سکھوں کا خالصتان کے نام سے الگ ریاست کا مطالبہ
04 جون 2018 2018-06-04

سکھ مت بھارت کا چوتھا بڑا مذہب ہے۔ سکھ مت کے بانی گرو نانک دیو کی پیدائش سے لے کر اب تک اس مذہب کو 548 سال ہو گئے ہیں۔ سکھوں کی غالب اکثریت پنجاب میں آباد ہے لیکن کچھ بھارت کے دوسرے حصوں میں بھی رہتے ہیں۔ یہ دنیا کا نواں سب سے بڑا مذہب ہے۔ دنیا میں اس کے پیروکاروں کی تعداد 25 ملین ہے۔اگرچہ سکھ مت بھارت میں ایک چھوٹی اقلیت ہے، لیکن سکھ برادری ملک میں اہم مقام رکھتی ہے۔2011ء کی مردم شماری کے مطابق، بھارت میں سکھ آبادی 2.08 کروڑ (20.8 ملین) ہے، یہ کل آبادی کا صرف 1.72% ہے۔ بھارت میں کل سکھ آبادی میں سے 77% پنجاب میں رہتے ہیں۔ جہاں آبادی کا 58 فی صد سکھ ہیں۔ بھارتی ریاست پنجاب بھارت کی واحد ریاست ہے جہاں سکھ مت اکثریتی مذہب ہے۔
بھارت میں انتہا پسندی عروج پر پہنچ گئی ہے اور تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مسلمان تو مسلمان، سکھ آبادی بھی انتہا پسندوں کے ہاتھوں مسلسل ستائی جانے لگی ہے۔ شہر شہر دندناتے انتہا پسندوں سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھ بھی زیر عتاب آگئے۔ سکھ کمیونٹی کے رہنما ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے اقوام متحدہ سے کشمیر میں بھارتی بریریت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ کشمیریوں اور سکھوں پر مظالم بند کرائے جائیں۔سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی انسانیت سوز مظالم کئے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ آپریشن بلیو سٹار یکم جون سے 10 جون 1984 ء تک بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں گولڈن ٹمپل (ہرمندرصاحب) کمپلیکس کا قبضہ چھڑانے کیلئے کیا گیا ۔ اس آپریشن کے بعد ہندوؤں اور سکھوں میں اس واقعہ کی خلیج آج تک حائل ہے ۔ آپریشن کے دوران بھارتی فوج نے گولڈن ٹمپل کا محاصرہ کر کے ٹینکوں کا استعمال بھی کیا اور فوج 5 جون کو ٹمپل میں داخل ہوگئی اور 6 جون کو بھنڈرانوالہ کو بھی اکال تخت کے قریب ہلاک کر دیا گیا۔ 10جون تک فوج نے ٹمپل کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ۔ ہلاکتوں کے بارے میں سکھوں اور بھارتی فوج کی طرف سے متضاد اعلانات کئے گئے۔سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کے بارے میں یہ خیا ل عام ہے کہ وہ خالصتان ریاست بنانا چاہتے تھے لیکن وہ خالصتان کے حمایتی نہیں تو مخالف بھی نہیں تھے ۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سکھوں کو ان کے مذہبی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بھنڈرانوالہ کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ اگر سکھوں کو بھارت میں ان کے حقوق نہیں دیئے جانے تو پھر خالصتان کے نام سے الگ ریاست تشکیل دے دی جائے جہاں سکھ اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
آپریشن بلیو سٹار کے بعد سکھوں کی اکثریت آپریشن بلیو سٹار کا ذمہ دار اس وقت کی وزیر اعظم اندراگاندھی کو سمجھتی تھی کیونکہ اس کے براہ راست احکامات انہوں نے ہی دیئے تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ردعمل کے طور پر آپریشن کے چار ماہ بعد 31 اکتوبر 1984 کو اندراگاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز (ستونت سنگھ اور بنت سنگھ ) نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک کئی ہندو سکھ فسادات ہوئے جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور یہ خلیج اب تک حائل ہے ۔
خالصتان تحریک کو بھارت میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ بھارتی حکومت نے دباؤ ڈال کر اس تحریک کو ظاہراً بڑھنے سے روک رکھا ہے مگر اندرون خانہ یہ تحریک بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بھارت کی نسبت آسڑیلیا اور کینیڈا میں خالصتان تحریک بہت تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ کینیڈا میں بھی سکھوں کی خالصتان تحریک کی گونج سنائی دینے لگی۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے خالصتان تحریک کی حمایت میں منعقد تقریب میں شرکت کی ۔ جس کو بھارت میں علحیدگی پسند خالصتان تحریک کی حمایت کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔تقریب کو خالصتان کے جھنڈوں اور خالصہ تحریک کے لیڈروں کی تصاویر والے فلوٹس سے سجایا گیا تھا۔ کینیڈا میں مقیم سکھ رہنماں کا کہنا ہے کہ ایسی تقریبات کا مقصد عالمی برادری کی توجہ خالصتان کے قیام کے لئے پر امن جدوجہد کی جانب دلانا ہے۔بھارت کی موجودہ حکومت جو انتہا پسندی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ، انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے اشاروں پر چلتی ہے۔ ملک کے وزیرِ اعظم نریندر مودی خود ماضی میں آر ایس ایس کے کل وقتی رکن تھے۔آر ایس ایس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک خفیہ، پرتشدد ہندو تنظیم ہے جس کے ملک کی حکمران جماعت پی جے پی کے ساتھ پسِ پردہ روابط ہیں۔ آر ایس ایس فرقہ پرست، عسکری تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے جو ’ہندوؤں کی بالادستی‘ پر یقین رکھتی ہے اور مسلمان و عیسائی اقلیتوں کے خلاف ’نفرت کی پرچار‘ کرتی ہے۔
اقلیتوں سے نفرت کا ایک مظاہرہ حال ہی میں دیکھنے کو آیا کہ انتہا پسند ہندو جماعتوں آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے دباؤ پر نئی دہلی کے تاریخی دیال سنگھ کالج کا نام مودی سرکار نے بدل کر ’’وندے ماترم مہا ودیالے‘‘ کر دیا جس پر دیال سنگھ ٹرسٹ کے عہدیداروں، کالج کے طلبہ اساتذہ سابق اساتذہ اور سکھ کمیونٹی میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ معروف سکھ انجینئر ماہر تعلیم اور مخیر شخصیت سردار دیال سنگھ منجیٹھہ نے تقسیم ہند سے قبل لاہور اور دہلی میں تعلیمی ادارے اور اہم مشہور عمارتیں تعمیر کرائیں انہیں کے نام پر لاہور میں نسبت روڈ پر دیال سنگھ کالج اور دیال سنگھ لائبریری موجود ہے۔
اس وقت نریندر مودی اور آر ایس ایس کے درمیان ایک دوسرے کے دائرہ کار پر واضح سمجھوتہ ہے اور وہ یہ کہ حکمرانی کا کام نریندر مودی کریں گے اور وہ نچلی سطح پر ’قابلِ قبول حد میں ہندوتوا‘ کے ایجنڈے کے فروغ کے لیے کیے جانے والے کام سے چشم پوشی کریں گے۔


ای پیپر