے چھپنے والے اخباری کالموں کا انتخاب ہے۔ اس انتخاب میں کل 49 کالم شامل ہیں اور بعض شخصیات کے بارے میں ایک سے زیادہ کالم موجود ہیں ۔ جیسے محترمہ بینظیر بھٹو مرحومہ کے بارے میں سب سے زیادہ چھ ، محترم عرفان صدیقی کی محترمہ مرحومہ والدہ کے بارے میں تین ، قاضی حسین احمد کے بارے میں دو اور بعض دیگر شخصیات کے بارے میں بھی ایک سے زیادہ کالم موجود ہیں۔ ان کالموں کی حسنِ ترتیب کو دیکھ اور اُن کو پڑھ کر ایسے لگتا ہے جیسے مسلسل کوئی تحریر ، کوئی داستان ، کوئی کہانی یا کسی عہد کی تاریخ آنکھوں کے سامنے آ رہی ہے۔ مختلف موضوعات اور مختلف شخصیات پر محیط ہونے کے باوجود ان کالموں کا آپس میں ایک بے نام سا ربط جڑا ہوا لگتا ہے ۔ جہاں تک محترم عرفان صدیقی کے خیالات کی جامعیت اور وسعت اور حسنِ بیان اور منفرد اسلوبِ نگارش کا تعلق ہے کتاب کے فلیپ میں ممتاز قلمکاروں اور سینئیر صحافیوں کی آرا سند کادرجہ رکھتی ہیں۔ معروف ڈرامہ نگار ، شاعر، ادیب اور کالم نگار جناب عطا الحق قاسمی لکھتے ہیں ’’عرفان صدیقی کو صرف کالم نگار لکھتے ہوئے مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے کہ اتنی خوبصورت نثر لکھنے والے لوگ اگر ہمارے درمیان موجود ہیں تو انہوں نے دنیا سے پردہ کیوں کیا ہوا ہے‘‘۔ معروف قلمکار اور شاعر جناب افتخار عارف کے خیال میں ’’عرفان صدیقی کو جو ہر تخلیق کی نعمت ارزانی کرنے والے نے اُن کو لفظ کی تاثیر کی دولتِ بے بہا سے مالا مال کر رکھا ہے۔ یہ تحریریں گریہ نیم شبی کا اسلوب بھی رکھتی ہیں آدابِ سحر گاہی سے قرینوں سے بھی آگاہ ہیں۔ ‘‘


ای پیپر