سوشل میڈیا ؛ ایک اور محاذ !!
04 جون 2018 2018-06-04

پاکستان کے خلاف نفسیاتی جنگ سوشل میڈیا پر اپنے عروج پر ہے۔ پاکستان کے دشمن ماضی قریب میں کئی محاذ پر شکست کھا کر خفت اٹھا چکے ہیں. بلوچستان میں کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کے پکڑے جانے سے لے کر سابقہ فاٹا اور ملک کے طول و عرض میں فوج کے کامیاب آپریشنز ، دہشتگردوں کے بڑے بڑے نیٹ ورکس کو نیست و نابود کیے جانے کے بعد ملک میں دہشتگردی میں واضح کمی ، افغان بارڈر پر باڑ لگا کر دہشتگردوں کے راستے بند کرنے کا پکا بندو بست کرنا دشمن ملک اور اسکے معاون ممالک کے لیے وہ ضرب کاری ہے جوہماری فوج کے شیردل دلیروں نے اپنا خون دیکر دشمن کے ناپاک چہروں پر ثبت کی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ بزدلانہ دہشت گردی کا عفریت مکمل طور پر صفایا کیے جانے میں کچھ وقت اور لگے گا مگر اس سے نپٹنے کیلیے پاک فوج ڈٹ گئی ہے۔ دشمن نے ایک اور محاذ کھولا ہے جسے ففتھ جنریشن وار فیئر کہا جاتا ہے یہ وہ خطرناک نفسیاتی جنگ ہے جس میں میڈیا کے ذریعے سے غلط خبریں اڑا کر، خریدے ہوئے ٹٹووں کے ذریعے کتابیں لکھوا کر اور اغیار کے دوست چند مکار سیاستدانوں کے ذریعے پاکستان کے عوام
کو فوج کے خلاف بھڑکایا جارہا ہے۔ لیکن اس نفسیاتی جنگ میں دشمن کا سب سے خطرناک ہتھیار سوشل میڈیا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو لسانی ، علاقائی اور مسلکی تفریق میں الجھا کر فوج کے خلاف عوام میں منافرت پیدا کرکے پاکستان کو داخلی طور پرکمزور کرنے کی منظم سازش کی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان اور اداروں کے خلاف غلط فہمی پیدا کرنے والے آپ کو بتا کر واردات نہیں کریں گے بلکہ ایک پڑھے لکھے شہری ہونے کے ناطے ہر فرد کا فرض ہے کہ اس نفسیاتی جنگ میں دشمن کی سوشل میڈیا بریگیڈ کے ملک دشمن ہتھکنڈوں پر خود بھی نظر رکھیں اور ان مذموم سازشوں کے بارے میں آگہی و شعور پیدا کرکے انھیں ناکام بنائیں۔ اس وقت ہمارے ملک کے خلاف کم ازکم تیرہ ممالک کی ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔ اس کی وجہ پاکستان امریکہ کے چنگل سے نکل کر ہمسایہ دوست ممالک چین و دیگر کے ساتھ ترقی و خوشحالی کی ایک نئی بنیاد رکھ رہا ہے۔ جس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے عوام کو بھارتی استبداد کا شکار رکھنے کی آخری اور پرزور کوشش جاری ہے۔ سوشل میڈیا منفی سوچ رکھنے والی ان دشمن قوتوں کا فیوریٹ اس لیے بھی ہے کہ باقی تمام ذرائع براہ راست قدغن لگائی جاسکتی ہے کم از کم ملک مخالف پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والی تحریک میں ہر چال کو بے نقاب کر کے اس کا جواب دیا جاسکتا ہے یا اور کسی غدار یا مکار کے ملک دشمن بیانات کو غیر موثر کیا جاسکتا ہے لیکن سوشل میڈیا کا تعلق چونکہ براہ راست عوام سے ہے تو اس میدان میں کیے جانے والے حملوں کا ایک حد تک مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اس میں بڑی حد تک یہ عوام اور انکے شعور پر منحصر ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کو پاکستان کی دشمن قوتوں کا ایک ایجنڈا سمجھیں۔ نا صرف اسے نظر انداز کریں بلکہ اسے غیر موثر کرنے کے لیے بھرپور جوابی کارروائی کریں۔ اگر ہمارے فوجی جوان جنگ کے میدان میں اپنی جانوں کانذرانہ دیکر ہمارے لیے امن و سلامتی کا ذریعہ بن سکتے ہیں تو فوج کا حق ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف چلائی جا رہی دشمن قوتوں کی ہر تحریک کا عوام منہ توڑ جواب دے اور اپنی فوج یعنی اپنی سلامتی کیلئے ڈٹ جائے۔ اس نفسیاتی جنگ کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ دشمن ایجنسیاں اپنی ناکامیوں کو اپنے عوام سے چھپانے کے لیے پاک فوج پر یا پھر دیگر مسلم فوجی قوتوں پر ڈال دیتی ہیں اور پھر دہشت گردوں سے ان کا تعلق ظاہر کرکے اپنے بجٹ میں مزید اضافہ اور ناکامیوں پر پردے ڈال دیے جاتے ہیں۔
جب 9/11 کا واقعہ رونما ہوا تو امریکہ کے طول و عرض میں بحث چھڑی کہ یہ سی آئی اے کی ناکامی کی ایک بڑی مثال قائم ہوئی ہے اور یہ کہ سی آئی اے نے وقت پر ایف بی آئی کو اتنے بڑے حملے کی اطلاع کیوں نہ دی۔ کولڈ وار کے اختتام پر پہلے ہی امریکہ میں بحث چھڑی ہوئی تھی کہ اب امریکہ کو سی آئی اے کی کیا ضرورت ہے اور ان کے بہت زیادہ معاملات کو امریکی عوام سے خفیہ رکھے جانے پر بھی اعتراض اٹھائے جا رہے تھے اس وقت سی آئی اے کے پبلک افئرز آفس جو کہ سی آئی اے کے چار بڑے ڈیپارٹمنٹس میں سے ایک ہے نے امریکی عوام کو سی آئی اے کی اہمیت اجاگر کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ایک کے بعد ایک ایسی فلمیں ، سیریز ، ٹی وی پروگرام اور سوشل میڈیا کے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا کیمپینز کروائی گئیں جن کے ذریعے امریکی عوام کے دماغوں میں راسخ کردیا گیا کہ نہ صرف سی آئی اے ملک کی سلامتی اور پوری دنیا میں پھیلے امریکہ کے دشمنوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کا بجٹ پہلے سے کئی گناہ بڑھا دینا چاہئے اس کے لیے دی ایجنسی (2001۔2003 ) ایلیاز (2001۔ 2006) 24 ( 2001۔2010) بیڈ کمپنی (2002) دی سم آف آل فئیرز (2002) دی ریکروٹ (2003) کورٹ افئرز (2010) سیریانا (2005) رینڈیشن (2007) چارلی ویلسن وار (2007) سالٹ (2010)دی پیس میکر اور ریڈ (2010) جیسی شہرہ آفاق ٹی وی سیریز اور فلموں کا سہارا لیا گیا۔ دی پیس میکر کی ایک قسط میں دکھایا گیا کہ پاکستان کا ایک جرنیل پاکستان آرمی سے بغاوت کرتا ہے اور پھر بھارت پر حملے کی منظم کوشش کرتا ہے اور اس کو مارنے کے
لیے بھارت سے ڈرون اٹیک کیا جاتا ہے اور پھر مارنے کے بعد خفیہ ایجنسیاں دنیا کو یہ تاثر دیتی ہیں کہ اسے دہشتگردوں کے ایک فدائی گروہ نے راکٹ لانچر کے ذریعے مارا ہے اس کے بعد اس حصے کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ پاکستانی فوج میں کوئی روگ ایلیمنٹس ہیں جنھیں سی آئی کے ذریعے تباہ کیا جارہا ہے۔ ان سب پر اربوں ڈالر خرچ کیے گیے اور ناصرف امریکی عوام کو یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ سی آئی اے امریکہ کے لیے کتنا ضروری ہے بلکہ اس سب میں پاک فوج کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن اور اتحادی ہونے کو اجاگر کرنے کی بجائے ایک روگ ایلیمنٹ کے طور پر پیش کیا گیا اور یہی سلوک دیگر مسلم ممالک کی افوج کے ساتھ کیا گیا ۔
اسی طرح ممبئی حملوں کے بعد جب دنیا نے سوال اٹھائے کہ را ایک ناکام ادارہ ہے اور بھارت میں بھی سیاسی اور سول سوسائٹی کے حلقوں کی را اور بھارتی فوج پر کڑی تنقید کی گئی تو اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے بالکل سی آئی اے کے 9/11 کی طرز پر فلمیں بنائی گئیں ٹی وی پروگرام کیے گیے اور پھر انھیں سوشل میڈیا پر وائرل کر کے سارا ملبہ پاک فوج پر ڈال دیا گیا اور اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ سوشل میڈیا کے سینکڑوں پیجز دن رات پاکستانی عوام میں حساس ترین داخلی اور خارجی امور پر پاک فوج کے خلاف مواد فراہم کرنے پر جٹے ہوئے ہیں۔ منظور پشتین کی موومنٹ، ممبئی حملوں پر نواز شریف کا بیان ، سپائی کرونیکل ، بابر ایاز کی وٹ وینٹ رانگ ود پاکستان ، حسین حقانی کی ایک کے بعد ایک پاک فوج مخالف تصنیف اور حالیہ ری ایمیجنیگ پاکستان وغیرہ یہ سب اس لیے کروایا جا رہا ہے کہ ان پاکستان مخالف سوشل میڈیا پیجز کو ایندھن مہیا کیا جا سکے ورنہ غور کریں تو یا تو پاک فوج کے خلاف زہر اگلنے والوں کی جائیدادیں مغربی ممالک میں ہیں اور یا پھر ان کتاب لکھنے والوں کے پبلشرز بھارت میں ہیں۔ لیکن پریشانی کی بات نہیں پاکستان کی تاریخ کے کوڑے دان ان جیسی شخصیات سے بھرے پڑے ہیں بس ذرا دھیان دینے کی ضرورت ان سوشل میڈیا پیجز پر ہے جو پاکستان کے خلاف اس نفسیاتی جنگ میں پیش پیش ہیں۔


ای پیپر