عمران خان کی کمزوریاں
04 جون 2018 2018-06-04

ہمارے ملک میں جاری سیاسی نظام کو جمہوریت کہنا دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔کیا یہاں عوام کی حکومت ہے اور عوام حکمرانی کر رہی ہے ؟ کیا یہاں حکمرانی عوام کی خوشحالی اور مفادات کے لیے ہو رہی ہے؟ قطعاً نہیں ۔اس ملک میں امراء یعنی سرمایہ داروں ، وڈیروں اور جاگیرداروں کی حکومت ہوتی ہے جو صرف اپنے مفادات ہی کو بڑوھتری دئیے جاتے ہیں۔ہاں عوام اس نظام میں صرف ووٹ ڈالتی ہے۔اسمبلیوں کے لیے منتخب ہونے والے امراء کے خاندان اور افراد ہر تحصیل اور ضلع میں سالہا سال سے فکس (fix ) ہیں۔ شک ہو تو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کی ہر ٹرم کے گروپ فوٹو سامنے رکھ کر دیکھ لیں ۔آپ کو امراء کے وہی خاندان اور وہی افراد ہر ٹرم میں نظر آئیں گے۔پچھلی کئی دہائیوں سے اس ملک پر دو خاندانوں کی حکومت چلی آرہی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت جو اب بھٹو خاندان سے زرداری میں تبدیل ہو چکی ہے اور پنجاب میں شریف خاندان ۔سندھ میں پیپلز پارٹی کی دس سالہ حکومت ابھی ایک دو روز پہلے ختم ہوئی ہے۔پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری ہیں ۔آصف زرداری اور ان کی فیملی دبئی میں رہتے ہیں۔ اسی طرح وفاق اور پنجاب میں شریف خاندان کی حکومت تھی جو ابھی ایک دو روز پیشتر اپنی مدت پوری کرکے ختم ہوئی ہے۔ شریف خاندان کے سربراہ میاں نواز
شریف ہیں جو اس ملک کے تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں۔اسی خاندان کے شہباز شریف پچھلے دس سال سے مسلسل پنجاب پر حکمرانی کرتے رہے۔ میاں نواز شریف کے دو بیٹے ہیں ، دونوں برطانیہ میں رہتے ہیں اور برطانیہ کے شہری ہیں۔ ان دونوں خاندانوں نے ملک کا جو حال کر دیا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے۔بے روزگاری عروج پر ہے۔ نوجوان نوکریوں کے چکر میں ہزاروں روپے فراڈ ایجنٹوں کو لٹا کر یورپ کے ساحلوں پر لاوارث لاشوں کی صورت میں پڑے ہوتے ہیں۔حکمرانوں کی اولادیں یورپ کے محلوں میں شہزادوں جیسی زندگیاں گزارتی ہیں۔تعلیم و صحت کی سہولتوں کے حالات نا گفتہ بہ ہیں۔ابھی کل چیف جسٹس آف پاکستان لاہور کے جنرل ہسپتال میں تشریف لے گئے تھے ، مریضوں نے شکایتوں کے انبار لگا دئیے ۔ غریب بیماریوں میں مبتلا ہو کر اپنی موت کا انتظار کرتے پھرتے ہیں۔اپنی دہائیوں کی حکومتوں کے دوران ان دونوں خاندانوں نے اپنا اپنا ایک نیٹ ورک تخلیق کر لیا ہے جس میں ہر شعبہ زند گی کے لوگ شامل ہیں ۔ سیاستدانوں ، سرمایہ داروں سے لے کر بیوروکریٹس ، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے اہم عہدہ داران تک۔ یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں، البتہ دکھاوے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔
ان حالات میں پاکستانی سیاست میں ایک نیا نام وارد ہوا جس کا نام عمران خان تھا ۔ بقول ان کے ملکی سیاست کی ابتری نے انہیں اس جانب مائل کیا۔قوم اس ملک کے کرپشن میں ڈوبے حکمرانوں سے تنگ آ چکی تھی اس لیے انہیں ہوا کا تازہ جھونکا سمجھا گیا اور لوگ ان کی طرف لپکے۔ اس کی واحد و جہ یہ تھی کہ موصوف کی جان کے دشمن بھی انہیں بد دیانت نہیں کہتے ۔ صرف یہ کہتے ہیں کہ ان کے اردگرد تو کرپٹ کھڑے ہوتے ہیں۔اس ملک میں آپ جدھر اور جس شعبہ حیات میں نظر دوڑائیں گے آپ کو کرپشن ہی کرپشن نظر آئیگی۔ دنیا کے کرپٹ ممالک کی فہرست میں اس کا ایک اونچا مقام ہے، اگر اس ملک میں کوئی ایسا سیاستدان مل جائے جس کی دیانت داری پر اس کے دشمن بھی انگلی نہ اٹھا سکیں تو یہ اچنبھے اور حیرت کی بات لگتی ہے ،بلکہ نا قابل یقین لگتی ہے۔ اس لیے قوم کے نوجوان ، خواتین اور پڑھے لوگ خانصاحب کی طرف دیوانہ وار بھاگے۔ 2013ء کے الیکشن میں لوگوں نے انہیں ان کی توقعات سے زیادہ ووٹ دئیے۔ان کی پارٹی ملک کی تیسری بڑی پارٹی بن گئی۔خیبر پختونخواہ میں ان کی پارٹی کی حکومت بن گئی۔انھوں نے پانچ سال ایک صوبہ میں حکومت بھی کر لی اور انہیں قومی اسمبلی و باقی تین صوبائی اسمبلیوں میں اپوزیشن کے طور پر کردار ادا کرنے کا موقعہ بھی ملا۔یہ ایک طے شدہ بات تھی کہ تمام حکومتوں کے عرصہ حکومت کے ختم ہونے پر نگران حکومتوں کے لیے نگران وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ مقرر کیے جائیں گے جس کے لیے آئین میں طریقہ کار طے ہے۔ اس کے مطابق وفاق میں وزیراعظم اور لیڈر آف اپوزیشن باہمی مشاورت سے نگران وزیراعظم مقرر کریں گے اور صوبوں میں وہاں کے وزرا اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعلیٰ مقرر کریں گے۔ حکومتی مدت ختم ہونے پر تحریک انصاف نے دو تین نام نگران وزیراعظم کے لیے فلوٹ (float) کیے حالانکہ ماضی کے تجربے کے مطابق ان کے دئیے گئے ناموں کو کوئی قابل غور ہی نہیں سمجھتا۔ اس بار بھی ان کے دیئے گئے ناموں پر کسی نے غور نہ کیا۔وزیراعظم عباسی اور خورشید شاہ نے باہمی مشاورت کے بعد سابق چیف جسٹس پاکستان ناصرالملک کے نام کا بطور نگران وزیراعظم اعلان کر دیا۔ معلوم ہوا کہ ان کا نام مسلم لیگ (ن) نے دیا تھا۔ میاں نوازشریف کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو نہیں بھولتے۔ عمران خان نے ان کے نام پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کی تعریف کی ۔دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ عموماً ایسا غیر ارادی طور پر کرجاتے ہیں۔صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے لیے نگران وزرااعلیٰ کے نام تحریک انصاف نے دینے تھے۔یہ ایک آئینی ضرورت تھی جس کا سب کو معلوم تھااور خیال تھا کہ تحریک انصاف نے تفصیلی غور و غوص کے بعد نام طے کر لیے ہوں گے۔اور پھر نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے سابق چیف سیکریٹری پنجاب ناصر کھوسہ کا نام سامنے آ گیاجسے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے فوراًمنظور کر لیا۔پنجاب کا ہر باخبر یہ سمجھا کہ کھوسہ صاحب کا نام مسلم لیگ (ن) نے تجویز کیا ہوگا، پھر سوال یہ ہونے لگے کہ تحریک انصاف نے ان کا نام کیسے قبول کر لیا۔ ااس کی وجہ یہ تھی کہ محترم کھوسہ صاحب اور شریف برادران کا باہمی تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، لیکن حیرانی اس وقت ہوئی جب ٹی وی پر یہ خبر آئی کہ کھوسہ صاحب کا نام پی ٹی آئی نے دیا تھا۔ ظاہر ہے یہ ایک انہونی تھی ۔ ہر طرف سے شور اٹھا اور پھر خانصاحب کو یہ نام واپس لینا پڑا۔ اس بات سے لوگوں کو آگاہی ہوئی کہ خانصاحب اور ان کی پارٹی زمینی حقائق سے کتنے دور ہیں۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی طرف سے ناصر درانی سابق آئی جی خیبرپختونخواہ کا نام سامنے آیا۔درانی صاحب نے اپنی صحت کی بنا پر معذرت کرلی۔ معلوم ہوا کہ انکا نام بھی ان سے مشاورت کے بغیر دیا گیا۔ اب تحریک انصاف نے ایک آسان حل نکا لا ہے کہ’ دنیا‘ ٹی وی کے پروگرام تھنک ٹینک کے دو تجزیہ نگار ’ ایاز امیر ‘ اور’ پروفیسر حسن عسکری ‘کے نام برائے نگران وزیراعلیٰ کے دے دیئے ہیں۔ یہ بات اب واضح ہو گئی ہے کہ عمران خان صاحب امور
سلطنت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ اب تو اس کی ایک اور مثال بھی سامنے آ گئی ہے کہ جب اصلاحات ایکٹ کے ذریعے نامزدگی فارم میں سے تمام ضروری شقیں جو آئین کے آرٹیکل 62اور 63سے متعلق تھیں ختم کی جا رہی تھیں تو ان کی پارٹی کے ممبران نے اس پر کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ اس کا حصہ بنے۔خانصاحب کے مخالفین کی کئی باتیں اب تو درست نظر آتی ہیں کہ وہ صرف دوسروں پر الزامات لگانے میں اپنی ساری توانائیاں بڑے جوش و خروش سے خرچ کرتے ہیں۔اب تو یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ انھوں اپنے صوبہ خیبر پختونخواہ کے تعمیری کاموں میں بھی کوئی خاص ذاتی دلچسپی نہیں لی۔آپکو یاد ہوگا کہ جب میاں نواز شریف کی نا اہلی کے بعد انہیں پارٹی صدارت کے لیے اہل بنانے کی ترمیم کی جا رہی تھی تو ان کی پارٹی کے اپنے ممبران غائب ہو گئے تھے۔ خانصاحب کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس ملک کے لوگوں نے اور خصوصاً ان کی پارٹی کے لوگوں نے ان کے لیے بہت قربانیاں دیں ہیں ،خانصاحب کو اب سنجیدہ رویہ اپناناہوگا ۔ویسے بھی خانصاحب کو ذہن نشین ہونا چاہیے کہ یہ ان کی سیاسی زندگی کا آخری چانس ہو گا۔اسے پوری توجہ سے کھیلیں اور اپنے پرستاروں کی امیدوں پر پورا اتریں ورنہ قوم انہیں معاف نہیں کریگی۔


ای پیپر