بیگم و خلیل طوقار سے تین ملاقاتیں
04 جون 2018 2018-06-04

محترمہ ناز بٹ وطن عزیز کی معروف شاعرہ اور کالم نگار ہیں ،سنڈے میگزین کی ایڈیٹر بھی رہی ہیں ،معروف ادبی و بین الاقوامی شخصیات کے انٹرویوز بھی کرتی ہیں، ترکی کی معروف ادبی، علمی، سماجی ، ثقافتی شخصیت جناب خلیل طوقار اور ان کی زوجہ محترمہ ثمینہ طوقار کا انٹرویو کرنا تھا سو متعلقہ اخبار کے دفتر میں مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ میں وقت مقررہ پردفتر پہنچ گیا۔ سلمان طارق بٹ جو معروف کالم نگار بھی ہیں ،نے مجھ سے کھانے کے لیے چوائس پوچھی تو میں نے کہا یہ آپ مہمانوں سے پوچھئے گا ۔ بحرحال انہوں نے کھانے کا آرڈر مہمانوں کی آمد سے پہلے ہی دے دیا۔تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ فون آگیا جناب خلیل طوقار دفتر کے قریب آ چکے ہیں ۔ میں ان کے استقبال کے لیے سلمان طارق بٹ کے ساتھ ہو لیا۔
ان کی گاڑی رکی، پھولوں کے گلدستے اور دیگر تحائف کے ساتھ بغیر ٹائی کے نیلے پینٹ کوٹ اورنیلی دھاری دار شرٹ میں ملبوس نیلی اور براؤن آنکھوں، سبز و سفید پر نور چہرے والے صاحب گاڑی سے باہر آئے ۔ میں نے اس حُلیے میں اتنی عاجزی پہلی بار دیکھی ، یہ جناب خلیل طوقار تھے۔ دوسرے دروازے سے مشرقی پن کا سراپا محترمہ ثمینہ طوقار تھیں۔ ساتھ ان کا دس بارہ سالہ خوبصورت سا بیٹا تھا۔ ڈرائیور چہرے سے پہچانا جا سکتا تھاکہ مقامی باشندہ ہے۔ طوقار صاحب ہم کو دفتر لے آئے ، جہاں محترمہ ناز بٹ نے ان کا استقبال کیا اور انہیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ رسمی گفتگو کے بعد ہلکے پھلکے لیکن منجھے ہوئے انداز سے ایک شاعرہ نے ترکی کے بین الاقوامی محقق، اردودان ، مصنف، ادیب، لکھاری جو سفارت کاری میں اپنی مثال آپ ہیں کا انٹرویو شروع کیا۔ انٹرویو کے دوران پتا چلا کہ خلیل طوقار صاحب وطن عزیز میں اردوادب کے فروغ پاک ترک ثقافت کے فروغ، دونوں ممالک کے عوام اور خواص کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے شب وروز محنت کر رہے ہیں۔
خلیل طوقار 51کتابوں کے مصنف ہیں ، اور سو سے زیادہ پیپرز لکھ چکے ہیں ، اردو سے دلچسپی کا یہ حال کہ انہوں نے ایم فل کامقالہ غالب کی شاعری پر اور پی ایچ ڈی کا مقالہ بہادر شاہ ظفر اور اس دور کے کلاسک شعرا پر لکھا ، خلیل طوقار کو روانی سے اردو بولتے دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور حیرت بھی ، حیرت یوں دوچند ہوگئی جب انہوں نے بے ساختگی سے پنجابی میں بھی اپنی مہارت دکھا دی
خلیل طوقار یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر کے سربراہ کے طور پر دس ماہ سے پاکستان میں مقیم ت تھے ، انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں یونس ایمرے وقف کے قیام کا مقصد بین الاقوامی طور پر ترکی زبان، تہذیب وثقافت اور تاریخ کو متعارف کروانا اور ان سے متعلقہ معلومات اور دستاویزات کو فراہم کرنا ہے ان ہی مقاصد کے حصول کے لیے سرکاری سطح پر 5 مئی 2007ء میں وقف کو قائم کیا گیا۔ یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ اسی وقف کے مقاصد اور قوانین کے تحت، ان مقاصد کو عملی جامہ پہنانے اور فروغ دینے کے لیے ترکی کی طرف سے بیرون ممالک میں قائم کیے گئے مراکز ہیں۔ ان مراکز کا نصب العین غیر ملکیوں کو ترکی زبان کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ ترکی رسم و رواج کو متعارف کروانے کے لیے ثقافتی اور صنعتی سرگرمیوں کو عمل میں لانا، ان سے متعلق تقریبات منعقد کروانا اور علمی و ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کرنا ہے۔ یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ نے 2009ء میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور اب دنیا میں اس کے 40 (چالیس) سے زائد مراکز موجود ہیں۔ آٹھ سال میں دنیا کے 38 ممالک میں ان مراکز کی تعداد 45 تک پہنچ گئی۔ لندن ، بدھابشت، برلن، یسیرس، ایمسٹرڈیم ، روم ، قاہرہ، تہران، ربات، کابل، دوحہ، مڈل ایسٹ، افریقہ، امریکہ اور بہت سے ممالک کے اہم شہروں میں ان مراکز کے قیام کے بعد اب پاکستان میں لاہور اور کراچی میں دو مراکز اپنے قیام کے مراحل کو تیزی سے طے کر رہے ہیں۔2009ء سے 2016ء تک ان مراکز میں ترکی زبان کی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کی تعداد 45,494 ہوچکی ہے۔ اس کے (62000) غیر ملکی طلباء جن میں پرائمری، مڈل اور ہائی لیول ایجوکیشن شامل ہیں
خلیل طوقار نے بتایا کہ یونس ایمرے انسٹیٹیوٹ کا کام صرف ترکی زبان سکھانا ہی نہیں بلکہ بہت اچھے اور آسان طریقے سے اپنی ثقافتی روایات کو جن میں دست کاری، موسیقی ، صنعت وغیرہ شامل ہیں انہیں آگے منتقل کرنا ہے۔ اسی لیے ان ثقافتی مراکز کے تحت روایتی اور جدید دست کاری کے کورے بھی کروائے جاتے ہیں اور اس کے علاوہ نمائش، کانفرنس، سیمینار ، مشاعرہ ، پینٹنگزاور اسی طرح کی دیگر تقریبات کا اہتمام کرنا بھی ان کے نصب العین میں شامل ہے۔
خلیل طوقار ادبی خدمت میں دن رات کوشاں ہیں 13 اپریل 2018 کو پاک ترک دوستی کے حوالے سے ترک سفارتخانہ کی سرپرستی میں یونس ایمرے ترک کلچرل سینٹر نے اسلام آباد میں ایک پروقار تصویری نمائش منعقد کی ، جسکی صدارت صدرِ پاکستان م جناب ممنون حسین نے کی ، اسی طرح لاہور میں بھی خلیل طوقار نے مقامی سطح پر اسکول کے بچوں کے درمیان پاک ترک دوستی کے حوالے سے پینٹنگ کا مقابلہ منعقد کروایا
خلیل طوقار سے میری دوسری ملاقات یوں ہوئی کہ سلمان طارق بٹ نئی بات کے جواں سال صاحب اسلوب کالم نگار نے بتایا کہ خلیل طوقار صاحب ترکی واپس جا رہے ہیں۔اور آج ہم ان کی طرف مدعو ہیں ۔ میں اپنے بھائی کے گھر ماڈل ٹاؤن سے ہوکر طوقار صاحب کے گھر پہنچ گیا۔ سفید شلوار قمیص پہنے طوقار صاحب مجھے لینے
کے لیے دروازے پر آئے۔ڈرائنگ روم میں ان زوجہ محترمہ ثمینہ طوقار اور محترمہ ناز بٹ صاحبہ اور سلمان طارق موجود تھے ۔ ترک اور پاکستانی پکوان سے ڈائننگ ٹیبل بھری پڑی تھی۔ مگر ماحول کچھ اداس تھا۔ طوقار صاحب کے ساتھ تقریبات کے انعقاد کے سلسلہ میں پاکستانی لوگوں، اور نام نہاد دانشوروں اور میڈیا پرسنز نے کوئی اتنا اچھا برتاؤ نہیں کیا اور برادر ملک ترکی کے مصروف محقق کی دل آزاری کی اور وطن عزیز کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ ان میڈیا پرسنز کا تعلق دائیں بازو کے طبقے سے ہے۔ اس بار کی ملاقات میں طوقار صاحب اور ان کی بیگم کچھ اداس تھے ،کچھ گلہ نہ کیا مگر وہ وطن عزیز کے متعلقہ لوگوں سے نا خوش دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے مجھے اور محترمہ ناز بٹ اور سلمان طارق بٹ کو اپنی شاعری، سفر نامے اور نثر کی کتابیں بھی تحفہ کیں ساتھ ہی ہماری درخواست پر ایک افطار ڈنر پر تشریف لانے کی حامی بھر لی جس میں شرکت بھی ہوئی۔
تیسری ملاقات جناب خلیل طوقار سے محترمہ ناز بٹ کی طرف سے خلیل طوقار اور محترمہ ثمینہ طوقار کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر میں ہوئی جس میں ادب کی دنیا کے استادوں کے استاد جناب امجد اسلام امجد اور اُن کی اہلیہ مہمانانِ خصوصی تھے ، فلمیزیا ایچ ڈی اور وطن عزیز کے نامور ڈرامہ ڈائریکٹر امیر حمزہ آصف بٹ و َن ایم ایم آرٹس کے سی او او معروف کالم نگار اور ہیومن ایکٹوسٹ جناب سلمان طارق بٹ ، ہر دلعزیز شاعر قمر رضا شہزاد ، معروف افسانہ نگار فرحت پروین ،ممتاز ماہرِ تعلیم سہیل ریاض راجہ ، ترک ائر لائن کے ڈائریکٹرHamit Elbenekilogun کے علاوہ بھی کئی معزز مہمان شریکِ محفل تھے ، اپنے خطاب میں جناب خلیل طوقار نے کہا کہ پاکستان اُن کا دوسرا گھر ہے وہ لاہور سے استنبول اپنے دوسرے گھر جا رہے ہیں اُن کی اہلیہ جو مشرقی پن لے کر دکھائی دیتی ہیں اداس اور خوش تھیں، جناب امجد اسلام امجد نے بتایا کہ وہ اور خلیل طوقار دونوں ہی خلیل طوقار کی اہلیہ ثمینہ طوقار کے والد صاحب کے شاگرد رہ چکے ہیں ۔ جناب خلیل طوقار کو اردو ادب سے عشق ہے۔ کاش پاکستانی لوگ اتنے محب وطن ہوتے جتنی محبت میں پاکستان کے لیے میں نے جناب خلیل طوقار میں دیکھی۔ وہ تقریباً ایک سال وطن عزیز میں ادب، معاشرت، بھائی چارے اور ترک پاکستان عوام میں ہم آہنگی کے فروغ کے لیے رہے۔ وہ اتنے لمحے یہاں نہیں رہے جتنے لمحے کام کیا اور شکوے، شکایتیں جو اُنہیں یہاں کے لوگوں سے تھے، اُن کے چہرے پر عیاں تھے۔ وہ تو ایک دم خاموش تھے مگر کرب، ستم، شکوہ اپنی زبان رکھتے ہیں۔
جناب امجد اسلام امجد نے اُن کے ساتھ ناپسندیدہ معاملات اور رویے کی پاکستان اور پاکستانیوں کی طرف سے معذرت کی۔ اس تقریب کی خوبی یہ تھی کہ یہ بالکل گھریلو ماحول تھا۔ کوئی منافق، حاسد،یا مفاد پرست اس میں شامل نہ تھا۔ سب ایک فیملی کے اراکین دکھائی دیتے تھے۔ ایک پارسا ماحول ایک یادگار تقریب مگر جناب خلیل طوقار اور اُن کی اہلیہ محترثمینہ طوقار صاحبہ کے چہروں کی اداسی کبھی بھول نہ پاؤں گا۔ یہ محترمہ ناز بٹ صاحبہ کی شخصیت ہے جو وطن عزیز کے لوگوں کو ادب سے وابستہ بین الاقوامی شخصیات سے متعارف کرواتی رہتی ہیں۔


ای پیپر