ملاوٹ اور گرانفروشی
04 جون 2018 2018-06-04

ملاوٹ کا عنصر ہمارے معاشرے میں دن بدن پھیلتا جارہا ہے رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں بھی ہم اس سے باز نہیں آتے بلکہ اس کے تدارک کرنے والے ادارے ڈی ایچ او ،ڈی ایف او ،ڈرگ کنٹرول اتھارٹی ،ایف آئی اے ،اینٹی کرپشن اور دیگر اداروں کو مکمل ناکامی کا سامنا ہے ۔جس ملک میں ادویات میں ملاوٹ ہو ،دو نمبر ادویات کی خرید وفروخت کھلم کھلا جاری ہو وہاں شرح اموات اور بیماریوں میں اضافہ واضح امر ہے چند دنوں میں کروڑ پتی بننے کی دوڑ نے ہمیں اندھا کردیا ہے ۔ہم خدا اور رسول ؐسب کو بھول کر مکروہ دھندے میں ملوث ہیں کیونکہ یہاں کو ئی سخت قانون یا سزا نہیں ہے ۔اس لئے رہائی یاجرمانے کے بعددوبارہ زور شور سے ملاوٹ کا کام شروع کردیاجاتا ہے۔ دودھ ،گھی ،تیل ،مشروبات ،جوس ،ادویات ،مرچ حتی کہ ہم نمک جیسی سستی شئے میں بھی ملاوٹ سے باز نہیں آتے۔ چائینہ میں ملاوٹ کرنے والوں کے لئے موت کی سزا ہے ۔یہی حال دیگر یورپی ممالک میں بھی ہے جس کے باعث وہاں لوگوں کی صحت اچھی ہونے کے ساتھ ساتھ شرح اموات کم اور اوسط عمر ہماری نسبت بہت زیادہ ہے ۔ہمارا ملک چائے استعمال کرنے والے ملکوں کی فہرست میں قابل ذکر ہے لیکن چائے میں
ملاوٹ بھی جاری وساری ہے۔ جانوروں کا خون چنے کاچھلکا اور کپڑے رنگنے والا زہریلا کیمیکل استعمال ہوتاہے۔ان اشیاء سے تیار ہونے والی چائے کا رنگ نمایا ں ہوتا ہے اور نرخ بھی جس کے باعث لوگ اپنی موت اپنے ہاتھوں سے خرید کر اپنے جگر ،گردوں ،پتے ،گلے ،مثانوں ،دل کے امراض کی بیماریوں میں اضافہ اس کی بڑی وجہ ہے ۔اس مکروہ کاروبار کا مرکز پشاور ہے ۔اب ڈیرہ میں بھی اس کی فروخت کھلم کھلا شروع ہے ۔گرمی کے ایام میں مشروبات کی فروخت میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے ۔شہر میں برانڈڈ کمپنیوں کی خالی بوتلوں کو ری سائیکل کرکے دوبارہ بازاروں میں فروخت کرنے کے علاوہ انتہائی گھٹیا جوس لاہور سے پیک کروا کر سستے داموں فروخت ہورہا ہے جو انتہائی مضر صحت ہے ۔اسی طرح ملک بھی میں آم ،مالٹے ،سنگترہ ،لیچی ،سیب کے نام پر دیگر کئی جوس فروخت ہورہے ہیں لیکن ان میں جوس کی مقدارشاید ہی ہو ،جب کہ کیمیکل ،رنگ،سکرین وغیر ہ کا استعال عام ہوتاہے ۔اکثر بڑی کمپنیوں کے جوس بھی سنتھیٹک (مصنوعی)ہوتے ہیں ہمارا معدہ ان جوسز کی تباہ کاریوں کا متحمل ہی نہیں ہے لیکن آج شادی بیاہ رسومات وغیر ہ میں ان کا استعمال عام ہے جس کے باعث معدے میں السر اور دیگر قسم کی بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ادویات میں ملاوٹ اور دو نمبر ادویات کی تیاری کا دھند ہ ملک پاکستان میں عروج پرہے ۔آپ اینٹی بائیوٹک لیتے رہیں لیکن آپ کا انفیکشن ختم ہی نہیں ہوگا ۔بڑی بڑی کمپنیوں کی دو نمبر ادویات کے علاوہ ملکی کمپنیوں کی ادویات مہنگے داموں فروخت ہورہی ہیں جس سے ڈاکٹر ،ڈسٹری بیوٹر ،دکاندار مریضوں کی کھال ادھیڑ لیتے ہیں ۔لیکن مرض کی شدت میں کوئی کمی نہیں آتی ۔ڈاکٹرز اور ڈسٹری بیوٹربھی ملے ہوئے ہیں اور بلا کسی ضرورت کے ادویات لکھ دیتے ہیں ۔انتہائی مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معیاری ہوتی ہیں ۔ہربل ادویات کی بے شمار کمپنیاں مارکیٹ میں موجود ہیں ۔لوگ گھروں میں کھانسی زکام کا سیرپ بنا کرفروخت کرتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔میرے ایک دوست کی بیوی کویرقان ہوگیا ۔ڈاکٹرنے ہر ہفتہ بارہ ہزار کا انجکشن لکھ دیا جوچھ ماہ لگنا ہے ۔بعدازاں ڈاکٹر نے مہربانی فرماتے ہوئے وہی انجکشن کمپنی سے ہول سیل پر چھ ہزار روپے میں منگوادیا ۔اب اندازہ لگائیں وہ انجکشن مارکیٹ میں بارہ ہزار روپے میں فروخت ہورہا ہے منافع کی کوئی حدمقرر نہیں ہے ۔حکومت اور وزارت صحت ،ڈرگ انسپکٹر ،ڈسٹری بیوٹر ،ڈاکٹر ،سب کی ملی بھگت سے غریب مریض کو دونوں ہاتھوں سے ذبح کیا جارہاہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔اوپر سے ہماری وزارت صحت کی ملی بھگت سے ادویات کی قیمتوں میں سو سے پانچ سو فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔جب کہ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں یہی ادویات انتہائی کم قیمت پر دستیاب ہیں جو ہماری مارکیٹ میں بھی دھڑا دھڑا سمگل ہوکر فروخت ہورہی ہیں ۔آج ہم کولیسٹرول فری کوکنگ آئل ،گھی وغیرہ لوگوں کو مہیا کررہے ہیں اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ یہ واقعی کولیسٹرول فری ہے ۔کوئی اداروہ ایسا نہیں جو انکے معیار کو پرکھے ۔ایسی ناقص اشیاء خوردنی کے باعث بیماریوں میں اضافہ ،ہسپتالوں میں رش اور اموات میں اضافہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔کینسر ،امراض قلب ،شوگر ،جیسی بیماریوں میں اضافہ اس کی بڑی وجہ ہے ۔ہمارے معاشرے میں خواتین میں آج کل متعدد قسم کی گولیوں کا استعمال عام ہورہا ہے ۔رنگ گورا کرنے اور چہرے سے کیل مہاسے ،دانے دھبوں کو دور کرنے والی یہ دیسی کریمیں خواتین کو جلد کی بیماریوں جن میں جلد کا کینسر عام ہے میں مبتلا کررہی ہیں ۔لیکن ہمارے اخبارات ،میگزین ،رسالے ایسی مہلک کریموں کے اشتہارات سے بھرے پڑے ہیں ۔ہمارے بیوٹی پارلروں میں بھی ایسی اشیاء کا بے دریخ استعمال عورتوں کو جلد کی بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہا ہے ۔حکومت نے پٹرول ،ڈیزل ،مٹی کے تیل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کرکے ہماری معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اوپر سے ان اشیاء میں بھی ملاوٹ کی جارہی ہے ۔پیٹرول پمپوں پر پیمانوں میں گڑ بڑ کی شکایات عام ہیں جب کہ ڈیرہ جیسے درماندہ شہر میں پیڑول ڈیزل کی قیمتیں ملک بھر کے نرخ سے زائد وصول کی جارہی ہیں لیکن کوئی روک ٹوک نہیں ہے ۔مذکورہ ملاوٹ اور
گرانی کے حرام کام میں تاجر حضرات ،ڈاکٹرز ،میڈیسن کمپنیاں ،ملیں ،صنعت کار ،ایف آئی اے ،اینٹی کرپشن ،ڈرگ انسپکٹرز ،محکمہ صحت ،محکمہ فوڈ ،انتظامیہ ،عوامی نمائدنے تمام برابر کے شریک ہیں۔سابقہ حکومت نے آخری ایام میں حلال فوڈ اینڈ فوڈ سیفٹی ریگولیٹری اتھارٹی کے نام سے ایک ادارہ قائم کرکے دیگر اداروں کے اختیارات کو ختم دیا ہے ۔یہ ادارہ بہتر انداز میں کام کررہا ہے ۔قوم شعیب علیہ السلام کی تباہی وبربادی کا سبب بھی ناپ تول میں کمی ، ملاوٹ ،دھوکہ دہی ہی بنی تھی ۔حالانکہ ہمارے رسول اکرم ؐکا فرمان ہے کہ جو ملاوٹ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔خصوصاًمیری تاجر برادری سے گزارش ہے کہ وہ ایسی ملاوٹ شدہ اشیاء کی فروخت اور گرانفروشی سے اجتناب کرکے اپنی دنیا وآخرت کو سنواریں ۔ہمارے پیارے رسول ؐنے امین تاجر کے بارے میں فرمایا کہ اس کا حشر قیامت میں انبیاء ،شہدا اور صالحین کے ساتھ ہوگا ۔اب تاجر یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ انبیاء ،شہدا ء اور صالحین کے ساتھ اپنا حشر کروانا چاہتے ہیں یا ان ملاوٹ کرنے والے لوگوں میں جس کے بارے میں رسول اکرم ؐنے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ۔


ای پیپر